ریڈی میڈ گھر خریدنے والے ہوشیار رہیں! - بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز ہیں اور کنسٹرکشن کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ گھر کی تعمیر کے متعلق ایک عام آدمی کی رہنمائی کے لیے معروف کتاب تعمیر مسکن کے مصنف ہیں۔‌ بزنس لائن میں‌آنے سے قبل 11 سال سے زائد عرصہ ملک کے بڑے ٹیلی کام آپریٹر کے شعبہ انجینئرنگ میں جاب کرچکے ہیں. روزمرہ زندگی کے سماجی موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں. گھر کی تعمیر کسی بھی فرد کی سب سے بنیادی ضرورت اور زندگی کی اہم خواہش ہوتی ہے. اس دوران میں‌بے شمار مسائل پیش آتے ہیں. بشارت حمید اپنی ان تحریروں کے ذریعے ایسے ہی مسائل پر گفتگو کررہے ہیں. امید ہے قارئین کو یہ سلسلہ پسند آئے گا.


جب ہم نئے گھر کے بارے میں سوچتے ہیں تو اس کے ساتھ بہت سے مسائل بھی ذہن میں آتے ہیں۔ جن لوگوں کا پہلے کوئی تجربہ نہیں ہوتا، انہیں گھر کی تعمیر خود کروانا ایک بہت بڑا مسئلہ لگتا ہے۔ آج کل ہر بندہ مصروف ہے، ہر ایک کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ اپنے کام کاج سے چھ آٹھ ماہ نکال کر گھر تعمیر کروایا جائے۔ اگر وقت نکال بھی لیا جائے تو تعمیر کے بارے زیادہ علم نہیں ہوتا کہ بندہ کام کو اچھے طریقے سے کرواسکے۔ میٹیریل کی خریداری بذات خود ایک بڑا ایشو ہے کہ کہاں سے اچھا اور کوالٹی میٹیریل ملے گا۔ کام کے دوران ٹھیکیدار اچانک کہہ دیتے ہیں کہ فلاں شے ختم ہوگئی ہے، فوری منگوائیں۔۔۔ بندہ کہیں دور بیٹھا پریشان ہورہا ہوتا ہے کہ اتنی ایمرجنسی میں کیسے ارینجمنٹ ہوسکتا ہے۔ دوران تعمیراسی طرح کے کافی مسائل بنتے رہتے ہیں۔

کئی لوگ اتنا لمبا انتظار نہیں کرنا چاہتے اور پیسے جیب میں ہوں تو فوری طور پر کوئی بنا بنایا گھر خرید کر شفٹ ہونا چاہتے ہیں۔

مارکیٹ میں بہت سے بلڈرز موجود ہیں جو سوسائٹیز کے ساتھ مل کر یا اپنے پلاٹ خرید کر گھر بناتے ہیں اور اس طرح کے جلد باز خریداروں کو بیچ کر اچھا خاصا نفع کماتے ہیں۔ عمومی طور پر بہت سارے بلڈرز اپنی انویسٹمنٹ سے گھر بناتے وقت ہلکی کوالٹی کا میٹیریل استعمال کرتے ہیں اور گرے سٹرکچر میں ہر ممکن حد تک بچت کرتے ہیں، جبکہ رنگ روغن، کچن ، باتھ رومز اور لائٹس پر زیادہ پیسے خرچ کرکے فل ڈیکوریشن کردیتے ہیں تاکہ دیکھنے والوں کو زیادہ خوبصورت دکھائی دے۔ ان کا ٹارگٹ عام طور پر خواتین اور بچوں کی پسند کی چیزیں اچھی سے اچھی لگانا ہوتا ہے، کیونکہ گھر کی خریداری میں خواتین اور بچے فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

ایسے گھروں کے سٹرکچر زیادہ پائیدار نہیں ہوتے اور چار چھ ماہ بعد مسائل سامنے آنے لگتے ہیں، تب تک بیچنے والے بلڈر صاحب کہیں اور پہنچ چکے ہوتے ہیں۔

کئی بلڈرز گھرکی تعمیر مکمل کرکے خودفیملی سمیت اس میں شفٹ ہو جاتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ گھر تو اپنے لیے بنایا تھا لیکن کسی مجبوری کی بنا پر بیچنا پڑ رہا ہے۔ کسٹمر یہ خیال کرتے ہیں کہ انہوں نے واقعی اپنے لیے ہی بنایا ہوگا اور اس میں میٹیریل اچھا ہی لگایا ہوگا، وہ اس جھانسے میں آ کر سودا کر لیتے ہیں اور بعد میں بھگتتے رہتے ہیں۔اس طرح کے بلڈرز چھوٹی چھوٹی بچت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ گھر میں بجلی کی تار بھی ہلکی کوالٹی کی استعمال کرتے ہیں اور ایک کمرے کی چھت میں اگر دس لائٹس لگی ہیں تو وہ ساری ایک یا دو سوئچز پر چلتی ہوں گی، یعنی اضافی سوئچ کا معمولی سا خرچہ بھی بچاتے ہیں۔ بنیادوں کی واٹر پروفنگ بھی نہیں کرتے اور نہ ہی مٹی کی بھرتی کی درست طریقے سے کمپیکشن کرواتے ہیں۔

ہمارے ایک عزیز ایسے ہی ایک گھر میں کرائے پر رہ رہے تھے جو کسی بلڈر نے بنا کر بیچا تھا۔ ان کے گراونڈ فلور ٹی وی لاونج کے فرش پر چلتے ہوئے ایسے دھمک محسوس ہوتی تھی جیسے اس کے نیچے کوئی تہہ خانہ ہے۔ وہاں بھی یہی ہوا تھاکہ مٹی کی کمپیکشن صحیح نہیں تھی اور کچھ عرصہ بعد مٹی نے فرش کی کنکریٹ کو چھوڑ دیا تھا اور نیچے بیٹھ گئی تھی لیکن اوپر فرش صرف کنکریٹ کے بل پر کھڑا تھا، حالانکہ فرش پر ٹائل لگائی گئی تھی لیکن اس کے نیچے اب خلا بن چکا تھا۔ جب کبھی کوئی شے اس فرش پرزیادہ زور سے گری تو یقینی طور پر فرش ٹوٹ جائے گا اور پھر اسے توڑ کر نیا ہی لگانا پڑے گا۔

اسی طرح ایک ملنے والے صاحب بتا رہے تھے کہ ان کے کسی عزیز نے بنا بنایا گھر خریدا اور شفٹ ہوگئے۔ بیچنے والے صاحب نے رقم جیب میں ڈالی اور کھسک گئے۔ کچھ روز بعد انہیں محسوس ہوا کہ ایک فلور کے باتھ روم میں پانی نہیں آرہا، پلمبر کو چیک کروایا گیا تو پتا چلا کہ ٹونٹیاں دیوار میں ہی کسی ہوئی ہیں اور پیچھے پانی کی لائن ڈالی ہی نہیں گئی۔۔۔ پھر انہوں نے ٹائلیں تڑوا کر نئی لائن ڈلوائی اور پھرسے نئی ٹائلیں لگوائیں۔

ان حقیقی مثالوں سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ بنا بنایا گھر خریدنا کیسا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہر فیملی کی اپنی ضروریات اور اپنا لائف سٹائل ہوتا ہے۔ گھر بنانے والے اپنی سوچ کے مطابق بناتے ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر بنا ہوا گھر آپ کی ضروریات پوری کرتا ہو، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اپنی ضروریات کے مطابق نقشہ بنوائیں اور گھر اپنی مرضی سے تعمیر کروائیں۔ البتہ اگر کوئی ایسی صورتحال بن گئی ہو کہ فوری بنا بنایا گھر خریدنا ہی واحد آپشن ہو تو پھر ایسے بلڈر کا بنا ہوا گھر خریدیں جن کی شہرت اچھی ہو اور ان سے خریدے گئے گھروں میں رہنے والے لوگ ان کے کام سے مطمئن ہوں۔

اگر آپ کو ایسا بندہ نہ مل سکے تو پھر نئے تعمیر شدہ گھر کی بجائےجس گھر کو بنے ہوئے ایک دو سال ہوچکے ہوں، اسے ترجیح دیں کیونکہ نئے گھر کے مسائل فوری سامنے نہیں آئیں گے جبکہ سال دو سال پرانے گھر کے سارے مسئلے جیسے باتھ روم لیکیج، دیواروں کی دراڑیں اور نمی وغیرہ سب سامنے آ چکا ہوتا ہے اور آپ کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

بنا ہوا گھر خریدتے وقت گھر کی چمک دمک پر نہ جائیں بلکہ اس کی مضبوطی پر توجہ دیں جو کہ ذرا پرانے گھر میں بہتر انداز سے محسوس کی جاسکتی ہے جبکہ نئے گھر میں اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے۔

بہتر یہی ہے کہ اگر آپ انتظار کر سکتے ہیں تو اپنا گھر کسی اچھے بلڈر سے تعمیر کروائیں تاکہ آپ بعد کی پریشانیوں سے بچ سکیں۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */