ان جھمیلوں سے قوم کو کیا حاصل - ایاز امیر

ملاحظہ تو ہو کہ آج کل ملکی سطح پر کیسی گفتگو جاری ہے۔ کچھ سیاسی امور میں اداروں کی مداخلت کا رونا رو رہے ہیں، کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ زبان بھارت کی ہے اور اداروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ڈھنگ سے قومی امور چل نہیں رہے۔ نالائقوں کے ہاتھ اس ملک کی قسمت پھنسی ہوئی ہے۔ جو فضول بحثیں اس وقت جاری ہیں اس میں عام آدمی کی بھلائی کا پہلو کہاں سے نکلتا ہے؟

پاکستان کی بہت سی حقیقتیں ہیں لیکن ایک اٹل حقیقت یہ بھی ہے کہ ایک طبقہ بڑے آرام میں ہے اور بھاری اکثریت خواری کی زندگی بسر کرنے پہ مجبور ہے۔ اس حقیقت میں کچھ تبدیلی آئے پھرتو کوئی بات ہے نہیں توفضول کی بحثوں کا کیا فائدہ۔ وسائل ملک کے محدود ہیں، یہ ہم سب جانتے ہیں‘ لیکن ان وسائل پہ ناحق کا قبضہ ان آرام میں رہنے والے طبقات کا ہے۔ باقی بس گزارہ کر رہے ہیں۔ عمریں گزر گئیں اس تصور میں کہ حالات کی کایا پلٹے گی لیکن ملک کا مقدر یہی لگتا ہے کہ ایک گرداب سے جان چھوٹی تو ایک دوسرا جھمیلا کھڑا ہو گیا۔

جو حکومتیں کر بیٹھے انہوں نے کون سا کمال کیا، اُن کے پاس کیا سوچ تھی۔ جو اب حکومت میں بیٹھے ہیں اُن کی کیا سوچ ہے؟ جنہیں ہم اصل حکمران کہتے ہیں اُن کے بارے میں بھی کیا کہاجائے؟ کہیں نہ کہیں تو پھر پرابلم ہے۔ کوئی تو لوگ ہوں جو سوچ رکھتے ہوں، جن کے سامنے کوئی ویژن ہو کہ پاکستان کو ایسا ہونا چاہیے۔ سچ پوچھیے تو ایسا کوئی شخص یا طبقہ نظر نہیں آتا۔ جو آتے ہیں لگتا ہے وقت ٹپانے کے لئے آئے ہیں۔ بڑے کارنامے تو دور کی بات، چھوٹے چھوٹے کام ان سے نہیں ہوتے۔ جو فیصلے آناً فاناً ہو سکتے ہیں وہ بھی ان سے نہیں کیے جاتے۔ پتا نہیں کیا بیماری ہے۔

بیماری کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس ملک کی قسمت ہم پنجابیوں کے ہاتھوں میں آئی ہوئی ہے۔ بالحاظِ آبادی و وسائل ریاستِ پاکستان میں پنجاب کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ جب بنگالی ساتھ تھے تب بھی پنجاب کی اشرافیہ کی بات چلتی تھی۔ جب بنگالی چلے گئے اور انہوں نے ہم سے علیحدہ ہونے میں ہی عافیت سمجھی تو پنجاب کی کلیدی حیثیت مزید مضبوط ہو گئی۔ کہیں نہ کہیں تو کمی ہے کہ ہم سے وہ کام ہوئے نہیں جو کرنے کے تھے۔ کہنے کو تو ہم پنجابی بڑی خوبیوں کے مالک ہیں لیکن تاریخِ پاکستان واضح کرتی ہے کہ ہم اور سب کچھ کر سکتے ہوں گے لیکن ڈھنگ کی حکمرانی ہمارے بس کی بات نہیں۔ ہم میں ایسی کوئی واضح سوچ بھی نہیں کہ پاکستان کی شکل یہ ہونی چاہیے۔ بس گھسی پٹی باتیں ہیں جنہیں کبھی کبھی نظریہ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ کچھ اردو دانوں نے اس نظریے کی ترتیب میں حصہ ڈالا اور کچھ ہم پنجابیوں نے۔ اچھا بھلا خطۂ زمین بطورِ ملک ہمیں نصیب ہوا۔ لیکن کیا کہیے اس بات کاکہ ہم نے اس ٹکڑے کو بگاڑ کے رکھ دیا۔

ملال اور افسردگی کی ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ ارادے جوان رہیں‘ وہی کیفیت اچھی ہوتی ہے‘ لیکن کبھی کبھی انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اجتماعی طور پہ ہم نے اپنے ساتھ کیا کیا۔ خرابی ہو تو اصلاح بھی ہو سکتی ہے۔ ضیاالحق کا زمانہ تھا تو اُس کے بعد اور زمانے آئے۔ لیکن جنرل ضیا کی وجہ سے جو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوا اُس کی اصلاح ہم آج تک کرنے سے قاصر ہیں۔ بیتے ہوئے حکمرانوں کو چھوڑئیے‘ موجودہ کو ہی دیکھ لیجیے۔ عمران خان میں کوئی سوچ ہوتی تو بہت کچھ کرسکتے تھے۔ حکمرانی میں آئے تو کوئی خاص مخالفت نہ تھی۔ اپوزیشن جماعتیں اپنے زخموں کو چاٹنے میں لگی ہوئی تھیں۔ جنہیں ہم ادارے کہتے ہیں عمران خان کے ساتھ تھے، آج بھی ساتھ ہیں۔ آتے ہی چیزوں کو ہلا کے رکھ سکتے تھے۔ حالات میں بہتری لا سکتے تھے۔ اُن میں سوچ ہو گی لیکن ہمیں نظر نہیں آتی۔ اور اَب تو فضول کی لڑائیوں میں لگ چکے ہیں۔ کتنی تشویش کی بات ہے کہ ہر چند دنوں بعد ہمارے فوجیوں کی ہلاکت کی خبریں لائن آف کنٹرول سے آتی ہیں یا وزیرستان اور بلوچستان سے۔ کبھی تو ایسا لگتاہے کہ وزیرستان کا محاذ پھرسے گرم ہو رہا ہے۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کے مختلف دھڑے ایک بار پھر متحد ہو گئے ہیں۔ اگلے روز ہمارے دوست سلیم صافی نے لکھا تھاکہ تحریک طالبان والے افغان طالبان سے الگ نہیں ہیں۔ یوں سمجھیے کہ وہ افغان طالبان کے فرنچائز ہولڈر ہیں۔ ایک طرف ہم افغانستان میں امن لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ہماری سرزمین پہ تحریک طالبان کی شورش پھر سے سر اُٹھا رہی ہے۔ امریکی تو افغانستان سے چلے جائیں گے لیکن لگتا یوں ہے کہ ہمارا دردِ سر باقی رہے گا۔

کوئی یہ سمجھے کہ امریکی جائیں گے تو افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا‘ یہ درست نہیں۔ امریکی انخلا کے بعد افغانستان کہیں پھر سے خانہ جنگی کی لپیٹ میں نہ آ جائے۔ ایسا ہوا تو ہمارے لیے ایک اور پیچیدہ صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ بہرحال یہ آنے والے دنوں کی بات ہے، فی الحال تو پاکستان میں سیاسی محاذ گرم ہو رہا ہے‘ لیکن پھر سوال وہی ہے کہ عوام الناس کو اس سے کیا ملے گا؟ سیاسی پارٹیوں کی اپنی لڑائیاں ہیں، کچھ ذاتی دُکھڑے ہیں، کچھ مقدمات کی تکالیف ہیں۔ قوم کا فائدہ اس لڑائی میں کون ساہے۔

سیاست سے اُکتاہٹ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گرمی کی شدت جاچکی ہے اورموسم اب خزاں کا ہے۔ اب سے لیکر ابتدائے بہار تک ہماری دھرتی پہ غضب کا موسم رہتا ہے۔ آسمان کی رنگت بدل جاتی ہے، کھیت کھلیان ایک عجیب سا روپ دھار لیتے ہیں۔ سخت سردی پڑے پھر بھی دھوپ کی کچھ نہ کچھ تپش رہتی ہے۔ ایسے موسم میں دل آوارگی پہ مائل ہو جاتا ہے۔ ہر سال ایسے موسم میں خیال اُٹھتا ہے کہ سفر پہ نکلا جائے۔ اندرون سندھ مزاروں پہ حاضری دی جائے۔ نکلنا نہیں ہوتا، سستی آڑے آ جاتی ہے، لیکن کم از کم ثقیل موضوعات سے دور رہنے کی خواہش رہتی ہے۔

سردیوں میں لکڑی کا خاصا استعمال ہوتا ہے۔ ابھی سے سوچ رہا ہوں کہ لکڑی ذخیرہ کر لی جائے۔ کیکر اور پھلاہی کے درخت اس لحاظ سے بہت کام آتے ہیں۔ پچھلے سال کیکر کے درختوں کی چھانٹی کی تو اچھی خاصی لکڑی اکٹھی ہو گئی تھی۔ سردیوں کی شامیں‘ دہکتی آگ اور ساتھ ہی ہماری تنہائی۔ ایسے میں سیاست کا کون سوچے کہ اپوزیشن والے کیا کرنے جا رہے ہیں اورجن کو ہم ادارے کہتے ہیں اُن کی سوچ یا پریشانی کیا ہے۔ زمین سے کچھ نہ کچھ رشتہ رہنا چاہیے۔ چھوٹی موٹی کھیتی باڑی ہو تو وہ اطمینان اور سکون کا باعث بنتی ہے۔ وہ جو پرانی کہاوت ہے کہ دانے گھر کے ہونے چاہئیں‘ اس میں بہت سچائی ہے۔ دانے اپنے ہوں اور دودھ بھی اپنا۔ ہم اس لحاظ سے نالائق رہے ہیں کہ بھینس کبھی نہیں رکھی لیکن اب مکمل پلاننگ ہے کہ ہوادار کمرہ بنایا جائے اور ساہی وال یا گرد و نواح سے راوی نسل کی ایک خوبصورت بھینس لائی جائے۔ اگلے روز اس مقصد کیلئے اپنے ٹھیکے دار کو بلایا تھا اور امید ہے کہ کمرے کا کام جلد شروع ہو جائے گا۔ اکثر تو یوں ہوتا ہے کہ لوگ دیہات سے شہر جاتے ہیں، اس عمر میں ہمارا سفر اُلٹا ہو گیا ہے‘ اور اب جی یہی چاہتا ہے کہ زیادہ وقت یہیں گزرے۔
البتہ اس بات کا اعتراف ضروری ہے کہ دیہات میں رہنا محال ہوتا اگر انٹرنیٹ جیسی نعمت میسر نہ ہوتی۔ انسانیت کے محسن تو یہ لوگ ہیں جنہوں نے ایسی چیزیں ایجاد کیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */