بے نوا چہرے - محمد اویس حیدر

روشنیوں سے چمچماتی ایک بڑی بیکری شاپ پر لوگ دھڑا دھڑ کھانے پینے کی اشیا خریدنے میں مصروف ہیں۔ کوئی کسی کی خوشی منانے کے لیے مٹھائی خرید رہا ہے تو کوئی کیک۔ ساتھ ہی پیزے ، پیٹس، کیک رس، بسکٹ ، انڈے اور دیگر آئیٹمز بھی لی جا رہی ہیں جب کہ کچھ لوگ فریزر کے پاس کھڑے اپنے بچوں کے لیے ان کی من پسند آئس کریم یا جوسز وغیرہ لینے میں بھی مگن ہیں۔ بیکری کا سٹاف تیز رفتاری سے اپنے سب خریداروں کو سہولت دینے میں مصروف ہے۔ بل کاونٹر پر تقریباََ قطار لگی ہے جہاں لوگوں کے ہاتھوں میں خریدی گئی اشیا سے بھرے بڑے بڑے شاپنگ بیگز ہیں اور اسی حساب سے بڑے بڑے بلز بن رہے ہیں۔ بیکری شاپ کے اندر چلتا چِلر (chiller) بھی اپنی پوری کارکردگی دکھاتے ہوئے لوگوں کو گرمی کے احساس سے بچائے ہوئے ہے۔

داخلی دروازے کے ساتھ پڑی خستہ حالت کرسی پر بھی ایک ساٹھ پینسٹھ سال کا شخص بیٹھا ہے۔ جس کے ہاتھوں میں قدیم طرز کی بندوق ہے جو کسی طور پر بھی چلنے کے قابل دکھائی نہ دیتی اور نہ ہی اس کے بوڑھے ہاتھوں میں اتنی قوت دکھائی دے رہی ہے کہ وہ بندوق چلا سکیں۔ بالوں کی سفیدی میں کہیں کہیں سرخ مہندی کے رنگ کی آمیزش دکھائی دے رہی ہے۔ بندوق کو اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان رکھے وہ خود ایک سیگریٹ پینے میں مصروف ہے۔ گرمی اور حبس کے باعث اس کے شکنوں سے بھرے ماتھے پر پسینے کے بے رنگ قطرے چمک رہے ہیں جنہیں وہ بار بار اپنے ہاتھ کے انگوٹھے کو پھیر کر صاف کر لیتا ہے۔ عقب میں موجود بیکری شاپ کے شفاف شیشوں سے نکلتی تیز روشنی کے سبب اس کا سایہ اس کے وجود کی طرح ساقط اس کے سامنے زمین پر پڑ رہا ے جس پہ اس کی نگاہیں اٹکی ہوئی ہیں۔

اپنی زندگی کے ساٹھ پیسنٹھ سال گزار کے ماہانہ دس سے بارہ ہزار تنخواہ پر کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار اس بیکری کی شاپ کا یہ بوڑھا محافظ آخر کون ہے؟ اس کے چہرے پر پڑی جھریاں اور اندر دھنسی آنکھیں بتا رہی ہیں کہ اس نے زندگی کے کن کن امتحانات کو کیسے کیسے گزارا ہوگا۔ جو اب ایک خستہ کرسی پر بیٹھا صرف لوگوں کے ہاتھوں میں بھرے لفافوں کو آتے جاتے دیکھ رہا ہے۔ اس کے اپنے خواب تو اس کی بجھتی عمر کے ساتھ ساتھ اب سلگتے سیگرٹوں کے دھوئیں میں کہیں اڑ ہی چکے ہوں گے جبکہ باقی بچی کھچی لاحاصل خواہشوں کو بھی یقیناً وہ ہر سیگریٹ کے آخری کش کے بعد اس کے بجھے بڈ کے ساتھ پھینک کر اپنے پاوں تلے مسل دیتا ہوگا۔ مگر اپنی ذات کو بھول کر۔۔۔۔۔ ممکن ہے کسی بچے کے ہاتھ میں پکڑی آئس کریم دیکھ کر اس کی نگاہوں میں اپنے کسی پوتے پوتی کی یاد آتی ہو۔ ممکن ہے اس کی بوڑھی بیوی کی محبت اس کے دل میں اب بھی جوان ہو۔۔۔ لیکن اسی بیکری سے اپنے گھر کے لیے کچھ خرید لینے کی سکت اس میں نہیں۔ اس کے پیروں میں پڑی گھسی ہوئی سیاہ پشاوری چپل بتا رہی ہے کہ یہ پیر روزانہ اپنے گھر سے یہاں تک آنے میں کتنی خاک چھانتے ہیں۔

سامان تھام کر لوگ جب اپنی اپنی بائکس یا گاڑیوں میں بیٹھنے لگتے تو کئی بھکاری ان کو گھیر لیتے ہیں اور طرح طرح کے واسطے یا درد سنا کر ان سے کچھ نہ کچھ پیسے نکلوا لیتے۔ بڑی بیکری کے بوڑھے محافظ کی نگاہیں یہ منظر بھی دیکھتی ہیں۔۔۔ مگر اس کی خود داری اُسے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے نہ دیتی۔۔۔ اسے اپنی پوزیشن کی بھی قدر کہ وہ ایک محافظ ہے۔۔۔ جسے شاپ اور شاپ میں موجود خریداروں کی حفاظت کرنی ہے۔۔۔ آخر وہ کوئی بھیک منگا تو نہیں۔ مگر افسوس کہ ایک عمر گزارنے کے بعد وہ اتنی بات بھی نہ سمجھ پایا کہ اس موجود معاشرے میں لوگوں کو صرف بھیک ہی دینے کی عادت ہے۔۔۔۔۔ کسی بے نوا چہرے کو خوشی دینے کی نہیں!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */