مذہب، سائنس اور ہمارے روئیے - اشتیاق حجازی

سائنس اور مذھب کو ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کرنے کا خمیازہ اہلِ مذھب کو ہی بھگتنا پڑا۔ خاص کر برِ صغیر کے مسلمانوں کو سائنس دشمنی کی وجہ سے جو نقصان ہوا اُس کا مداوا آج تک ہو سکا۔ شکر خدا کا یہ کہ سرسید جیسے لوگ آگے بڑھے اور مذھبی معاشرے میں سائنسی علوم کی بنیاد رکھی۔ لیکن اس نیکی کا صلہ یہ ملا کہ لوگ انہیں دشمن اسلام سمجھنے لگے۔ آج بھی اہلیانِ مذھب سائنس کو باطل قرار دیتے ہیں اور ہر نئ سائنسی ایجاد کو شیطانی آلہ قرار دے کر مسترد کردیتے ہیں، لیکن جب وہ ایجاد ضروریات زندگی کا حصہ بن جاتی ہے تو چُپکے سے اُسے قبول کرلیا جاتا ہے۔

مجھے بحیثیتِ مسلمان لوگوں کی یہ سائنس دشمنی آج تک سمجھ نہ آسکی۔ دیگر علوم کی طرح سائنس بھی ایک علم ہے جس کا بنیادی مقصد کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھانا ہے۔ علت و معمول کے ربط کو واضح کرنا ہے۔ cause and effect کو سمجھنا ہے۔ غور و فکر کرنا ہے۔ کھوج لگانا ہے۔ مادے کے قوانین کو دریافت کرنا اور ان کو انسان کے تابع کرنا ہے۔ کیا اللہ ہمیں غور و فکر کرنے کا حکم نہیں دیتا۔دیکھا جائے تو سائنس نے بہت سے مذھبی پہلوؤں کو اس طرح سمجھنے میں مدد دی ہے جسکا تصور پہلے زمانے میں کرنا بھی ممکن نہ تھا۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہر لمحے ہمیں دیکھ رہا ہے، ہم اس کی نظروں سے بچ نہیں سکتے۔ ہم انسان ہی نہیں بلکہ کائنات کے ایک ایک ذرے اسکی نظر میں ہے، اس کے دست قدرت میں ہے۔ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اُس کا ریکارڈ محفوظ کیا جارہا ہے۔ کیا آج سے دو سو سال پہلے کا انسان اس بات کو اُتنے بہتر انداز میں سمجھ سکتا تھا جیسے آج ہم سمجھ رہے ہیں۔

پہلے دور کے انسان کےلیے یہ تصور ممکن نہ تھا کہ ریکارڈنگ کیا شے ہے، لیکن آج ایک چھوٹے سے میموری کارڈ میں ہر بات ریکارڈ ہوتی ہے۔ کیمرے کی مدد سے آپ ہزاروں میل دور سے کسی شخص کو دیکھ سکتے ہیں۔ آج ہمارے لیے یہ بات سمجھنا ذرا بھی مشکل نہیں کہ جب آج کے انسان کے پاس اتنی قوت آچکی ہے پھر اللہ تو ہے ہی قادر مطلق، اُس کےلیے کیا مشکل۔ ہماری ہر حرکت نوٹ کی جارہی ہے، اور ہماری ہر بات محفوظ کی جارہی ہے، جو بروزِ محشر ہمارے سامنے ایسے چلے گی جیسے سکرین پر فلم چلتی ہے۔سائنسی تعلیم سے تو دوری برقرار رہی لیکن سائنس کی کی گئ ایجادات کو بھی ہمارے مذھبی لوگوں نے اکثر کفریہ ایجادات قرار دے کر ان کا بایئکاٹ کیے رکھا۔ لیکن جب وہی ایجاد ضرورت بن گئ تو چپکے سے قبول کرلیا گیا۔

لاؤڈ سپیکر ایجاد ہوا تو اس کے خلاف فتوے آگئے، مساجد میں اسکا استعمال ممنوع قرار دیا گیا،لیکن کچھ عرصہ بعد جب وہی لاؤڈ سپیکر ضرورت بنا تو چپکے سے قبول کرلیا گیا۔ فتوے منسوخ ہوگئے۔ اور آج تو حال یہ ہے کہ واعظ، نعت خواں، اور ذاکر حضرات اچھے ساونڈ سسٹم کے بغیر سٹیج پر نہیں جاتے۔اسی طرح کیمرہ، ٹی وی، کیبل اور پھر انٹرنیٹ کی مثال بھی سامنے ہے کہ پہلے کس طرح اسے باطل قرار دیا گیا، لیکن پھر آہستہ سے قبول بھی کرلیا۔ سائنس آج کی دنیا کی حقیقت ہے، بالکل ویسے ہی جیسے آپ کے ہاتھ میں پکڑا موبائل ایک حقیقت ہے۔ حقیقت سے انکار وہ ہی کرسکتا ہے جس کی اپنی بینائی جاچکی ہو۔

سائنس و مذھب کے تصادم کا سارا نقصان فقط مذھب اور اُس پڑھے لکھے پیروکاروں کو ہوا۔ایسے لوگوں کے ذھن کشمکش کا شکار ہوگئے۔ انہیں اپنے ذھن میں اٹھنے والے سوال پریشان کرنے لگے۔ اور جب جوابات نہ ملے تو وہ توحید کو چھوڑ کر الحاد کے دروازے پر جا کھڑے ہوئے۔آج کے مذھبی لوگوں کو چاہیے کہ وہ سائنسی تعلیم کو رد کرنے کے بجائے اسے کھلے دل سے قبول کریں، اور خالق کی تخلیق کردہ اس کائنات میں چھپے رازوں تک رسائی حاصل کریں۔ اس کا سراسر فائدہ مذھب کو ہی
ہوگا اور الحاد و کفر کی راہیں بند ہو جائیں گی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */