آخر انسان یہ کیسے کر لیتا ہے؟ - عارف انیس ملک

انسان پہلے وجہ ڈھونڈتا ہے، پھر وہ کام کرتا ہے، یا پھر کام کرتا ہے اور وجہ ڈھونڈ لیتا ہے اور پھر مطمئن ہوجاتا ہے. وجہ نہ ڈھونڈے تو زندگی محال ہوجاتی ہے. اپنا آپ کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے. زندگی میں عجیب چیزیں ہوجاتی ہیں. قریب ترین رشتے دھوکہ دے جاتے ہیں. نیتوں میں سوراخ ہوجاتے ہیں. جن لوگوں کی قسم کھائی جاسکتی ہے، وہ دغا دے جاتے ہیں. ایسی خبریں ملتی ہیں کہ انسان کانوں اور آنکھوں پر اعتبار کھو بیٹھتا ہے. آخر انسان یہ سب کیسے کر لیتا ہے؟ نفسیاتی زبان میں اسے ریشنلائزیشن کہتے ہیں. تاہم سوال یہ ہے کہ ہم ریشنلائز کیوں کرتے ہیں؟

نفسیات میں COGNITIVE DISSONANCE کی تھیوری اور ڈیفنس میکانزم ان میں سے اکثر سوالات کا جواب دیتے ہے. تھیوری تو بہت لمبی چوڑی ہے مگر اس کا عرق یہ ہے کہ ہم بنیادی طور وہ چیزیں کرنا پسند کرتے ہیں جو ہمارے اخلاق، روایات، گناہ ثواب یا اچھے برےتصور کے مطابق ہوتی ہیں. تاہم کئی مرتبہ ہم وہ کچھ کر جاتے ہیں جو انہی تصورات کے خلاف ہوتا ہے. اب ایک کسک پیدا ہوجاتی ہے جو یا تو ہمیں اپنا رویہ تبدیل کرنے پر اکساتی ہے، یا پھر وہ "وجہ" ڈھونڈ لیتی ہے جس سے اس فعل کا "جواز" پیدا ہوسکے. ہمارے "غلط" فعل سے ہمارے اندر ایک نفسیاتی مٹھ بھیڑ یا جنگ کا آغاز ہوجاتا ہے، جسے فوری طور پر ایک "جائز وجہ" ڈھونڈ کر حل کرلیا جاتا ہے اور وہ گناہ، اندرونی طور پر "حلال" ہوجاتا ہے اور ضمیر کے تھپیڑے اور تپش کم ہوجاتی ہے. ہم غلط کریں یا درست، گناہ یا ثواب، اندرونی آمادگی پہلی شرط ہے.

نفسیات یہ بتاتی ہے کہ اگر انسان اپنے" گناہ" کی تاویل (rationalisation) نہ ڈھونڈے تو وہ پاگل ہوسکتا ہے، کیونکہ اس کے اندر کی مٹھ بھیڑ اسے کھا جائے. آپ نے خبر پڑھی ہوگی کہ فلاں بھائی نے غیرت کے نام پر بہن کا گلا کاٹ دیا. ایک شوہر نے بیوی بچوں کو سوتے ہوئے مار دیا. میری بیس سالہ نفسیاتی پریکٹس میں ایسے بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی. ایسے شدت پسندوں سے بھی ملاقات ہوئی جو کہیں پھٹنے کے لیے بھیجے گئے مگر بچ گئے. ان میں سے اکثر ہشاش بشاش لوگ تھے کہ ان کے پاس موثر تاویل موجود تھی جس کی وجہ سے وہ ایسا "گھناؤنا" کام کرنے لگے تھے، یا کرچکے تھے.

آج سے پندرہ بیس برس پہلے ایک تبلیغی دوست کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا اتفاق ہوا( مثال صرف سمجھانے کے لیے ہے، اچھے برے لوگ ہر شعبہ ہائے زندگی میں ہیں). دفتر میں کوئی فون آتا تو وہ کہتے کہ بتایا جائے کہ وہ موجود نہیں ہیں اور چل پڑے ہیں، ساتھ ہی وہ اٹھ چلنا شروع کردیتے اور کمرے میں چکر کاٹ کر واپس آبیٹھتے. جب حکمت پوچھی گئی تو انہوں نے بتایا کہ چونکہ جھوٹ بولنا اسلام میں منع ہے تو "وہ چل پڑے ہیں" ایک حقیقی بیان ہے جو کہ ان کی اس وقت کی حالت کی عکاسی کرتا ہے.

جب اسسٹنٹ کمشنر انکم ٹیکس کے طور پر کار سرکار شروع کیا تو پہلے دن ہی ویلکم میٹنگ میں سینئر افسر صاحب نے بلایا. معلوم ہوا کہ ان کی شہرت صوفیانہ قسم کی ہے. انہوں نے باتیں بھی کشف المحجوب سے شروع کیں اور مختلف سلسلوں پر روشنی ڈالی. پھر کسی صوفی روایت سے اقتباس کرتے ہوئے بتایا کہ ایک صاحب تھے جن کے بارے میں مشہور تھا کہ انہوں نے کبھی حرام نہیں چکھا، کبھی غیر عورت کی طرف نگاہ نہیں کی. ایک مرید ان کی عقیدت میں ان کاسایہ ہوگیا اور ہر وقت ساتھ رہنے لگا. دیکھا کہ حضرت کے پاس جب کبھی کوئی چڑھاوا یا تحفہ لے کر آتے اس پر ہاتھ پھیرتے اور قبول فرماتے. کوئی مریدنی آجاتی تو اس سے بھی استفادہ کرتے. جب مرید بہت حیران پریشان ہوا تو مرشد نے ایک روز بتایا "آج تک حرام تک نہیں پہنچا، نہ ہی کسی طرف نگاہ کی. جواب چیز خود چل کر آجاتی ہے وہ حرام نہیں، بڑی سرکار کی جانب سے بھیجی گئی ہے اور بڑی سرکار کی بھیجی گئی چیز کا انکار کفر ہے، گناہ ہے". حکایت کی حکایت تھی اور نصیحت کی نصیحت!

مٹھ بھیڑ کی تھیوری کا مزید استعمال اس وقت دیکھا جب تاجروں کے پاس ٹیکس وصولنے کے لیے گیا تو انہوں نے بتایا کہ جب تک سڑکیں نہیں بنتیں، جرائم ختم نہیں ہوتے، بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہوتی، اور سیاست دانوں کی کرپشن کا حساب نہیں لیا جاتا، وہ ٹیکس کس لیے دے سکتے ہیں؟ اسی سلسلے میں ایک بہت بڑے مخدوم صاحب کو نوٹس بھیجا تو انہوں نے اپنے حضور حاضری بخشی اور دو گھنٹے کی براہ راست ملاقات میں بتایا کہ انکم ٹیکس ایک غیر شرعی اصرار ہے کہ اسلام میں صرف ڈھائی فیصد زکوٰۃ دینے کا حکم ہے. انہوں نے راقم کے ایمانی حالات اور آخرت میں بے چارگی کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی کہ ایک کافرانہ نظام کا حصہ بن کر میں خواہ مخواہ اپنا رستہ کھوٹا کر رہا ہوں، لیکن اگر نجات پانا چاہوں تو ان کا سلسلہ حاضر ہے.

کبھی آپ نے سوچا کہ سگریٹ کے پیک پر پھیپھڑوں کے کینسر کی اتنی بڑی تصویر کے باوجود لوگ سگریٹ کیوں پیتے ہیں؟ کیونکہ انہیں ٹینشن ہی بہت ہے. زندگی نے اتنے درد دیے ہیں کہ سگریٹ سے ہی کچھ کم ہوتے ہیں. یا یہ کہ میں کون سے اتنے سگریٹ پیتا ہوں کہ کینسر کی نوبت آجائے گی. بس دو چار سوٹے لگانے سے من کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے تو کیا برا ہے؟
وہ لوگ جو پچھلے دس سال سے وزن کم کرنے کا سوچ رہے ہیں کہیں نہ کہیں ان کا مقابلہ کسی لڈو، پیڑے، برفی، برگر یا نہاری سےہوجاتا ہے اور وہ سوچتے ہیں، چلو آج کر لیتے ہیں، آج لنچ یا ڈنر نہیں کروں گا تو حساب برابر ہوجائے گا ".
یا پھر کبھی کبھار بوتل چکھ لی کہ میں کون سا روز پیتا ہوں اور کہاں لکھا ہے کہ شراب حرام ہے اور دراصل شراب تو وہ ہوتی ہے جوکہ فلاں چیز سے کشید کی جاتی ہے یا پھر میں تو گنہگار آدمی ہوں، کبھی کبھار پی لیتا ہوں، غریبوں کا خون تو نہیں پیتا!

یا پھر یہ کہ فلاں صاحب شادی شدہ ہیں، گھر بار بھی ٹھیک ہے، بچے بھی ہیں، مگر دل پشوری کرلیتے ہیں، منہ مار لیتے ہیں کہ آج کل ہر کوئی ایسا کر رہا ہے، ویسے بھی چار کی اجازت ہے،.... بوریت بھی کوئی چیز ہے اور یہی زندگی ہے جس نے جی لی، جی لی، کل کس نے دیکھا ہے؟

کبھی آپ نے سوچا کہ رشوت کو نذرانہ، خرچہ پانی، خدمت شدمت، سپیڈ منی کیوں کہا جاتا ہے؟ کیونکہ رشوت لینا اور دینا حرام ہے مگر باقی چیزیں، جیسے کہ نام سے ظاہر ہے، چلتی رہتی ہیں.

حالیہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بیان کو ہی دیکھ لیں. اس کے پاس یا تو یہ راستہ تھا کہ وہ کہے کہ ہماری پولیس بہت نکمی ہے اور میں یہ وردی آج اتار رہا ہوں کیونکہ میں یہ زیادتی نہیں روک سکا. یا وہ کہے کہ بی بی اس طرح رات کے اس وقت کون گھر سے نکلتا ہے؟ اور اچھی بیبیاں ایسا کب کرتی ہیں؟ تھیوری کی رو سے وہی کچھ کیا گیا اور کہا گیا جس سے اندرونی مٹھ بھیڑ کو سکون پہنچتا.

جنسی ہراسیت میں آپ نے اکثر ایسے کلمات سنے ہوں گے "میں کیا کروں اس نے کپڑے ایسے پہنے ہوئے تھے. اس کا اپنا دل کر رہا تھا ورنہ ایسے کپڑے کون پہن کر گھر سے نکلتا ہے. یہ تو" دعوت گناہ "ہے. یہ مٹھ بھیڑ سے بچنے کا کیسا موثر طریقہ ہے ورنہ یہ ماننا کہ" میں جنسی بھیڑیا ہوں اور گرا ہوا شخص ہوں اور مجھے حلال حرام کی کوئی تمیز نہیں ہے"، بندے کو پاگل کردے.

مٹھ بھیڑ کی تھیوری کے فائدے بھی ہیں. ہمارے اندر اٹھنے والے سوالات جب ہمیں بے چین کرنے لگیں اور ہم تاویل ڈھونڈنے کی بجائے ان کا جواب تلاش کرنے لگیں اور سچائی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکیں تو پھر واقعی تبدیلیاں رونما ہوجاتی ہیں یا کایا پلٹ جاتی ہے. اب یہ ہمارے اوپر منحصر ہے کہ ہم اندر کی مٹھ بھیڑ کو تاویل، بہانے اور جھوٹ کی چادر کے نیچے دبا دیں یا پھر وہ "حق" کام کریں جو کہ ہمیں واقعی کرنا چاہیے.

Comments

عارف انیس ملک

عارف انیس ملک

عارف انیس ملک معروف تھنک ٹینکر، بین الا قوامی سطح پر معروف ماہر نفسیات اور پاکستان سول سروس سے وابستہ ہیں۔ نفسیات، لیڈرشپ اور پرسنل ڈیویلپمنٹ پران کی تین عدد کتابیں شائع ہو کرقبول عام حاصل کر چکی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */