زندگی کھیل نہیں- جاوید چوہدری

حسن راشد کی عمر 28 سال ہے اور یہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے شمال میں الکالوبیا میں رہتا ہے‘ یہ کھانے پینے کا شوقین ہے‘ فروری میں یہ اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا‘ ساتھیوں نے اسے تنگ کرنا شروع کر دیا ’’تم سب کچھ کھا جاتے ہو‘ تمہارا معدہ ہے یا لوہا پگھلانے کی بھٹی ہے‘‘۔
یہ گفتگو طول پکڑ گئی اور یہ یہاں تک آ گئی کہ دوستوں نے اس کے ساتھ شرط لگا لی ’’اگر تم اپنا موبائل فون کھا کر دکھا دو تو ہم تمہارے سامنے ناک سے لکیریں نکالیں گے‘‘ حسن راشد شوخی میں آ گیا اور وہ اپنا موبائل فون نگل گیا‘ فون سیدھا معدے میں پہنچ گیا‘ حسن راشد کا خیال تھا فون بہت جلد جسم سے باہر آ جائے گا لیکن فون پیٹ میں پہنچ کر غائب ہو گیا‘ دوستوں نے ناک سے لکیریں نکالیں اور گھر چلے گئے‘ حسن بھی اپنے گھر آگیا۔

یہ چند دن فون کی ’’واپسی‘‘ کا انتظار کرتا رہا مگر فون پیٹ نے ضبط کر لیا تھا‘ یہ چند دن بعد فون کو بھول کر اپنے کام کاج میں مصروف ہو گیا‘ حسن کے پیٹ میں سات ماہ بعد ستمبر کے آخری ہفتے میں اچانک درد شروع ہو گیا‘ اس نے ’’پین کلرز‘‘ استعمال کیں لیکن درد نہ رکا‘ یہ 23 ستمبر کو اسپتال پہنچ گیا‘ ڈاکٹروں نے الٹرا ساؤنڈ کیا تو انھیں حسن کے معدے میں عجیب و غریب چیز دکھائی دی‘ ڈاکٹروں کو تشویش ہوئی اور انھوں نے اسے فوراً آپریشن تھیٹر پہنچا دیا‘ آپریشن ہوا‘ وہ عجیب و غریب ’’چیز‘‘ نکالی گئی‘ پولیس بلائی گئی‘ پولیس کے سامنے اس ’’چیز‘‘ کے اوپر سے رطوبتیں ہٹائی گئیں اور نیچے سے موبائل فون نکل آیا‘ حسن راشد سے تحقیقات کی گئیں تو اس نے اپنی حماقت کا اعتراف کر لیا‘ڈاکٹرز اس انکشاف کے بعد دو باتوں پر حیران ہیں۔
حسن راشد نے موبائل فون نگلا کیسے تھا اور دوسرا اگر موبائل کی بیٹری پھٹ جاتی تو اس کا کیا بنتا؟ بیٹری کی کاربن ڈائی آکسائیڈ لازماً اس کے پورے معدے کو اڑا دیتی‘ ڈاکٹرز آج کل یہ بھی ریسرچ کر رہے ہیں دنیا میں اگر کسی اور بے وقوف نے بھی موبائل فون نگل لیا تو یہ اسے کیسے باہر نکالیں گے‘ یہ دنیا میں اس نوعیت کاپہلا واقعہ نہیں‘ اس قسم کا ایک واقعہ 2016 میں آئر لینڈ میں بھی پیش آ چکا ہے‘ ڈبلن کی ایک جیل میں 29 سال کے ایک قیدی نے بھی موبائل فون نگل لیا تھا‘ اس کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اور وہ مسلسل الٹیاں کرنے لگا تھا‘ اسے بھی اسپتال پہنچا دیا گیا تھا‘ ڈاکٹروں نے 18 گھنٹے بعد آپریشن کر کے اس کے پیٹ سے بڑی مشکل سے موبائل فون نکالا تھا‘ اس بے وقوف نے بھی ساتھی قیدیوں کے ساتھ شرط لگا کر موبائل فون نگل لیا تھا۔

شرط کی یہ حماقت صرف مصر یا آئر لینڈ تک محدود نہیں‘ پاکستان میں بھی یہ علت شدت کے ساتھ موجود ہے‘ آپ ملک میں کسی طرف نکل جائیں آپ کو حسن راشد جیسے ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ ملیں گے‘ میں نے بھی بچپن میں ایسے درجنوں لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے شرط جیتنے کے چکر میں اپنی زندگی کو عذاب بنا لیا تھا‘ یہ تمام کردار مجھے آج بھی یاد ہیں‘ مثلاً ہمارے محلے میں ایک لڑکا رہتا تھا‘ اس نے لڑکوں کے ساتھ روح افزاء کی پوری بوتل پینے کی شرط لگا لی اور وہ ان کے سامنے پوری بوتل پی بھی گیا۔
تمام لڑکوں نے ایک ایک روپیہ جمع کر کے اسے دس روپے دے دیے لیکن دو گھنٹے بعد وہ بے ہوشی کے عالم میں اسپتال میں تھا‘ اس کی شوگر ہزار پوائنٹس تک پہنچ چکی تھی‘ اس کی موت سو فیصد تھی لیکن خوش قسمتی سے سمجھ دار ڈاکٹر بھی مل گیا اور لڑکوں نے بھی اس کے والدین کو اس کی واردات کے بارے میں بتا دیا تھا‘ ڈاکٹر نے اسے انسولین کی ہیوی ڈوز دے دی‘ اس کی جان تو بچ گئی لیکن دل‘ گردے‘ دماغ اور جگر بری طرح متاثر ہوگیا‘ وہ چار سال زندہ رہا مگر خاندان نے یہ چار سال اسپتالوں میں گزارے‘ اسی طرح گجرات کے ایک لڑکے نے آدھ پاؤں نمک کھانے کی شرط جیت لی‘ وہ جیت گیا‘ اس کے لیے تالی بھی بج گئی لیکن اس کا معدہ‘ بڑی آنت اور گردے تینوں ختم ہو گئے۔

وہ بھی چھ سات سال زندہ رہا مگر اس کا خاندان اس کی موت کی دعا کرتا رہا‘ لوگ اس کا حشر دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے‘ آپ نے چند ماہ قبل ساہیوال کے ایک شخص کی ویڈیو بھی دیکھی ہو گی‘ یہ شرط جیتنے کے لیے ٹرین کی پٹڑی پر لیٹ گیا تھا‘ اس کے اوپر سے ٹرین گزرتی رہی اور دوست ٹریک کی دونوں سائیڈوں پر کھڑے ہو کر تالیاں بجا رہے تھے اور اس کی ویڈیو بنا رہے تھے‘ وہ شخص خوش نصیب تھا وہ بچ گیا‘ وہ اگر صرف اپنے دوستوں کو دیکھنے کے لیے ایک انچ اوپر ہو جاتا تو اس کی کھوپڑی اڑ جاتی‘ یہ اس کے والدین کی دعائیں تھیں یہ بچ گیا ورنہ شرط نے اسے قبرستان تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی‘ میرے پاس چند برس قبل ایک صاحب تشریف لائے‘ ان کا جوان بیٹا بھی ان کے ساتھ تھا‘ بیٹے کے پورے جسم پر پھوڑے نکلے ہوئے تھے۔
وہ نفسیاتی طور پر بھی تباہ حال تھا‘ مجھے اس صاحب نے بتایا ہمارے گھر کے نزدیک چمڑہ رنگنے کی ایک فیکٹری (ٹینری) ہے‘ بیٹے نے اپنے دوستوں کے ساتھ شرط لگائی اور ٹینری کے کیمیکل بھرے تالاب میں ڈبکی لگا دی‘ یہ شرط تو جیت گیا مگر اس کی ساری جلد تباہ ہو گئی‘ یہ اب تین برسوں سے علاج کرا رہا ہے‘ مجھے بچے اور اس کے والدین دونوں پر ترس آنے لگا‘ اسی طرح میرے پاس ایک صاحب تشریف لائے‘ ان کے جوانی میں سارے دانت جھڑ گئے تھے اور چہرے کی جلد لٹک گئی تھی‘ اللہ معاف کرے وہ بڑی بری حالت میں تھے۔

پتا چلا انھوں نے دوستوں کے ساتھ چائے کے تیس کپ پینے کی شرط لگائی تھی اور یہ آخر میں یہ شرط جیت گئے لیکن شرط کا نتیجہ سامنے تھا‘ اسلام آباد میں تین سال قبل میرے ایک جاننے والے کا بیٹا شرط جیتتے جیتتے زندگی کی بازی ہار گیا‘ یہ کالج سے دوستوں کے ساتھ واپس آ رہا تھا‘ راستے میں سیوریج کا بڑا پائپ تھا‘ پائپ کے نیچے گہری کھائی تھی‘ دوستوں نے اس کے ساتھ شرط لگائی اگر تم پائپ پر چلتے چلتے دوسری طرف پہنچ جاؤ تو ہم تمہیں برگر کھلائیں گے اور اس نے برگر کے چکر میں پائپ پر چلنا شروع کر دیا‘ یہ درمیان میں پہنچ کر پائپ سے سلپ ہوا‘ سر کے بل نیچے گرا اور اسی وقت دم توڑ گیا‘ دوست ڈر کر بھاگ گئے‘ والدین نے بیٹے کی تلاش شروع کر دی‘ بچے کی لاش دو دن بعد کھائی سے ملی‘ لاش جانوروں نے بری طرح بھنبھوڑ دی تھی‘ تفتیش شروع ہوئی تو معاملہ کھل گیا۔
یہ والدین کا اکلوتا بیٹا تھا‘ آپ نے وہ واقعہ بھی سنا ہو گا جس میں نوجوان نے شرط جیتنے کے چکر میں سوشل میڈیا پر لائیو اپنی کھوپڑی پر پستول رکھی تھی اور چلا دی تھی اور پھر وہ دوستوں کے سامنے تڑپ کر مر گیا تھا اور آسٹریلیا میں پچھلے سال ایک نوجوان نے سر کے بل کھڑے ہو کر بیئر پینے کی کوشش بھی کی تھی‘ بیئر سیدھی اس کے دماغ میں پہنچ گئی اور وہ پانچ سیکنڈ میں گر کر مر گیا‘یہ چند آنکھوں دیکھے واقعات ہیں‘ پلوں کی ریلنگ پر چلنے‘ سردیوں میں دریا میں چھلانگ لگانے‘ زندہ مچھلی کھانے‘ جم میں اوقات سے زیادہ وزن اٹھانے‘ بیل کو سینگ سے پکڑ کر گرانے‘ ہاتھی کی سونڈ سے لٹکنے اور شیر کے پنجرے میں ہاتھ ڈالنے کی شرطیں آپ نے بھی اکثر سنی ہوں گی اور آپ ان کے نتائج سے بھی واقف ہوں گے‘ دنیا بھر میں ہرروز ایسے درجنوں واقعات ہوتے ہیں۔

یہ کیا ہے؟ لوگ اپنی زندگی‘ اپنی جان کو خطرے میں کیوں ڈالتے ہیں؟ شاید یہ لوگ زندگی کی قدر سے واقف نہیں ہیں یا پھر یہ زندگی کو کھیل سمجھ رہے ہیں یا پھر انھیں اپنے والدین‘ اپنے بہن بھائیوں سے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی‘ انسان نے مرنا ہوتا ہے یہ مر بھی جاتا ہے لیکن یہ اپنے پس ماندگان کے لیے جتنا غم‘ جتنی تکلیف چھوڑ جاتا ہے ہم اس کا تصور تک نہیں کر سکتے‘ ہم انسان اپنے لیے نہیں جیتے‘ ہم ان کے لیے جیتے ہیں جن کے لیے ہمارا جینا معنی رکھتا ہے لہٰذا ہمیں ہر قدم یہ سوچ کر اٹھانا چاہیے۔
ہمارے بعد ہمارے چاہنے والوں کا کیا بنے گا؟ یہ سوچ ہمیں بچائے گی‘ دوسرا شرط لگا کر اپنی جان خطرے میں ڈالنے والے اتنے مجرم نہیں ہوتے جتنے مجرم ان کی جان کے ساتھ کھیلنے والے ہوتے ہیں چناں چہ میری آپ سے درخواست ہے آپ صرف چند لمحوں کی تفریح کے لیے دوسروں کی جان خطرے میں نہ ڈالا کریں‘ آپ کا چند منٹوں کا مذاق پورے خاندان کے لیے عذاب ثابت ہو گا‘ میری والدین اور اساتذہ سے بھی درخواست ہے آپ بھی اپنے طالب علموں اور بچوں کو شرطوں کے ہول ناک نتائج کے بارے میں بتاتے رہا کریں‘ آپ کے گردوپیش میں بھی اگر کوئی ایسا واقعہ پیش آ جائے تو آپ اپنے بچوں کو متاثرہ بچے یا خاندان سے بھی ملایا کریں شاید متاثرین کو دیکھ کر آپ کے بچے اس غلطی سے بچ جائیں۔
آپ بھی ہمیشہ یاد رکھیں زندگی کی ہر غلطی کی تلافی ممکن نہیں ہوتی‘ ہم انسان ایک ایسی شاہراہ پر سفر کر رہے ہیں جس کی ایگزٹ سے ایگزٹ کے بعد انسان دوبارہ اِن نہیں ہو سکتا چناں چہ اپنے آپ کو بھی بچا کر رکھیں اور اپنے بچوں کی حفاظت بھی کیا کریں‘کیوں؟ کیوں کہ دنیا میں سارے لوگ حسن راشد کی طرح خوش قسمت نہیں ہوتے‘ موبائل فون سب کے پیٹ سے باہر نہیں نکلتا‘ یہ زیادہ تر لوگوں کو اوپر ایس ایم ایس بھی کر دیتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */