بلدیاتی نظام اور صوبے- سجاد میر

کبھی کبھی تو مجھے گمان ہوتا ہے کہ جمہوریت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ صوبے ہیں۔ ہمارے ہاں جو بھی نظام ہے وہ اپنی روح کے مطابق اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک بلدیاتی اور شہری حکومتوں کے الیکشن نہ کرا دیے جائیں۔کہا جاتا ہے اس کی راہ میں رکاوٹ جمہوری حکومتیں ہیں‘ وگرنہ ہر آمریت نے بلدیاتی نظام کو اپنے اپنے انداز سے نافذ کرنے کی کوشش کی۔ یہاں غور کیا جائے تو جمہوری حکومتوں سے مراد صوبائی حکومتیں ہیں۔ اس وقت سندھ اور پنجاب میں خاص طور پر بلدیاتی انتخابات کو لٹکایا جا رہا ہے۔ مشرف نے تو صوبوں کو ایک طرح سے بائی پاس کر کے بلدیاتی نظام کو براہ راست قائم کر دیا تھا جس پر اہل سیاست چیختے تھے کہ صوبوں کو بائی پاس کیا جا رہا ہے۔ شاید اس شور مچانے والوں میں ہم بھی شامل ہوں۔ ٹھیک طرح کہہ نہیں سکتا۔ اب مگر مری رائے میں کہ ہم نے صوبوں کو غلط طور پر ملک سے زیادہ مقدس بنا رکھا ہے۔ لکھ چکا ہوں کہ تقدس اگر حاصل ہے تو ملک کو، نہ کہ صوبوں کو۔جب ہم دھرتی ماں کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب ریاست پاکستان ہے نہ کہ کوئی صوبہ یا ضلع یا قصبہ۔یہ سب تو انتظامی یونٹ ہیں۔ یہ بات بھی عرض کر چکا ہوں کہ یہ ملک صوبوں نے مل کر نہیں بنایا بلکہ برصغیر کی ایک اجتماعی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ایک سیدھی سی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ صوبائی اتحاد کا معاملہ ہوتا تو بنگال اور پنجاب کا ہے کو تقسیم ہوتے او سندھ پہلے ہی کا ہے کو بمبئی سے الگ ہوتا اس وقت بھی جو جنوبی پنجاب صوبہ ‘جنوبی سندھ صوبہ یا ایبٹ آباد صوبے کی بات ہو رہی ہے تو مطلب یہ ہے کہ صوبے مقدس نہیں ہیں۔ یہاں تقدس تو ایک طرف صوبے غاصب بن کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ وفاق سے تو سب کچھ لینا چاہتے ہیں‘ مگرآگے نچلی سطح پر اقتدار اور وسائل منتقل نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت ساری ہی صوبائی حکومتیں ایک طرح سے تھر تھر کانپ رہی ہیں کہ کہیں یہ انتخابات نہ کرانا پڑ جائیں۔

یہ آئینی پاکستان کا حصہ ہے اور ہم نے اسے صوبائی خود مختاری کا مسئلہ بنا رکھا ہے سندھ کی حکومت نے تو حد کر دی۔ یہ تک کہہ دیا کہ جب تک مردم شماری نہیں ہوتی نئے انتخابات نہیں ہو سکتے اور مردم شماری کا فیصلہ مشترکہ مفادات کی کونسل میں ہو گا۔ یہ کونسل بھی قومی یکجہتی کے ہر معاملے میں رکاوٹ ہے۔ وہ یوں کہ یہاں ہر فیصلہ اتفاق رائے سے ہونا ہوتا ہے۔ ایک بھی اعتراض کر دے تو بات لٹک جاتی ہے۔ ذرا کوئی تجزیہ کرے کتنے معاملات اب تک اس لئے آگے نہیں بڑھ پاتے کہ وہ اس کونسل کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ ہم نے مردم شماری کا فیصلہ بھی اس کونسل کے سپرد کر رکھا ہے۔ مطلب یہ کہ سندھ حکومت کی موشگافی کا مطلب ہے کہ ہم بلدیاتی انتخابات کرا ہی نہیں رہے۔ ہم اپنے شہروں کو ایڈمنسٹریٹرز کے زور پر چلائیں گے اور ایڈمنسٹریٹر کو انتخاب ہماری صوابدید پر ہے۔ انہوں نے کم از کم کراچی میں ایسے ایڈمنسٹریٹر اور ڈپٹی کمشنر وغیرہ لگا دیئے ہیں کہ کراچی چیخ اٹھا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک بار کراچی صوبے کی بات سامنے آ گئی ہے۔ اسی طرح بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگر پنجاب میں بلدیاتی نظام اپنی روح کے مطابق فعال اور مضبوط ہوتا تو جنوبی پنجاب کے نعرے کی ضرورت نہ تھی۔ بڑے بڑے کام گھر کے قریب ہونا چاہیے۔ یہ مقصد ایک بڑے دائرہ کار میں مضبوط اور فعال بلدیاتی نظام پورا کر دیتا۔ایک بار بے نظیر نے تو یہ تجویز پیش کی تھی کہ ضلع کی سطح پر لیفٹیننٹ گورنر مقرر کر دیے جائیں۔ ایک رائے ایک زمانے میں یہ آئی تھی کہ پاکستان کو 12یا 16صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے تاکہ علاقائی تعصب جو صوبوںکے نام پر رچایا جاتا ہے، اس کا بھی خاتمہ ہو جائے اور تقریبا ڈویژن کی سطح پر بننے والا ہر صوبہ اپنے مالی اور انتظامی امور میں خود مختار ہو۔ ایسے میں صوبائی تعصب کی بھی جڑ کٹ جائے گی اور ملک کا نظم و نسق بھی بہتر ہو جائے گا۔ یہ تجویز ایسی ہے کہ اس زمانے میں تو میں اس کا زیادہ قائل نہ ہوا تھا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ جو بھی یہ رائے مشتہر کرتا تھا۔ اس کا کسی نہ کسی طرح سے تعلق کسی ملکی یا غیر ملکی ایجنسی سے جڑتا تھا۔ حتیٰ کہ بعض بااثر سفارت خانے بھی اس رائے کا پرچارک کرتے پائے گئے۔ اس لئے مرے جیسے وہمی سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی اور مقاصد تو نہیں۔ تاہم یہ مہم چند ماہ کے اندر ہی دم توڑ گئی۔ اب مگر مرا خیال ہے کیوں نہ اس پر غور کر لیا جائے۔ وگرنہ یہ صوبے جو خدا بنے بیٹھے ہیں ملک کو آگے نہیں چلنے دیں گے۔ یہ مری حتمی رائے نہیں تاہم اس میں کوئی حرج نہیں کہ اس پر غور کیا جائے وگرنہ مجھے ڈر ہے صوبے ہمارے وفاقی نظام کو تتر بتر کر دیں گے۔ اب دیکھیے یہ صوبے بلدیاتی انتخابات سے کیسے بھاگتے ہیں۔ ہر صوبائی حکومت کو ڈر ہے کہ انہیں عوام تک جانا پڑا تو ان کی کارکردگی کی قلعی کھل جائے گی۔ اس لئے وہ پہلی سطح کے انتخابات غیر جماعتی کرانا چاہتی ہیں۔ دوسری سطح پر کیا ہونا ہے یہ خدا ہی جانتا ہے۔ پچھلی بار بھی یہ انتخابات صوبائی حکومتوں نے نہیں کرائے تھے۔ سپریم کورٹ کے حکم سے ہوئے تھے۔ اس بار بھی یہی خیال ہے کہ ایسا ہی ہو گا۔ سپریم کورٹ ہی کو کچھ کرنا پڑے گا۔کیا ہم آئین میں اس کا کوئی بندوبست نہیں کر سکتے تھے کہ ایک مدت پوری ہونے کے بعد دوسرے انتخابات خود بخود کرانا الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہو۔اور یہ بھی کہ صوبائی مالیاتی کمشن بھی ہر صورت وجود میں لایا جانا ہے تاکہ نچلی سطح پر اختیارات کے ساتھ وسائل بھی منتقل ہو جائیں۔خالی آئین یا قانون میں کوئی بات لکھ دینے سے بات نہیں بنتی۔ مجھے یہ بھی گمان ہے کہ ہم قانون سازی میں بہت نالائق ہیں۔ پھر ہم راستہ بھی درست اختیار نہیں کرتے۔

ابھی جو ہم نے بل پاس کئے ہیں۔ انہیں کیسے بلڈوز کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے آٹھویں ترمیم بھی جمہوری طریقے سے پاس نہیں کی۔ ایک کمیٹی مقرر کی جو پارلیمنٹ کی عددی حیثیت کی نمائندگی نہ کرتی‘ بلکہ وہاں موجود پارٹیوں کی نمائندہ تھی۔ مشاورت اچھی بات ہے تاہم اسے بھی پارلیمنٹ میں بلڈوز کیا گیا۔اس پر کوئی بحث ہی نہیں کرائی گئی۔ کہا گیا یہ سمجھو بحث ہو چکی ہے اب اس پر ووٹ دو۔ یہ درست طریقہ نہ تھا۔ شاید اسی لئے اس میں کئی خرابیاں رہ گئی ہیں۔ آج جب ان خرابیوں میں سے کسی ایک کو بھی دور کرنے کی بات کی جاتی ہے تو شور مچا دیا جاتا ہے اٹھارہویں آئینی ترمیم کو رول بیک نہیں کیا جائے گا۔ مجھے ڈر ہے آنے والے دنوں میں اس عمل کو بار بار دہرایا جائے گا۔ سو درخواست تو مری فوری طور پر یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں اور یہ بھی عرض ہے کہ ہم ملک کے لئے کوئی ایسا بندوست سوچیں جو صوبائی تعصب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔اس کا علاج یقینا مضبوط مرکز نہیں ہے۔ کیا زیادہ صوبے ہو سکے ہیں۔ غور کر لینے میں کیا حرج ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */