کہانی ایک گھر کی - مجاہد خٹک

بڑے بچے بزرگوں سے جھگڑ رہے ہیں کہ انہیں سب سے چھوٹا اتنا پیارا کیوں ہے، انہیں کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ساری جائیداد بھی اسی کے نام، لاڈ پیار، نخرے بھی اسی کے اور بات بھی اسی کی مانی جا رہی ہے۔ہم نے تمام عمر خدمت کی ہے پھر بھی ہمیں دھتکار دیا جاتا ہے۔

بڑے لڑکے یہ نہیں سمجھ رہے کہ جب ان کا کاروبار اچھا چل رہا تھا تو انہوں نے بزرگوں کو آنکھیں دکھانا شروع کر دی تھیں، انہیں کہتے تھے کہ اب آپ لوگ سکون سے اللہ اللہ کرو، ہمیں اپنا کام کرنے دو۔ لیکن جب کچھ اپنی لالچ اور کچھ بزرگوں کی مداخلت کے باعث کاروبار ختم کر بیٹھے ہیں تو گھر کے بڑے کو بھی دکھڑے یاد آ رہے ہیں۔وہ ان لڑکوں پر دوبارہ اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

چھوٹے نے نیا نیا کاروبار شروع کیا ہے اور بزرگ اس امید پر اس کے نخرے برداشت کر رہے ہیں کہ گھر میں پھر سے خوشحالی آئے گی اور بزرگوں کو بھی وہ تنگی برداشت نہیں کرنی پڑے گی جو کاروبار بیٹھ جانے سے پیدا ہوئی تھی۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے کھانے پینے اور کپڑوں کے اخراجات بھی پورے نہیں ہو رہے اس وجہ سے گھر میں سارا دن ان کے رونے کا شور پھیلا رہتا ہے۔

اب بڑے لڑکوں نے مارکیٹ میں افواہیں پھیلانا شروع کردی ہیں کہ چھوٹے کی دکان پر دو نمبر مال ملتا ہے، کبھی دکان کے باہر دھرنے کا اعلان کرتے ہیں، کبھی بزرگوں کے راز فاش کرنے کی بات کرتے ہیں، کبھی بڑوں کی منہ پر بے عزتی کرتے ہیں لیکن رات کے اندھیرے میں پیغامبر بھیج کر صلح کا پیغام بھی دیتے ہیں۔

بزرگ ان کی نالائقیوں اور چالاکیوں سے تنگ ہیں مگر فکر مند بھی ہیں کہ کہیں واقعی چھوٹے کا کاروبار خراب نہ کریں۔ اب تک تو انہیں امید دلاتے رہے ہیں، کچھ دے دلا کر جھگڑا ٹال دیتے تھے مگر اب وہ چھوٹے کی دکان پر حریصانہ نظریں جمائے بیٹھے ہیں اور اسے بے دخل کر کے چلتے کاروبار پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔اس لیے فساد بڑھتا جا رہا ہے۔

گھر کے بڑے کوشش کر رہے ہیں کہ صلح صفائی سے معاملہ حل ہو جائے۔ اس سے پہلے جو لڑکا سب سے لاڈلا تھا، وہ گھر کی خواتین کی باتوں میں آ کر خوب بھڑکا ہوا ہے۔ سب سے زیادہ آہ و بکا بھی وہی کر رہا ہے۔ اس کے پاس تجربہ بھی ہے، وہ بزرگوں کی ہمسری کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔ اس کے پاس ایسے راز ہیں جو مارکیٹ میں پھیل گئے تو بزرگوں کی عزت بھی مٹی میں مل سکتی ہے اور چھوٹے کے کاروبار میں بھی گھاٹا ہو سکتا ہے۔ مارکیٹ میں چھوٹے کے کاروباری حریف بھی بڑے لڑکے کو شہہ دے رہے ہیں، گھر کی خواتین بھی لگائی بجھائی کر رہی ہیں اور وہ خود بھی اپنا مقام کھونے کی وجہ سے طیش میں آیا ہوا ہے۔

اس کے علاوہ گھر کا ایک اور لڑکا بھی شدید غصے میں ہے، اس نے مدرسہ کھولا ہوا ہے اور وہ اپنے شاگردوں کو لا کر دکان پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ اس کی شروع سے ہی چھوٹے سے نہیں بنتی تھی، دونوں ہی ہر وقت لڑتے جھگڑتے تھے، اب چھوٹے کو گھر میں مقام مل گیا ہے تو اس کا پارہ آسمان کو چھو رہا ہے۔دونوں کا معاملہ حسد کا ہے جسے مدرسے کا مالک مذہبی رنگ دے دیتا ہے اور چھوٹا اسے منافق قرار دے کر تضحیک کرتا ہے۔ اس کے مختلف نام رکھتا ہے اور گاہکوں کے سامنے اس کی برائیاں کرتا رہتا ہے جس کی وجہ سے فساد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

گھر کے ایک کمرے کا دروازہ باہر کھلتا ہے، وہاں ایک اور لڑکے نے چھوٹی سی دکان سجائی ہوئی ہے۔ اس کا چونکہ ہلکا پتلا کاروبار چل رہا ہے اس لیے وہ کھل کر سامنے نہیں آتا لیکن وہ باقی دونوں کو بھڑکاتا رہتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ باقی دونوں کو بزرگوں کے سامنے کر دے۔وہ ہمیشہ گھر کا ناپسندیدہ لڑکا رہا ہے اس لیے اس نے اپنی الگ دکان بنا لی ہے۔ اسے ہر وقت یہی وہم رہتا ہے کہ اس کی دکان بھی چھین کر چھوٹے کے حوالے نہ کر دی جائے اس لیے وہ گھر میں فساد کو ہوا دیتا رہتا ہے تاکہ بزرگوں کو ان مسائل سے فرصت ہی نہ ملے اور وہ اس کی طرف رخ کرنے کا سوچ بھی نہ سکیں۔ اس کا بیٹا بھی جوان ہو گیا ہے اور وہ بھی اس کی ہاں میں ہاں ملا رہا ہے۔

چھوٹا جتنی بھی کوشش کر رہا ہے، کوئی نہ کوئی مسئلہ، کوئی بیماری اس کی ساری محنت پر پانی پھیر دیتی ہے۔ کہیں اس کی ناتجربہ کاری بھی سد راہ بن جاتی ہے۔بزرگ اسے ہر طرف سے سپورٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کبھی کسی سے قرض لے دیتے ہیں، کہیں سے پیسے لے کر اس کے پاس رکھوا دیتے ہیں مگر بات بن نہیں رہی۔گھر میں غربت کا سماں بڑھتا جا رہا ہے۔

کئی لوگ یہ بھی مشورہ دے رہے ہیں کہ بزرگ رستے سے ہٹ جائیں اور لڑکوں کو اپنے فیصلے خود کرنے دیں۔وہ غلطیاں بھی کریں گے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ بزرگوں نے ان سے زیادہ غلطیاں کی ہوئی ہیں۔ لیکن بزرگوں کو خوف ہے کہ سوا ستیاناس نہ ہو جائے، اس لیے وہ معاملات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔

سب ہمسائے تجسس کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ اس گھر کا انجام کیا ہوتا ہے۔کچھ تو اس مکان کو ہڑپ جانے کے لیے بیتاب ہیں اور فساد کو مختلف طریقوں سے بڑھاوا دیتے رہتے ہیں۔ کبھی ایک کو شہہ دیتے ہیں تو کبھی دوسرے کو۔ کچھ ہمسائے ہمدردی بھی رکھتے ہیں مگر وہ مشورہ دینے یا گھر والوں کو فاقوں سے بچانے کے لیے تھوڑی بہت رقم دینے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس گھر میں ایسی ناچاقی اور افراتفری ہو، وہاں سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھر کا ماحول بھی کشیدہ ہے، کسی کو سکون بھی نہیں ہے اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں۔ سارا دن شورشرابا اور فساد کا سماں رہتا ہے

دیکھیں اس گھر کا کیا بنتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */