گل بی بی - ببرک کارمل جمالی

صبح کی کرنیں پوری آب و تاب سے نکل رہی تھیں۔۔۔۔ تمام پہرے دار اپنی اپنی جگہوں پر براجمان تھے۔۔۔۔۔ سورج کی کرنیں کبھی پہاڑوں میں گم ہو جاتیں۔۔۔۔کبھی پہاڑوں کو چیر کر نکلتی تھیں۔۔۔۔۔گل بی بی گہری نیند میں سو رہی تھی۔۔۔۔ اسے کسی کی فکر نہ تھی۔۔۔۔۔جنرل ڈائر نے پاک و ہند میں بڑے بڑے سورماؤں کو چت کیا ہوا تھا۔ 1916ء کا سال تھا جب انگریزی سرکار کا راج پورے پاک و ہند میں چلتا تھا۔۔۔۔انہی دنوں میں بلوچستان میں دھوکے بازی کا بازار گرم تھا۔۔۔ لالچی لوگوں کو جنرل ڈائر نے اپنے گرفت میں کر رکھا تھا۔۔۔۔بلوچوں نے اس زمانے کے سپر پاور برطانیہ کو چیلنج کر رکھا تھا۔۔۔۔ـ بلوچوں کی کمان خاش کے نوجوان شہسوار کر رہے تھے۔۔۔۔ جنرل ڈائر نے حیلے بہانوں سے شہسوار کو گرفتار کرکے فتح کا جشن منایا۔۔۔۔۔تاکہ بلوچ مزاحمت کار اور آزادی کی تحریک ختم ہوجائے۔۔۔۔مگر اس وقت شہسوار کی بیوی نے ہتھیار اٹھالیا۔۔۔۔۔بلوچ عورت نے اسلحہ اٹھا کر مغرور جنرل ڈائر کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔۔۔۔۔سارے مرد ان کے پیچھے کھڑے ہوگئے تھے۔۔۔۔۔ گل بی بی نے جنرل ڈائر کے ہوائوں کو بھی اپنے قریب آنے نہیں دیا تھا۔

گل بی بی نے انگریزی قوت کو جھکنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔۔۔۔سلطنتِ برطانیہ لرز اٹھا۔۔۔۔سارا غرور مٹی میں مل گیا تھا۔۔۔ انگریزی سرکار مذاکرات پر مجبور ہوگئے تھے ۔۔۔۔جنرل ڈائر کے سامنے ایک خاتون جنگجو تھی۔۔۔۔ حتیٰ کہ گل بی بی نے انگریزی سرکار کا خاش شہر میں داخلہ بھی ممنوع قرار دیا تھا۔۔۔۔کئی بار جنرل ڈائر خاش شہر پر حملہ آور ہوئے۔۔۔۔ مگر ناکامی نے ان کے قدم چومے تھے۔۔۔ آخر ایک روز جنرل ڈائر نے بلوچ خاتون جنگجو کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔۔۔۔۔ اور گل بی بی کے گھر جاکر کھانا کھایا اور اپنی ہار کو تسلیم کیا اور بلوچستان سے اپنا تبادلہ بھی کروا لیا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */