بدیع الجمالیں - عاصمہ امبر

جھیل سیف الملوک کے سحر میں لکھا افسانہ

میں امی کی خالصتاً ماؤں والی باتوں سے، ”معقول لوگوں کے تذ کروں سے جو آج کل ایک تواتر سے صبح شام بڑے اہتمام سے میرے سامنے ہو رہے تھے، تنگ آئی تھی کہ میری دوست فرح کا فون آ گیا۔ ”ہمارا ڈیپارٹمنٹ شمالی علاقہ جات کی سیر کو جا رہا ہے۔ چلو گی؟“
”چلوں گی“۔ مجھے کچھ دنوں کا فرار مل گیا۔
میں نے اپنی کولیگ شازی کو فون کیاتو اس نے پہلا سوال یہ کیا کہ جھیل سیف الملوک جاؤ گے؟
”جائیں گے“۔ میں نے یونہی کہہ دیا۔

پھر تو وہ ہر جگہ پہنچ کر بے تابی سے پوچھتی۔ ”آخر جھیل کب جائیں گے؟“
”کوئی خاص بات ہے؟“ فرح نے اس کی بے تابی دیکھ کر شرارت سے آنکھ لشکا کر پوچھا تو ”نہیں کچھ نہیں“ کہتے ہوئے مجھے شازی کی آنکھوں میں دیا سا بجھتا ہوا محسوس ہوا۔

اگلے دن ہم جھیل سیف الملوک چل پڑے۔ راستے میں جھرنوں پر رُکے۔ ایک جگہ برف پڑی تھی۔ وہاں سب جیپیں رکواکر تصویریں بنوانے لگے۔ شازی کا تو جی چاہتا تھا ہر منظر کی ہر زاویئے سے تصویر بنوائے۔ جب جھیل پر پہنچے تو اس کے سحر میں مبتلا ہوگئے۔

برفیلی چوٹیوں، چمکتی دھوپوں، اُڑتے بادلوں اور ٹھنڈی ہواؤں میں کوئی جادو تھا جو ہر طرف پھیلا تھا۔ بلند برفیلے پہاڑوں کے دامن میں جھیل کسی معصوم سبز آنکھوں والے بچے کی طرح چپ چاپ لیٹی تھی، ایک طرف سے جھیل کا پانی رستہ پا کر شدت سے ”جھنن جھنن جھنکار بجاتا بہہ رہا تھا“۔ اتنی خوبصورتی، اتنا سکون، اتنی قدرت، اتنا تقدس کتنی کثرت مل کر ایک جھیل بنی تھی۔
اس حسن میں ہر کوئی ڈوب گیا۔ چھپ چھپ کرنے لگا۔
کسی کی شدت کو تیز بہاؤ لے بہا تو کسی کے اندر ٹپ ٹپ بوندیں گرنے لگیں۔ کچھ جاتے ہی بھیک گئے۔ جب بھیگ سہاری نہ گئی تو نچڑنے لگے۔
لڑکوں کی آنکھوں میں پھلجڑیاں چلنے لگیں۔
کچھ شرارتوں بھری آہیں بھرنے لگے تو کوئی چہکنے لگے، بیشتر کی آنکھوں میں بدیع الجمال کے پنکھ چھپا لینے والی شرارت تھی۔

جو پہلی بار آئے تھے، ان کی نظر میں میلہ دیکھنے والے بچوں کا سا شوق تھا۔ جو وقت چشیدہ تھے اور میلوں کے پس منظروں اور پیش منظروں سے واقف تھے۔وہ بے نیازی سے کھڑے سارا منظر دیکھ رہے تھے، ان کی آنکھوں میں چھینٹے ہوں تو ہوں، دامن پر نہ پڑنے دے رہے تھے۔ چاہے آس پاس کا پانی کتنی ہی شدت سے کیوں نہ بہہ رہا ہو۔
مقامی لوگ جگہ جگہ کھڑے اس جھیل سے وابستہ ”شہزادہ سیف الملوک اور پری بدیع الجمال“ کی داستان سنا رہے تھے۔ ایک شخص ہمارے ساتھ موجود ایک فیملی کو گھیرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ہم ساتھ کھڑے تھے۔ ہم بھی بیسیوں بار سنی کہانی دوبارہ سننے لگے کہ لوک داستان کا مزہ ہر بار سننے پر ویسا ہی ہوتا ہے۔

کہانی ختم ہوئی تو سننے والے نے اسے پچاس روپے دیے۔ میں نے بھی کچھ رقم دے کر قرضِ سماعت ادا کیا۔
شازی چلائی۔ ”کیوں؟“
کیوں دیئے تم نے؟ یہ سب جھوٹ کہہ رہا تھا۔

میں نے کہا۔ ”کوئی بات نہیں۔ ان لوگوں نے ایک حسین داستان کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ یوں بھی خوبصورت جھوٹ نقصان دہ نہ ہو تو اس کو زندہ رکھنے میں ہرج بھی نہیں، ہو سکتا ہے آگے چل کر کسی خوبصورت سچ کا وسیلہ بن جائے“۔

”ہونہہ! جھوٹ سچ کا وسیلہ نہیں بنتے“

اس نے جھنجھلا کر کہا تو میں حیران ہوئی کہ اسے ہوا کیا ہے جو اتنی بے تاب تھی، یہاں آنے کو، اتنی اداس کیوں ہو گئی ہے؟۔۔۔۔

اس کی آنکھوں میں گلابی گلابی چنگاریاں بھری تھیں۔
میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور سامنے پتھروں سے بنے ایک مسجد نما احاطے میں لے جا کر بٹھا دیا اور کہا ”تم سے یہ بے پناہ حسنِ قدرت سہارا نہیں جا رہا، یہاں تھوڑی دیر ”اس“ کے ساتھ باتیں کرو، پھر آجانا“۔ اسے وہاں چھوڑ کر میں دوبارہ جھیل کنارے آ کھڑی ہوئی۔

اس پرسکون جھیل میں اور اس کے گردوپیش میں اتنی خوبصورتی تھی۔ لگتا تھا کہ آنکھیں تھک جائیں گی دیکھتے دیکھتے۔ مگر بصارتیں اس حسن کو پورا جذب نہ کر پائیں گی۔ لوگ کہتے ہیں یہاں چاند راتوں کو ڈوب جانے کو من کرتا ہے۔ میرا تو دن میں بھی ڈوبنے کو دل چاہ رہا تھا۔
حسنِ قدرت سے میرا دل بھرنے لگا۔ خوشی بھرتی گئی، بھرتی گئی۔

پاؤں ہلکے پھلکے ہو گئے، میں بادلوں پر سوار ہوگئی، لگتا تھا ٹھنڈی ہوا خوشی بن کر دل میں بھر گئی ہے۔

میں نے تخیل کو پنکھ لگائے اور برفیلی چوٹیوں کو چھو آئی، چمکتی دھوپ سے میرے اندر جمی برف پگھلنے لگی، بہتے جھرنوں نے محبت سے آگے بڑھ کر میرے سر سے تفکرات کی گٹھڑی اٹھائی اور دور کہیں پھینکنے کو پہاڑوں سے تیزی سے اتر چلے۔ پانی میں پاؤں ڈالے تو ٹھنڈک روح میں اتر گئی، پاؤں چاہتے تھے پوری جھیل کا طواف کر آئیں۔

اتنے میں شازی واپس ہمارے ساتھ آ گئی۔ وہ دھلی ہوئی، نچڑی ہوئی لگ رہی تھی۔
میں نے مسکرا کر پوچھا۔ ”آگے چلیں؟“
”چلو“۔ وہ ہمارے ساتھ چل پڑی۔ہم چلنے لگے، دل چاہتا تھا چلتے جائیں، چلتے جائیں۔۔۔ لیکن ایک جگہ جھیل نے میرے پاؤں پکڑ لیے اور بولی۔
”آؤ بیٹھو باتیں کرتے ہیں“۔

شازی کے علاوہ میرے ساتھ دو اور لڑکیاں تھیں۔ وہ تینوں پانی سے ذرا ہٹ کر چل رہی تھیں۔ میں نے ان کو بھی جھیل کا پیغام دیا۔ ”بیٹھو باتیں کرتے ہیں“۔

پانی میں آدھ ڈوبے بڑے پتھرپر بیٹھ کر میں نے ٹھنڈے سبز پانیوں میں پاؤں لٹکائے، جھیل کا سکوت ٹوٹا، پانی بول پڑے۔ دل بول اٹھا۔ اس کی سنی۔ اپنی کہی۔ دل پہ پڑا ایک بھاری پتھر پانی میں جا گرا۔

چھپاک۔۔۔۔چھپاک چھینٹے اُڑے۔آنکھوں میں بھر گئے۔آنکھوں سے بھی ایک جھرنا پھوٹا۔ پانی سے بچ کر میرے پیچھے بیٹھی لڑکیوں میں سے ایک کی بوجھل، بھیگی آواز آئی۔ وہ شازی سے کہہ رہی تھی۔
”یہاں کیا جادو ہے؟“ کیا ساری لڑکیاں یہاں آ کر ایسی ہو جاتی ہیں؟“

میں نے اسے حیرت سے دیکھا، اسے میں سمجھتی تھی کہ لاپروا سی ہے۔ اس کے اندر دکھ کی بوند کبھی نہ پڑی ہوگی۔ بس باہر باہر سے دُکھ بادلوں کی طرح سایہ کر کے چھٹ جاتے ہوں گے۔
”کیا سب ایسی ہوتی ہیں؟“ اس نے برف برف چوٹیوں کو دیکھتے ہوئے اپنا سوال دہرایا جیسے بلندیوں سے پوچھ رہی ہو۔ میں نے بھی جھیل کی طرف رُخ پھیر کر گویا گہرائیوں کو جواب دیا۔

”ہاں ضرور ہوتی ہیں۔ سب ایسی ہوتی ہیں۔ جو دِکھتی ہیں وہ بھی، جو نہیں دِکھتی ہیں، وہ بھی۔“

یہاں پر حسنِ قدرت کے ساتھ ساتھ حسنِ داستان بھی ہے اور ہر لڑکی کے اندر کہیں نہ کہیں بدیع الجمال سا پیار پانے کی تمنا ہوتی ہے کہ کوئی پتھریلے راستوں سے پیر لہولہان کرتا آئے اور اس کی انا کے پنکھ چُرالے۔

رسموں، رواجوں کے سفید دیو سے نجات دلا دے۔ تسخیر کرے اور یادگار بنا دے، بدیع الجمال بنادے۔
مگر بے چاریاں کچھ دھوکے کھاکر آتی ہیں اور کچھ دھوکا کھانے سے ڈرتی ہوئی۔۔۔

کچھ خود فریبی میں مبتلا ہوکر، تو کچھ اپنے خوابوں اور خواہشوں پر پاؤں جماکر مضبوط ستوں بنی رہتی ہیں۔ اس داستان کو ان کا دل بھی اپنانا چاہتا ہے، مگر ان کے گرد جھوٹ سچ، دھن دولت، حساب کتاب، رسم و رواج، رشتوں ناطوں اور کرو نہ کرو کے اتنے طوفان اٹھتے ہیں کہ وہ یقین و بے یقینی کی گھمن گھیری میں گھر کر لیرولیر ہونے لگتی ہیں۔ یہی اس کے ساتھ، تمہارے ساتھ، میرے ساتھ سب کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔

کچھ جان جاتی ہیں، کچھ جان کر انجان رہتی ہیں۔ جو جان کر انجان رہتی ہیں، وہی سکھی رہتی ہیں۔ شازی میرے قریب پتھر پر آ بیٹھی۔ وہ مجھے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔

میں نے اس کا موڈ بدلنے کی خاطر خوش دلی سے ہنس کر پوچھا۔
”سناؤ! تمہارا بھوت اُترا کہ نہیں؟ ویسے ہوا کیا تھا تمہیں؟“
”جانتی ہو۔ پھر بھی پوچھ رہی ہو؟“

جانے وہ ایسا کیوں کہہ رہی تھی حالانکہ میں کچھ نہیں جانتی تھی۔ یوں بھی ہمیں ایک ساتھ پڑھاتے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا اور پھر کام کے دوران تو مل بیٹھنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔

کچھ سرد لمحے گزر گئے تو وہ خود ہی بولی۔ ”جانتی ہو، اس نے کیا کہا تھا؟ اس نے کہا تھا“
”ہم سب سے پہلے جھیل سیف الملوک جائیں گے، محبت کی زمین پر“

”پھر؟“

”پھر یہ کہ چند دن بعد اس کی شادی کا رنگ برنگا کارڈ آ گیا، میری زندگی بے رنگ بنانے“۔ سردی کی شدید لہر مجھے اپنی ریڑھ کی ہڈی میں رینگتی ہوئی محسوس ہوئی۔ میں نے پاؤں پانی سے باہر نکال لیے جو ٹھنڈک سے بے جان سے ہوگئے تھے۔
میری نظر پُرسکون جھیل سے ہوتی ہوئی اس کونے پر ٹک گئی جہاں سے راستہ پا کر پانی بپھر اٹھا تھا جیسے کسی بے حس و حرکت جسم کا شوریدہ سر دماغ ہو۔

وہ شوریدہ سر پانی پتھروں کے گھنگھروچھنکاتا، دھمال ڈالتا جانے کس سمت رواں تھا۔
میں نے شازی کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں شوریدگی تھی جیسے ابھی جھنجھلا کر پتھرپہ سر پٹک دے گی۔

میری نظر اپنے ننگے پیروں پر پڑی تو لگا جیسے ابھی یہ پتھروں کی پازیب پہن کر دھمال ڈالیں گے اور مجھے بے سمت کر دیں گے۔ میں نے اس کا برف ہاتھ اپنے کانپتے ہاتھ میں پکڑا اور کہا:
"آؤ، واپس چلیں"

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */