پیغامِ پاکستان، ضابطۂ اخلاق اور دستور و قانون - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے آج جاری کردہ ضابطۂ اخلاق کا متن سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے۔ اس ضابطۂ اخلاق پر ملک کے نامی گرامی اہلِ علم و دانش کے دستخط موجود ہیں۔ اس لیے اس پر سوال اٹھانے کو بہت سے لوگ گستاخی پر محمول کریں گے لیکن ہم بہ صد ادب و احترام کچھ سوالات ضرور اٹھائیں گے کیونکہ ہماری سوچی سمجھی رائے ہے کہ کوئی پیغام اور کوئی ضابطہ عملی دنیا کے تلخ حقائق کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا جب تک ان سوالات پر بحث نہ کی جائے۔
--------------------
پہلا سوال یہ ہے کہ اس ضابطۂ اخلاق کا اطلاق کن پر ہوتا ہے؟ اگر اس کا جواب یہ ہے کہ جن اہلِ علم و دانش نے اس پر دستخط کیے ہیں، انھی پر اس کا اطلاق ہوگا اور وہ اپنے اپنے حلقۂ اثر میں اس پر عمل کروائیں گے، تو اگلا سوال یہ ہے کہ کیا ان حضرات کی جانب سے یک طرفہ التزام ہے یا یہ دو طرفہ معاہدہ ہے؟ اس ضابطۂ اخلاق کے متن سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ یک طرفہ التزام ہے، یہاں تک کہ جہاں دستور و قانون کی رو سے کسی امر میں کوئی ذمہ داری ریاست یا حکومت پر عائد کی گئی ہے، وہاں بھی اس ضابطۂ اخلاق میں ریاست و حکومت کی ذمہ داری پر خاموشی اختیار کرکے صرف اپنے اوپر بعض ذمہ داریوں کے اقرار و التزام کی صورت اختیار کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر پہلی دو شقیں دیکھ لیجیے جس میں ریاست کے متعلق شہریوں کی ذمہ داریوں کا تو ذکر کیا گیا ہے لیکن شہریوں کے متعلق ریاست کی ذمہ داریوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ضابطۂ اخلاق کی تیسری شق میں دستور کی اسلامی ساخت اور قوانین کے تحفظ کا ذکر کیا گیا ہے لیکن یہ صیغۂ مجہول میں کیا گیا ہے اور یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہ تحفظ کس کی ذمہ داری ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ضابطۂ اخلاق کی یہ دو شقیں دستور کی جن دفعات سے ماخوذ ہیں ان دفعات سے آگے پیچھے دستور میں ہی ریاست کی ذمہ داریوں کا بھی ذکر ہے۔ مثلاً دستور کی دفعہ 5 میں ریاست کے ساتھ شہریوں کی وفاداری کا ذکر ہے لیکن اس سے قبل دستور کی دفعہ 4 میں ریاست کی اس ذمہ داری کا ذکر کیا گیا ہے کہ پاکستان کے ہر شہری بلکہ یہاں موجود ہر شخص کے ساتھ جو بھی سلوک اور معاملہ کیا جائے گا وہ قانون کے حدود کے اندر رہ کر کیا جائے گا۔ مزید یہ کہا گیا ہے کہ کسی شخص کو کسی ایسے کام سے نہیں روکا جاسکتا جس سے قانون نے اسے نہ روکا ہو، نہ ہی کسی شخص کو کسی ایسے کام کا حکم دیا جاسکتا ہے، جو قانون نے اس پر لازم نہ کیا ہو۔

سوال یہ ہے کہ ریاست کی اس واضح ترین اور قطعی ذمہ داری کا ذکر اس ضابطۂ اخلاق میں کیوں نہیں کیا گیا؟ اگر دستور کی صرف اس ایک دفعہ پر عمل کیا جائے تو بہت سارے مسائل ختم ہوجائیں گے۔ (مثلاً کسی ادارے کو یہ حق نہیں رہے گا کہ وہ کسی بھی عذر یا مصلحت کو بنیاد بناکر کسی کو جبراً گمشدہ کرلے کیونکہ یہ دستور اور قانون کی بدترین خلاف ورزی ہے۔)

یک طرفہ التزام کی یہ صورت صرف پہلی تین شقوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس ضابطے کی تمام شقوں میں جاری و ساری ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس یک طرفہ التزام کو اس پہلو سے مناسب سمجھا گیا ہو کہ یہ ریاست اور افراد کے درمیان سمجھوتا نہیں بلکہ (اس ضابطے پر دستخط کرنے والے) اہلِ علم و دانش کا، جو مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں، آپس میں سمجھوتا ہے۔ تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اس کی تیسری شق میں دستور کے اسلامی ساخت اور قوانین کے تحفظ کا وعدہ کیا گیا ہے، تو وہ وعدہ کس کی جانب سے ہے؟ کیا وہ بھی دستخط کرنے والے اصحاب کی جانب سے ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کی کوئی تک نہیں بنتی۔ کیا وہ ریاست کی جانب سے ہے؟ تو ریاست کی جانب سے نمایندگی کس نے کی؟ کیا مذہبی امور کے وفاقی وزیر نے دستخط اپنی ذاتی حیثیت میں کیے ہیں یا ریاست کے نمایندے کے طور پر؟ یا اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے ریاست کے نمایندے کے طور پر یہ ذمہ داری اٹھائی ہے؟

یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ دستور کی اسلامی ساخت اور قوانین کا تحفظ کوئی معمولی امر نہیں ہے۔ یہ بہت بھاری ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری اٹھانا تنہا کسی فرد کے بس کی بات نہیں ہے، خواہ وہ فرد کتنا ہی طاقتور اور مؤثر ہو۔

مثلاً کیا دستور کی اسلامی ساخت کے تحفظ سے صرف یہ مراد ہے کہ دستور میں موجود اسلامی دفعات میں کوئی ترمیم یا تبدیلی نہیں کی جائے گی؟ اگر صرف یہی مراد ہو تو یہ بھی بہت بھاری ذمہ داری ہے۔ کئی لوگوں نے باقاعدہ مشن کے طور پر یہ مہم شروع کر رکھی ہے کہ وہ وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کے اداروں کو ہی ختم کردیں۔ کیا اس ضابطۂ اخلاق کی تیسری شق کی رو سے ریاست یہ وعدہ کررہی ہے کہ ایسا کچھ نہیں کرنے دیا جائے گا؟ یا یہ دستخط کرنے والے اصحاب ہی اعلان کررہے ہیں؟ اگر یہ دوسری صورت ہے تو یہ تو گویا یہ اصحابِ علم ان اداروں کے تحفظ کےلیے جدوجہد کا اعلان کررہے ہیں۔ کیا واقعی ان کا کچھ ایسا ارادہ ہے؟

پھر دستور کی اسلامی ساخت کے تحفظ سے صرف اتنی مراد لینا کافی نہیں ہے کہ وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ادارے نام کی حد تک باقی رہیں، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ ادارے اپنی دستوری ذمہ داری بطریق احسن ادا کریں اور ریاست اس سلسلے میں ان کی بھرپور مدد کرے۔ مثلاً دیکھ لیجیے کہ سودی قوانین کے خلاف مقدمہ وفاقی شرعی عدالت میں اٹھارہ سال سے زیرِ التوا ہے لیکن عدالت اس کا فیصلہ کرنے کی طرف نہیں بڑھ پارہی۔ اسی طرح عائلی قوانین کے خلاف وفاقی شرعی عدالت نے 1999ء میں فیصلہ دیا تھا۔ 21 سال ہونے کو آئے، سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ میں اس کے خلاف اپیل کی سماعت زیر التوا ہے۔ کیا پچھلے کئی سالوں سے آپ نے ایک دفعہ بھی سنا ہے کہ سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ نے کسی مقدمے کا فیصلہ سنایا ہو؟ یہ بھی دیکھیے کہ دستور کی رو سے وفاقی شرعی عدالت میں آٹھ جج ہونے چاہئیں جن میں تین عالم جج ہوں لیکن پچھلے تیس سالوں میں کبھی بھی یہ آٹھ جج پورے نہیں ہوسکے اور پچھلے کتنے ہی سالوں سے بس تین ججز پر یہ عدالت چل رہی ہے۔ اس وقت بھی دیکھ لیجیے کہ اس عدالت میں صرف تین ججز ہیں۔ ان کے سامنے مقدمات کی تعداد کا بھی معلوم کیجیے اور یہ بھی دیکھ لیجیے کہ دن میں وہ مقدمات کی سماعت کےلیے کتنا وقت دیتے ہیں۔

تو جنابِ والا، دستور کی اسلامی ساخت کا تحفظ کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ ان دستوری اداروں کو بے دست و پا اور عملاً غیر مؤثر کردیا گیا ہے۔ انھیں مؤثر کیسے بنایا جائے گا؟ ضابطۂ اخلاق اس سلسلے میں مکمل طور پر خاموش ہے۔

اس ضابطۂ اخلاق کی چوتھی شق بہت اہم دوررس نتائج کی حامل ہے اور اس پر کئی شرعی و قانونی سوالات اٹھتے ہیں۔
مثلاً کیا شرعاً واقعی "اسلامی نظام کے نفاذ کے نام پر جبر کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح کارروائی، تشدد اور انتشار کی تمام صورتیں" بغاوت سمجھی جاتی ہیں؟ مزید واضح کردوں کہ میرا سوال "تمام صورتوں" کے بارے میں ہے؟ فقہ البغی سے ادنی مناسبت رکھنے والے طالب علم بھی جانتے ہیں کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ پھر ہمارے ان کبار اہل علم و افتاء نے اس پہلو پر غور کیوں نہیں کیا؟ کیا وہ اس کے جواب میں یہ کہیں گے کہ یہاں شرعی اصطلاح میں بغاوت مراد نہیں بلکہ لغوی مفہوم میں یہ بات کہی گئی ہے؟ کیا اتنی اہم دستاویز میں ایسی فروگزاشت کےلیے ایسا عذر قابلِ قبول ہوسکتا ہے؟

اس شق میں مزید جو یہ فرمایا گیا ہے کہ حکومت، مسلح افواج یا سیکیورٹی اداروں کے کسی فرد کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا، کیا یہ بات جس مطلق انداز میں کہی گئی ہے، اس اطلاق کے ساتھ یہ شرعاً قابلِ قبول ہے؟ مثلاً اگر کوئی یہ پوچھے کہ ان مذکورہ طبقات کے افراد میں کسی معین فرد نے اگر کفر بواح کا ارتکاب کیا، جس میں تاویل کی گنجائش ہی نہ ہو اور وہ قطعی طور پر ثابت بھی ہو جس سے وہ انکار بھی نہ کرتا ہو، تو کیا تب بھی اس شق کی رو سے اسے کافر نہیں کہا جاسکے گا؟
کیا ہمارے ان اصحابِ علم و دانش نے جناب جاوید احمد غامدی کا موقف قبول کرلیا ہے جس کی رو سے کسی بھی شخص کو، جو خود کو مسلمان کہتا ہے، کافر نہیں کہا جاسکتا؟ بظاہر ایسا نہیں ہے کیونکہ آگے شق 12 میں تصریح کی گئی ہے کہ کسی کو کافر قرار دینے کا اختیار عدالت کے پاس ہے اور مقصد کےلیے مسلمان کی وہی تعریف معتبر ہوگی جو دستور میں مقرر کی گئی ہے۔ چنانچہ مثلاً اگر حکومتی اہلکاروں میں کوئی قادیانی ہو، تو دستور میں موجود تعریف کی رو سے وہ مسلمان نہیں ہے۔

تاہم یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ شق 12 کی رو سے کسی کو کفر کا مرتکب قرار دینے کا فیصلہ عدالت کے پاس ہے، تو کس عدالت کے پاس یہ اختیار ہے اور کس قانون کی رو سے ہے؟ میرے علم میں تو پاکستان میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جو کسی عدالت کو یہ اختیار دیتا ہو کہ وہ کسی کو کفر کا مرتکب قرار دے۔ کیا ضابطۂ اخلاق مرتب کرنے والے بزرگوں نے تکفیر کے متعلق فتووں کی روک تھام کی کوشش کرتے ہوئے اس پہلو پر غور کی زحمت گوارا کی ہے کہ پاکستان میں کسی قانون میں بھی کسی بھی عدالت کو یہ اختیار نہیں دیا گیا ہے؟ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ بھی معلوم حقیقت ہے کہ توہینِ رسالت کے سوا کسی اور نوعیت کے ارتداد پر پاکستانی قانون کی رو سے کوئی سزا نہیں، البتہ مرتد کی بیوی تنسیخِ نکاح کے قانون کے تحت فسخِ نکاح کےلیے عدالت میں دعوی دائر کرسکتی ہے۔ تو جب توہینِ رسالت کے سوا کسی اور نوعیت کے ارتداد پر پاکستانی قانون میں کوئی سزا ہی نہیں ہے، تو کوئی عدالت اس چکر میں پڑے گی کیوں کہ کسی شخص نے کفر کا ارتکاب کیا ہے یا نہیں؟

ضابطۂ اخلاق کی پانچویں شق بہت حیران کن ہے اور اس سے بین السطور جو کچھ معلوم ہورہا ہے وہ بہت خوفناک ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ "معاشرے سے تشدد کو جڑ سے اکھاڑنے" کےلیے ریاست کا ارادہ یہ ہے کہ وہ "اداروں اور مسلح افواج" کو استعمال کرے اور اسی لیے علما و مشائخ سے ان کی تائید کےلیے کہا گیا ہے۔ کیا واقعی ریاست کا ارادہ یہ ہے کہ معاشرے سے تشدد کو جڑ سے اکھاڑنے کےلیے زیادہ بڑی سطح کا تشدد کیا جائے؟

چھٹی شق میں لسانی و دیگر تعصبات پر مبنی تحریکوں سے گریز کی نصیحت کے بعد کہا گیا ہے کہ "ریاست ایسے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔" یہ بات کس کی جانب سے کہی جارہی ہے؟ کیا اس ضابطۂ اخلاق کا التزام کرنے والے اصحابِ علم و دانش کی جانب سے؟ ظاہر ہے کہ نہیں کیونکہ وہ تو خود اپنے اوپر ذمہ داریاں عائد کررہے ہیں۔ یہ تو واضح طور پر ریاست کی جانب سے اعلان معلوم ہورہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چونکہ ان اصحابِ علم و دانش کو بتادیا گیا ہے کہ "ریاست ایسے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی"، اس لیے انھوں نے اپنے اوپر یہ التزام ضروری سمجھا کہ وہ ایسے گروہوں سے خود کو الگ تھلگ رکھے۔ پچھلی شق کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور آگے شق 8 اور 9 کو بھی دیکھا جائے جس میں سخت کارروائی اور تعزیری اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، تو صورت حال کی سنگینی مزید واضح ہوجاتی ہے۔

درمیان میں شق 7 میں بعض سرگرمیوں کو نہ صرف "شریعت کی کھلی خلاف ورزی" کہا گیا ہے بلکہ انھیں "فساد فی الارض" کا عنوان بھی دیا گیا ہے۔ کیا دستخط کرنے والے صاحبانِ علم و دانش نے اس پر غور کیا ہے کہ پاکستانی قانون کی رو سے "فساد فی الارض" کسے کہتے ہیں؟ اگر نہیں تو مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 299 (ای، ای) اور دفعہ 311 ملاحظہ کریں اور انھیں انسداد دہشت گردی کے قانون کی دفعہ 7 اور دفعہ 21-ایف کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو معلوم ہو کہ اس کے نتائج اور اثرات کیا کچھ ہوں گے اور ریاست کےلیے آپ کتنا وسیع اور خطرناک اختیار مان رہے ہیں!

شق 10 میں جو بات کہی گئی ہے وہ پہلے ہی سے قانون میں موجود ہے۔ مسئلہ اس قانون کے نفاذ کا ہے۔
یہی کچھ شق 11 کے متعلق کہا جائے گا۔ ہاں، اس شق میں ایک واشگاف غلطی بھی ہوئی ہے جب آخر میں یہ لکھا گیا کہ: "نہ ہی توہینِ رسالت کے کیسز کی تفتیش یا استغاثہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔" ظاہر ہے کہ یہاں "نہیں" غلطی سے لکھا گیا ہے۔

شق 12 پر بات ہوچکی۔
شق 13 سے لے کر 20 تک میں مذکور امور بھی شق 10 اور 11 کی طرح غیرضروری ہیں کیونکہ یہ امور قانون کی رو سے پہلے ہی سے لازم ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان صاحبان علم و دانش نے ان امور کے متعلق، جو قانوناً ان پر پہلے ہی لازم ہیں، اپنے اوپر التزام کرکے اس قانونی ذمہ داری کو مؤکد کردیا ہے۔

البتہ شق 20 بہت دلچسپ ہے اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مختلف الانواع آرا کا ملغوبہ بنا کر اچار بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مثلاً معلوم ہوتا ہےکہ اظہار راے کی آزادی کے متعلق بعض لوگوں کو یہ فکر تھی کہ اس کے ذریعے اسلامی شعائر اور پاکستان کے اسلامی شناخت پر حملے ہوتے ہیں تو ان کی روک تھام ضروری ہے لیکن بعض دوسرے لوگوں کی خواہش تھی کہ اظہارِ راے کی آزادی پر اس قدغن کا ذکر کیا جائے کہ اس آزادی کو فرقہ وارانہ مقاصد کےلیے استعمال نہ کیا جائے۔ ان دو کیمپس کی آرا کی تلفیق سے وہ صورت بنی جو اب شق 20 میں نظر آرہی ہے۔

یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کے حق پر پاکستان کے دستور میں پہلے ہی سے کچھ قدغن موجود ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دستور کی دفعہ 19 کے اس حصے کا متن جوں کا توں نقل کیا جائے تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آوے:
subject to any reasonable restrictions imposed by law in the interest of the glory of Islam or the integrity, security or defence of Pakistan or any part thereof, friendly relations with foreign States, public order, decency or morality, or in relation to contempt of
court, commission of or incitement to an offence.

جی، دیکھ لیجیے کہ اظہار رائے کی آزادی کے حق پر دستور کن پہلوؤں سے قانونی قدغنیں لگانے کی اجازت دی ہے:
1۔ اسلام کی عظمت کے مفاد میں؛
2۔ پاکستان، یا اس کے کسی حصے، کی سالمیت، دفاع یا تحفظ کی خاطر؛
3۔ دیگر ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے لحاظ سے؛
4۔ امنِ عامہ کی خاطر؛
5۔ حیا یا اخلاق کی خاطر؛
6۔ عدالت کی توہین کے متعلق؛
7۔ جرم کے ارتکاب یا اس کی ترغیب کی روک تھام کےلیے۔
کیا ضابطۂ اخلاق کے مرتبین یا ملتزمین کو یہ بتانا گستاخی کے مترادف ہوگا کہ ان قدغنوں کی موجودگی میں کسی اور ضابطۂ اخلاق کی کوئی ضرورت نہیں تھی؟

اور ہاں، ان قدغنوں کی موجودگی میں بسکٹ کا بے ہودہ اشتہار ہو، ورزش کرتی خاتون کے ساتھ مرد ٹرینر ہو، یا واہیات ڈراموں کے فحش ڈائیلاگ ہوں، سب کچھ قانوناً روکا جاسکتا ہے اور اظہار رائے کی آزادی کے نام پر اسلامی جمہوریۂ پاکستان میں ان کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

یہ بات ہمارے ان بزرگوں کے کرنے کی تھی لیکن بدقسمتی سے ان کی توجہ دیگر کاموں کی طرف تھی۔
اللہ ان پر اور ہم سب پر رحم کرے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */