جماعت اسلامی کو کیا کرنا چاہیے؟ - مجاہد خٹک

سوشل میڈیا کے پھیلتے اثر کے باعث ایسے لاکھوں افراد سیاست میں دلچسپی لے رہے ہیں جو اس سے قبل سیاسی سرگرمیوں اور انتخابی عمل سے دور رہتے تھے، ان کی بہت بڑی اکثریت عمران خان کی حمایت کرتی ہے اور دونوں بڑی جماعتوں کو سخت ناپسند کرتی ہے۔ ان کی بڑی تعداد کا تعلق پنجاب اور اس کے بعد خیبرپختونخوا سے ہے، کراچی کا ووٹر اپنے شہر کے مسائل میں اس قدر الجھا ہوا ہے کہ وہ قومی سطح کی سیاست میں بہت زیادہ دلچسپی نہیں لیتا۔

ایک طبقہ اور ہے جس نے ذوالفقار بھٹو سے اپنے خواب جوڑے تھے اور ان کی وفات کے بعد یہ خواب بے نظیر بھٹو سے جڑ گئے تھے۔ آصف زرداری کے طرز سیاست سے یہ لوگ مایوس ہوئے اور ان کی بڑی تعداد پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گئی کیونکہ نوازشریف کا ماضی ان کے سامنے تھا اور اس کے پیش نظر یہ لوگ مسلم لیگ ن میں نہیں جا سکتے تھے۔ ان کی بھی اکثریت پنجاب سے اور کچھ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھتی ہے۔

عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اسی طبقے کو پیش نظر رکھا اور اپنی توپوں کا زیادہ تر رخ شریف فیملی کی طرف رکھا۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ بھٹو سے محبت کرنے والے زرداری صاحب سے مایوس ہیں اور شریف فیملی کی طرف جا نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے بینظیر بھٹو یا ذوالفقار علی بھٹو کو بہت زیادہ ہدف تنقید نہیں بنایا بلکہ کئی مواقع پر ان کی تعریف بھی کی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران اور بعد میں کافی عرصہ وہ بلاول بھٹو کے متعلق بھی خاموش رہتے تھے۔
یہ حکمت عملی کامیاب ہوئی اور پنجاب سے پیپلزپارٹی کا صفایا ہو گیا، ان کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالا۔

فرض کریں عمران خان کی حکومت ڈیلیور کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے یا پوری طرح کامیاب نہیں ہوتی تو یہ دونوں طبقے ایک بار پھر سیاست سے لاتعلق ہو جائیں گے کیونکہ ان کے پاس کوئی آپشن نہیں ہوگا۔ زرداری صاحب کو سندھ سے باہر سیاست کرنے میں دلچسپی نہیں ہے اور نواز شریف کی جانب یہ طبقہ جا نہیں سکتا کیونکہ ان کی پوری سیاست ہی شریف فیملی کی مخالفت پر کھڑی ہے۔

جماعت اسلامی کو انہی دو طبقوں کو سامنے رکھ کر اپنی سیاسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ اس وقت جماعت ایک عمومی بیانیے کو اپنا رہی ہے جس میں پاکستان بننے کے بعد سب کو ہی ملکی حالات کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ اگرچہ وہ سب جماعتوں پر عمومی تنقید کرتی ہے لیکن اس کی تنقید بلکہ غصے کا فوکس عمران خان ہے۔

جماعت اسلامی کو ماضی میں بڑا نقصان نوازشریف کی ڈھکی چھپی حمایت کے تاثر سے ہوا جو وسیع پیمانے پر پھیلا یا پھیلایا گیا۔ پانامہ لیکس کے موقع پر ان کا زور اس بات پر رہا کہ اس میں شامل تمام افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اس بات نے بھی انہیں نقصان پہنچایا اور بالواسطہ طور پر اسے شریف فیملی کی حمایت کی کوشش سمجھا گیا۔

جماعت اسلامی نے سیاست میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس لینا ہے تو انہیں سب سے زیادہ نوازشریف اور ان کی سیاست پر تنقید کرنی چاہیے تاکہ وہ عمران خان کے مایوس حمایتیوں اور بھٹو کے پرانے شیدائیوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکے۔ نواز شریف کے حامی ان کے پاس کبھی نہیں آئیں گے الٹا ان کا ووٹ بینک اپنی طرف کھینچ لیں گے جیسا کہ قاضی حسین احمد مرحوم کے دور امارت میں ہوا تھا۔

جماعت کو ایک نیا بیانیہ تشکیل دینا چاہیے جس میں عمران خان والی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ جس طرح خان صاحب نے بینظیر بھٹو یا ذوالفقار بھٹو کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے زرداری پر تنقید کی، اسی طرح جماعت کو عمران خان پر تنقید سے پرہیز کرتے ہوئے مریم نواز اور نواز شریف کے ساتھ ساتھ زرداری کی کرپشن پر بات کرنی چاہیے۔

اس حکمت عملی سے وہ عمران خان سے مایوس ہونے والوں کو اپنی جانب متوجہ کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں مذہبی بیانیے پر اصرار کم کر کے عوام کے مسائل پر بات کرنی چاہیے۔ یہ بتانے کے بجائے کہ لوگ مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں انہیں ایک ایک مرحلہ بتانا چاہیے جن کے ذریعے عوام کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ اشرافیہ پر تنقید ایک بہت اہم معاملہ ہے، اس میں وہ عمران خان کے ان وزیروں اور مشیروں کو بھی شامل کر سکتے ہیں جن پر مسلسل الزامات لگ رہے ہیں یا جن کے پاس دولت کے انبار موجود ہیں۔

جماعت اسلامی کا ووٹ بنک اگر سکڑ گیا ہے اور اس پر پی ٹی آئی نے شب خون مارا ہے تو اس کا جواب عمران خان پر تنقید نہیں ہے بلکہ خان کے ان ساتھیوں پر تنقید ہے جن کے متعلق الزامات لگ رہے ہیں۔ عثمان بزدار پر تنقید اس کا ایک اہم حصہ ہونا چاہیے تاکہ پنجاب میں ان کی حکومت سے غیرمطمئن طبقات کی توجہ حاصل کی جا سکے۔

اس کے علاوہ جماعت کا بہت بڑا فوکس امریکہ مخالف بیانیہ ہے جو پاکستان میں اب پٹ چکا ہے۔ عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ امریکہ، چین، روس اور بھارت کیا کر رہے ہیں وہ صرف اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ اس لیے توجہ بھی انہی کے مسائل کی طرف رکھنی چاہیے۔

جماعت اسلامی کے لب و لہجے میں وہ غصہ بار بار نظر آتا ہے جو پی ٹی آئی کی جانب سے ان کا ووٹ بینک چھین لینے کے باعث فطری طور پر پیدا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی جماعت کے حمایتی عمران خان پر شدید غصے کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں اور اکثر اوقات نواز شریف پر پی ٹی آئی والوں کی تنقید کا دفاع کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس رویے کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔

اگر پی ٹی آئی سے مایوس افراد کو اپنے دائرے میں لانا ہے تو پھر نوازشریف کی حمایت کا تاثر مکمل طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ تحریک انصاف سے مایوس ہونے والا نوازشریف کا حمایتی نہیں ہو سکتا۔ استثنیات تو ہو سکتی ہیں لیکن بڑے پیمانے پر ایسا ہونا ممکن نہیں۔ بہت سے ایسے افراد جو جماعت کے متعلق پسندیدگی کے جذبات رکھتے ہیں، اسی وجہ سے اس سے ناراض ہیں کہ وہ شریف فیملی کے متعلق نرم گوشہ رکھتی ہے۔ اگر اس کی وجہ قیادت کی سطح پر موجود وہ افراد ہیں جن کی شریف فیملی سے ذاتی دوستیاں ہیں تو انہیں اس بات سے روکنا ضروری ہے۔

یاد رکھیں کہ پاکستانی سیاست میں ہمیشہ خلا موجود رہتا ہے کیونکہ ابھی تک کسی بھی حکومت نے عوام کے لیے زندگی آسان نہیں کی۔ اس خلا کو ماضی میں فوج پر کرتی رہی ہے اور جمہوریت پر شب خون مارتی رہی ہے۔ اب اس کا امکان بہت کم ہو چکا ہے۔ عمران خان نے بھی اسی خلا میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ جماعت کو بھی اسی پہلو پر غور کر کے اپنی سیاست کی بنیادیں ازسرنو استوار کرنی چاہئیں۔ آپ کے پاس کھلا میدان ہے۔ اگر گزشتہ ایک دہائی سے آپ ناکام ہو رہے ہیں تو اپنی پالیسیوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */