‏اخلاقیات کے ماہ وسال - ثناء ہاشمی

امریکہ میں ہونے والے صداراتی انتخابات پر دنیا کی توجہ مرکوز ہوتی ہے، اور اس کی سادہ اور آسان وجہ یہ ہے کہ دنیا کی خارجہ پالیسز ملکی اور بین الاقوامی رابطے بھی اس ہی کے گرد اپنی ترجیحات کو طے کرتے ہیں، ریاست ہائے متحدہ کے دو پارٹی سسٹم کوجدید طرز سیاست کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے ، لیکن اس بحث کو کبھی اور کر لیں گے اس وقت ریاست ہائے متحدہ کے صدراتی انتخابات 2020 کے لئے ڈیموکریکٹ اور گانگریس کے درمیان مباحثوں کا سلسلہ جاری ہے، آپ کو شاید حیرانگی ہو، لیکن یہ سچ ہے جس طرح سے امریکہ میں انتخابات سے پہلے ڈی بیٹ کی جاتی ہے یہ جدید دنیا میں ایک مضبوط نظام حکمرانی کے تصور کو جلا بخش رہا ہے، میرے نزدیک یہ بھی ایک بحث طلب معاملہ ہے ،ناقدین کے مطابق امریکہ میں ٹو پارٹی سسٹم امریکی عوام کی اپنی پسندنہیں، اور صدارتی نظام کے ذریعے منتخب صدر گو کہ ایک پورے شفاف انتخابی عمل سے گزرتا ہے، لیکن انٹرنیشل اسٹیبلیشمنٹ بھی اس پورے عمل کے پیچھے پوری قوت کے ساتھ ہوتی ہے.

یہ تہیمید مشاہداتی تجزیے ہیں، میرے لئے یہ اہم ہے کہ امریکہ میں ہونے والے انتخابات ، اپنی شفافیت کے اعتبار سے دنیا کے لئے ایک قابل تقلید عمل ہے، اور اس عمل سے پہلے کی جانے والی دوجماعتوں کے مابین ہونے والی بحث اور بحث میں پارٹی پالیسیز اور منشور کی آگاہی یقینا ایک دلچسپ طریقہ ہے جو کسی بھی ووٹر اور سپوٹر کو اس کے فیصلے کے اختیار کے استعمال پر مطمئن کرنے کا بہترین طریقہ ہے.

گزشتہ روز، امریکہ میں صدارتی انتخابات کے امیدوار جو بائیڈن اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین ڈی بیٹ ہوئی اور اس ڈی بیٹ میں ایک دوسرے پر شدید الفاظ کا تبادلہ ہوا، مبصرین اور تجزیہ کاروں کی رائے میں یہ تکرار نہیں بلکہ ایک حیرت انگیز اور افسوسناک مباحثہ تھا، جس میں ڈی بیٹ کے تشخص کی توہین ہوئی، جہاں مخالفین نے ایک دوسرے کو ہتک آمیز جملوں سے نوازا، اور ذاتیات پر حملہ کیا گیا، اور پوری دنیا میں اس کی جگ ہنسائی ہوئی جو اس ڈی بیٹ اور ریاست ہائے متحدہ کے لوگوں کے لیے باعث شرم ہے، یہاں تک تو بات شاید آپ سب کے علم ہو، لیکن اس کے بعد جو میں کہنا چاہتی ہوں، وہ ہمیں سمجھنا ہوگا؟

اس وقت دنیا میں تحقیق ہورہی ہے کہ بحثیت مجموعی انسان اس وقت اپنے کسی دور سے گزر رہا ہے، اسی تحقیق پر انسانی رویے اور حالات کا جائزہ لیا جارہا ہے، اور دنیا کے قدآور ممالک کی عوام کو بھی اس ریسرچ میں جانچا جارہا ہے. میرے مشاہدے کےمطابق، اس وقت دنیا ایک جذباتی فکر کے دور سے گزر رہی ہے، عین ممکن ہے کہ میرا تجزیہ غلط ہو، لیکن دنیا کے چند ممالک کے صاحب منصب افراد پر نظر ڈالیں تو آپ بھی شاید میری تائید کریں، شمالی کوریا کے کم جونگ ان، ہو یا بھارت کے نریندری مودی، یا امریکہ کے ڈونلڈ ٹرمپ، یہ سب جذباتی اوراضطرابی سیاست دانوں کی فہرست میں نمایاں ہیں، اور ان کے فیصلے بھی عوام کو جذباتی فیصلوں کی طرف دھکیل رہے ہیں، یہ سب تحریر کرنے کا مقصد یہ کہ جو کچھ امریکہ میں صدارتی انتخاب کی ڈی بیٹ کے دوران ہوا. یہ سب پاکستان میں میں ہر روز اور ہر لمحے دیکھنے کو ملتا ہے. ہمارے سیاست دان الزامات عائد کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے اور ہم بحثیت قوم اس پر شرمندہ بھی نہیں ہوتے، کیونکہ انفرادی حثیت میں اگر ہمیں کسی سے کوئی مخاصمت ہو یا ہم اپنی رائے کو کسی پر تھوپنا چاہیں تو چیخنا، بات کو کاٹنا، اخلاق سے گری ہوئی زبان استعمال کرنا ہم اپنا استحقاق سمجھتے ہیں اور مجھے یہ لکھنے میں عار نہیں کہ ہم اپنے سیاست دانوں سے بھی دو ہاتھ آگئے ہی نظر آئیں گے.

اخلاقی پستی امریکہ میں ہو یا یوگنڈا یا پاکستان میں یہ ہر جگہ ہی رد کی جاتی ہے، لیکن مجھے افسوس یہ ہے اس کی تقلید کرنے والے مضبوط اور اہم عہدوں پر فائز ہیں، تجزیہ کاروں کی رائے میں انڈیا کے دو بار منتخب ہونے والے نریندرمودی 2024تک اس منصب پر فائز رہیں گے ، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل ہوگی، کیونکہ ان کے مدمقابل جوبائیڈن قدرے کمزور دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ پاکستان کے تناظر میں بھی عمران خان کو بحثیت وزیراعظم اگلے پانچ سال کی نوید دی جارہی ہے، اب اس تجزیے کی روشنی میں اخلاقیات ان ماہ وسال میں کہاں ہوگی اس پر بحث کبھی اور صحیح۔۔۔۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */