"ذہنی دباؤ سے کیسے نکلا جائے؟" - قرۃ العین اشرف

ہم تمام دن سب کے ساتھ ہنسی خوشی گزارتے ہیں، اس لیے کہ ایک نرم دل انسان کسی کا دل نہیں توڑ سکتا، کسی کو تکلیف نہیں دے سکتا، کسی کی حق تلفی نہیں کر سکتا، لیکن اپنی ذہنی الجھن اور دباؤ کو کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتے. کوئی کیا جانے کہ رات ایسے انسان پر کیسا بوجھ لے کر اترتی ہے. جس میں وہ نیند میں ہو کر بھی سو نہیں سکتا. تکلیف اٹھانے کو رات اور اس سے برطرف ہونے کو دن کافی ہوتا ہے. کیوں ذہنی الجھن میں بندھا انسان دوستوں کو محدود کرتا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کی اصلیت جان کر پیچھے ہٹتا جاتا ہے؟ وہ کسی نام کے بندھن میں خود کو نہیں باندھ سکتا، وہ توجہ چاہتا ہے جو اسے نام نہاد رشتوں میں نہیں ملتی. جہاں ہنسی صرف لالچ کی بنیاد پر ہنسی جاتی ہے. اور پھر انسان تنہا رہ جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے اندر کی تکلیف کسی کو دکھا نہیں سکتا، کوئی اسے سمجھ نہیں سسکتا، کوئی اس کی صحیح بات کو غلط گردانے گا. کوئی اسے سہارا دینے اور اس کی بات کو سچ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتا، لوگ اسی کی غلطی کی نشاندھی کرتے ہیں اور ذہنی دباؤ میں الجھا انسان مرہم چاہتا ہے نہ کہ زخم...وہ الگ ہو جاتا ہے تا کہ اپنے سکوں کا بندوبست خود کر سکے...اور پھر ہم اس سب کو ٹھیک کیوں نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ہم اسی کیفیت میں خوش اور پرسوز رہتے ہیں...ہمیں خوشی نہیں بھاتی.!!

تو جب انسان کو اپنے لیے سب دروازے بند نظر آنے لگتے ہیں تب ایک در سے اسے روشنی کی کرن ملتی دکھائی دیتی ہے. یہ وقتی احساس نہیں رفتہ رفتہ انسان پر اس کیفیت سے نکلنے کا سامان ہوتا ہے. ذہن پر دباؤ دبیز ہوتا ہے جب کوئی خیال اپنی روانی کے ساتھ اس پر چھا جائے. اور کوئی نہیں، انسان خود اپنے آپ کو اس کیفیت سے نکالتا ہے. صبر سے ، عزم سے، ہمت سے، امید سے. جو چلا گیا اس کا دکھ کیسا. جو کھوگیا اس کی تکلیف کیسی؟ جو نہیں ملا اس کا رنج کیوں؟ کہ جسے آنا ہو اسے جانا بھی ہے. جو کھوجائے، اسے تلاش کرنے میں خود کو مرہم سے دور نہیں کرنا. جو نہیں ملا، وہ نہیں ملنا تھا کہ تقدیر لکھنے والی اللہ کی ذات ہے. اور اس نے جو نہیں دیا وہ اس کے علاوہ ایسی شے آپ کے لیے رکھ چھوڑتا ہے جس میں آپ کی بھلائی ہے، انسان کم سمجھ لیکن مالک علیم مطلق ہے.

یا سلام یا مومن یا اللہ ! پروفیسر احمد رفیق اختر کی بتائی ہوئی تسبیح ہے جو دل کو ٹھنڈک عطا کرتی ہے. "الا بذکر الله تطمئن القلوب" بیشک اللہ کے ذکر میں دلوں کا چین ہے.!کثرت سے پڑھیں، ذکر سے زبان و دل تر رکھیں. جب انسان تمام دنیا سے منہ موڑ لیتا ہے تو اس کے لیے ایک ذات باقی رہ جاتی ہے. الله سے دل کی بات کہیں کہ وہ آپ کو تھام لے، سنوار لے، بنا دے، بگڑنے سے بچالے، زندگی ہے تو رحمت کے ساتھ سکون عطا فرمادے. اپنے رب کی لگن میں انسان دنیا کا غم اور خوف بھول جاتا ہے.

ایک اچھے دوست سے رابطہ رکھیں، جو آپ کی کیفیت کو سمجھ کر مرہم لگانا جانتا ہو. تکلیف ملی ہے تو دوسروں کو آسانی دینا شروع کردیں. انسانیت کی خدمت کا کام انسان کے دل کو تسکین عطا کرتا ہے. یاد رکھیں انسان کے لیے راستے بند نہیں ہوجاتے، زندگی ایک شخص پر ختم نہیں ہوجاتی، کچھ چلے جانے سے اگلا ملنے والا رک نہیں جاتا. آنسو ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتے، درد صرف آپ کی میراث نہیں ہے. وقت گزرتا ہے سو تکلیف کو بھی گزر جانا ہے. اللہ نے آپ کو نہیں چھوڑا نہ چھوڑے گا. استقامت کے ساتھ صبر کریں اور اللہ سے مدد مانگیں. وہ قریب ہے، وہ سنتا ہے، جانتا ہے. اپنے بندے کو دلدل سے بھی نکال لیتا ہے. اگر انسان خالص ہوکر اس سے مانگے، اس کے لیے صبر کرے، اس کا ہوجائے. تکلیف ہے، تنگی ہے، کمی ہے، آرزو ہے سب اس کے حوالے کردے تب بات بنتی ہے. بے غرض ہونا ہی بے نیاز کو پسند ہے. اور غرض صرف اللہ ہو تو عرض میں بھی صرف اس کا نام باقی رہ جاتا ہے. گھبرائیں نہیں اللہ آپ کے ساتھ ہے اور ہمیشہ رہے گا. جب مرہم اللہ ہو تو زخم کا نام و نشان مٹ جاتا ہے. دوسروں کو آسانی دیں اللہ آپ کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا. الله پاک سب کے حامی و ناصر ہوں. آمین!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */