خواتین کی ہراسمنٹ کا ایک پہلو‎ - جویریہ ساجد

ميرى رائے ميرے 17 سال کے پرفيشنل کيرئير کا نچوڑ ہے. تصحيح کى گنجائش يقينا موجود ہے.
ہمارے معاشرے ميں عورت کو ہراساں کرنے کی وجوہات کو دو حصوں ميں تقسيم كيا جاسکتا ہے.
1۔ ا يكسٹرنل فيکٹر
يه ہمارے کنڑول ميں نہیں ہیں.

2۔ انٹرنل فيكٹر
يه ہمارے اختيار ميں ہیں. ان پر کام کرکے ہراسمنٹ کے مسائل کو کم کيا جاسكتا ہے. اصل ميں ميں خواتين کى طرف سے کى جانے والى چند غلطيوں کى نشاندہی کرنا چاہتی ہوں. جن کا سدباب کرنے کے ليے ان کا سمجھنا ضروری ہے، کيونکه ہمارے معاشرے ميں %70 ہراسمنٹ کى ذمہ داری خود ہم په آتى ہے۔

ہم سب ايک ايسے معاشرتى نظام ميں رہتے ہیں‌جن کے تمام تانے بانے ايک دوسرے سے جڑے ہیں. سب سے پہلے عورتوں کو يه سمجھنے کى ضرورت ہے که عورتوں کے گرد دو حفاظتى حصار ہیں:

پہلا حصار first line of defence اس کا باپ، شوہر، بھائی، اور بيٹا. ہمیں یہ first line جتنى مضبوط ہوگى، عورت اتنا ہی محفوظ رہے گى. اب ہوتا يه ہے که خواتين جابز پہ جاکر جب یہ شكايات كر رہی ہوتی ہیں کہ که ان کا باپ بچوں پر توجہ نہیں ديتا، پیسہ نہیں ديتا، ان كا شوہر ان كو مارتا ہے. گالياں ديتا ہے. ان کا بھائی اپنى بيوى کا غلام ہے. بہنوں سے کوئى تعلق نہیں رکهتا يا پهر ان کا بيٹا آواره ہے تو دراصل انجانے ميں وه اپنى پہلى حفاظتى ديوار کو کمزور کر رہى ہوتی ہیں. بہت سے مرد اس کا فائده اٹهاتے ہیں.

مير ى تمام خواتين سے درخواست ہے خدارا ان چار رشتوں کے علاوه کسى رشتے په بھروسہ مت کریں. کسى غير مرد کے سامنے اپنے مسائل بيان نا کریں. غير مرد کى definition ميں تمام کزنز، بہنوئى، نندوئى، بنے ہوئے بھائی، ماں باپ کے کزن، شوہر کے کزن، شوہر کے دوست، بھائی کے دوست، ديور، جيٹھ سب شامل ہیں۔

قرآن پاک مياں بيوى کو ايک دوسرے کا لباس کہتا ہے، لباس کيا ہے؟ بھرم ہی تو ہے اور يه جو رشتوں کا بهرم ہے نا يه بہت بڑى safety wall ہے۔

دوسرا حفاظتى حصار جو عورت کو محفوظ رکھتا ہے وہ اس کا اپنا رویہ ہے.
attitude, dressing, behaviour, frankness,
gapshap, sharing Material,

ان سب په کڑى نظر رکهنے کى ضرورت ہے. ياد رکھیں عورت دوسرے مرد کى حدود خود طے کرتى ہے. نارملى مرد عورت کى مرضى کے بغير ايك قدم بھی آگے نہیں‌بڑھ سکتا. مسئله يه ہے کہ عورت کو اس کا ادراک نہیں ہے. جن لطيفوں پہ ہمیں مسکرانا بھی نہیں‌ہے اس په قہقہہ لگا دينا، جابز کا ڈريسنگ کوڈ فالو نا کرنا، ضرورت سے زياده بات، فرينكنيس، سوال جواب، یہ سب مرد كى ہمت بندھاتے ہیں يا يه کہہ ليں کہ اگر وه بھی اسى طرح کى فرينكنيس شو کريں تو عورتيں insecure ہوجاتى ہیں۔

جس طرح جب ايک كشتى ميں پانى داخل ہونے لگے تو سب سے پہلے کشتى کے انٹرنل فيکٹرز کو examine کرنے کى ضرورت ہے کہ loop holes کيا ہیں؟ تاکہ معاملے کو درست سمت ميں سمجھا جاسکے اور اس کا حل نکالا جاسکے۔

اس کے بعد باقى بچ جاتے ہیں %30 وه کيسز جن ميں ہراسمنٹ ہوتی ہے، ان کے ليے تجاويز يه ہیں:

1۔ سب سے پہلے very first attempt په ہی آواز بلند کريں اور یہ آواز سڑکوں پہ پلے کارڈ اٹھاکر نہیں بلکہ اپنے سرپرست کى knowledge ميں لاکے اٹھانی ہے، جو مرضى ہوجائے اپنے سرپرست (باپ، بھائی، شوہر، بيٹا) په ہی بھروسہ کریں. ان سے ڈریں يا جھجکیں نہیں، صاف بات بتائيں کوئى غلطى کى ہو تب بھی مانيں، بات کریں، بہت سارى بليک ميلنگز سے بچ جائيں گى۔
2۔ job place په higher authorities کو بتائيں written complaint کريں۔ laws موجود ہیں، اپنے rights کے بارے ميں جانيں، Laws کواستعمال کرنا سيکھیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */