”میری سوکن میری سہیلی“ - سیلانی کے قلم سے

میں کبھی اپنے میزبان کو ہنستے ہوئے دیکھتا اور کبھی سامنے صوفے پر بیٹھی باحجاب خواتین کی آنکھوں سے چھلکتی ہنسی کو، وہ سیلانی کی کیفیت سے لطف اندوز ہورہی تھیں اور سیلانی کی حالت یہ کہ ہونق بنا کبھی ایک کو دیکھتا اور کبھی دوسرے کو۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے،اس کی تو بولتی بند ہوگئی تھی. بس آنکھیں بول رہی تھیں کہ ناقابل یقین۔۔۔لیکن یقین کرنا پڑرہا تھا کہ سامنے ایک نہیں دودو ثبوت موجود تھے. آخر کار سیلانی نے کمرے میں پھیلا تحیر سمیٹا اور اپنے میزبان سے کہا ”یہ بیل منڈھے چڑھی کیسے؟"

”یہی بتانے کے لیے تو آپ کو زحمت دی ہے کہ بیل نہ صرف منڈھے چڑھی بلکہ پھل پھول بھی رہی ہے“
سیلانی کے میزبان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور کہا”دراصل میں آپ کو فیس بک پر تین سال سے فالو کر رہا ہوں،آپ نے ”گھرآباد“ کا سلسلہ شروع کرکے سچ میں بڑی نیکی کی ہے. رشتوں اور اچھے رشتوں کا بڑا مسئلہ ہے. بچیاں گھروں میں بیٹھی ہیں. عمریں گزر رہی ہیں. یہ ان کے ساتھ ظلم ہے. خلاف فطرت زندگی اپنے آپ پر ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔خیر آپ نے دوسری شادی کی ترغیب دینے کے لیے ایک پوسٹ لکھی تھی. میں نے اسی حوالے سے آپ کوزحمت دی ہے کہ آپ میری کہانی بھی سنیں اور اپنے کالم میں لکھیں، بس میرا نام نہ ظاہر کیجیے گا“۔

سیلانی کے فیس بک پر پانچ ہزار دوست اور دس ہزار فالوورز ہیں. ایک دن اسے یونہی خیال آیا کہ بچوں بچیوں کے رشتوں کے حوالے سے ان کا رابطہ کیوں نہ کرا دیا جائے! س نے ”گھرآباد“ کے نام سے ایک سلسلہ شروع کر دیا اور ایک تعارفی فارم بنا ڈالا. رشتوں کے خواہشمند سیلانی سے رابطہ کرکے وہ فارم لیتے ہیں اور بھر کرفیس بک یا واٹس اپ پر بھیج دیتے ہیں. سیلانی ان کی ترجیحات کے مطابق جوڑ کا رشتہ دکھا دیتا ہے. باقی کے مراحل دونوں خاندان خود طے کرتے رہتے ہیں. یہ ایک الگ تجربہ ہے. وہ مولانا اسلم شیخوپور ی شہید صاحب کی عقد ثانی لازمی والی سوچ سے متفق تو تھا ہی لیکن اب تو جی جان سے مان گیا ہے کہ معاشرے میں عقد ثانی،مطلقہ،بیواؤں سے نکاح کو رواج دینابہت ضروری ہو گیا ہے. فیس بک پر وہ اس حوالے سے لکھتا رہاہے. سیلانی کے میزبان نے اسی حوالے سے اسے اپنا مہمان بنایاتھا۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر سیلانی نے انہیں یقین دہانی کرائی”جی جی آپ بے فکر رہیں.“

”سیلانی بھائی! میں یہاں سی ڈی اے کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا ملازم ہوں، ساٹھ ستر ہزار روپے تنخواہ ہے، پیچھے گاؤں میں تھوڑی سی زمین ہے، سفید پوشی سے گزر رہی تھی. میری شادی میری خالہ زاد سے ہوئی تھی، اس کا شروع سے ہی دین کی طرف رحجان رہا ہے، لیکن وہ جو کہتے ہیں ناں کہ کٹر پن وہ نہیں تھا اور نہ ہے، الحمدللہ نماز روزے کی پابند ہے،محلے میں درس قرآن اور ذکر کی محفلیں ہوتی ہیں. یہ باقاعدگی سے جاتی ہے اور خاصی سوشل ہے. کسی مریض کو خون شون چاہیے ہو، کسی کو کچھ مدد درکار ہو تو یہ ہر وقت مدد کو تیار ہوتی ہے. سوشل ہونے کی وجہ سے اس کا حلقہ احباب بھی خاصا وسیع ہے. محلے کی عورتیں اپنی بچیوں کے رشتوں کے لئے بھی اس کے کانوں میں باتیں ڈالتی رہتی ہیں اور مجھے بھی پتہ ہے یہ اپنے طور کچھ نہ کچھ کرتی بھی رہتی ہے.

میں نے بیگم صاحبہ کی ان سرگرمیوں پر کبھی اعتراض نہیں کیا کہ مجھے کوئی مسئلہ نہیں تھا. گھر کا نظام بھی بالکل اے ون چل رہا تھا. ایک دن میں دفتر سے آیا تو بیگم صاحبہ کو خاصا اہتمام کرتے ہوئے پایا. مجھے دال چاول بہت پسند ہیں. بیگم نے دال چاول پکائے ہوئے تھے. میری پسند کا نیلا سوٹ بھی پہنا ہوا تھا. میں سمجھ گیا کہ بیگم نے کوئی فرمائش ڈالنی ہے،کھانے کے دوران میں انتظار کرتا رہا کہ بیگم ابھی شروع ہوگی کہ ابھی شروع ہوگی لیکن نہ جی، کھانے کے بعد جب شکر والا ٹھنڈا دہی سامنے آیا تو مجھ سے رہا نہیں گیا میں نے پوچھ ہی لیا کہ نیک بخت! اب وہ بم گرابھی دے بات کیا ہے اتنی مہربانی کیوں۔۔۔پہلے تو وہ ہنسی پھر کہنے لگی آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے میں نے کہا حکم کریں اور اس نے جو حکم دیا وہ سچ میں بم پھاڑنا ہی تھا. کہنے لگی آپ میری سہیلی کو جانتے ہیں جس کا شوہر کا پچھلے سال انتقال ہو گیا تھا. بیچاری کے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں. وہ بڑی مشکل سے گزارہ کررہی ہے. میں نے کہا کیا کرسکتا ہوں؟ اسے کہوں اپنی سی وی دے دے، میں نوکری کی کہیں کوشش کرلیتاہوں لیکن وعدہ نہیں کرتا. میری بات سن کر بیگم نے کہا میں نوکری کی نہیں، شادی کی بات کررہی ہوں آ پ اس سے نکاح کر لیں۔۔۔“

”کیا یایایا۔۔۔ آپ کی مسز نے خود کہا کہ آپ دوسری شادی کرلیں؟“ سیلانی نے پہلو بدلتے ہوئے تیزی سے کہا.

”جی سیلانی صاحب! میں نے کہا آپ پاگل ہوگئی ہو،ہوش میں ہو۔۔۔ اس نے کہا دیکھیں میں ہوش میں ہوں اسے اس وقت سہارے کی ضرورت ہے، یہ گناہ نہیں نیکی ہے اور آپ کو کیا مسئلہ ہے جب مجھے اعتراض نہیں، میں نے اسے ڈانٹ پلاکر چپ کرادیا لیکن وہ رات پھر یہ موضوع لے کر بیٹھ گئی. اس نے مجھے قرآن احادیث سے قائل کر لیا اور میرے اور اپنے گھر والوں کو سنبھالنے کی ذمہ داری بھی لے لی۔۔۔سیلانی صاحب! میں سچ کہتاہوں میرا دل بڑا گھبرا رہا تھا. سو وسوسے تھے کہ خرچہ کہاں سے پورا ہوگا گھر والے کیا کہیں گے؟ لیکن میرے ہر سوال کے جواب میں اس کا یہی کہنا تھا کہ اللہ کے لیے کر رہے ہو تو وہی مدد بھی کرے گا“۔

اتنا کہہ کر سیلانی کے میزبان نے ٹھنڈی ہوجانے والی چائے کی طرف اس کی توجہ دلائی جو کب کی ٹھنڈی ہوچکی تھی. سیلانی نے جلدی سے کہا”مجھے طلب نہیں،آپ بتائیں کہ پھر کیا ہوا، نکاح ہوا“۔

سیلانی کی بے تابی پر اس کا میزبان ہنس پڑا ”جی سیلانی بھائی! اب تو ڈیڑھ سال ہوچکا ہے اور آپ یقین کریں دوسری شادی کے بعد میرا رزق ایسے بڑھا کہ میں خود حیران ہوں،میری دوسری بیگم ماشاء اللہ ایم ایس سی پاس ہیں. انہیں ایک اسکول میں ملازمت مل گئی. چالیس ہزاروہاں سے ملنے لگے، میرا ایک پلاٹ کب سے پھنسا ہوا تھا، فروخت ہی نہیں ہورہا تھا. ہوا یوں کہ اس کے ساتھ ایک بلڈر نے پلازہ کی بنیاد ڈال دی اور میرا وہ پلاٹ جو کوئی پچاس لاکھ میں نہیں خریدرہا تھا، اس کے مجھے پچاسی لاکھ قیمت مل گئی. میں نے ان روپوں کو گاڑیوں کی خریدو فروخت میں لگا دیا. تین چار کاریں خرید کر شورومز پر رکھوا دیتا ہوں. آرام سے ایک گاڑی میں بیس پچیس ہزار بچ جاتے ہیں،میں خرچے سے پریشان تھا اب خوشحال ہوگیاہوں،اب میں نے پورا گھر کرائے پر لے رکھا ہے. اوپر والی منزل میں ایک بیگم نچلی والی پر دوسری رہتی ہے“۔

سیلانی کے میزبان نے اس کی آمد کا گھر میں بتا رکھا تھا. اس نے آواز دے کر اپنی بیگمات کو بھی بلالیا،دونوں خواتین مکمل حجاب میں تھیں اور سیلانی کی حیرت سے محظوظ ہورہی تھیں. ان میں سے ایک نے گلا کھنکار کرکہا”سیلانی بھائی!کوئی فیصلہ آسان نہیں ہوتا لیکن جب اللہ کی مدد آجائے تو پھر کوئی مشکل مشکل نہیں رہتی،میں سوچتی تھی کہ عرب میں دو دو نکاح عام ہیں،ملائیشیا میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے. یہ ہم ہندوؤں کے ساتھ رہ رہ کر ان کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں، اس لیے اسے موت اور زندگی کا مسئلہ بنالیا ہے. میں خود اپنے پر سوکن لائی ہوں اور الحمدللہ خوش ہوں، ہم دونوں بہنوں کی طرح رہتے ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ہمارے درمیان جھگڑا نہیں ہوتا، ناراضگیاں ہوجاتی ہیں،شکوے شکایتیں بھی ہوتی ہیں کہ ہم آخر کار انسان ہیں، لیکن ہم دل میں کچھ نہیں رکھتے۔۔۔یہ سیلانی کے میزبان کی پہلی اہلیہ تھیں، وہ چپ ہوئیں تو دوسری بیگم نے کہا سیلانی بھائی! یہ میری محسنہ ہیں، میرا ان سے کیا جھگڑنا لیکن جہاں برتن ساتھ ہوں، وہاں کھڑکنے کی آواز تو آتی ہی ہے، ہمارے درمیان بھی چھوٹی موٹی باتیں ہوجاتی ہیں مگر جلد ہی ختم بھی ہوجاتی ہیں. ہم مل جل کر رہتے ہیں، میں نہیں بھولتی کہ یہ میرے شوہر کا ہی نہیں، میرے محسن کا بھی گھر ہے۔

یہ سیلانی کی زندگی کا عجیب اور منفرد کیس تھا. وہ اپنے میزبان کے پا س لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھا رہا. اس نے اپنے میزبان سے بہت سے سوال کیے، وہ بہت مطمئن دکھائی دیا، البتہ اس نے یہ تسلیم کیا کہ یہ آسان فیصلہ نہیں. بچوں کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے، مگروہ سمجھ جاتے ہیں. باقی ویسا ہی سب کچھ رہتا ہے جیسا سب گھروں میں ہے. میں دونوں بیگمات کو ساتھ بھی گھماتا پھراتا ہوں اور اکیلے اکیلے بھی لے جاتا ہوں، میری تو مزے گزر رہی ہے۔

سیلانی کا میزبان اس سے حال احوال کر رہا تھا اور سیلانی سوچ رہا تھا کہ ہمارے ہندوانہ رسم و رواج میں جکڑا معاشرہ کب ان بندشوں کوتوڑے گا؟ کتنی ہی نوجوان لڑکیاں بدقسمتی سے طلاق لیے اپنے گھروں میں نکاح کی منتظر ہیں. کتنی ہی بیوائیں اداسی کا روگ لیے زندگی گزار رہی ہیں اور کتنی ہی لڑکیاں بالوں میں چاندی کے تار لیے سینے پر پتھر کی سل رکھے بیٹھی ہیں۔۔۔لیکن لڑکی کے گھر والے دل بڑاکرتے ہیں نہ لڑکے کے اہل خانہ کسی بیوہ،مطلقہ یا ڈھلتی عمروالی کے سر پر چادر رکھتے ہیں. پوری روٹی کھانے کے چکر میں آدھی سے بھی جاتے ہیں اور نفسیاتی عوارض کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔۔۔سیلانی یہ سوچتے ہوئے اپنے خوشحال میزبان کو مسکراتا ہوا دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */