وہ 15 کام جن سے آپ لاکھوں‌کماسکتے ہیں! - قاسم علی شاہ

آپ کسی بچے کے ہاتھ میں پنسل پکڑاکر کہیں کہ اس اسکیچ میں رنگ بھردو ، وہ یقینا کردے گا لیکن۔۔۔ یہی پنسل اگر آپ پکاسو کو دیں اور اسے رنگ بھرنے کا کہیں تو وہ ایک شاہکارفن پارہ تخلیق دے دے گا جس کو دیکھنے کے لیے پوری ایک دنیا آئے گی اور اس پرلاکھوں ،کروڑوں مالیت کی بولیاں لگیں گی۔ وجہ یہ ہے کہ پکاسو کے پاس اپنی قابلیت تھی اور وہ جذبہ تھا جس کی بدولت جب وہ اپنے تصورات کو کینوس پر اتارتا تو وہ دنیا کی سب سے خوبصورت تصویر بن جاتی۔ ہمارا بچہ ایسا کیوں نہیں کرسکتا؟ کیونکہ ہم اس کی تخلیقی صلاحیت کو استعمال میں نہیں لاتے، ایک بنابنایا ٹریک دے دیتے ہیں اور اسی پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ڈگری تو حاصل کرلیتا ہے لیکن تخلیقی صلاحیتوں سے محروم ہوتا ہے۔

والدین /اساتذہ کے غلط پیمانے:

معذرت کے ساتھ ، ہمارے اساتذہ بڑے ہی لائق و فائق ہیں مگروہ اپنے طلبہ میں بہترین صلاحیتیں نہیں پیدا کرسکتے ،کیونکہ وہ بچوں کی قابلیت کو جس پیمانے سے ماپتے ہیں ، وہ پیمانہ ہی غلط ہے ۔جیسے کولہو کے بیل کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے، وہ سار ادِن مشقت کرتا ہے اور اپنے دائرے سے باہر نہیں نکلتا۔

میں بڑے عرصے سے اس بات کی نشاندہی کررہا ہوں کہ تعلیمی سفر کے کسی موڑ پر ہم نے اس اہم نکتے کو نظر انداز کردیا ہے۔اگر اس غلطی کو سدھار لیا جائے تو بڑے شاندارنتائج مل سکتے ہیں۔امتحانات ، تعلیمی نظام میں ایک اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ تعلیمی نظام کی طرح ہمارا امتحانی نظام بھی وقت کے ساتھ بہتر ہونے کے بجائے کمزور ہوتا جارہا ہے۔امتحانات میں بچے کے رٹے کو پرکھا جاتا ہے،جو کہ فقط ایک اسکل ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ،جبکہ اس کی تخلیقی صلاحیت ، اخلاق و کرداراورباہمی مہارتوں( Interpersonal Skills)کو دیکھا ہی نہیں جاتا.

ہم بھی تعلیمی نظام کے ذریعے اپنے 12کروڑ جوانوں کو صرف دائرے کا سفر پوراکروارہے ہیں۔دائرے میں گھومنے کا ہی نتیجہ ہے کہ نہ کوئی تخلیقی صلاحیت ابھرتی ہے اور نہ ہی کوئی ایجاد سامنے آتی ہے جبکہ سونے پر سہاگا یہ ہے کہ ہم لوگ تحقیق و ایجادات کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کرتے ۔تحقیقی کاموں کے لیے کروڑوں ،اربوں روپے کا فنڈ مختص ہے لیکن نتیجہ کوئی نہیں ہے۔وجہ یہ ہے کہ جس بچے کوسولہ سال تک ہم نے رٹا لگوانے اور نمبر لینے کی پریکٹس کروائی ہوئی ہے وہ اچھا محقق اور موجد کیسے بن سکتا ہے؟

اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین کے پرکھنے کا پیمانہ بھی غلط ہے۔وہ بچوں کو تابعداری کے پیمانے سے ماپتے ہیں۔ایسا ممکن ہے کہ کوئی بچہ خوب تابعدار ہو لیکن شاید اپنی تابعداری سے وہ اپنی تخلیقی صلاحیت کو بھی ختم کررہا ہو،حالانکہ تابعدا ری سے زیادہ اہم یہ ہے کہ بچہ آپ سے بات چیت کرسکے،اپنے خیالات کا اظہار کرسکے ،وہ اپنا آپ سمجھا سکے اور آپ اس کو سمجھ سکیں۔والدین کے ماپنے کا پیمانہ جس دِن درست ہوگیا تو پھر ہمارے بچے بھی قابل اور باصلاحیت نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی مرتب کردہ قابلیتیں:

2018ء میں ورلڈ اکنامک فورم نے کچھ صلاحیتیں بتائیں اور وضاحت کی کہ جس انسان میں بھی یہ صلاحیتیں ہوں گی وہ ضرور ترقی کرے گا۔اس میں سرفہرست صلاحیت ’’Creativity‘‘کی تھی ۔’’Creativity‘‘ کا مطلب ہے کہ کہ کسی بھی مسئلے کو آپ کتنے تخلیقی انداز میں حل کرتے ہیں۔یاد رکھیں! زندگی کے مسائل کتاب کے مسائل سے بہت مختلف ہیں ۔کتاب میں آپ فیثا غورث کو حل کرتے ہیں لیکن زندگی میں آپ نے اس سے زیادہ سخت حالات کو جھیلنا ہوتا ہے ۔آپ نے دو انسانوں کو منانا ہوتا ہے۔چیلنج کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔کوئی تکلیف آگئی ہے تو اس کو سہنا ہوتاہے۔

دوسری صلاحیت - People Management

جو انسان نقطے جوڑنے کا فن سیکھ لے وہ اپنے مسائل کو بڑے احسن اندازمیں حل کرسکتا ہے۔عقل مندلوگ یہی کرتے ہیں۔ان کو معلوم ہوتا ہے کہ کس نقطے کو کس سے جوڑا جائے تو وہ ایک خوبصورت شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

فیس بک کے مالک ’’مارک زکربرگ‘‘ نے کمپیوٹر ایجاد نہیں کیا تھا، بلکہ اس نے کمپیوٹر اوروسائل کو لیا اور اپنے آئیڈیا کے ذریعے اس کو ایک بہترین شکل دے دی،چنانچہ فیس بک وجود میں آئی اور آج کل یہ سوشل میڈیا کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔دستیاب وسائل اور لوگوں کو جوڑنے کاکام ہم اپنے بچوں کو نہیں سکھاتے، حالانکہ یہ ترقی کا تیز ترین ذریعہ ہے. انسان کے پا س ایک موبائل اور ایک لیپ ٹاپ ہو تو وہ بخوبی اپنا آن لائن بزنس کرسکتا ہے ۔ای کامرس آج کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے اوراس کا ثبوت یہ ہے کہ ہمارے پبلشنگ ادارے کی رپورٹ کے مطابق: کورونا بحران کے دِنوں میں کتابوں کی آن لائن خرید اری میں چا رگنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔آنے والا وقت سار اکاسار ا ای کامرس کا ہے۔

تعلیم کے بارے میں والدین کا نظریہ اور تاثر ، خودتعلیمی اداروں نے بنایا ہے ۔انہوں نے دلکش جملے لکھواکر جگہ جگہ آویزاں کردیے جو سیدھا والدین کے دماغ پر اثر انداز ہوئے۔ زیادہ فوکس نمبروں اور پوزیشن لینے پر کیا گیا اور بعض ادارے تو اس حد تک بڑھ گئے کہ اعلیٰ پوزیشن لینے والے طلبہ کو گاڑی کا تحفہ بھی دے دیا۔اب اس تمام تر صورت حال میں ہر شخص لکیر کا فقیر بن گیا ۔لوگ اسی کو کامیابی سمجھنے لگے کہ بچے کا ایڈمیشن ہوگیا ، وہ اچھے نمبرز لے رہا ہے ،بس یہ کافی ہے ۔آنے والی زندگی کے مسائل کو کیسے حل کرنا ہے ، ایک اچھا انٹرپینور کیسے بننا ہے اور معاشرے کے لیے کوئی خدمت کیسے سرانجام دینی ہے؟ یہ سوچ بالکل ختم ہوگئی ۔والدین کا نظریہ بھی یہ بن گیاکہ نمبر لینا ہی اصل کامیابی ہے اور اگرہمارے بچے نے اچھے گریڈ کے ساتھ ڈگری نہ لی تو وہ معاشرے میں زندگی کیسے گزارے گا؟

دراصل ہمارا یہ نظام تعلیم گوروں کا مرتب کردہ ہے ۔یہ سب جاب مائنڈ سیٹ کے لیے بنایا گیاتھا ۔انہیں اس وقت ایسے افراد چاہیے تھے جو ذہنی طورپر غلام ہوں۔وہی چیز چلتی رہی اور آج تک چل رہی ہے ۔اس نظام کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ محقق ، موجد اور کاروبار ی ذہن والے انسانوں کو پیدانہیں کررہا، جبکہ ہم نے اگراپنے معاشرے کوترقی دینی ہے تو ایسے افراد تیار کرنے ہوں گے جو دوسروں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کریں۔ اسی طرح جو فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ ہیں وہ بھی قابلیت و صلاحیت سے مزین ہوں ۔صرف لفظی دعوؤں سے کام نہیں چلے گا بلکہ عملی مہارت دکھانا ہوگی۔

ذیل میں باقی ان تمام قابلیتوں کی فہرست بھی دی جارہی ہے جن کی آج کل کے جدید دور میں ضرورت ہے اور کوئی بھی انسان ان کی بدولت ترقی کرسکتا ہے۔

▪پریزنٹیشن اینڈ کمیونیکیشن:
اپنے خیالات کوتحریر و تقریر کی صورت میں دوسرے انسانوں کے سامنے خوب صورت انداز میں پیش کرنا۔

لوگوں سے عمدہ بات چیت :

انٹرویو /میٹنگ میں شرکت کا طریقہ انٹرویو دینے کا طریقہ۔
بات چیت کا طریقہ
آپ جو ہیں ، وہ دوسروں کو کس طرح بتانا ہے۔

▪ٹیبل مینرز

کھانا کھانے کا طریقہ
ٹیبل یا دسترخوان پر بیٹھنا
سینئر یا جونئیر کے ساتھ کھانا کھانا
کانٹا چھری کا استعمال

▪ڈریس مینرز :

دیدہ زیب لباس کون سا ہوتا ہے؟
کن کپڑوں کے ساتھ کون سا جوتا پہننا ہے؟
کس موقع پر کون سا لباس زیب تن کرنا ہے؟

▪لیڈرشپ اسکلز:

اپنے ماتحت افراد سے شاندار کارکردگی کیسے دلوانی ہے؟
انسانوں کو کیسے ڈیل کرنا ہے؟
ٹیم کو کیسے لے کر چلنا ہے؟

▪لکھنے کی صلاحیت:

ڈائری لکھنا
بلاگ لکھنا
اپنے بارے میں لکھنا
اخبار ، میگزین یا سوشل میڈیا کے لیے لکھنا
کونٹینٹ مرتب کرنا

▪مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت:

حوصلہ اور ہمت نہ ہارنا
حالات کے خوف کو خود پر مسلط نہ کرنا
بڑے سے بڑے مسئلے کو بہترین انداز میں حل کرنا

▪لوگوں کو مینج کرنا:

ہر قسم کی طبیعت اور مزاج والے انسانوں کے ساتھ کیسے رہنا ہے؟
ہر ایک کو اس کی حیثیت کے مطابق مقام کیسے دینا ہے؟

▪لوگوں کو مینج کرنا:

بلا وجہ کے ڈر و خوف کے دام میں نہیں آنا
اپنی خوداعتمادی سے خود کویہ ثابت کرنا کہ آپ اس مقام کے لیے سب سے زیادہ اہل ہیں۔

▪تخلیقی صلاحیت :
نئے خیالا ت سوچنا
لوگوں سے کچھ ہٹ کر کرنا
مسائل میں بھی نئے مواقع تلاش کرنا
بہترین حل ڈھونڈنا

▪تنقیدی سوچ :

یہ کام ایسا کیوں ہے؟
اس میں کون کون سی خرابیاں اور خوبیاں ہیں؟
میں اس کام کو مزید بہتر انداز میں کیسے کیا جاسکتا ہے؟

▪ایموشنل انٹیلی جنس:

اپنے جذبات پر قابو پانا
غصے ،خوف ، حسد پر کنٹرول
قوتِ برداشت ۔نفس کو لگام دینا

▪فیصلہ سازی کی صلاحیت :

سوچ سمجھ کر اور تجزیہ کرنے کے بعد فوری فیصلہ کرنا
تذبذب کی کیفیت کو ختم کرنا
اپنے فیصلے کی ذمہ داری بھی خود قبول کرنا
غلط فیصلے کو تسلیم کرلینا

▪مکالمہ بازی کی صلاحیت :

دوسرے انسان کے مزاج کو سمجھ کر اس کے مطابق گفتگو
آواز سے زیادہ دلیل اونچی رکھنا
شائستہ انداز میں اختلاف رائے رکھنا

یہ تمام وہ صلاحیتیں ہیں جو تعلیمی اداروں کو پڑھانے کی ضرورت ہے۔یہ نہ صرف پروفیشنل زندگی میں بلکہ پرسنل زندگی میں بھی شاندار ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

بچوں کی تربیت و پرورش میں اہم بات یہ ہے کہ پہلے ان کی صلاحیت کو سمجھا جائے اور اس کے مطابق انہیں تیار کیا جائے۔ ہم لاکھ کوشش بھی کریں تو مچھلی کو درخت پر نہیں چڑھاسکتے ،کیونکہ وہ اس کام کے لیے پیدا ہی نہیں ہوئی۔ درخت پر چڑھنے کے لیے بندر ہے۔اسی طرح ہم بندر کو تیرنے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ہمارے معاشرے میں بنے بنائے معیارپہلے سے پڑے ہوئے ہیں اور ہم اسی میں بچے کو فٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔والدین اپنا دِل بڑا کریں اور بچوں کو ان کی اہلیت کے مطابق میدانِ عمل دیں۔

میں اگر پروفیسر ہوتا تو صرف کلاس روم تک محدود رہتا لیکن میں نے سوشل میڈیا کا راستہ اپنایا اور اب مجھے سننے اور دیکھنے والے پوری دنیا میں موجود ہیں۔ میں اگر سوشل میڈیا نہ اختیار کرتا تو میرے لیے ممکن نہیں تھا کہ اپنی آواز کروڑوں، اربوں لوگوں تک پہنچاؤں ۔ہم بھی اگر نئے آئیڈیاز اور ایجادات کی حوصلہ افزائی کریں گے تو ایک نئی نسل تیار ہوجائے گی۔پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ،سمت کی کمی ہے۔بچوں کو بہترین انسان بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں بچپن سے سنیں ، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں سمت دیں۔انسان مقناطیس کی طرح ہے ۔جیسے وہ خودہے ویسی دنیا اکھٹی کرلیتا ہے۔آپ کے بچے میں موجود ٹیلنٹ جب پالش ہوگاتو وہ اپنے اردگرد اپنی طرح کی ایک دنیا اکھٹی کرلے گا اوراس کے لیے آگے بڑھنا و ترقی کرناکوئی مشکل نہیں ہوگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */