نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو۔۔۔!!! - شازیہ ظفر

کبھی کبھی ادب کے نام پر ایسی چیزیں دیکھنے اور سننے کا اتفاق ہوجاتا ہے کہ طبیعت بوجھل ہوکر رہ جاتی ہے اور دل تڑپ کر پکار اٹھتا ہے۔


اظہار بھی مشکل ہے
کچھ کہہ بھی نہیں سکتے

تب ایسی بےمزہ سی کیفیت میں اردو کے حوالے سے زمانہ طالبعلمی میں پڑھی ہوئی ساری تاریخی تفصیلات ذہن میں گردش کرنے لگتی ہیں کہ گئے زمانوں میں ہماری زبان و بیان پر اس کی شیرنی اور حلاوت پر کتنی توجہ دی جاتی رہی ہے۔۔۔ اور آج اس پر یہ کیسا وقت آگیا ہے کہ سبھی ہما شما بغیر کسی تیاری کے اس پر طبع آزمائی فرمانے لگے ہیں.

سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ گئے زمانوں میں جب ذرائع ابلاغ نے اتنی ترقی نہیں کی تھی تب داستان گو، قصہ گو اور سیاح نگری نگری گھوم پھر کر اور میلوں ٹھیلوں میں شرکت کر کے لوگوں کی دلبستگی کے لیے فرضی قصے کہانیاں، سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والے تاریخی واقعات، لوک داستانیں اور دور دراز کے اسفار مقامات کے احوال منہ زبانی سنایا کرتے تھے۔۔۔ انہیں اپنے الفاظ پر نہایت کمال کی دسترس تھی، اپنی قوتِ بیان پر مکمل عبور اور گفتگو میں ملکہ حاصل تھا۔ یہ لوگ اپنی جادو بیانی سے جہاں چاہے رزم گاہ کی جھنکار سنا دیتے، جب چاہے بزم کی رونق سجا دیتے. اپنی صحرا نوردی کے قصے سناتے تو سننے والوں کو قافلے کی جرس اور بگولوں کی اڑتی ریت اپنی آنکھوں چبھتی محسوس ہوتی۔۔۔ کوہ پیمائی کا تذکرہ ہوتا تو سامعین قصہ سنتے ہوئے یوں ہانپ جاتے جیسے وہ خود بلندی کا سفر طے کرکے آئے ہوں۔۔۔ قادرالکلامی کا یہ عالم ہوتا کہ ساکت مجمع دم سادھے ان کی گفتگو سنا کرتا۔۔۔

زمانے کے ادوار بدلتے گئے اور رفتہ رفتہ باقاعدہ ادبی نوعیت کی محافل اور مشاعروں کا انقعاد کیا جانے لگا۔۔۔ ان محافل میں شرکاء تمام ادب و آداب اور رکھ رکھاؤ کو ملحوظِ خاطر رکھتے۔۔۔اردو تلفظ کی درست ادائیگی، بول چال کا قرینہ، طرز تخاطب کا سلیقہ، بڑے چھوٹے کے مراتب کا لحاظ اور انداز نشست و برخاست سب ہی پر دھیان رہتا. گویا ان محافل کی بدولت ایک تہذیب تھی جو پروان چڑھی۔۔۔ رسائل، ادبی مجلوں کے اجرا اور اخبارات نے بھی ادب کے اس سفر کو جلا بخشی۔

پھر وقت نے ایک لمبی زقند بھری اور اگلا قدم برقی ذرائع ابلاغ کے دور کا رہا۔۔۔ ریڈیو نے جہاں صداکاری کی دنیا میں دھوم مچائی وہیں اردو زبان و ادب کی بھی بیش بہا خدمت کی۔۔۔ ان جگہوں پہ بھی جہاں اردو بولی اور سمجھی نہیں جاتی تھی، وہاں بھی ریڈیو نے اپنی برقی لہروں کے ذریعے رسائی حاصل کی اور عوامی سطح پر اردو بولنے کا سلیقہ اور قرینہ وضع کیا۔۔۔ لوگ بے چینی سے ریڈیو پروگرامز کا انتظار کیا کرتے ۔۔۔ اس کے بعد ٹیلیویژن آیا اور اس نے اپنے ابتدائی دور سے ہی ڈراموں، ادبی پروگرامز، مشاعروں مباحثوں سب ہی کی بدولت ہر خاص و عام پر اپنی دھاک بٹھا دی۔ اس کے نتیجے میں اردو زبان کو بہت فروغ حاصل ہوا کیونکہ یہ پروگرام بڑی تحقیق کے بعد تیار کیے جاتے تھے، ساتھ ہی مضبوط اسکرپٹ، درست تراکیب و تلفظ اور عمدہ لب و لہجے پر بھی محنت کی جاتی تھی، لہذا اسی بنا پر رفتہ رفتہ پی ٹی وی ایک اکیڈمی کا درجہ پا گیا۔

اس ساری تفصیل کو یاد کرنے اور اس تمہید کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ گذشتہ مہینوں میں وبائی صورتحال نے جہاں تمام کاروبارِ حیات کو متاثر کیا، وہیں ادبی و ثقافتی سرگرمیاں بھی تعطل کا شکار ہوئیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے یوٹیوب چینلز معرض وجود میں آ گئے جہاں ادبی ذوق رکھنے والے خواتین و حضرات اہم ادبی موضوعات پر گفتگو، مباحثے اور مکالمے کرتے ، مختلف شخصیات سے انٹرویو لیتے ، اپنی تحاریر اور کلام سناتے ، مختلف کتب پر اپنی آراء دیتے اور تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔ دیکھا جائے تو یہ ایک مستحسن اقدام ہے۔ اس بنا پر کئی چند ایک بہت عمدہ چینلز بھی وجود میں آئے جہاں بہت معیاری پروگرام بھی دیکھنے کو ملے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مجموعی طور پر ان چینلز کی اکثریت میں تربیت اور پلاننگ کا شدید فقدان نظر آتا ہے۔۔۔ ادب کی خدمت کے نام پر بغیر کسی تیاری اور محنت کے ہر کس و ناکس نے قسم قسم کے چینلز کھول لیے اور یہ بالکل نہ سوچا کہ اس قسم کہ ادبی پروگرام پیش کرتے ہوئے اگر مکمل تیاری ہی نہ ہو، زبان و بیان پر مکمل عبور، لب و لہجے پر گرفت نہ ہو، موضوع کے ساتھ انصاف نہ ہو تو سارا مزا کرکرا ہو جاتا ہے اور خود اپنی بنی بنائی ساکھ بھی داؤ پہ لگ سکتی ہے۔

آج صبح ہی ایک ساتھی نے یوٹیوب لنک بھیجا جس میں اردو ادب کی علمبردار ایک اور ساتھی محترمہ کسی کتاب پر تبصرہ یعنی book review پیش کررہی تھیں۔۔۔ساتھ ساتھ انھوں نے نمونہُ کلام کے طور پر کتاب میں موجود کسی کہانی سے اقتباس پڑھنا شروع کیا۔۔۔ جوں جوں وہ پڑھتی جاتی تھیں۔۔تحریر سے لطف اندوز ہونا تو درکنار ان کے پڑھنے کے انداز سے طبیعت مکدر ہی ہوتی جاتی تھی۔۔۔ تلفظ کی اس قدر غلطیاں۔۔۔ پُرلطف کو " پر لفط" حلقہ ارباب ذوق کو " حلکائے ارباب ذوک" اور دلچسپ کو " دلچپس" ۔۔۔ پھر ان کے اپنے ذاتی تبصرے۔۔۔"اس تحریر سے آپ کو معلوم پڑے گا ".. " میں نے کہیں لکھا وا دیکھا تھا".. ستم بالائے ستم یہ کہ وہ عفیفہ پڑھتے پڑھتے جملے کے بیچوں بیچ اچانک سانس لینے کو اپنی چلتی ٹرین کی زنجیر یوں کھینچ دیتیں کہ جملے کا مفہوم ہی برباد ہوجاتا ۔۔ سپاٹ سے لب و لہجے میں نہ کوئی اتار چڑھاؤ نہ الفاظ کی خوبصورت ادائیگی ، نہ ان کے تاثرات اور تحریر میں کوئی ہم آہنگی ۔۔ بس کسی روبوٹ کی طرح پڑھتے ہوئے وہ اتنے اطمینان سے دانشوری جھاڑ رہی تھیں کہ انگشت بدنداں ہم یہ سوچتے رہے کہ یہ کیسا ادبی پروگرام ہے جس میں بے ادبی انتہا درجے کی ہے۔ مذکورہ کتاب پر دھیان تو کیا جاتا۔۔۔ تلفظ کی بے انتہا غلطیوں لب و لہجے کی سطحیت نے ذہنی کوفت میں مبتلا کر دیا۔

کسی بھی تحریر کو پڑھتے ہوئے یہ خیال رکھنا ضروری ھے کہ جملے میں کہاں توقف کرنا ہے جس سے اس کی اثر پذیری قائم رہے اور تحریر کی مقصدیت برباد نہ ہو۔۔ پڑھنے والے کا انداز ایسا ہو کہ سننے والا جملوں کا بھرپور حظ اٹھاسکے۔۔۔ اس کی عمدہ مثال ضیا محی الدین اور انور مقصود صاحب ہیں وہ سادہ و سنجیدہ انداز اور بھرپور لب و لہجے میں تحریر پڑھنا شروع کرتے ہیں اور اپنے سامع کی سوچ کو مہمیز دیئے جاتے ھیں۔۔۔ان کا طنز،ان کا مزاح ، ان کے لہجے کا نشتر، اصلاحی پہلو ۔۔۔ سامعین سب کچھ ان کے جملوں اور ان کے انداز بیان سے کشید کرتے جاتے ہیں۔۔۔اور بھرپور لطف اٹھاتے ہیں۔

اسی طرح ان چینلز پہ ادبی شخصیات سے انٹرویو کا سلسلہ بھی شروع ہوا جہاں اکثر میزبان اپنی مہمان شخصیات سے آگاہی اور ان کے خیالات و افکار کو جاننے سے زیادہ انہیں اپنی علمیت سے مرعوب کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔ میزبان کا طویل گھما پھرا سوال اور مہمان شخصیت کا گھبرایا ہوا مختصر اور غیر تسلی بخش جواب تشنگی چھوڑ جاتا ہے اور کوئی دلچسپی باقی نہیں رہتی۔۔۔

پھر ان یو ٹیوب چینلز پر اکثر حالات حاضرہ پر یا کسی ادبی موضوع پر منقعد کیے جانے والے مباحثے اور مکالمے دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا جہاں اپنے اپنے موقف پر ڈٹے شرکا نے بیٹھک کا اختتام لاحاصل اور غیر نتیجہ بحث پر کیا۔۔۔ یوں وقت کے زیاں کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔

سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس قسم کے یو ٹیوب چینلز ادب کی کونسی خدمت کر رہے ہیں۔۔ کیوں ہمیں اردو ادب کے نام پر کچھ بھی اور کسی بھی طرح سے انٹ شنٹ سنانے پہ تلے بیٹھے ہیں۔۔۔؟؟ انھیں درست سمت میں لانے کے لیے کیا حکمت عملی مرتب کی جائے۔۔۔ کون سی تدبیر لڑائی جائے۔۔۔؟؟
انہیں یہ کیسے سمجھائیں کہ جناب والا اسی یو ٹیوب پر ہی ریڈیو اور ٹی وی کے پرانے پروگرام باآسانی دستیاب ہیں اور سب کی رسائی میں بھی ہیں۔۔۔ وہ آپ کی تربیت کا بہترین ماخذ بن سکتے ہیں۔ ان پروگرامز کو گھر بیٹھے بار بار دیکھ کر اور سن کر آپ خود اپنی اصلاح فرماسکتے ہیں۔۔۔ تو پھر ان پروگراموں سے استفادہ کرنے اور تیاری کے ساتھ میدان عمل میں آنے میں کیا قباحت ہے۔۔۔ ؟؟

سیاسی ٹاک شوز اور حالات حاضرہ پر پروگرام میں اور ادبی نوعیت کے پروگرام میں بہت فرق ہوتا ہے۔ پہلے اس فرق کو جان لیجیے اور ذرا یہ بھی یاد کجیے کہ محترم نعیم بخاری صاحب،خوش بخت شجاعت صاحبہ جب مختلف شخصیات کا انٹرویو لیتے تو بھرپور تیاری کے ساتھ اپنی مہمان شخصیت کی خوبیوں اور روشن پہلوؤں کو پوری طرح اجاگر کرتے۔ بہت پُراشتیاق لہجے میں اپنے مہمان کی گفتگو سے فیض اٹھایا کرتے۔۔۔ ان چینلز پر ہی آج کل کے دور میں بھی وصی شاہ اور عمار مسعود، توثیق حیدر جیسے حضرات ایسے پروگرام نہایت عمدگی سے کر رہے ہیں۔۔۔ ان سے سیکھ کر خود کو بہتر کرنے میں حرج ہی کیا ہے۔

آپ کی قابلیت، صلاحیت اور جذبہ قابل قدر ضرور ہے لیکن پہلے اپنی تربیت کیجیے، اصلاح اور مشق کیجیے۔۔۔ یوں سمع خراشی کر کے طبیعت مکدر تو نہ کیجیے۔۔۔

کوشش کرکے اس بات کو ممکن بنایئے کہ ایسے پروگرام (vlog) دیکھنے کے بعد ہم سب آپ کو سراہتے ہوئے بیساختہ کہہ اٹھیں


سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ھیں جو اردو بول سکتے ہیں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */