حکومت اب اس سے بڑھ کر اور کیا کرے؟ خالد مسعود خان

اب ڈاکٹر صاحب کا نام کیا لکھنا؟ ہمارے دیرینہ دوست ہیں۔ میرے آبائی گھر کے نزدیک ہی ان کی رہائش گاہ تھی۔ والد ملتان کے بڑے نیک نام حکیم تھے۔ ایسے درد دل رکھنے والے لوگ اب عنقا ہی ہو گئے ہیں۔ بیٹے کا میرٹ جب میڈیکل کالج کا بنا تو اپنے پاس بٹھایا اور کہا کہ دو باتیں غور سے سنو، اگر ان دو باتوں پر عمل کر سکتے ہو تو یہ پیشہ اختیار کر لو بصورت دیگر دنیا میں نہ پیشوں کی کمی ہے اور نہ ہی پیسوں کی۔ ایک بات یہ یاد رکھو کہ مریض خواہ آدھی رات کو تمہارے گھر کے دروازے پر دستک دے اسے نہ تو لوٹانا اور نہ اس کی بات سنتے ہوئے ماتھے پر بل ہی ڈالنا۔ مریض مجبور ہوتا ہے اور بے وقت اپنے مسیحا کے پاس اس لیے آتا ہے کہ اس کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا اور دوسری بات یہ کہ تمہارا کوئی مریض اس صورت میں واپس نہیں جانا چاہیے کہ اس کے پاس تمہیں دینے کے لیے فیس نہیں ہے۔ ان کے والد گرامی حکیم احمد شفیع خود بھی اس بات پر ساری عمر کاربند رہے اور اب عشرے ہو گئے حکیم صاحب کو اس دنیا سے رخصت ہوئے، ڈاکٹر صاحب اپنے نجیب والد سے کیا گیا وعدہ نبھا رہے ہیں۔ اب نہ ایسے والد رہے اور نہ ہی ایسی اولاد۔ ملتان میں دیگر سپیشلسٹ ڈاکٹروں سے چوتھائی فیس لیتے ہیں اور خوش ہیں۔ میں اتوار کو بھی صبح کی تین مصروفیات کو نبھا کر دفتر آ جاتا ہوں۔ وہاں تنہائی میں کتاب سے رشتہ جوڑتا ہوں‘ کالم لکھتا ہوں اور کافی پیتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب بھی اتوار کو کلینک سے چھٹی کرتے ہیں اس لیے اس اتوار کو میرے پاس آ گئے۔ کافی میں گھر سے بنا کر اپنے Contigo کے ہوا بند مگ میں ساتھ لے آتا ہوں اور پانچ چھ گھنٹے تک گرم رہنے کی سہولت سے فیض یاب ہوتا رہتا ہوں۔ اس روز میں نے اسے دو ''کپوں‘‘ میں ڈالا اور مزے کیے۔ مجھے اندازہ ہے کہ یہ لفظ ''کپوں‘‘ بڑا عجیب سا لگ رہا ہے لیکن کیا کروں‘ مجھے فی الحال اس کا کوئی مناسب متبادل نہیں سوجھ رہا، اس لیے انگریزی کو پنجابی میں ڈھال کر کام چلا رہا ہوں۔ امید ہے زبان و بیان پر کڑی نظر رکھنے والے قارئین مجھے تنقید کی توپ سے اڑانے کی کوشش نہیں کریں گے۔

باتوں ہی باتوں میں پہلے دوائوں کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافے کی بات ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نفسیاتی، ذہنی اور اعصابی امراض کے سپیشلسٹ ہیں، انگریزی میں ایسے ڈاکٹر کے لیے سائیکیٹرسٹ (Psychiatrist) کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ یہ سائیکالوجسٹ سے بالکل مختلف فیلڈ ہے۔ سائیکالوجسٹ کے برعکس سائیکیٹرسٹ میڈیکل ڈاکٹر ہوتا ہے اور دوائیوں سے مریض کا علاج کرتا ہے۔ دوائوں کی قیمتوں میں بات چلی تو ڈاکٹر صاحب بتانے لگے کہ ان کے اَن گنت مریض ایسے ہیں جو اپنے نفسیاتی عارضے کے لیے تشخیص کردہ ادویات چند دن استعمال کے بعد چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ وہ یہ ادویات‘ جو انہیں تقریباً بقیہ ساری عمر استعمال کرنا ہوتی ہیں‘ خریدنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتے۔ ان کے اکثر مریض یہ ادویات ہفتہ یا ماہانہ کی بنیادوں پر خریدنے کے بجائے ایک دن یا دو دن کی بنیاد پر خریدتے ہیں کہ ان کے لیے اپنی دوائیں یکمشت خریدنا ممکن ہی نہیں۔ وہ کہنے لگے: کبھی آپ کسی میڈیکل سٹور پر ایک طرف کھڑے ہو جائیں اور خریداروں کو دیکھتے رہیں۔ بہت سے خریدار صرف ایک دن یا دو دن کی دوا خرید کر چلے جاتے ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ صرف یہ کہ وہ اس سے زیادہ کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ خریدار آ کر بیس گولیاں مانگتا ہے لیکن قیمت سن کر دس یا پانچ خرید کر چلا جاتا ہے۔ اس وقت اس کی حالت دیکھنے والی ہوتی ہے جب وہ دوا کی قیمت سن کر خریدے بغیر واپس چلا جاتا ہے۔ اب قیمتوں میں اس تازہ ترین اضافے کے بعد دو دن کی دوا لینے والے ایک دن پر آ جائے گا‘ اور بلا خریداری واپس پلٹ جانے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اکثر ایسی دوائوں کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے جن کے بغیر مریض کا زندہ رہنا مشکل ہے۔

میں نے پوچھا کہ ان کے زیر علاج مریضوں کی دوائوں کی کیا صورتحال ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور چند لمحے کے لیے خاموش ہو گئے‘ پھر کہنے لگے: میں پہلے آپ کو اس کی تھوڑی سی تفصیل بتانا چاہتا ہوں۔ پاکستان بھر میں بائیس کروڑ کی آبادی اور قریب قریب ڈیڑھ کروڑ نفسیاتی عوارض میں مبتلا مریضوں کے لیے صرف چار سو سے ساڑھے چار سو ماہرِ نفسیات موجود ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا اندازہ ہے کہ 2030ء تک ڈپریشن دنیا کی سب سے بڑی بیماری ہو گی۔ اس کے مریضوں کی تعداد کینسر، دل اور بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا افراد سے بڑھ جائے گی اور ان میں اکثریت خواتین کی ہو گی۔ اس کا سب سے تاریک پہلو یہ ہے کہ خواتین کے نفسیاتی عوارض کا براہ راست اثر ان کے زیر کفالت بچوں پر پڑتا ہے اور وہ بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اس حوالے سے صورتحال زیادہ گمبھیر اس لیے ہے کہ یہاں ڈپریشن کے مریضوں کی شرح فیصد باقی دنیا میں اس مرض سے متاثرہ افراد سے چار گنا زیادہ ہے۔
دماغی اور نفسیاتی عوارض کا علاج 1950ء میں شروع ہوا اور 1952 سے اس کی دوائیں بننا شروع ہوئیں‘ یوں یہ مرض قابل علاج ہونے کی فہرست میں آ گیا۔ ان میں سے اکثر ادویات ابھی تک وہی پرانی استعمال ہو رہی ہیں اور بہت کارگر بھی ہیں۔ بنیادی طور پر اس بیماری کے دو درجے ہیں۔ پہلا پاگل پن یعنی Psychosis، جس میں مریض کا حقیقت کے ساتھ رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔

اس بیماری میں مریض ننگا پھرتا ہے، اپنے آپ سے باتیں کرتا ہے اور ہوش و خرد سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ دوسرا درجہ چھوٹی بیماریوں کا ہے یہ تکنیکی اصطلاح میں Neurosis کہلاتی ہیں اور اس میں مریض گھبراہٹ، ڈپریشن، ہسٹریا یا خوف کا شکار ہو جاتا ہے۔ ان بیماریوں میں مبتلا اکثریت ان افراد کی ہے جو ساری عمر کے لیے دوا کی محتاج اس بیماری کا علاج افورڈ ہی نہیں کر سکتے کہ دوائیں خاصی مہنگی ہیں اور ان کی روزانہ کی Dose بھی بعض اوقات آٹھ دس گولیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اصل مشکل اب یہ ہے کہ اس بیماری کی مہنگی دوائیں تو بہ آسانی دستیاب ہیں اور سستی دوائیں نا پید ہیں۔ یہ سستی دوائیں بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں مارکیٹ میں اپنی اڑھائی سو روپے فی گولی والی دوا تو سپلائی کر رہی ہیں لیکن ڈیڑھ روپے والی گولی ہمیشہ شارٹ رہتی ہے۔ اخلاقی اور قانونی طور پر یہ دوا ساز کمپنیاں سستی دوا فراہم کرنے کی پابند ہیں لیکن وہ بھی لوٹ مار میں مصروف ہیں اور حکومت کے ذمہ دار ادارے بھی آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ ایک کمپنی کی ایک روپے چوّن پیسے والی گولی تو ہمیشہ شارٹ رہتی ہے لیکن اسی کمپنی کی مہنگی گولیاں ہمہ وقت دستیاب رہتی ہیں۔ شیزو فرینیا کی دوا ایک ہی کمپنی بناتی ہے۔ گولی سستی ہے لہٰذا کبھی بنتی ہے اور کبھی نہیں بنتی۔ ایک کمپنی کی اٹھانوے پیسے والی گولی سدا شارٹ رہتی ہے لیکن اس کی سینتالیس روپے والی گولی عام دستیاب ہے۔ حکومت کو سوائے کرپشن کے خلاف شور مچانے اور مخالفین کو دیوار کے ساتھ لگانے سے فرصت نہیں مل رہی۔ ادھر غریب کا یہ حال ہے کہ پہلے اسے بیماری نے بے حال کر رکھا ہے اوپر سے دوا کی قیمتوں میں 262 فیصد تک کے اضافے نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بقول عمران خان سکون صرف قبر میں ہے اور حکومت لوگوں کو اس پُر سکون جگہ بھیجنے میں اپنی پوری صلاحیتیں صرف کر رہی ہے۔ حکومت اب اس سے بڑھ کر بھلا اور کیا کرے؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */