رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ (حصہ اول) - مفتی منیب الرحمن

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’محمداللہ کے رسول ہیں اور جو ان کے اصحاب ہیں وہ کفار پر بہت سخت اور ایک دوسرے پر نہایت مہربان ہیں، (الفتح:29)‘‘۔اِس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرمﷺ کے اصحاب ورفقاکی یہ صفت اور شان بیان فرمائی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں کے مقابلے میں نہایت سخت ہیں ،لیکن اُن کے باہمی تعلقات،برتائواوررویہ نہایت مشفقانہ اور ہمدردانہ ہے ۔اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اس بات کا واضح اعلان ہے کہ جن ہستیوں کو رسول اللہﷺکی صحبت اور آپ کی رفاقت ومعیت کاشرف حاصل ہوا، خواہ اُن کا تعلق براہِ راست خاندانِ نبوت سے تھا یا وہ آپ کے دیگر اصحاب ورفقاتھے ،وہ سب باہم ایک دوسرے سے محبت وہمددری رکھتے تھے،ان کے مابین عمومی طور پرکوئی دشمنی اور عداوت نہیں تھی۔

صحابۂ کرام کے مابین بعض مشاجَرات اورتنازعات تاریخِ اسلام کا انتہائی تلخ اورناخوشگوار باب ہیں،کاش کہ یہ وقوع پذیر نہ ہوتے ، لیکن تقدیر کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں،ان امور پر بحث اس وقت ہماری گفتگو کا موضوع نہیں ہے،بلکہ قرآنِ کریم کا صحابۂ کرام کے باہمی تعلقات کے حوالے سے جو صریح اور دوٹوک اعلان ہے،اسے بیان کرنا مقصودہے۔ ہمارا یہ منصب نہیں ہے کہ ہم صحابہ کرام کے باہمی مناقشات کے حوالے سے عدالت لگاکر بیٹھ جائیں اور یہ کسی صاحبِ ایمان کے شایانِ شان بھی نہیں ہے ، اس حوالے سے اہلسنّت وجماعت کا متفقہ موقف سب کو معلوم ہے ، ہم امیر المؤمنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حق پر سمجھتے ہیں اور ان کے مخالف موقف کواجتہادی خطاپر محمول کرتے ہیں، ان کے معاملات اللہ تعالیٰ کی عدالت میں فیصَل ہوں گے ۔صحابہ میں سے کوئی ایمان لانے میں مقدم ہو یا مؤخر،افضل ہو یا مفضول، اللہ تعالیٰ نے سب سے حُسنِ عاقبت کا وعدہ فرمایاہے۔ ہم صحابۂ کرام کے مودَّت ومحبت پر مبنی باہمی تعلقات پر گفتگو کر رہے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’’رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ‘‘ کی تصویر ہیں:

(1)’’ایک موقع پر حضرت ابوبکر صِدّیق کے سامنے اہلِ بیت کا ذِکر ہوا تو آپ نے فرمایا:اُس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے،رسول اللہﷺکے قرابت داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا مجھے اپنے قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے، ( بخاری:3712)‘‘،

(2):’’حضرت عُقبہ بن حارث بیان کرتے ہیں : ایک دن حضرت ابوبکر نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی ،پھر آپ چل دیے، راستے میں حضرت حسن بن علی کو بچّوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا توحضرت ابوبکر نے انہیں اپنے کندھے پر اُٹھا لیا اور فرمایا:میرے ماں باپ آپ پرقربان ہوں!آپ شکل وشباہت میں حضرت علی کے نہیں، بلکہ رسول اللہﷺکی شبیہ (ہم شکل) ہو،حضرت علی یہ منظر دیکھ کر مسکرارہے تھے،(بخاری:3542)‘‘،

(3):’’ایک بار حضرت عمرسیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہاکے ہاں تشریف لے گئے تو فرمایا:اے فاطمہ!اللہ کی قسم!آپ سے بڑھ کر میں نے کسی کونبی کریمﷺکامحبوب نہیں دیکھا اور خدا کی قسم!آپ کے والدِ گرامی کے بعد لوگوں میں سے کوئی بھی مجھے آپ سے بڑھ کر عزیز و پیارا نہیں،(المستدرک للحاکم: 4736)‘‘،

(4):’’حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں:میں نے اندازِ تکلُّم میں حضرت فاطمہ سے بڑھ کر کسی کو رسول اللہﷺکے مشابہ نہیں دیکھا ،جب حضرت فاطمہ نبی کریمﷺکے پاس تشریف لاتیں تو آپ اُنہیں بوسہ دیتے اور اُن کا ہاتھ پکڑ کر اُنہیں اپنی جگہ بٹھاتے اور جب رسول اللہﷺاُن کے پاس جاتے تو وہ کھڑی ہوجاتیں اور آپ کے ہاتھوں کو بوسہ دیتیں، (المستدرک: 4753)‘‘،

(5):’’حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں: جب حضرت عمر کے عہدِ خلافت میں شہرِ مدائن فتح ہوا توحضرت عمر نے مسجد نبوی میں چمڑے کا بچھونا بچھواکر سارامالِ غنیمت اُس پر ڈال دیا ،سب سے پہلے حضرت امام حسن تشریف لائے اور فرمایا:امیر المومنین!اللہ تعالیٰ نے مالِ غنیمت میں جو ہمارا حق مقرر کیا ہے ہمیں عطا فرمائیں،آپ نے فرمایا:ضرور ملے گا اور ایک ہزار درہم اُنہیں دیدیے،ان کے جانے کے فوراً بعد حضرت حسین تشریف لائے ،آپ نے اُنہیں بھی ایک ہزار درہم دیے ،پھر ان کے جانے کے فوراً بعد حضرت عمر کے اپنے بیٹے عبداللہ تشریف لائے تو آپ نے اُنہیں پانچ سو درہم دیے،اُنہوں نے کہا:امیر المومنین!میں نبی کریمﷺکے عہدِ مبارک میں جوان تھا اور میں آپ کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوا کرتا تھا ،جبکہ حضراتِ حسنین کریمین اس وقت چھوٹے بچے تھے اور مدینہ منورہ کی گلیوں میں کھیلا کرتے تھے ،آپ نے انہیں ہزار ہزار درہم اور مجھے صرف پانچ سودرہم دیے ہیں ،میرا حق اُن سے زیادہ ہے ۔حضرت عمر نے فرمایا:میرے بیٹے پہلے وہ مقام اور فضیلت تو حاصل کرو جو حسنین کریمین کو حاصل ہے اور پھر مجھ سے ہزار درہم کا مطالبہ کرنا ،ان کے والدِ گرامی علی المرتضیٰ ہیں،ان کی والدہ فاطمۃ الزہراء ہیں،ان کے نانارسولِ خدا ہیں،ان کی نانی خدیجۃ الکبریٰ ہیں،ان کے چچا جعفرِ طیار ہیں،ان کی پھوپھی اُم ہانی ہیں،ان کے ماموں ابراہیم بن رسول اللہ ہیں،ان کی خالہ رقیہ واُم کلثوم دخترانِ پیغمبر ہیں،یہ سن کر حضرت عبداللہ بن عمر خاموش ہوگئے،(اَلرِّیَاضُ النَّضْرَہْ:ج:2،ص:340)‘‘۔

(6):’’جب ابولولؤہ لعین کے قاتلانہ حملے سے حضرت عمر شدید زخمی ہوگئے توحضرت علی آپ کی عیادت کے لیے تشریف لائے،حضرت عمر رونے لگے تو حضرت علی نے رونے کی وجہ پوچھی، فرمایا:موت کا پروانہ آچکا ہے اورمیں نہیں جانتا کہ میرا ٹھکانہ جنت میں ہوگا یا جہنم میں،حضرت علی نے فرمایا:آپ کو جنت کی بشارت ہے،میں نے رسول اللہﷺسے سنا ہے،آپ نے فرمایا:ابوبکر وعمر اہلِ جنت کے سردار ہیںاور یہ بات میں نے نبی کریمﷺسے اتنی مرتبہ سنی ہے کہ میں شمار نہیں کرسکتا،(مختصر تاریخِ دمشق: ج:18،ص:298)‘‘،

(7):’’حضرت علی کی حضرت عمر کے ساتھ محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے سیدہ فاطمۃ الزہراء کے بطن سے پیدا ہونے والی اپنی سب سے چھوٹی صاحبزادی کا نکاح حضرت عمر سے کرایا اور حضرت عمر نے اُن کے مقام ومرتبے کے لحاظ سے چالیس ہزار درہم اُن کا مہر مقرر کیا،(سنن بیہقی:14341)‘‘،(8):’’ایک مرتبہ حضرت علی نے فرمایا: عمر اہلِ جنت کے چراغ ہیں،جب حضرت عمر کو معلوم ہوا کہ حضرت علی نے میرے بارے میں یہ کلمات ارشاد فرمائے ہیںتو فوراً آپ کے مکان پر تشریف لائے اور فرمایا:علی!کیا تم نے سنا ہے کہ نبی کریمﷺنے مجھے اہلِ جنت کا چراغ کہا ہے ، فرمایا:ہاں!میں نے یہ بات رسول اللہﷺسے سنی ہے ،حضرت عمر نے کہا :علی!یہ حدیث آپ مجھے اپنے ہاتھوں سے لکھ کر دیدیں،حضرت علی نے اپنے دستِ مبارک سے بسم اللہ کے بعد لکھا:یہ وہ بات ہے جس کی ضمانت علی عمر کے لیے دیتا ہے ،میں نے رسول اللہﷺسے سنا،آپ نے جبریل امین سے سنا ، اُنہوں نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے سناکہ عمر اہلِ جنت کے چراغ ہیں،حضرت علی کی یہ تحریر حضرت عمر نے لے لی اور اپنی اولاد کو وصیت فرمائی کہ جب میری وفات ہوجائے تو غسل وتکفین کے بعد یہ تحریر میرے کفن میں رکھ دینا ،جب آپ شہید ہوئے تو حسبِ وصیت وہ تحریر آپ کے کفن میں رکھ دی گئی ،(اَلرِّیَاضُ النَّضْرَہ،ج:2،ص:311-312)‘‘۔

(9)’’امام دارَقطنی بیان کرتے ہیں : حضرت عمر نے ایک شخص کوحضرت علی کی مذمت کرتے ہوئے دیکھا ،آپ نے فرمایا: تجھ پر افسوس ہے ،توعلی کو نہیں پہچانتا وہ حضور کے چچا کے بیٹے ہیں، پھر آپ نے نبی کریمﷺکی قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:خداکی قسم!تونے حضرت علی کی مذمت کرکے انہیں اذیت پہنچائی جو اس قبر میں آرام فرماہیں،(اَلصَّوَاعِقُ الْمُحْرِقَہ، ج:2، ص:517)‘‘،(10):’’امام دارَ قطنی بیان کرتے ہیں: حضرت عمر کے عہدِ خلافت میں ایک دن حضرت حسن ان کے دروازے پر تشریف لائے ،دیکھا کہ اُن کے بیٹے عبداللہ کھڑے ہیں اور حاضری کی اجازت طلب کررہے ہیں، اتفاق سے اُنہیں حاضر ہونے کی اجازت نہیں ملی ،حضرت حسن یہ خیال کرکے واپس تشریف لے گئے کہ جب اُنہوں نے اپنے بیٹے کو اجازت نہیں دی تو مجھے کب دیں گے ،حضرت عمر کو معلوم ہوا کہ حضرت حسن واپس چلے گئے ہیں تو آپ نے فوراً حضرت حسن کو بلوایا اور فرمایا: مجھے آپ کے آنے کی اطلاع نہیں تھی ،حضرت حسن نے فرمایا: میں اس خیال سے واپس چلا گیا کہ جب آپ نے اپنے بیٹے کو اجازت نہیں دی تو مجھے کب دیں گے،حضرت عمر نے فرمایا:خدا کی قسم!تم اجازت کے سب سے زیادہ مستحق ہو اور عمر کے سر پر یہ جو بال اُگے ہیں یہ اللہ کے بعد تمہارے سوا کس نے اُگائے ہیں،(یعنی مجھے یہ مقام اور مرتبہ تمہارے نانا کی برکت سے ملا ہے )اور فرمایا : آپ جب کبھی تشریف لائیں تو بغیر اجازت اندر آجایا کریں،(اَلصَّوَاعِقُ الْمُحْرِقَہ:ج:،2،ص:521)‘‘،(11):’’ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ کی حضرت حسین سے ملاقات ہوئی توآپ نے فرمایا:میں نے رسول اللہﷺکوآپ کے پیٹ پر بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں بھی آپ کو اُسی جگہ بوسہ دوں،پس حضرت حسین نے اپناکپڑا ہٹایا اور حضرت ابوہریرہ نے آپ کے پیٹ پر بوسہ دیا، (المستدرک: 4785)۔

(12):’’حضرت ابو ہریرہ جب مرضِ وفات میں مبتلا تھے تومروان بن حکم اُمَوی آپ کی عیادت کے لیے آیا اور کہنے لگا : جب سے ہمیں آپ کی رفاقت حاصل ہوئی ہے ، مجھے آپ کی کسی بات سے ناگواری نہیں ، سوائے اس سے کہ آپ حضراتِ حسنین کریمین سے محبت رکھتے ہیں، حضرت ابو ہریرہ سمٹ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں ، ہم لوگ نبی کریمﷺکے ساتھ ایک سفر میں نکلے ، ایک جگہ آپ نے حضرات حسنین کریمین کے رونے کی آواز سنی ، حضرت فاطمہ بھی ساتھ تھیں ، آپ تیز چل کر وہاں پہنچے اور فرمایا : ہمارے بیٹوں کو کیا ہوا ہے، حضرت فاطمہ نے عرض کی: یہ پیاسے ہیں ، آپ نے اپنے مشکیزے میں دیکھا تو پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا ، پھر آپ نے اپنے رفقا ء ِسفر سے پانی طلب کیا ، تمام لوگ پانی کے برتن کی طرف لپکے لیکن اتفاق سے کسی کے پاس پانی موجود نہیں تھا ، تو آپ نے باری باری حضرات حسنین کریمین کو اپنی زبان مبارک چسائی ، جب انہیں سکون ہوا ، تو آپ کو اطمینان ہوا ، حضرت ابوہریرہ نے فرمایا : اسی لیے میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں ،(المعجم الکبیر:2656)‘‘،

(13):’’ایک مرتبہ حضرت امیرمُعاویہ نے حضرت امام حسن کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:یہ آبا و اجداد، چچا و پھوپھی اور ماموں و خالہ کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ معزز ہیں،(اَلْعِقْدُ الْفَرِیْد:ج:5،ص:344)‘‘،

(14):’’حضرت امیر معاویہ سالانہ وظائف کے علاوہ مختلف مواقع پر حضرات حسنین کریمین کی خدمت میں بیش بہا نذرانے پیش کیا کرتے تھے،ایک بار آپ نے پانچ ہزار دینار، ایک بار تین لاکھ درہم اور ایک بار چار لاکھ درہم دیے،(سِیَرُاَعْلَامِ النُّبَلَاء،ج:4،ص:309)‘‘۔ان روایات سے اندازہ ہوتاہے کہ صحابہ کرام گلستانِ نبوت کے گل ہائے مشک بار کے ساتھ کیسی محبت رکھتے تھے اور گلشنِ نبوت کے یہ غنچہ ہائے سدا بہارصحابہ کی کیسی تکریم فرماتے تھے ۔(جاری ہے)

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */