رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ (حصہ دوم) - مفتی منیب الرحمن

(13):ایک موقع پر حضرت عمر نے حضرت علی سے مشورہ طلب کیا کہ میں بذاتِ خود مسلمان افواج کے ہمراہ رومیوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہونا چاہتا ہوں،اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے،حضرت علی نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے صاحبانِ دین کے لیے یہ ذمہ داری لے لی ہے کہ وہ اُن کے محفوظ مقامات کی حفاظت کرے گا اور جس ذات نے اُس وقت اُن کی مدد کی جب وہ قلیل تعداد میں ہونےکی وجہ سے بدلہ لینے پر قادر نہ تھے اور اپنی حفاظت کا انتظام بھی نہ کرسکتے تھے ، وہ ذات حَیّ وقیّوم ہے،اس پر موت نہیں آسکتی ،لہٰذا اگر آپ بذاتِ خود دشمن سے مقابلے کے لیے جائیں گے اور ان کا سامنا کریں گے (اور اللہ نہ کرے )کسی مصیبت میں مبتلاہوگئے تو آپ کے بعد مسلمانوں کے لیے کوئی مرکزِاُمید باقی نہیں رہے گا ، جس کی طرف وہ رجوع کرسکیں۔لہٰذا مناسب یہی ہے کہ آپ کسی تجربہ کار شخص کے ہمراہ ماہرینِ حرب کو بھیجیں ، اگر اللہ نے انہیںغلبہ دیدیا تو یہی آپ کی آرزو ہے اور اگر اس کے خلاف ہوگیا تو کم از کم آپ لوگوں کا سہارا اور مسلمانوں کے لیے پلٹنے کا ایک مرکز رہیں گے،(متن کامل نہج البلاغہ، سخنان علی ، ص: 446،کلام:132،مطبوعہ: انتشاراتِ زرّین)‘‘۔

(14):ایک مرتبہ حضرت عمر نے بذاتِ خود فار س کی جنگ میں شریک ہونے کے متعلق حضرت علی سے مشورہ کیا ، اُنہوں نے فرمایا:آپ مسلمانوں کے معاملات کے نگران ونگہبان ہیںاور ملک کے لیے نگراں کامقام ایسا ہے جیسے دھاگے میں پروئے گئے موتی ، دھاگے کی لڑی کی وجہ سے ہی موتی یکجا رہتے ہیں،اگردھاگہ ٹوٹ جائے توتمام موتی بکھر جاتے ہیں۔آج عرب اگرچہ تعداد میں تھوڑے ہیں ،لیکن اسلام کی وجہ سے زیادہ ہیںاور اپنے اتحاد واتفاق کی وجہ سے غالب آنے والے ہیں،لہٰذا آپ یہیں مرکز ہی میںرہیں اور جنگ میں شریک ہونے کی زحمت نہ کریں،کیونکہ ان عجمیوں نے اگر آپ کو میدانِ جنگ میں دیکھ لیا تو کہیں گے کہ اہلِ عرب کی جان یہی شخص ہے ،اگر اس جڑ کو کاٹ دیاجائے تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے راحت مل جائے گی اور اس طرح اُن کے حملے شدید تر ہوجائیں گے اور وہ آپ ہی کو قتل کرنے کے زیادہ خواہش مند ہوں گے ،(نہج البلاغہ،ص:477، کلام:144)‘‘۔ان دونوں واقعات سے معلوم ہوا کہ حضرت علی کو خلیفۂ رسول حضرت عمر کی زندگی کتنی عزیز تھی، ایسے نازک موقع پر کوئی نامناسب مشورہ بڑی مصیبت کا باعث ہوسکتا تھا، مگرحضرت علی نے مشورے کی امانت کو مکمل دیانت داری کے ساتھ ادا کیا اور مسلمانوں کے مفاد عامہ کے مطابق مشورہ دیا ۔

(15):حضرت علی نے اپنے ایک خطبہ میں حضرت عمر کے فضائل ومناقب بیان کرتے ہوئے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ فلاں شخص کے شہروں کو برکت دے ،اُنہوں نے کجی کو سیدھا کیا اور بیماری کا علاج کیا ،سنت کو قائم کیا اور فتنہ کو ختم کردیا ،دنیا سے پاک وصاف لباس اور کم عیب میں رخصت ہوئے ،خلافت کی نیکی کو حاصل کیا اور اس کے شر سے اجتناب کیا ،اللہ تعالیٰ کی اطاعت بجالائے اوراللہ سے اس طرح ڈرے جیساکہ ڈرنے کا حق تھا،(نہج البلاغہ ،ص:887،خطبہ :226)‘‘۔شیخ ابن ابی الحدید کہتے ہیں :فلاں شخص سے حضرت عمر بن خطاب کی ذات مراد ہے،(شرح نہج البلاغہ:ج:12،ص:3)‘‘۔جناب رئیس احمد جعفری نے نہج البلاغہ کے اُردود ترجمہ میں ذکر کیا کہ یہ خطبہ حضرت عمر کے متعلق ہے،(نہج البلاغہ مترجم اردو،ص:541)‘‘۔

(16): مِسْوَرْ بِن مَخْرَمَہ بیان کرتے ہیں :’’ جب حضرت عمر زخمی ہوئے ،اُنہیں تکلیف ہورہی تھی اور وہ بے قراری کا اظہار کررہے تھے ،حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا:امیر المومنین پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ،آپ رسول اللہﷺکی صحبت میں رہے اور آپ نے حضور کی صحبت خوب نبھائی ،پھر رسول اللہﷺآپ سے رخصت ہوئے دراں حالیکہ وہ آپ سے راضی تھے ،پھر آپ حضرت ابوبکر کی صحبت میں رہے اور آپ نے ان کی صحبت خوب نبھائی ، وہ بھی آپ سے راضی ہوکر رخصت ہوئے ،پھر آپ مسلمانوں کے ساتھ رہے اور آپ نے ان کا اچھا ساتھ نبھایا اور اب آپ اُن سے اس حال میں رخصت ہورہے ہیں کہ وہ آپ سے راضی ہیں ۔ حضرت عمر نے فرمایا:تم نے جو رسول اللہﷺاور حضرت ابوبکر کی صحبت کا ذکر کیا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر احسان ہے اور جو تم میری بے قراری دیکھ رہے ہو تو بخدا !اگر میرے پاس تمام روئے زمین کے برابر سونا ہوتا تو میں اس کو اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے دیدیتا، ایک روایت میں ہے :حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا:امیر المومنین! آپ گھبراتے کیوںہیں ،بخدا!آپ کا اسلام لانا مسلمانوں کا غلبہ تھا ،آپ کی حکمت مسلمانوں کی فتح تھی ، آپ نے تمام روئے زمین کو عدل سے بھر دیا ،حضرت عمر نے کہا:اے ابن عباس!کیا تم اس کی گواہی دیتے ہو،حضرت ابن عباس نے شہادت دینے میں توقف کیا تو حضرت علی نے فرمایا:کہو:ہاں!اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہی دیتا ہوں،پھر اُنہوں نے فرمایا:ہاں! میں گواہی دیتا ہوں،(شرح نہج البلاغہ لابن ابی الحدید، ج:12، ص:191-192)‘‘۔

(17):ایک موقع پر حضرت علی نے اپنے اصحاب اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے درمیان تقابل اور موازنہ کرتے ہوئے اپنے اصحاب سے فرمایا: ’’میں اپنی رعایا کے ظلم سے پریشان ہوں، میں نے تمہیں جہاد کے لیے آمادہ کیا مگر تم نہ اٹھے، نصیحتیں کیں ،تم نے نہ سنیں، علی الاعلان اور خفیہ طریقے سے تمہیں دعوت دی ،لیکن تم نے لبیک نہ کہا، تم ایسے حاضر ہو جیسے غائب اور ایسے اطاعت گزار ہو جیسے مالک ،میں تمہارے لیے حکمت آمیز باتیں کرتا ہوں اور تم بیزار ہوجاتے ہو، تمہیںبہترین نصیحتیں کرتا ہوں اور تم فرار اختیار کرتے ہو، باغیوں کے ساتھ جہاد پر آمادہ کرتا ہوں،میری بات مکمل نہیں ہوتی کہ تم سبا کی اولاد کی طرح منتشر ہوجاتے ہواور ایک دوسرے کے دھوکے میں مبتلا ہوجاتے ہو، میں صبح کے وقت تمہیں سیدھا کرتا ہوں اور تم شام کے وقت یوں پلٹ کر آتے ہو جیسے کمان، تمہیں سیدھا کرنے والا بھی عاجز آگیااور تمہاری اصلاح بھی ناممکن ہوگئی ،خدا گواہ ہے کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ معاویہ مجھ سے درہم ودینار کا سودا کرلے اور تمہارے دس کے بدلے مجھے اپنا ایک دیدے، تم کان رکھنے والے بہرے ہو، زبان رکھنے والے گونگے اور آنکھ رکھنے والے اندھے ہو، تمہاری حالت یہ ہے کہ نہ میدانِ جنگ کے سچے جوانمرد ہو اور نہ مصیبتوں میں قابلِ اعتماد ساتھی، تمہارے ہاتھ خاک میں مل جائیں، تم اُن اونٹوں کی طرح ہو ، جن کے چرواہے گم ہوجائیں کہ جب ایک طرف سے جمع کیے جائیں تو دوسری طرف سے منتشر ہوجائیں، قسم بخدا! میں تمہیں اس طرح دیکھ رہا ہوں کہ اگر جنگ تیز ہوگئی اور میدانِ کارزار گرم ہوگیا تو تم فرزندِ ابوطالب سے اس بے شرمی کے ساتھ الگ ہوجائو گے جس طرح کوئی عورت بے لباس ہوجاتی ہے۔

اس کے برعکس اصحابِ رسول ﷺ کو دیکھو ، اہلِ بیتِ پیغمبر پر نگاہ رکھو اور انہی کے راستے کو اختیار کرو ،انہی کے نقشِ قدم پر چلتے رہو کہ وہ نہ تمہیں ہدایت سے باہر لے کر جائیں گے اور نہ ہلاکت کی طرف پلٹنے دیں گے، وہ ٹھہر جائیں تو ٹھہر جائو، وہ اٹھ کھڑے ہوں توکھڑے ہوجائو، خبردار !ان سے آگے نہ نکل جانا کہ گمراہ ہوجائو گے اور پیچھے بھی نہ رہ جانا کہ ہلاک ہوجائو گے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کا دور بھی دیکھا ہے، مگر افسوس! تم میں کوئی ایک شخص بھی ان جیسا نہیں ہے، وہ صبح کے وقت اس طرح اٹھتے تھے کہ پراگندہ بال ، جبیں خاک آلود ،کیونکہ انہوں نے رات سجود وقیام میں گزاری ہوتی تھی ، کبھی جبیں خاک آلود اور کبھی رخسار، قیامت کی یاد میں گویا انگاروں پر کھڑے رہتے تھے اور ان کی پیشانیوں پر سجدوں کی وجہ سے بکری کے گھٹنے جیسے گٹے پڑ جاتے تھے، ان کے سامنے خدا کا ذکر آتا تو آنسو ئوں کا سیلِ رواں جاری ہوجاتا اور گریبان تک تر ہوجاتا، ان کا جسم عذاب کے خوف اور ثواب کی امید میں اس طرح لرزتا تھا جس طرح سخت ترین آندھی کے دن کوئی درخت ، (نہج البلاغہ،ص:288-290،خطبہ نمبر:95،مُلَخَّصًا)‘‘۔

(18):’’حضرت علی ،حضرت امیرِ معاویہ کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:میرے ہاتھ پر اُنہی لوگوں نے بیعت کی ہے جنہوں نے ابوبکروعمر اور عثمان کی بیعت کی تھی ،لہٰذا اب حاضر کے لیے بیعت کرنے میں کوئی اختیار ہے نہ غائب کو بیعت ردّ کرنے کا حق ہے،مشورہ دینے کا منصب صرف مہاجرین اور انصار کا ہے ،وہ جب کسی شخص کے انتخاب پر متفق ہوجائیں اور اس کو امام قرار دے دیں تو یہ اللہ کی طرف سے رضا ہے،(نہج البلاغہ:ص:926،مکتوب نمبر:6)۔حضرت عثمان کی شہادت کے بعد مسلمانوں کی خلافت کے مستحق حضرت علی تھے اور اس مکتوب میں حضرت علی نے اپنی خلافت وحقانیت پر حضرت ابوبکر ،حضرت عمر اور حضرت عثمان کی خلافت سے استدلال کیا ہے ،کیونکہ حضرت علی کی بیعت اُنہی مہاجرین وانصار صحابہ کرام نے کی تھی جنہوں نے خلفاء ِ ثلاثہ کی بیعت کی تھی اور حضرت علی کے اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخصیت کی بیعت پر مہاجرین وانصار صحابہ کرام متفق ہوجائیںتویہ اللہ کی رضامندی کی علامت ہے ، یعنی خلفائے ثلاثہ کی خلافت اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی پر مبنی تھی۔

(19):حضرت عثمان کی شکایت لے کر ایک وفد حضرت علی کے پاس آیااور آپ سے درخواست کی کہ آپ اُن سے بات کرکے اُنہیں سمجھائیںتو حضرت علی نے حضرت عثمان کے پاس جاکر کہا:ایک وفد میرے پاس آیاہے ،اُنہوں نے مجھے اپنے اورآپ کے درمیان سفیر بنایا ہے ،بخدا!میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں آپ سے کیاکہوں،میں ایسی کوئی بات نہیں جانتا جس سے آپ ناواقف ہوں،نہ کسی ایسی چیز کی طرف راہنمائی کرسکتا ہوں جس کو آپ نہ جانتے ہوں،کیونکہ جو آپ جانتے ہیں وہی ہم جانتے ہیں،ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ جس کو ہم نے پہلے جان لیا ہو اور آپ کو اس کی خبر دیں،نہ کسی معاملے میں آپ ہم جداہوئے ، جس کی ہم آپ کو تبلیغ کریں،جس طرح آپ نے دیکھا ہے اُسی طرح ہم نے دیکھا ہے ،جس طرح آپ نے سنا ہے اِسی طرح ہم نے سنا ہے ،جس طرح ہم رسول اللہﷺکی صحبت میں رہے ہیں،اِسی طرح آپ رسول اللہ ﷺکی صحبت میں رہے ہیں۔حضرت ابوبکر اور حضرت عمر حق پر عمل کرنے میں آپ سے زیادہ نہیں تھے اور ان دونوںکی بہ نسبت آپ کی رسول اللہﷺسے قرابت داری زیادہ ہے ،کیونکہ بلاشبہ آپ نے دو مرتبہ رسول اللہﷺکی دامادی کا شرف حاصل کیا ہے،(نہج البلاغہ ،ص:566،کلام:162)۔ (جاری ہے)

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */