روک سکو تو روک لو! - ہمایوں مجاہد تارڑ

کافی عرصہ بعد کل کی سہ پہر اور شام اپنے وطن اسلام آباد کے lake ویُو پارک میں گذری، اور دیکھا کہ وہاں بھکاریوں کے جُھنڈ کے جُھنڈ چلے آتے ہیں — ہماری سخاوت کا امتحان لینے کو۔ کیاخواجہ سرا، کیا بچے بچیاں اور کیا بالغ العمر بھکاری۔ اعصاب شکن تجربے سے دوچار کر دینے والے سٹین لَیس سٹیل کے بنے یہ aliens ایسی ثابت قدم اور ڈھیٹ پروف مخلوق ہیں کہ ٹل کر نہیں دیتے۔ نہ آپ سکون سے کچھ کھا سکتے ہیں، نہ واک کر سکتے ہیں، نہ کہیں بیٹھ سکتے ہیں۔ مسائل سے فرار ہو کر چند گھڑیاں پُرسکون ماحول میں بِتانے کے آرزومند ایک نئی جنگ میں جھونک دئیے گئے ہیں۔

کسی وقت کوئی کالی وردی والا سیکیورٹی مَین انہیں بھگا دیا کرتا ہے، تاہم مجھے وہ نری ایکٹنگ ہی لگی چونکہ کچھ ہی دیر میں وہ بھکاری اگلے کسی مقام پر دوبارہ و سہ بارہ آپ پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اُنہیں کسی کا خوف نہیں، شاید اُلٹا تحفظ حاصل ہے! بندہ پوچھے آخر کیا مجبوری ہے، آپ اِنہیں نکال باہر کیوں نہیں کرتے ۔۔۔؟

پرویز مشرف دور ہو یانواز شریف دور، مجھ بد قسمت PTI سپورٹر کو اعتراف ہے پہلے ایسا نہیں تھا۔صاف لگ رہا ہے کہ چیک اینڈ بیلنس کا نظام دن بدن کمزور پڑ تا جا رہا۔ یہ بھکاری یقیناً دھیاڑی پر لیے گئے ہیں، یہ کمانے والی مشینری ہے۔ پانچ سو روپے فی یوم فی بھکاری۔ آپ معاملے کی چھان بین کر لیں، قوی امکان ہے یہی کچھ برآمد ہو گا۔ ہم سب خوب آگاہ ہیں کہ پارک جیسا خاص مقام تو درکنار، آپ کسی سڑک کنارے کھڑے ہو کر بھیک نہیں مانگ سکتے جب تک پرمٹ نہ ہو۔

یہی حال اب اتوار بازاروں کا ہے۔ بھکاریوں والا مسئلہ برطرف، وہاں کے تاجر خود ڈاکو بنے ہیں۔ ہر شے پہلے سے دو یا تین گنا قیمت پر مل رہی ہے۔ یعنی عام بازار کے نرخ سے بھی دو ہاتھ آگے۔ دوکانداروں کا اخلاق روبہ زوال۔ وہ شقّی القلب سے ہو گئے ہیں۔ یقیناً اُنہیں اِس رویہ پر CDA کا تحفظ حاصل ہے۔

جنرلی دیکھا جائے تو مہنگائی کے اعتبار سے یہ بدترین دورِ حکومت ہے۔ شاید کوئی شخص اِس پر بحث کرنے کی جرات نہ کرے کہ ایسا نہیں ہے۔

پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے واقعات کی قطار لگی ہے۔ ایک جیسے واقعات پچھلے روز والی تعداد سے بڑی تعداد میں ہم اگلے روز کی خبروں میں دیکھا کرتے ہیں۔ کوئی پُرسانِ حال نہیں۔

اُدھر ، ہماری اُمیدوں کا مرکز لنگڑی لولی حکومت اپنے سروائیول کے بکھیڑوں میں پڑی ہے۔ فلاں سوال کا فلاں جواب، اور سوال در سوال اور جواب در جواب کا کھیل تماشہ لگا ہے۔

خان کے طرزِ حکومت پر بات کی جائے تو جواب ملتا ہے 70 سالہ بِگاڑ کو دو اڑھائی برسوں میں کیسے ٹھیک کر دیا جائے ۔۔۔؟

یہی درست جواب ہو گا بھئی۔ تاہم ،کچھ اشارئیے وشارئیے یعنی indicators بھی تو ہوتے ہیں جنہیں دیکھ دیکھ احساس ملتا ہے ہم کہاں جا رہے، کیا ہونے جا رہا ۔۔۔ مجھ صُوفی پازیٹو کو ہزار مزاحمت کے باوجود نیگیٹو vibes ہی مل رہیں۔

چارلز ڈِکنز کے انقلابِ فرانس پر لکھے ناول A Tale of Two Cities کی مشہور ابتدائی سطریں رہ رہ کر کانوں میں بُھوں بُھوں کرتی ہیں:

“It was the best of times, it was the worst of times, it was the age of wisdom, it was the age of foolishness, it was the epoch of belief, it was the epoch of incredulity, it was the season of light, it was the season of darkness, it was the spring of hope, it was the winter of despair. We had everything before us, we had nothing before us, we were all going direct to Heaven, we were all going direct the other way …”

ترجمہ: "یہ بہترین زمانہ تھا، یہ بدترین زمانہ تھا، یہ دور تھا عقل و شعور کا، اور اِسی دور میں عقل و شعور ناپید تھے، یہ تیقّن سے بھرپور ایک وقت تھا، اور یہی وقت شک اور بے یقینی کا تھا، یہ جگمگ روشنیوں سے لدا ایک پُرنور موسم تھا، اور یہی موسم تاریکیوں سے اَٹا تھا، موسمِ بہار کی مانند امیدیں ہی امیدیں تھیں، اور موسمِ خزاں جیسی مایوسیاں ہی مایوسیاں، کبھی یوں لگتا ہمارے پاس سب کچھ ہے، اور کبھی یوں جیسے ہم خالی ہاتھ ہیں ہمارے پاس کچھ بھی نہیں، ہم سب بہشت کی جانب رواں دواں تھے، یا شاید ہم جہنم کا ایندھن بننے جا رہے تھے ۔۔۔"

یعنی ہم بھی اسی نوع کی extreme opposites پر آ تے جا رہے ہیں یا آ چکے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب in-betweens والی مڈل کلاس کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ اِس سماج میں جو لوگ اوسط درجہ آسودگی کا لطف اٹھایا کرتے، اب ایسی آسودگی سے محروم ہو کر وہ 'بدستور آسودہ ہونے' کی ایکٹنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسی آسودگی آخری دموں پر دھری ہے۔ اکثریت اپنی بقا کے لیے فکرمند ہو چکی۔

یہاں یہ بات پچھلے کچھ برسوں سے متواتر دوہرائی جا رہی ہے کہ مافیاز کے ہاتھوں یرغمال بنے ہمارے حالات کا سدھار کالموں اور مکالموں سے آگے کا کوئی معاملہ بن چکا۔ یہ اخباری اداریوں اورسوشل میڈیا campaigns سے ماورا کوئی چیز ہے۔ کہاں گیا سانحہ موٹروے؟ سانحہ ساہیوال، سانحہ ماڈل ٹاؤن؟ سانحہ بحریہ ٹاؤن، سانحہ راؤ انوار ۔۔۔ اور دیگر سب سانحے؟ اخباری صفحات اور سکرین پر اُنڈیلا جا چکا ٹَنوں مواد ہمارا منہ چڑا رہا ہے۔

یہاں مافیاز سے چُھڑا لے جانے کا جھانسہ دے کر مسندِ اختیار پر قابض ہوجانے والے خود راہزن نکلے۔ احتساب کے نام پر "تُن کے رکھ دیو" والی انتقامی کارروائی نے قوم کو بدترین پولیرائزیشن دی ہے۔ بات کرو تو مسکرا دیتے ہیں، یا بپھر کر "دلائل" کا انبار لگا دیتے ہیں ۔۔۔ خان کی مساعی کا اوورآل نتیجہ مثبت نہ آیا تو کل کلاں خان کو بھی اپنی طرز کا ایک عدد ڈاکو ہی گردانا جائے گا ۔۔۔ رجائیت پسندی والی مثبت طرزِ سوچ ایک طرف، عملی اعتبار سے یہ ملک تباہی کی جانب بگٹٹ بھاگ رہا ہے ۔۔۔ روک سکو تو روک لو!

Comments

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں پاک ترک انٹرنیشنل سکول، اسلام آباد کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */