شیخ مکتب ہے اک عمارت گر- خنساء سعید

چاند کا سفر، مریخ کی سیر، سمندر کی تہہ میں مسکن، مظاہر فطرت کو قدموں میں لا کھڑا کرنا انسان کی یہ قوت یہ دہشت کہ جس سے وہ چٹانوں کے جگر چاک کر دے، چرند پرند انسان کے خوف سے تھرتھراتے ہیں. کس نے انسان اس قدر توانائی بخشی ہے؟ قادر مطلق کے بعد یہ کون ہے جو انسان کو قوت پرواز عطا کرتا ہے؟ کون ہے جو میر حسن بن کر اقبال کو علامہ اقبال کے سانچے میں ڈھالتا ہے؟

دیکھا جائے تو ہر کامیاب انسان کے پیچھے ایک معتبر شخصیت کا ہاتھ ہوتا ہے اور وہ ہے استاد. اُستاد ہی نے انسان کو عرفان ذات اور تسخیرِ کائنات کا حوصلہ بخشا ہے. اُستاد کے بکھیرے ہوئے پُر خلوص موتیوں کے سامنے بادشاہوں کے لٹائے ہوئے خزانے بھی کچھ اہمیت نہیں رکھتے کیوں کہ اس کے جلائے ہوئے محنت، محبت، اور لگن کے چراغ ہمیشہ تاریک ذہنوں کو منور رکھتے ہیں. بلاشبہ استاد ہی ہے جو خاک کو اکسیر، تانبے کو کندن، ذرے کو خورشید، حیوان کو آدم، اور ابراہیم کو ابراہیم جلیس بنا دیتا ہے.

کہا جاتا ہے کہ اگر دو لوگ ایک دوسرے میں ایک ایک سکہ تبدیل کریں تو دونوں کے پاس ایک ایک سکہ ہو گا اگر دونوں کے پاس ایک ایک خیال ہو اور دونوں ایک دوسرے سے تبدیل کریں تو یقیناً دونوں کے پاس دو خیالات ہو جائیں گے. میں یوں کہوں گی کہ استاد ہمیں ایک خیال ہی نہیں بلکہ لاکھوں خیالات سے مستفید کرتا ہے. اس طرح ہر انسان کی زندگی پر تین شخصیات کے اثر کی گہری چھاپ ہوتی ہے. یعنی ماں باپ اور اُستاد! ماں باپ بچوں کی جسمانی پرورش کرتے ہیں جبکہ اُستاد کا فریضہ بچوں کی روحانی پرورش کرنا ہوتا ہے.

استاد نو خیز اذہان کی تربیت کی اہم ذمہ داری انجام دیتا ہے. استاد کو اپنے پیشے کے تقدس کا احساس ہوتا ہے. تمام انبیاء نے اپنے پیروکاروں کو تعلیم دی، انہیں صراط مستقیم پر چلنا سکھایا. تمام انبیاء نے انسانوں کو اخلاق حسنہ کی تعلیم دی. انہیں جہالت کے اندھیروں سے نکال کر خیر اور سلامتی کی راہ پر گامزن کیا. معلم کا پیشہ تو ہے ہی پیغمبرانہ.... استاد کی عظمت کا اندازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے ہوتا ہے کہ"مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے". اگر ہم تاریخ انسانی کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت ہم پر عیاں ہو گی جتنے بھی عظیم رہنما،مفکر، مبلغ، سائنسدان، ڈاکٹر گزرے ہیں ان کو اس مقام پر پہنچانے والا کوئی نہ کوئی معلم تھا. افلاطون نہ ہوتا تو ارسطو کے نام سے کوئی واقف نہ ہوتا.

ہم خوش قسمت ہیں کہ آج بھی ہمارے ہاں نظریاتی استاد موجود ہیں. جو الفقر فخری کے علمبردار ہیں. جو مادی چکاچوند کو بے معنی سمجھتے ہیں اور اپنے پیشے کو عبادت سے تعبیرکرتے ہیں. اُن کی تدریس کا مقصد مالی مقاصد نہیں بلکہ خدمت ہوتا ہے. کبھی خافظے کے نہاں خانوں کو ٹٹولوں تو ماضی کی دھند میں لپٹے ہوئے وہ مہرباں اور روشن چہرے میرے میرے ذہن و وجدان کے اُفق پر تجلیاں برسانے لگتے ہیں اور دل کہتا ہے کہ ان کی اُردو،عربی، انگریزی، زبانوں پر دسترس ان کی ریاضی دانی اور تاریخ کا علم ایسی ہمہ جہت اور ہمہ گیر شخصیات اور ان کے محاسن کو ضبطِ تحریر میں لانے کے لیے ایک دفتر درکار ہے. ان کا خیال آتے ہی یادوں کا ایک لامتناہی سلسلہ چشم تصور میں آجاتا ہے. اس لیے کہ وہ میرے اساتذہ ہی نہیں تھے جو صرف نصاب کی کتابیں پڑھاتے ہیں بلکہ وہ سب میری روح کے معمار تھے جنہوں نے مجھے زندگی گزارنے کے آداب سکھائے جن کی دور اندیشی نے مجھے آج اس قابل بنایا کہ اساتذہ کے عالمی دن پر اپنے الفاظ کے ذریعے اُن کو خراج تحسین پیش کرنے کی ایک ناتواں کوشش کر رہی ہوں.

اُستاد کا پیشہ ایک مقدس پیشہ ہے غور کریں تو ہر استاد ہر محاذ پر صف آرا نظر آئے گا. طلباء میں جذبہ حب الوطنی اجاگر کرنے کی بات ہو یا مروجہ علوم کے ساتھ کردار کی اہمیت سے آگاہی کا معاملہ ہو یا سچا مسلمان بنانے کی ضرورت ہو یا ملک و قوم کی ترقی کی ترقی کا احساس دلانے کی بات ہو یا صداقت و شجاعت کے درس سے آشنا کرنے کا چیلنج ہو یہ تمام ذمہ داریاں صرف ایک ہی ہستی نبھا سکتی ہے اور وہ ہے استاد. میرا ہر دن میرے اساتذہ کے نام ہے.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */