وِش پَری (افسانہ) - زارا مظہر

ممّا نے روز کی طرح پَری کے سنہری لمبے بالوں کی فرنچ ناٹ بنائی اور ان میں ایک قطار میں سفید موتی گوندھ دئیے۔۔۔انہیں پَری کے چہرے پر فرنچ ناٹ بہت پسند تھی۔۔۔ چُٹّیا میں اس کے سنہرے گول سیب جیسے چہرے کی گولائی بہت نمایاں ہوجاتی تھی۔ پھر اس کے بالوں میں چھوٹا سا سفید موباف باندھتے ہوئے روز ہی کی طرح پپّا کی صحت یابی کے لیے اپنی یاد کروائی ہوئی دعا کرنے کو کہا۔ پَری نے چھوٹی چھوٹی گلابی ہتھیلیاں پھیلا کر خوب ہل ہل کے اللہ سے پپا کی صحت یابی کی طویل دعا مانگی۔۔۔ دعا کے مشکل الفاظ اس کے گول گلابی ہونٹوں سے ہار سنگھار کے پھولوں کی طرح جھڑتے رہے اور اڑ اڑ کر ستاروں کی طرح آسمان کے نیم سپیدے پر چپکتے رہے۔۔۔۔ تب ممّا نے کَوکَو کرنچ اور دودھ کا پیالہ پَری کو ناشتے میں کھانے کے لیے دیا۔

ننّا کا گھر بالکل سامنے جنگل میں تھا۔ ممّا نے کل صبح گھر میں لگے درخت سے پکّے پکّے سرخ سیب اتار کر ایپل پائی بنائی تھی باسکٹ میں بہت سے سیب بھرے ان کے اوپر ایپل پائی والا ڈبہ رکھا اور پری سے کہا جاؤ ننّا کو دے آ ؤ۔۔۔ اور ہاں سنو۔۔۔۔ سیدھا ننا کے گھر جانا، میری نظریں تمھارے ساتھ ساتھ چلیں گی۔۔۔ ممّا نے ایک نظر بیمار، لاغر سفید چادر اوڑھے پپّا پہ ڈالی۔۔۔۔ جو خود سے کروٹ بھی نہیں لے سکتے تھے، ممّا سوپ اور بارلے پورِج کا پیالہ بھی اپنے ہاتھ میں لے کر چمچہ چمچہ ان کے منہ میں ڈالتی تھیں جو کبھی تو حلق میں اتر جاتا اور کبھی کبھی کوئی چمچہ ادھر ادھر بہہ جاتا جِسے مّما بڑی چابک دستی سے گیلے نیپکن سے سمیٹ لیتں۔ اور پپّا شکر گزاری کی نظروں سے ممّا کو دیکھتے رہتے۔ باقی پورا دن ممّا بس دو ہی کام کرتیں،گرمیوں میں سیب اور سردیوں میں سنگترے اور نارنگی کا جیم اور مارملیڈ بناتیں اور بوتلوں میں بھر کر قریبی قصبے کے بازار میں بھجوادیتیں اور وقفے وقفے سے پپّا کو ایکسر سائز کرواتی رہتیں۔ پپّا ایک روبوٹ کی مانند ان کے مضبوط، باہمت ہاتھوں میں کھیلتے رہتے۔ آج پہلی بار پّری کے دل میں خیال آیا میرے پپّا ڈولی کے پپّا جیسے کیوں نہیں ہیں۔۔۔ ڈولی ہر جگہ ان کی انگلی پکڑ کر جاتی تھی۔۔۔ وہاں جانے کی جگہیں ہی کتنی تھیں۔۔۔ ننّا کا گھر، درختوں کے جھنڈ میں ندی کا کنارہ جہاں درختوں کے گِرے ، سوکھے پتوں پہ چلنے سے کرنچ کرنچ کی آ وازیں نکلتیں۔۔۔۔دن میں ڈھیروں رنگ برنگی تتلیاں، جنگلی پھول اور رات میں بہت سارے جُگنو چمکتے ۔۔۔۔ اور ایک چھوٹا سا پارک ۔۔۔۔ جس میں بچے مل کر کھیلتے تھے ۔ اور باری باری سِی سَا اور مَیری گو راؤنڈ جھولتے ۔ کاؤنٹی کی چھوٹی سی ٹھنڈی سی سڑک اور کالونی سے قدرے پرے ایک گھنا جنگل ۔۔۔

پَری نے مڑ کر دیکھا بالائی منزل کی کُھلی کھڑکی سے مما ہاتھ لہرا رہی تھیں۔ان کے لب مسلسل دعائیہ انداز میں ہل رہے تھے ۔۔۔ درختوں کے جھنڈ میں داخل ہونے سے پہلے پَری نے ایک بار پھر مڑکر دیکھا ممّا نے اپنی ہتھیلی تھوڑی کے نیچے ٹکا کر بوسہ لیا اور پھونک سے پَری کی طرف اڑا دیا ۔۔۔ پَری جنگل میں داخل ہوگئی، اب مّما نظر نہیں آرہی تھیں، مگر نّنا کے گھر کی اوپری منزل سے ان کا ٹیرس نظر آرہا تھا ۔۔۔ ننّا ایزی چیئر پہ جھولتی ہوئی اونی جرابوں یا دستانوں کی بُنائی کررہی تھیں۔ ان کے سفید بال چھوٹے سے جُوڑے میں پیاز کی گانٹھ کی طرح بندھے ہوئے تھے اور اطراف کے بال ہلکی ہوا سے ہولے ہولے اڑ رہے تھے۔ درخت کے تنے میں بنا دروازہ کھول کر پَری سیڑھیاں چڑھ گئی اور چپکے سے جاکر ننّا کے گلے میں اپنے ننھے ننھے بازو پرو دیئے۔۔۔۔ اونہوں کون ہے ۔۔۔۔کون ہے اونہوں۔۔۔ میری سلائی سے گھر گرا دیئے، اب ڈیزائن خراب ہوگا اونہوں۔۔۔۔ ننّا تجاہلِ عارفانہ سے بولے جارہی تھیں۔۔۔۔ ساتھ ہی اس کے گلے سے لپٹے بازو نکال کر گھماکر آ گے کرلیا۔۔۔۔ اوہو میری پَری ہے میں نے بوجھ لیا تھا ننّا آ نکھیں مچمچاتے ہوئے بولیں۔۔۔۔

تیز ہوا چلنے لگی تھی، کچھ اداس اور گرمائی سی ۔۔۔ پری نے دیکھا ننّا کے آ س پاس سفید سے روئی کے گالے جیسے پھوہے اڑ رہے تھے۔ ایک دم نقرئی اور نازک سے ۔۔۔۔۔ اِسے لگا جیسے ننّا کے سفید بالوں والا سر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ ُکر اوپر اوپر اڑا جا رہا ہے. یہ کیا ہے ننّا؟ اس نے گھبرا کر بےساختہ ننّا کے سر کی طرف دیکھا اور انہیں پکڑنے کی کوشش کی مگر وہاں تو ننّا کے سرخ و سفید چہرے پر ایک خوبصورت نرم سی مسکراہٹ سجی تھی۔۔۔ نہیں میری جان ان کو نہیں پکڑنا یہ تو وش پریاں ہیں اور لوگوں کی مانگی ہوئی دعائیں لیکر اللہ کے پاس جارہی ہیں۔۔۔ تم بھی اپنے پپا کی صحت یابی کی دعا ان کے حوالے کرو، پھر دیکھو تمہارے پپا کیسے جلدی سے ٹھیک ہوں گے۔ ننّا نے اس کی مُنّی سے ناک دبائی اور پیازی گالوں پہ بوسہ لیکر اپنے سینے میں بھینچ لیا۔۔۔۔ یہ کہاں سے آ تی ہیں؟ ان کا گھر کہاں ہے؟ اور یہ کہاں جاتی ہیں؟ پری نے دلچسپی سے وِش پریوں کو اڑتے دیکھا۔۔۔۔ میں جب چھوٹی تھی ۔۔۔۔بالکل تمہارے جتنی ۔۔۔۔۔ ننّا نے ہاتھ اونچا کیا تو میری گرینی نے بتایا تھا ان کو وِش پری کہتے ہیں۔ جب دور میدانی کھیتوں میں گندم کی کٹائیاں ہوتی ہیں تو یہ خود ہی آ جاتی ہیں ۔ مگر ان کا گھر نہیں ہوتا ۔ یہ تو بکھری ہوئی دعائیں ہیں ۔۔۔۔ جو لوگ اللہ سے مانگتے ہیں۔۔۔ اور یہ انہیں اللہ کے پاس لے جاتی ہیں۔

ننّا نے پری کو کھانے کے لیے اس کے پسندیدہ شہد والے مفنز بھی دئیے۔۔۔مفنز کھاتے ہوئے پری کو یہ سوچ کر ہنسی آگئی کہ ننّا بھی کبھی اس کے جتنی تھیں۔۔ بھلا کیسے ہو سکتا ہے وہ ان کا پوپلا منہ دیکھنے لگی۔۔۔۔ اچھا چلو اب گھر جاؤ ننّا نے سرخ سرخ چیریوں سے بھری باسکٹ اور جنگلی پھولوں اور جڑی بوٹیوں سے کشیدہ عرق اس کے حوالے کیا. مما سے کہنا ایپل پائی بہت مزے کی تھی۔۔۔ سیدھا گھر جاؤ اور ہاں میری نظریں تمھارے ساتھ ساتھ چلیں گی۔ انہیں معلوم تھا پری کو جنگل میں اکیلےگھومنے میں بہت مزہ آ تا ہے۔۔۔۔ پَری درخت کی کھوہ میں بنی سیڑھیاں اتر گئی اور لکڑی کے پرانے سے دروازے سے باہر نکل گئی۔۔۔ ہوا اچھی خاصی تیز تھی اور سفید ، نقرئی وِش پریاں جا بجا اڑتی پھر رہی تھیں۔ پَری نے ان کو پکڑنے کی کوشش میں پیچھے پیچھے چلنا شروع کردیا ۔ ننّا کی پیچھا کرتی آ نکھوں کو ڈھونڈنے کے خیال سے مڑ کر دیکھا مگر وہاں ننّا کی آ نکھیں تو نہیں البتہ بہت سے وِش پریاں تیز ہوا میں اس کے تعاقب میں تھیں۔ اس نے مٹھیوں میں بھربھر کے ننھی ننھی کتنی ہی وِش پریاں اپنی جیبوں میں بھر لیں ۔ کچھ ننھی پریاں جھاڑیوں میں اٹکی ہوئی تھیں، یہ یقینا کسی کی دعا لیکر جارہی تھیں کہ جھاڑیوں نے اچک لیا۔۔۔پَری نے ان کو آ زاد کرتے ہوئے خود کلامی کی ۔۔۔ تب ہی پَری کو خیال آ یا ان کے گھر سیبوں کے درخت پر بھی ایسی بہت سی وِش پریاں اٹکی ہوئی تھیں. پَری نے سوچا اسی لیے پپا ٹھیک نہیں ہوتے، میری اور ممّا کی ساری دعائیں تو سیبوں میں اٹک جاتی ہیں۔۔۔ ننّا نے پہلے کیوں نہیں بتایا اسے ننّا پہ بے پناہ غصہ آیا۔ وہ دل ہی دل میں ان سے ناراض ہوگئی۔ پہلے بتا دیتیں تو اب تک پپّا ٹھیک ہو چکے ہوتے۔ اسے یاد آ یا ایک نازک سی وِش پری کیکٹس کے پودے کے ساتھ بھی چمٹی ہوئی تھی۔ میری دعا کیسے قبول ہوتی جبکہ وِش پری اوپر لیکر ہی نہیں گئی اور جب اس نے اسے چھڑانے کی کوشش کی تھی تو بہت سارے باریک باریک کانٹے اس کی گدرائی ننھی انگلیوں میں گھس گئے تھے اور وہ تکلیف کے مارے ساری رات سو نہیں سکی تھی۔ اگلے دن ننّا نے چشمہ لگا کے چِمٹی سے اس کے کانٹے چُنے تھے اور سختی سے تاکید کی تھی کہ آیندہ کیکٹس کے پودے کے قریب بھی نہیں جانا۔۔۔ اور وہ دوبارہ کبھی کیکٹس کے پودے کے پاس گئی ہی نہیں تھی۔

مگر آ ج ننّا وہاں موجود نہیں تھیں۔ کانٹے دار جھاڑیوں میں بہت سی وِش پریاں الجھی ہوئی تھیں۔ پتا نہیں کس کس بچے نے اپنے اپنے پپّا کی دعا ان کے حوالے کی تھی تاکہ وہ قبولیت کے لیے اللہ کے پاس لے جائے۔۔۔ یہ سوچ کر اسے اپنی کانٹوں والی تکلیف بھول گئی اور وہ انہیں آ زاد کروانے کی کوشش کرنےلگی۔ مگر وہ ٹوٹ ٹوٹ کر گرتی رہیں، اس کے ننھے ہاتھ لہولہان ہوگئے مگر لِپٹے ہوئے کانٹوں نے انہیں نہیں چھوڑا۔

تب ہی اس نے دیکھا چیری کی جھاڑیوں سے اوپر ایک بڑی سی وِش پری اڑتے ہوئے تیزی سے سیدھا آ سمان کی طرف جارہی تھی، پری نے لپک کر اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ بہت جلدی میں تھی۔ شاید اس نے آ ج ہی کوئی بڑی اہم اور دلگداز دعا اوپر پہنچانی تھی۔ پری غیر اختیاری طور پہ اس کے پیچھے بھاگنا شروع ہو گئی ۔ اور لکڑی کے تختوں والا خطرناک ۔۔۔۔۔ جنگل کی حد بندی کا گیٹ ٹاپ گئی۔ اس کی چیریوں سے بھری باسکٹ وہیں چھوٹ گئی۔۔۔ گھومتی، درختوں کے اندر اندر بل کھاتی کم چوڑی سڑک بھی پار کر گئی ۔ مگر وِش پری درختوں سے بچتی ادھر ادھر ڈولتی اڑتی جارہی تھی۔ پری کو لگا آج وہ اسے پکڑ لے گی جیسے ڈولی کے ساتھ پکڑم پکڑائی کھیلتے ہوئے وہ ہمیشہ ڈولی کو پکڑ لیتی تھی۔ کچھ چھوٹی وش پریاں اس کی فرنچ ناٹ کے بَلوں میں کچھ سفید موتیوں میں پھنس گئیں۔۔۔۔ ایک ایک کرکے اس کے دونوں جوتے باری باری جنگل کی ریتلی مٹی کی وجہ سے پیروں سے نکل گئے۔۔۔ مگر اس متحرک وِش پری کے پیچھے بھاگتے وہ مگن ہوکر بھی ہر جھاڑی سے، ہر کانٹے پہ اٹکی وش پری کو آ زاد بھی کرتی رہی اور اپنی دعا بھی اس کے حوالے کرتی رہی۔

اب ہوا بہت تیز چل رہی تھی اور اس کی جینز کی اسکرٹ بڑے خوبصورت دائرے بناتی ہوا میں پھڑپھڑا رہی تھی اور ہزاروں وش پریاں اس کے ارد گرد منڈلا رہی تھیں جیسے منتظر ہوں کے پری اپنی دعا ان کے حوالے کردے۔۔۔ اس کی انگلیاں اور دونوں ہتھیلیاں اور کہنیاں بری طرح زخمی ہو چکی تھیں۔۔۔ منی سی ناک دو بار گرنے سے چِھل چکی تھی اور ناک کی نوک پہ ننھے ننھے خون کے قطرے چمک رہے تھے۔۔۔ گُدگُدے پیروں میں پتا نہیں کتنے کانٹے چبھ گئے تھے۔ اس کی اسکرٹ پہ بھی کانٹے اور وش پریوں کے روئیں چمٹ گئے تھے۔۔۔ مگر وہ اس بڑی پری کے پیچھے بے تحاشا بھاگ رہی تھی کہ اچانک دو بڑے درختوں کے درمیان کھلی جگہ پاتے ہی وہ بڑی وِش پری آ سمان کی جانب پرواز کر گئی۔ اور عین اسی لمحے پَری ایک درخت کے ٹُھنٹھ سے بڑی شدید ٹھوکر کھا کے اوندھے منہ گر پڑی۔۔۔۔ اس کے نتھنوں سے اور سر سے خون بہنے لگا۔۔۔اس نے تھک کر زخموں سے چور ہو کر آ نکھیں بند کر لیں۔۔۔ پیاس سے حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے اور سانس اکھڑ رہی تھی ۔ پَری نے محسوس کیا اب وہ کبھی نہیں اٹھ سکتی۔ اس نے بند ہوتی آ نکھوں کے ساتھ بڑی مشکل سے سیدھی ہوکر اپنی جیب میں بھری ساری وِش پَریاں نکال لیں اور اَوک میں بھر کر اپنے پھیپھڑوں کی پوری قوت سے زور لگا کر پھونک ماری۔ ساری وش پریاں مچلتی ہوئی دائیں بائیں اور اوپر کو پھیل گئیں اور تیز ہوا میں اڑنے لگیں جیسے بڑی جلدی ہو انہیں اوپر جانے کی ۔ پری نے مطمئن ہو کر آ نکھیں موندھ لیں ۔۔۔۔۔ جیسے وہ خود ایک مجسّم دُعا ہو۔۔۔۔ ایک ننھی سی وِش پری۔

دن کی سفیدی پر رات کا اندھیرا غالب آ نے والا تھا۔۔۔۔ممّا کی پُر مسرت آ واز ویرانے میں گونج رہی تھی پَری۔۔۔ پَری۔۔۔ دیکھو اللہ نے تمہاری دعا قبول کرلی ہے پپّا خود اٹھ کر بیٹھے ہیں تمہیں بلارہے ہیں۔۔۔ پَری۔۔۔ میری ننھی پَری جلدی آؤ اندھیرا پھیلنے والا ہے۔۔۔۔ پَری۔۔۔ پَری۔۔۔۔ مگر ویرانے نے چپکے سے کالی سیاہ ماتمی چادر اوڑھ لی۔۔۔

Comments

زارا مظہر

زارا مظہر

زارا مظہر نے اردو میں ماسٹرز کیا ہے، شاعری سے شغف ہے۔ دل میں چھوٹے چھوٹے محسوسات کا اژدھام ہے جو سینے جو بوجھل پن کا شکار رکھتا ہے، بڑے لوگوں کی طرح اظہاریہ ممکن نہیں، مگر اپنی کوشش کرتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */