متشکک محقق کے نام - عظیم الرحمن عثمانی

میاں کیا کہا؟ اگر آپ کو غیبی خدا کے وجود کا غیب ہی سے ثبوت مل جائے، کوئی معجزہ ہوجائے تو آپ ایمان لے آئیں گے؟ ۔۔ سچی ؟ ۔۔ سوری دوست مجھے ایسا نہیں لگتا کہ آپ پھر بھی ایمان لائیں گے۔

یہ محض خام خیالی ہے کہ اگر فلاں ملحد فلاں فلاں غیبی حقیقت سامنے دیکھ لے یا سن لے تو وہ ایمان لے آئے گا. حقیقت یہ ہے کہ جو شخص علمی دلائل سے خالق کو نہیں پہچانتا، اپنی فطرت و وجدان میں رب کا سراغ نہیں پاتا وہ کسی معجزاتی حقیقت کو بھی دیکھ کر کبھی حق تسلیم نہیں کرسکتا. انکار کرنے والے کے لیے وجود خدا کا کوئی ثبوت نہیں اور ماننے والے کے لیے یہ پوری کائنات اپنے خالق کی موجودگی و عظمت پر شاہد ہے.
.
ہر ذرہ چمکتا ہے ۔۔ انوار الٰہی سے
ہر سانس یہ کہتی ہے، ہم ہیں تو خدا بھی ہے

آپ کو کیا لگتا ہے کہ اگر ایک ملحد کو خدا کی آواز سنائی دے جو اسے بتائے کہ میں تمہارا خدا ہوں، مجھ پر ایمان لے آؤ تو کیا وہ واقعی ایمان لے آئے گا؟ .. ہر گز نہیں ! بلکہ وہ اسے اپنا دماغی خلل تصور کرے گا اور اسی پر اصرار کرتا رہے گا.

آپ کو کیا لگتا ہے کہ اگر ایک کٹر ملحد کو فرشتے یا جنات چلتے پھرتے نظر آجائیں تو وہ ایمان لے آئے گا؟ قطعی نہیں ! بلکہ وہ اسے 'ھلوسنیشن' یعنی تصوراتی دھوکے سے تعبیر کرے گا.

آپ کو کیا لگتا ہے کہ اگر ایک پکا ملحد کسی پیر فقیر کو ہوا میں اڑتا یا پانی پر چلتا دیکھے تو ایمان لے آئے گا؟ بالکل نہیں! بلکہ وہ اسے کرتب (illusion) یا 'ہیپناٹزم' قرار دے دے گا.

یہ ایمان لانے کا 'احسان' اسی وقت کرسکتے ہیں جب خدا اپنی بادشاہی سمیت سارے غیب کے پردے چاک کرکے اس پوری خلق انسانی کو نظر آنے لگے. مگر اگر سب سامنے آنے کے بعد ہی ماننا ہے تو پھر کاہےکا امتحان؟ جیسے محاورہ ہے کہ 'آمد آفتاب - دلیل آفتاب' یعنی سورج کا طلوع ہونا سورج کے ہونے پر دلیل ہوتا ہے. ظاہر ہے جب سورج کو سب نے دیکھ لیا تو کون ہے جو سورج کے ہونے کا انکار کرے گا؟ مگر حضرت اس میں آپ کا کیا کمال ہوا؟ اگر خدا کو اپنا وجود یونہی منوانا ہوتا اور اپنی اطاعت انسانیت سے یونہی کروانی ہوتی تو پھر اس دنیا میں امتحان کا کوئی مقصد باقی نہیں رہتا.
.
تقاضا تو یہ ہے کہ جیسے تصویر کو دیکھ کر مصور کو جان لیتے ہو، دھواں دیکھ کر آگ لگنے کا یقین کرلیتے ہو، مکان دیکھ کر معمار کو سوچ لیتے ہو - ویسے ہی اس پر ہیبت کائنات کو اور اس بے جان مادے سے اٹھنے والے اپنے باشعور وجود کو دیکھ کر خالق بزرگ و برتر خدائے رب العزت کو پہچان جاؤ. اور اگر پھر بھی یہ چاروں اطراف بکھری ان گنت نشانیاں تمہیں اپنے رب کا سراغ نہیں دیتی؟ تم پھر بھی ہٹ دھرمی سے یہ پکارتے رہتے ہو کہ مجھے خدا کا ثبوت حاصل نہیں تو پھر ڈوبے رہو اسی الحاد و شکوک کی دلدل میں اور انتظار کرو اپنی موت کا یا پھر ہمارے بقول اس روز جزاء کا جب ہر انسان اپنے کیے کا بدلہ پائے گا.
.
"اور کہتے ہیں یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے ہم (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں او ہمیں تو صرف زمانہ مار دیتا ہے اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں مگر وہ صرف ایسا گمان کرتے ہیں"
(سورہ جاثیہ 24)

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */