پاکسانی انسان جوپیچھے رہ گیا - پروفیسر جمیل چودھری

عالمی اداروں کی رپورٹیں جب شائع ہوتی ہیں توپاکستانی لوگوں کو سہولتوں کے لہاظ سے بہت پیچھے دکھاتی ہیں۔چند ماہ پہلے چھپنے والی رپورٹ میں پاکستان کو تعلیمی لحاظ سے بہت پیچھے دکھایاگیا۔خواندگی کی شرح 73سال بعد بھی60فیصد ہی ہے۔2کروڑبچے سکولوں سے باہرہیں۔ان تمام بچوں نے اپنی عمر کے مطابق سکولوں میں ہونا تھا۔موجودہ عمران خان حکومت بھی ان کے لئے کچھ نہیں کرسکی۔

پاکستان کی چند یونیورسٹیاں تب فہرست میں آتی ہیں۔جب فہرست1000کی بنائی جائے۔ابتدائی 400کی فہرست میں ہمارا کوئی تعلیمی ادارہ نہیں آتا۔بھارت،ملائیشیاء،سعودی عرب اورترکی ابتدائی فہرست میں جگہ پانے میں کامیاب رہتے ہیں۔انسانی ترقی کے دیگر اشارے بھی پاکستان جیسے بڑے ملک کوپیچھے ہی دکھاتے ہیں۔اندرون سندھ تعلیم کے حالات سب سے زیادہ خراب ہیں۔امتحانوں میں کھلم کھلا نقل ہوتے ہوئے ویڈیوکے ذریعے لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔اندرون سندھ تعلیمی نظام انتہائی بگڑا ہواہے۔حکومت کوئی پرواہ نہیں کرتی۔سابق فاٹا کے علاقے کے تعلیمی حالات بہت خراب تھے۔صوبہ سرحد میں شامل ہونے کے بعد اب بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے۔اس علاقے کی ایک علیحدہ یونیورسٹی کی بھی ضرورت ہے۔جب لوگ اپنے گھروں ہی سے نقل مکانی پرمجبور ہوں۔توتعلیم وصحت کی سہولیات کی فراہمی مشکل ہوجاتی ہے۔وزیرستان کے علاقوں کی طرف واپسی میں بہت عرصہ لگا۔

ابھی یہ کام بھی100فیصد پورانہیں ہوا۔سہولیات اورخدمات کی فراہمی ابھی دور کی بات ہے۔جوکچھ وہاں ہورہا ہے۔وہ ہمارے فوجی جوانوں کی محنتوں کانتیجہ ہے۔سوات والوں کی واپسی2009ء میں جلدہوگئی تھی۔صحت،تعلیم اوردیگر رفاہی سرگرمیاں جلد بحال ہوگئی تھیں۔وزیرستان کے علاقوں کی طرف واپسی میں بہت عرصہ لگا۔موجودہ عمران حکومت سے توقع تھی کہ وہ آکر انسان کوفوکس کریں گے۔لیکن2سال گزرنے کے بعد کوئی بڑا انسانی فلاح کامنصوبہ نہیں بنایاجاسکا۔کرپشن کرپشن کی گردان کرنے سے عام انسان کوکچھ بھی فائدہ نہیں ہوا۔گزشتہ چند ماہ تووائرس کی وجہ سے بہت خراب رہے۔معیشت اب واقعی ترقی کی منفی شرح میں آگئی ہے۔پاکستان میں اگرچہ غربت کی شرح سرکاری طورپر نہیں بتائی جاتی۔لیکن تمام معتبر معاشی اداروں کااندازہ 40۔فیصد کا ہے۔دیکھاجائے تو یہ ایک بڑی تعداد ہے۔وائرس کی وجہ سے بہت سے لوگ جوغربت کی لائن سے اوپرتھے۔اب غربت کی غارمیں گرچکے ہیں۔

اگرچہ احساس پروگرام کے تحت کئی سوارب روپے لوگوں میں تقسیم کئے گئے۔لیکن دوسروں سے ملنے والے چند ہزارآخر کب تک کام دے سکتے ہیں۔پینے کاصاف پانی ابھی صرف60۔فیصد لوگوں تک پہنچا ہے۔سابقہ حکومت نے200۔ارب سے ہسپتال بنانے کااعلان توکیالیکن بالکل آخری سال میں۔موجودہ عمران حکومت نے ابھی تک بڑے سرکاری ہسپتال بنانے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔گزشتہ8ماہ سے صرف وائرس کی طرف ہی توجہ رہی ہے۔وائرس سے پاکستان نے اچھے انداز سے نپٹا ہے۔ابھی بھارت ،امریکہ اوربرازیل وائرس کی مشکلات میں پھنسے ہوئے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ 2009ء میں ایک تعلیمی پالیسی کااعلان کیاگیاتھا۔تعلیم پر کل قومی آمدنی کا4۔فیصد خرچ کرنے کاپروگرام تھا۔لیکن11۔سال گزرنے کے باوجود تعلیم کے حالات ابھی بھی دگرگوں ہیں۔موجودہ بجٹ2020-21میں اعلیٰ تعلیم کے بجٹ پرکٹ لگ چکا ہے۔انسانی ترقی کے بہت سے شعبے ہیں۔لیکن تعلیم وصحت اس میں اہمیت رکھتے ہیں۔ابھی تک عمران خان کو اپنے دورمیں کسی سرکاری یونیورسٹی ،کالج کادورہ کرتے نہیں دیکھاگیا۔اس سے موجودہ حکمرانوں کی تعلیم سے دلچسپی ظاہرہوتی ہے۔

تمام سابقہ حکومتوں اورموجودہ پی۔ٹی۔آئی دورمیں تعلیم اورصحتNeglectedشعبے ہی شمارہوتے ہیں۔اب عوام یہ کہنے پر مجبورہیں کہ ان دونوں شعبوں کاتعلق حکمرانوں سے ہے ہی نہیں۔تمام موجودہ اورسابقہ حکمرانوں کے بچے باہر ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔عمران خان کی بچوں کی تعلیم وتربیت بھی مغربی اداروں اورمعاشرت میں ہورہی ہے۔نوازشریف کاتو سب کچھ ہی لندن میں ہے۔بلاول اوردیگر بے شمارسیاستدانوں کے بچے باہرہی پڑھتے رہے ہیں۔یہاں صرف سیاست کے لئے آتے ہیں۔پارلیمنٹ اس سلسلے پرغورکرے۔باہر جاکرعلاج معالجہ پرتومکمل پابندی لگ جانی چاہئے۔ویسے اب پاکستانی ہسپتالوں میں کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔ماحول کی صفائی کے لئے کراچی کی مثال کافی ہے۔صرف ٹی وی پرکوڑے کے ڈھیر کے قریب کھڑے ہوکرسیاستدان تقریریں کرتے ہیں۔بارشوں کی صورت حال نے جوکچھ کراچی کے لوگوں کے ساتھ کیا ہے اسے ہرکوئی جانتا ہے۔پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔لیکن جوپہلے موجود ہیں۔سہولیات تو ان کے لئے بھی نہیں ہیں۔نئے آنے والے بھی اس ماحول میں خراب ہی ہونگے۔تمام پاکستانیوں کوملک کوسیکورٹی سٹیٹ بنانے کی بجائے فلاحی ریاست بنانے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔

میڈیا کوچاہئے کہ لوگوں میں جنگی جنون نہ پیداکرے ہم اس سے پہلے بھارت سے کئی بارجنگیں لڑچکے ہیں۔سوائے تباہی اوربربادی کے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔آئندہ بھی جنگوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔جنگ کی باتیں جذباتی ہوتی ہیں۔دونوں فریقوں کوتباہی کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔ایٹمی طاقت بننے کے بعد دفاع سے رقوم بچا کرہمیں صحت اورتعلیم پرخرچ کرناچاہئے۔صحت مند اوراعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں پرمشتمل قوم ہی اپنے مستقبل کے بارے سوچتی ہے۔آگے بڑھتی ہے۔ترقی کرتی ہے۔تعلیم سے ہی انسان تحقیق وتخلیق میں آگے بڑھتا ہے۔کچھ نیا کرنا ہی زندگی ہوتی ہے۔ان پڑھ اوربیمار لوگ میڑوبسوں اورمیٹروٹرینوں پرسفر کرتے اچھے نہیں لگتے۔لاہورمیں ایک بس سسٹم مسلم لیگ کے پہلے دور میں مکمل ہوگیاتھا۔میٹرو ٹرین پربے شمار اخراجات کرناصرف سیاست چمکانے کے لئے تھا۔اورمسلم لیگ اس سے فائدہ نہیں اٹھاسکی۔جتنی بڑی رقم میٹروٹرین سروس پر خرچ کی گئی اس سے کئی ہسپتال ،سکول،کالج اوریونیورسٹیاں بن سکتی تھی۔

پاکستان میں انسان پیچھے اورسیاست آگے جارہی ہے۔ہم کئی افریقی ممالک کے برابر شمار ہوتے ہیں۔پاکستان کومسائل سے نکالنے کے لئے موجودہ عمران حکومت کولمبے عرصے کی پالیسیاں بنانی چاہئے۔یہ صرف اس وقت ہوسکتا ہے جب حکومت اوراپوزیشن اکٹھے مل کر پالیسیاں بنائیں۔حکومت جس پارٹی کی بھی آئے۔متفقہ پالیسیوں پرعمل درآمد جاری رہنا چاہئے۔اپوزیشن کے حالات کودیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ2014ء والا منظر دھرایا جائے گا۔اورحکومت وقت کی توجہ پھر ریلیوں اوردھرنے کی طرف ہوجائے گی۔اس سے وسائل کابے شمار غلط استعمال ہوگا۔کئی ماہ کے بعد معیشت کاپہیہ جوتھوڑا بہت رواں ہوا ہے پھررک جائے گا۔اس کاواحد حل یہ ہے کہ عمران خان اورانکی منتخب کابینہ کومل بیٹھ کرسوچنا چاہئے۔یہ منظر دوبارہ نہ دھرایا جائے۔عمران خان اپنادل بڑاکریں۔اپوزیشن سے ملیں۔ان کے جوبھی جائز مطالبات ہوں۔انہیں مانیں۔اگرجناب وزیراعظم کو2014ء کے دھرنے پرمعذرت بھی کرنی پڑے توکرلیں۔

پاکستانی انسانوں کامفاد سامنے رکھ کر سوچیں اپوزیشن نے ریلیوں اوردھرنوں کے جس پروگرام کااعلان کیا ہے ۔مذاکرات سے ملتوی کرائیں۔وزیراعظم اپنی انا کوپیچھے چھوڑدیں۔اپوزیشن سے مذاکرات کے بعد ان کے احتجاجی پروگراموں کوختم کرانا ضروری ہے۔اگریہ احتجاج ملتوی نہ ہوا توملکی معیشت کامزید نقصان ہوگا۔معیشت توپہلے ہی منفی زون میں آچکی ہے۔مزید احتجاجوں سے حالات پھردگرگوں ہوجائیں گے۔عمران خان آگے بڑھیں اوراپوزیشن سے مذاکرات کے بعد ان کا احتجاج ختم کروائیں۔متفقہ معاشی پالیسیوں پراتفاق کریں۔معیشت کاپہیہ رواں رہے گا۔تو ملک اورپاکستان پر آباد انسانوں کے حالات درست ہونگے۔یہ انسانی اپنانان ونفقہ خود کماسکیں گے۔حکومت تومزید نقدرقوم تقسیم نہیں کرسکتی۔تعلیمی ادارے بھی ایک لمبے عرصے کے بعد اب کھلنا شروع ہوئے ہیں۔انہیں ریگولر ہونے میں بھی کافی وقت لگے گا۔تعلیمی نظام کااپنی اصل صورت میں بحال ہونا ضروری ہے۔

بچے تعلیم حاصل کرکے ہی کچھ آئندہ کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ہسپتالوں میں وائرس کے مریض اب کافی کم ہوچکے ہیں۔دوسرے مریضوں کی طرف توجہ دینا بھی اب ضروری ہے۔دیہاتوں اورشہری ہسپتالوں پرکچھ خرچ کرکے ہی صحت کی سہولیات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔دیگرفلاحی کاموں کی طرف بھی توجہ دی جاسکتی ہے۔لیکن پاکستانی عوام کوریلیوں اوردھرنوں سے بچانا حکومت وقت کے فرائض میں شامل ہے۔زندگی کو عمومی انداز سے چلنے میں ہی سب کافائدہ ہے۔خدارا اپوزیشن سے مذاکرات کریں۔اپوزیشن نے7۔اکتوبر کے جلسے کااعلان بھی کردیاہے۔شہباز شریف کی گرفتاری سے اپوزیشن کی تحریک شدت اختیار کرے گی۔کیا ہر حکومت میں یہی کچھ ہوتارہے گا۔متفقہ پالیسیاں بنانے اوران پرعمل کرنے سے ہی پاکستانی انسان آگے بڑھ سکتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */