معرکہ - ریحان اصغر سید کی شاہکار کہانی کی آخری قسط

عفرش اپنے دو ہزار جنگجو شیطانوں کے ساتھ وادی کی گھاٹی میں موجود تھا۔ مختلف ہتھیاروں سے لیس تمام سیاہ پوش جنگجو قطاروں میں کھڑے تھے۔ عفرش بھی آج زرہ پہنے، جنگی لباس میں ملبوس تھا۔ اس نے لشکریوں کی قطاروں کے درمیان چلتے ہوئے اپنی فوج کا تفصیلی معاٸنہ کیا۔

”جحیم اور ہاویہ نظر نہیں آ رہے۔۔۔۔؟
اس نے پہلو میں چلتے فوج کے سپہ سالار سے پوچھا۔

وہ غاٸب ہوگئے ہیں جناب۔۔۔۔!
سپہ سالار غردوش اسی سوال سے ڈر رہا تھا۔
کیا مطلب غاٸب ہو گے ہیں۔۔۔؟
عفرش چونک کر رکا۔۔۔اور حیرت سے غردوش کو دیکھا۔

”ان دونوں کے گھر خالی پڑے ہیں۔ انھیں کل رات سے کسی نے نہیں دیکھا۔۔۔میرے سپاہیوں نے انھیں ہر جگہ ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ بظاہر کہیں بھی نہیں ہیں۔"
غردوش نے آنکھیں چراٸی۔۔
بہت خوب۔۔

عفرش نے اپنی الجھی داڑھی کو مٹھی میں جکڑ کر سہلایا۔۔۔وہ کچھ سوچ رہا تھا۔
یہ بہت اہم معاملہ ہے غردوش۔۔۔تمھیں جلد سے جلد تین سوالوں کے جواب ڈھونڈنے ہیں۔
کیا وہ دونوں اکھٹے غاٸب ہوٸے ہیں یا الگ الگ۔۔؟
کیا وہ اپنی مرضی سے گٸے ہیں یا کسی نے انھیں اغوا کر لیا ہے۔
اور تیسرا سب سے اہم سوال۔۔۔وہ اب کہاں ہیں۔۔۔؟
اگر وہ زندہ ہیں تو مجھے ان کے ٹھکانے کی خبر چاہیے فوراً۔۔۔۔۔!

عفرش، غردوش کے سینے پر تھپکی دے کر سپاہیوں کی قطاروں کے سامنے بنے چبوترے پر چڑھ گیا۔ ٹہلنے کے انداز میں چبوترے کی طرف جاتے غردوش کے لبوں پر ایک زہریلی طنزیہ مسکراہٹ تھی۔

چبوترے پر چڑھ کر عفرش نے دوبارہ سارے لشکر کا جاٸزہ لیا۔

میرے قبیلے کے بہادر بیٹو، جری جوانو اور طاقتور کماندارو۔۔۔۔سکرات قبیلہ دلیری، جرات اور جوانمردی کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔ وقت گواہ ہے ہم سفید پوشوں سے مقابلے میں کبھی ڈرے نہیں، کبھی لرزے نہیں، کبھی پیٹھ نہیں پھیری۔۔ہم آج تک کبھی بھی ابلیس اعظم کی اس عظیم سلطنت کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنے سے نہیں ہچکچاٸے۔۔۔نہ ہی مستقبل میں ہچکچاٸیں گے۔۔۔ تو پھر یہ کیسی بدقسمتی ہے میرے جوانو کہ جن کارناموں کے انعام میں ہمیں ہیرے جوہرات سے تول دینا چاہیے تھا، انھی کارناموں کو ہمارے گلے کا طوق بنا کر ہم سے جواب طلبی کی جا رہی ہے۔ آج ابلیس اعظم اپنے اس وفادار غلام کی قیمت پر سفید پوشوں سے امن کی بھیک مانگنا چاہتے ہیں۔۔۔میں ابلیس اعظم سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا انھیں وہ ذلت بھول گٸی ہے جو انھیں آدم کے خلاف اٹھانی پڑے تھی۔۔۔۔؟
کیا وہ اپنا انتقام بھول گٸے جس کا انھوں نے عہد لیا تھا۔۔۔؟

اگر ان کو بھول بھی گیا ہے تو ہمیں یاد ہے۔۔۔ہم اپنا انتقام لے کر رہیں گے۔ ہم سفید پوشوں کے خلاف اپنے آخری جوان تک لڑیں گے۔۔۔اپنی دشمنی نبھانے کے لیے لڑنا اور عزت کی خاطر مرنا ہمارا حق ہے جسے ہم سے کوٸی بھی نہیں چھین سکتا۔۔۔۔ابلیس اعظم آپ بھی نہیں۔۔۔

عفرش کا جوش و خروش بڑھتا جا رہا تھا، اس نے اپنی تقریر سے جنگجو شیطانوں میں آگ لگا دی تھی۔۔۔وہ پرجوش ہو کر نعرے لگا رہے تھے۔۔۔

اینٹی ایرکرافٹ گنز کو چٹانوں میں چھپا دو۔۔۔راکٹ لانچر اور مشین گنز کو ان کی متعین کردہ جگہوں پر فٹ کردو۔۔۔اپنے ہتھیاروں کو اپنے ہاتھوں میں سختی سے تھام لو۔۔۔آج یہ آسمان نظارہ کرلے گا اور یہ زمین دیکھ لی گٸی کہ ہم کس طرح حملہ آور سفید پوشوں کو دھوٸیں کے بادل میں بدل دیں گے۔۔۔آج ابلیس اعظم بھی جان لیں گے۔۔۔کہ ہم کیا کرسکتے ہیں۔۔۔
عفرش نے مختلف کمانداروں کو ان کی ذمہ داریوں تفویض کیں اور غردوش کے ساتھ اپنے محل والے غار کی جانب چل پڑا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منظر ابلیس کے محل کا ہے۔ ابلیس اعظم بہت خوشگوار موڈ میں تخت نشین ہے۔ اس کے تخت کے داٸیں باٸیں کی کرسیوں پر ضندور اور روشنی والوں کا ایلچی زبیر آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔

ضندور نے احتیاط سے خط کھولا۔۔۔اور خط کو بلند آواز میں پڑھنے کے لیے ہونٹ وا کیے پھر بھینچ لیے۔۔اس کے ماتھے پر ناگواری کی لکیر ابھر آٸی تھی۔
پڑھو ضندور۔۔۔۔

ابلیس نے کچھ دیر کے انتظار کے بعد حکم دیا۔
ضندور نے خط پڑھنا شروع کیا۔

شروع اللہ کا نام لیکر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام کاٸنات کا رب ہے۔ رحمان اور رحیم ہے۔ جو روز جزا کا مالک ہے۔ ہم اس کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ ہمارا جینا، مرنا اور مر کر اٹھنا خالص اسی کے لیے ہے۔

یہ خط مجلس کے امیر شمس دین خوارزمی کی طرف سے خدا کے باغی اور پھٹکار زدہ عزازیل کے نام ایک اہم مسٸلے کی جواب طلبی کے لیے ہے۔

ضندور نے رک کر غضب ناک نظروں سے زبیر کو دیکھا جس کا چہرہ پرسکون تھا۔ ابلیس اعظم کی مسکراہٹ ابھی قاٸم تھی۔ اس نے ضندور کو اشارے سے پڑھنا جاری رکھنے کا حکم دیا۔

عزازیل جواب دے کہ اس کی ذریت اور اس کی سلطنت میں آباد سکرات نامی قبیلے نے روشنی والوں کے علاقے میں، ان کی پرامن عبادت گاہ کے اندر، خدا کے ذکر میں مشغول نہتے سفید پوشوں پر کس جرم کے بدلے میں حملہ کیا ہے۔۔۔۔؟

اگر یہ حملہ عزازیل کی منظوری اور آشیرباد سے ہوا ہے تو میں تمھیں متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے جواب کا انتظار کرو۔۔۔اور اگر یہ کارواٸی عزازیل کو بےخبر رکھ کر کی گٸی ہے تو ہمیں جواب دیا جاٸے کہ اب تک سکرات قبیلے کے سرکش سردار عفرش اور اس کے جنگجوٶں کے خلاف کیا کارواٸی کی گٸی ہے۔۔۔۔؟

اور اگر یہ حملہ عزازیل کی منظوری سے نہیں ہوا اور نہ ہی تم اپنے باغی سردار کے خلاف کسی کارواٸی کا ارادہ رکھتے ہو یعنی باغی اور سرکش شیطان سردار تمھارے قابو میں نہیں ہیں۔ تو تمھیں تنبیہ کی جاتی ہے کہ سکرات قبیلے پر کیے جانے والے سفید پوشوں کے حملے میں مداخلت کی کوشش مت کرنا ورنہ یہ جنگ پھیل کر عزازیل کی ذریت کے تمام قباٸل کو اپنی لیپٹ میں لے لی گی۔۔۔اور ہم تمھاری ذریت میں ایک بھی ایسا شیطان زندہ نہیں چھوڑیں گے جو آیندہ روشنی والوں کے خلاف ہتھیار اٹھاسکے۔۔
امیر مجلس
شمس دین خوارزمی

ضندور نے سارا خط پڑھ کر سوالیہ نظروں سے ابلیس کو دیکھا۔۔
آہ حضرت انسان! تم کتنے بدتمیز اور جھگڑالو ہو۔۔۔افسوس خداوند نے تم جیسی کمتر اور کم ظرف مخلوق کو مجھ پر ترجیح دی۔۔

ابلیس اعظم بڑبڑایا۔۔۔لیکن اس کی آواز اتنی بلند ضرور تھی کہ زبیر سن سکے۔ کچھ دیر افسوس میں سر ہلانے کے بعد وہ باقاعدہ زبیر کی طرف متوجہ ہوا۔

اپنے امیر کو بتا دو کہ عفرش نے یہ حملہ ہمیں لاعلم رکھ کر اپنی ذاتی حثیت میں کیا ہے۔۔۔جیسے ہی مجھے اس سانحے کی اطلاع ملی میں نے عفرش کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔۔عفرش اور اقرا پر حملہ کرنے والے مجرموں کو زنجیروں میں جکڑ کے تمھارے حوالے کر دیا جاٸے گا۔۔۔باقی تم لوگ جانو اور تمھارے مجرم جانیں۔۔۔میں اسے معاملے کو مزید ہوا نہیں دینا چاہتا۔۔۔

اور اپنے امیر کو بتانا کے جس ان دیکھے خدا کو وہ دن رات سجدے کرتا ہے میں نے اس کی خدمت میں لامحدود وقت گزارا ہے۔۔۔پچھلے ہزاروں سالوں میں اس جیسے میں نے درجنوں امیر بھگتاٸے ہیں۔۔تم فانی انسان چند سال کی عمر لے کر آتے ہو اور پھر رزق خاک بن جاتے ہو۔۔میری بادشاہی ہزاروں سالوں سے قاٸم ہے اور ہمیشہ ہمیشہ رہے گی۔ حفظ مراتب اور بڑوں کا احترام کرنا سیکھو۔

ابلیس نے ناگواری سے کہا۔

”عمر زیادہ ہونے سے کوٸی بڑا نہیں بن جاتا۔۔۔نہ ہی ہم اس جھوٹی شان شوکت اور سامان آراٸش سے مرعوب ہونے والے ہیں۔۔ہمارے نزدیک عزت والا وہی ہے جو ہمارے رب کے ہاں عزت والا ہے۔

زبیر نے بے نیازی سے کہا۔ ابلیس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔

”اقرا“ پر حملے کے مجرم تمھارے سپرد کر دیے جاٸیں گے۔۔۔میرے نزدیک یہ معاملہ یہی ختم ہو رہا ہے۔ اب تم جا سکتے ہو۔
”اقرا“ پر حملہ کے مجرموں کے بدلے اگر آپ سکرات پر روشنی والوں کے حملے نہ کرنے کی یقین دہانی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ایسا ناممکن ہے جناب۔۔۔۔ہمارا نقصان بہت بڑا ہے۔۔۔ہم نے سینکڑوں سفید پوش کھو دیے ہیں۔ اقرا جیسی قیمتی اور خوبصورت عمارت پامال کی گٸی ہے۔۔۔عفرش جیسے چند غلیظ شیاطین کی گردنیں ان سب کا ہرجانہ کیسے ادا کر سکتے ہیں۔۔۔؟

زبیر نے کرسی سے اٹھ کر ابلیس کے سامنے تن کر کھڑے ہوتے ہوٸے کہا۔
پھر تم کیا چاہتے ہو بچے۔۔؟

کچھ زیادہ نہیں۔۔۔سکرات قبیلے کے ہر جنگجو کا سر اور اس بات کی ضمانت کہ آیندہ تمھاری ذریت کی طرف سے ایسی شرارت نہیں کی جاٸے گی۔۔۔۔اور ہاں، اقرا کی پہلے والی حالت میں تعمیر اور آراٸش بھی تمھارے ذمے ہو گی۔

زبیر کی جرات اور اعتماد قابل دید تھا۔ ابلیس بے اختیار اپنے تخت سے کھڑا ہو گیا۔۔
اچھا تمھیں ضمانت بھی چاہیے۔۔۔تو کیا ہو گی وہ ضمانت۔۔۔؟

زیادہ نہیں۔۔۔تمھارے خاندان کے چند لوگ بطور ضمانت ہمیشہ ہمارے مہمان رہا کریں گے۔۔۔

زبیر نے ضندور کو دیکھا۔۔وہ جانتا تھا کہ وہ ابلیس کی ہزاروں اولادوں میں سے آخری بیٹا ہے۔۔۔جو ابلیس کی کچھ عشرے پہلے کی گٸی آخری شادی کے بعد پیدا ہوا تھا۔

تمھاری شراٸط اشتعال انگیز اور توہین آمیز ہیں۔۔لیکن میں صرف اس لیے برداشت کر رہا ہوں کہ تم لوگ ابھی غصے میں ہو اور غلطی ہماری جانب سے ہوٸی ہے۔۔۔جاٶ اپنے امیر کو بتاٶ کہ ہم اقرا پر حملے کے تمام مجرم حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔۔۔اس سے زیادہ کی ہم سے توقع نہ رکھی جاٸے۔

ابلیس نے زبیر کو دھتکارنے والے انداز میں کہا۔

میرے امیر نے مجھے مکمل بااختیار بنا کر بھیجا ہے۔۔۔میری بات کو امیر کی بات ہی سمجھا جاٸے۔۔۔اگر تمھیں میری شراٸط زیادہ لگ رہیں ہیں تو ہمارے اور سکرات کے بیچ میں آنے کی غلطی نہ کرنا ورنہ نتاٸج کی ذمہ دار تم پر ہو گی۔۔۔

زبیر کے چہرہ پر بھی آگ جلتی نظر آنے لگی تھی۔ بات ختم کر کے وہ کچھ دیر ابلیس کی بے رحم سفاک آنکھوں میں دیکھتا رہا۔۔پھر مڑ کر پیروں سے فرش کو کوٹتا ہوا دربار سے باہر نکل گیا۔۔۔جہاں ابلیس کا ایلچی دونوں بڑے پرندوں کے ساتھ اس کا منتظر تھا۔

دربار کے اندر ابلیس مٹھیاں اور ہونٹ بھینچے اسے جاتے ہوٸے گھور رہا تھا۔۔ بلاشبہ زبیر نے اس کی ساری منصوبہ بندی چوپٹ کر دی تھی۔۔
ضندور۔۔۔۔۔؟

ابلیس پھنکارا۔۔۔
جی میرے آقا۔۔۔؟

ضندور ادب سے رکوع کے بل جھک گیا۔

زبیر کا پیچھا کرو۔۔۔مجھے مجلس شوری کے ٹھکانے کا پتہ چاہیے۔۔
ضندور کو بات سمجھنے میں کچھ دیر لگی۔۔۔اس نے چونک کر ابلیس کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر اس کی شیطانی مسکراہٹ لوٹ آٸی تھی۔۔

ایک عمارت میں چالیس لوگ ہوں اور وہ عمارت زمین بوس ہو جاٸے۔۔۔تو سوچو کتنے ہزار سفید پوش یتیم ہو جاٸیں گے۔۔۔پھر ان لاوارث کفن پوشوں کا شکار کرنا کتنا آسان ہو گا۔۔؟
میرے آقا۔۔۔آپ عظیم ہیں۔۔!

ضندور نے ابلیس کا ہاتھ چوما۔۔۔

ان کا ٹھکانہ معلوم ہو جاٸے ۔۔۔کارواٸی ہم آنے والے سالوں میں جب مناسب وقت آٸے گا تب کریں گے۔۔
ابلیس نے اگلا حکم سنایا۔۔

کچھ دیر بعد جب آسمان کی تاریکی میں دو وشال پرندے اڑ رہے تھے۔۔۔تو ضندور اپنے گدھ پر بیٹھ کر ان کے پیچھے نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفرش کی غار کے محل میں زیر زمین تہہ خانے بھی تھے۔ جن میں بیشتر قید خانے کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔ دلدلی زمین اور کیچڑ میں ڈوبے یہ تہہ خانے قیدیوں کے لیے ایک بھیانک خواب کی طرح تھے۔ ان میں قید کیے جانے والوں کے جسم عموماً چند سالوں میں گھل سڑ کے ختم ہو جاتے تھے۔

وہ یہاں پچھلے سو سال سے قید تھا۔ اس کا چہرہ، سر اور داڑھی کے جھاڑیوں جیسے بالوں میں چھپ سا گیا تھا۔
اس کی آنکھیں تاریکی کی عادی ہو چکی تھیں۔ اسکے جسم نے نم مٹی کو قبول کر لیا تھا۔ وہ کب کا مایوس ہو کر مر گیا ہوتا اگر کبھی کبھی قید خانے میں آنے والا ایک دروغہ اس کے کان میں پھونکیں نہ مار رہا ہوتا۔۔۔وہ سالوں سے ایک ہی سرگوشی اسکے کان میں انڈیل رہا تھا۔

نفرش۔۔۔۔مایوس مت ہونا۔۔۔ہمت نہ کھو دینا۔۔۔تخت تمھارا ہے۔۔۔سکرات قبیلے کا مستقبل تم سے وابستہ ہے۔۔۔عفرش کو اسکے ظلم کا حساب دینا ہو گا۔۔۔وہ وقت دور نہیں جب وہ تمھاری جگہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا اس جگہ قید ہو گا۔۔۔
یہ پراسرا آواز ہر وقت نفرش کے کانوں میں گونجتی رہتی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اجنبی کون ہے۔ اس کے مقاصد اور ارادے کیا ہیں۔۔۔لیکن اس کے لیے یہ آواز اس کے زندہ رہنے کی وجہ ضرور بن گٸی تھی۔

آج وہی داروغہ اپنے ساتھ کچھ سپاہیوں کے ساتھ آیا تھا۔۔اس کے ساتھ قبیلے کے لشکر کا سپہ سالار غردوش بھی تھا۔ انھوں نے اس کے ہاتھ پیر کھولے اور اسے سرداری کا لباس پہنایا۔۔

میں آپ کی بیعت کرتا ہوں آقا نفرش۔۔۔تخت شاہی کے اصل حقدار آپ ہی ہیں۔۔آٸیے تخت آپ کا منتظر ہے۔

غردوش نے گھٹنوں کے بل جھک کر اس کا ہاتھ چوما۔۔۔نفرش کو یہ سب خواب کی طرح لگ رہا تھا۔ وہ اپنے باپ کا بڑا بیٹا تھا۔ قبیلے کی روایات کے مطابق اسے ہی سردار بننا تھا لیکن مکار عفرش نے اس سے پہلے ہی اسے قید کر کے زنداں میں پھینک دیا اور زبردستی سرداروں سے اپنی بیعت لے لی تھی۔۔۔بدقسمتی سے ابلیس اعظم نے بھی سکرات قبیلے کے سردار کے طور پر اسکی تاج پوشی کو قبول کر لیا تھا۔

سپہ سالار غردوش کے بعد اس کے ساتھ موجود کچھ دیگر سرداروں نے بھی نفرش کے ہاتھ پر بیعت کی۔
تخت شاہی پر بیٹھنے کے بعد نفرش نے پہلا حکم عفرش اور اسکے بیوی بچوں کی گرفتاری کا دیا۔

یہ آسان معاملہ نہیں تھا لیکن خوش قسمتی سے عفرش کے خاص وفادار کماندار جحیم اور ہاویہ پراسرار طور پر غاٸب ہو چکے تھے۔۔اس لیے کچھ خاص مزاحمت نہیں ہوٸی۔

عفرش کو زنجیروں میں جکڑ کر نفرش کے سامنے پیش کیا گیا۔ عفرش جال میں پھنسے ہوٸے کسی جنگی جانور کی طرح چنگاڑ رہا تھا وہ نفرش اور ابلیس اعظم کو گالیاں دے رہا تھا۔۔جس کی وجہ سے سرداروں میں اسکی رہی سہی حمایت بھی ختم ہو گٸی۔

زنداں میں پھینک دو اس بدبخت کو جو استاد اعظم کو گالیاں دیتا ہے۔۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ اقرا پر حملہ کرنے والے تمام جنگجوٶں کو بھی قید کر دو۔۔۔ان بدبختوں نے پورے قبیلے کی سلامتی خطرے میں ڈال دی ہے۔

نفرش نے بڑے رعب سے حکم دیا۔ سپہ سالار نے اس کا سسٹم اپڈیٹ کر دیا تھا اور بتا دیا تھا کہ یہ کایا پلٹ استاد اعظم کے اشارے پر ہوٸی ہے۔۔۔

چونکہ اب استاد اعظم کو عفرش کی حوالگی کی ضرورت نہیں رہی تھی اس لیے اب وہ سارے معاملے سے لاتعلق ہو گیا تھا اس نے سکرات قبیلے کے معاملات کو نفرش اور روشنی والوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ایک بڑے پہاڑ کی اوٹ میں چپٹل سیاہ میدان تھا۔ اس عظیم الشان پہاڑ کے دوسری طرف سکرات قبیلے کی سرحد شروع ہوتی تھی۔ پہاڑ کے دامن میں سیاہ پوشوں کے لبادوں میں ملبوس ایک ہزار درویش صفوں میں کھڑے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں شیطانوں کو دور سے جلا کر بھسم کر دینے والی راٸفلز، راکٹ لانچر اور آتشی کٹر تھے۔ آگ کی گھومتی ڈسک والے یہ کٹر، شیاطین کی گردنیں کاٹنے کے کام آتے تھے۔

درویشوں کے نٸے سربراہ عبداللہ مشہدی اور سلطان کبیر درویشوں کی صفوں کے سامنے کھڑے تھے۔ وہ ابلیس کی فوج کے کمانداروں کی یونیفارمز میں ملبوس تھے۔

ایلچی زبیر جیسے ہی ابلیس کے دربار سے لوٹا۔۔ مجلس کے امیر نے سپہ سالار کو سکرات پر حملے کا حکم دے دیا تھا۔ روشنی والوں کا مقصد سکرات قبیلے کو ابلیس کی مداخلت، حمایت اور فوجی مدد سے محروم کرنا تھا۔ ایلچی زبیر نے یہ کام بخوبی انجام دے دیا تھا۔ تنہا سکرات قبیلے کے لشکر میں اتنا دم خم نہیں تھا کہ وہ روشنی والوں کی طاقت کا مقابلہ کر سکتا۔ پہاڑ کو پار کرنے سے پہلے سپہ سالار مشہدی نے اپنے لشکر کو آخری ہدایات دیں۔

سکرات قبیلے کے کسی ایک بھی جنگجو کو زندہ نہیں چھوڑا جاٸے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک بھی نہتے شیطان کو مارنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ہماری کارواٸی طوفانی اور برق رفتار ہو گی۔۔ہم صبح صادق سے پہلے اپنی سرحدوں میں لوٹ جاٸیں گے۔ ہمیں واپسی پر قبیلے کے کم سے کم سو ہٹے کٹے جن اور شیطانوں کو قید کر کے ساتھ لانا ہو گا تا کہ انھیں بیٹریوں میں جکڑ کر ان سے اقرا کی تنظیم نو کرواٸی جا سکے۔

باتیں بہت ہو چکیں۔ اب چلو اور دشمن کو اس کی شرارت کا سبق سیکھاٶ۔۔۔آگے بڑھو۔۔۔اللہ اکبر

سکرات قبیلے کے نٸے سردار پر ”سر منڈواتے ہی اولے پڑے“ والا محاورہ منطبق ہوتا تھا۔ ابھی اس نے بمشکل عفرش اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے تخت پر قبضہ مستحکم کیا تھا کہ حلف اٹھانے کے فوراً بعد اس کے لشکر کے سپہ سالار نے اسے یہ بری خبر سناٸی کہ ”روشنی والوں کا حملہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔۔۔وہ پوری قوت اور دستیاب صلاحیت کے ساتھ حملہ کریں گے۔۔۔!

ہماری پوزیشن کیا ہے؟
سردار نفرش نے پوچھا۔

بظاہر کچھ زیادہ اچھی نہیں۔ معزول سردار عفرش اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری اور قتل و غارت کے بعد ہماری نفری اور لڑنے والے جنگجوٶں میں ایک تہاٸی کی کمی آٸی ہے۔ ہمارے کچھ لوگ زخمی بھی ہیں۔ بغاوت کے لیے یہ وقت مناسب نہیں تھا، لیکن ابلیس اعظم کے حکم کے تعمیل ہم پر واجب تھی۔

سپہ سالار نے بغیر کوٸی لگی لپٹی رکھے نفرش کو صورتحال سے آگاہ کیا۔
استاد اعظم کیا چاہتے ہیں۔۔؟

وہ چاہتے تھے کہ عفرش اور اقرا پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار کر کے روشنی والوں کے حوالے کر کے تصفیہ کرلیا جاٸے، لیکن عفرش کی سرکشی نے اس میں تاخیر کردی۔۔۔میری معلومات کے مطابق اب سفید پوشوں نے بھی اس پیشکش کو مسترد کردیا ہے۔ وہ خود اپنے لوگوں کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔

نفرش نے پریشانی سے بال نوچے۔۔طویل قید نے اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور قوت فیصلہ کو نقصان پہنچایا تھا۔
تو کیا ابلیس اعظم نے اس مشکل گھڑی میں ہمیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔؟

نفرش نے پوچھا۔۔۔

نہیں بلکل نہیں۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔

دروازے کے پاس سے کوٸی چہکتا ہوا اندر داخل ہوا۔ وہ سپہ سالار کا ناٸب بلاشی تھا۔
استاد اعظم نے اپنی شاہی فوج میں سے ایک ہزار کا لشکر ہماری حفاظت کے لیے بھیجا ہے۔

بلاشی نے خوشی سے چمکتے ہوٸے چہرے کے ساتھ خوشخبری سناٸی اس کے پیچھے شاہی فوج کے دو بوڑھے کماندار تھے جن کے ساتھ انکا ذاتی محافظوں کا دستہ بھی تھا۔

ہم شاہی فوج کو سکرات قبیلے میں خوش آمدید کہتے ہیں۔

نمرش نے کھڑے ہوتے ہوٸے استقبال کیا۔۔ دونوں کمانداروں نے اپنے سیاہ چوغوں کی ٹوپیاں چہروں پر گرا رکھی تھیں جنھوں نے انکے چہروں کو ادھے سے زیادہ ڈھانپ رکھا تھا۔

سردار کو چھوڑ کر دربار میں موجود ہر شخص کا گلا کاٹ دو۔۔

سپہ سالار مشہدی نے جو ابلیس کی فوج کے کماندار کے روپ میں تھا اپنے ناٸب کے کان میں سرگوشی کی۔اگلے ہی لمحے حفاظتی دستے میں موجود درویش سکرات کے لشکر کے سپہ سالار،ناٸب سپہ سالار اور نصف درجن سرداروں پر عقاب کی طرح جھپٹے اور آتشی آریوں سے انکی گردنیں کاٹ دیں۔۔۔یر طرف خون اور چیخیں پھیل گٸی تھیں۔۔سردار نمرش پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ مشہدی کے اشارے پر درویشوں نے اسے بیڑیاں اور زنجیریں ڈال کر جکڑ لیا۔

حمد ہے اس خدا کی جو تاریکی کو روشنی، ظلمت کو نور اور بدی کو نیکی سے بدل دیتا ہے۔۔روشنی والوں کی عدالت میں ہم تمھیں خوش آمدید کہتے ہیں سردار عفرش۔۔۔یہاں تمھیں اپنی صفاٸی کا پورا موقع ملے گا۔۔۔
سپہ سالار نے اپنا ہڈ چہرے سے ہٹا کر پیچھے گردن پر گراتے ہوٸے کہا۔

میرا نام سردار نمرش ہے۔۔۔عفرش میرے بھاٸی کا نام ہے جس نے میرے تخت پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا تھا۔ میں نے آج ہی اپنی سرداری واپس لی ہے۔۔۔میں عفرش کے اعمال کا جواب دہ نہیں ہوں۔۔۔اگر تم اتنے ہی انصاف کے پرچارک ہو تو انصاف سے کام لو۔۔

نمرش نے اعتماد سے جواب دیا۔ وہ اپنے بھاٸی کے مقابلے میں معقول اور سمجھدار شیطان دکھاٸی دیتا تھا۔
ماشإاللہ۔۔۔۔
سلطان نے مسکرا کر مشہدی کو دیکھا۔

تو پھر ہمارا مجرم عفرش کہاں ہے؟
اس کو اور اس کے اقرا پر حملہ کرنے والے ساتھیوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر زنداں میں قید کر دیا گیا۔۔وہ تمھاری امانت ہیں۔ تم اپنے مجرموں سے جو چاہو معاملہ کر سکتے ہو لیکن براٸے مہربانی یہ قتل و غارت بند کرو تمھارے درویش میرے سارے لشکر کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔

ہم تمھارے لشکر کے مکمل خاتمے کا مقصد لیکر ہی یہاں آٸے ہیں تا کہ آیندہ کوٸی ابلیسی قبیلہ روشنی والوں پر حملے کی جرات نہ کر سکے۔۔۔لیکن اگر تم تعاون کرنے کا وعدہ کرو تو تمھاری جان بخشی جا سکتی ہے۔۔۔
جابرررر۔۔۔۔!

سپہ سالار نے اپنے ناٸب کو پکارا۔۔۔
حکم جناب۔۔۔

نفرش کی راہنماٸی میں زنداں میں جاٶ۔۔۔اور عفرش اور باقی مجرموں کو ہمارے سامنے پیش کرو۔

دربار کے باہر وادی اور گھاٹیوں میں درویش سیاہ پوشوں کا بےدری سے شکار کر رہے تھے۔ ہر طرف سکرات قبیلے کے سیاہ پوشوں کی لاشیں اور زخمی بکھرے ہوٸے تھے۔ سیاہ پوش جنگجو ابھی تک صورتحال کو مکمل طور سمجھ ہی نہیں پا رہے تھے۔۔وہ سمجھ رہے تھے کہ عفرش کی بغاوت کی سزا کے طور پر ابلیس کی شاہی فوج نے ان پر حملہ کر دیا ہے۔۔اس لیے وہ جوابی حملے کی بجاٸے بھاگنے کو ترجیح دے رہے تھے۔۔اور اس کوشش میں مولی گاجر کی طرح کٹ رہے تھے۔

بڑے معرکے سے کچھ پہلے تخت کی اکھاڑ پچھاڑ، خانہ جنگی اور سردار کی گرفتاری نے ان کا مورال پہلے ہی بہت ڈاون کر دیا تھا۔ اب اچانک پڑنے والی اس افتاد نے ان کے حوصلے بلکل ہی توڑ دیے تھے ورنہ ان جیسی سخت جان لڑاکا فوج پر قابو پانا شاید اتنا آسان ثابت نہ ہوتا۔۔۔اگلے دو گھنٹوں میں سفید پوشوں نے سکرات قبیلے کے تقریباً پورے لشکر کا صفایا کردیا تھا۔ ہر طرف لاشیں اور خون بکھرا ہوا تھا۔ کچھ سیاہ پوش جنگجو چھپنے اور فرار ہونے میں کامیاب ہوگٸے تھے۔۔لیکن ان کی تعداد بہت کم تھی۔ سلطان کے درویشوں کا امیر عبداللہ اپنی جماعت کے ساتھ بھگوڑا سپاہیوں کا پیچھا کر رہا تھا۔

دربار کے اندر روشنی والوں کی عدالت قاٸم ہو چکی تھی۔ عفرش اور باقی مجرم زنجیروں میں بندھے، تخت پر بیٹھے سلطان اور سپہ سالار مشہدی کے سامنے کھڑے تھے۔

عفرش کی آنکھیں اور چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا۔

تمھاری بغاوت کی وجہ سے آج قبیلے کو یہ دن دیکھنا پڑا ہے۔۔۔ورنہ ان بزدلوں کی اتنی جرات نہیں تھی کہ ہمارے قبیلے کو تاراج کر، میرے تخت پر بیٹھ جاتے۔

وہ اپنے بھاٸی پر دھاڑا۔

بکواس بند کرو رزیل۔۔۔تمھارے غصے اور نفرت کی قیمت سارے قبیلے کو اپنے خون سے چکانی پڑی ہے۔۔۔اب ہم اگلے ہزار سال تک بھی اپنا لشکر بنانے اور کسی مہم جوٸی کے قابل نہیں رہے۔۔۔استاد اعظم کے باقی قباٸل پہلے ہی ہمیں اچھوت سمجھتے تھے اب وہ ہم پر بھوکے بھیڑیوں کی طرح ٹوٹ پڑیں گے۔۔۔ہماری عورتیں اور بچے ان کے غلام ہوں گے۔۔۔اور یہ سب تمھاری حماقت کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔صرف تمھاری حماقت کی وجہ سے۔

جواباً نفرش بھی چلایا۔

سلطان کے اشارے پر اس کے پیچھے کھڑے جلاد نے عفرش کی پشت پر آگ کا کوڑا برسایا جس نے اس کی پشت کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔۔وہ تھوڑی دیر میں ہی کراہنے لگا۔۔

اب معزز امیروں کے سامنے اونچی آواز میں بھی بات کی تو بغیر مقدمے کے ہی جان سے مار دوں گا۔

داروغہ نے اس کی گردن کے گرد آتشی کوڑا لیپٹ کر کھینچا۔۔جس سے عفرش کی سانس بند ہو گٸی تھی اور وہ تڑپنے لگا تھا۔ مشہدی کے اشارے پر وہ عفرش کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ گیا۔

مشہدی نے عفرش اور باقی مجرموں پر حملے کی فرد جرم پڑھ کر سناٸی۔۔۔عفرش نے بڑے غرور سے اقرار جرم کیا اور زندہ بچ جانے کی صورت میں مستقبل میں بھی ایسی کارواٸیاں جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔۔اس کی سرکشی میں معمولی کمی بھی نہیں آٸی تھی۔۔۔عفرش کی پشت پر کھڑا دروغہ اس بات سے بے خبر تھا کہ عفرش نے اپنے ہاتھ زنگ آلودہ زنجیر سے آزاد کروا لیے ہیں۔ وہ بس زنجیر کو تھامے ہوے کھڑا تھا۔ عفرش کی نظر پہلو میں کھڑے درویش کی آتشی زہر آلودہ تلوار پر تھی۔ سلطان کے باطنی جسم کو کاٹنے کے لیے یہ کافی تھی۔۔عفرش مرنے سے پہلے اپنے جانی دشمن کو بھی مار دینا چاہتا تھا۔ وہ غیر محسوس انداز میں سرکتا ہوا اس پوزیشن پر آیا کہ اس کے لیے درویش پر حملہ کر کے اس سے تلوار چھیننا آسان ہو جاٸے۔۔۔
مشہدی کے حکم پر مجرموں کو جلانے کے لیے ایک بہت بڑی کڑاہی میں تیل ڈال کر اسے آگ پر ابلنے کے لیے رکھ دیا گیا تھا۔

ہم قبیلے کے تمام عورتوں،بچوں، بوڑھوں اور نہتے جوانوں کو زندہ چھوڑ جاٸیں گے۔۔۔لیکن اس کے لیے ہماری چند شراٸط ہیں۔
مشہدی نے نمرش سے کہا۔ نمرش اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ کر رہ گیا۔

پہلی شرط یہ ہے کہ اقرا کی تعمیر نو کے لیے تم اپنے اہل ہنر اور محنتی شیاطین ہمیں دو گے جو بلامعاوضہ یہ خدمات انجام دیں گے۔۔

اقرا سے لوٹی گٸی ہر قیمتی چیز واپس کرنی ہو گی۔۔

اور تمھیں یہ حلف دینا ہو گا کہ آٸیندہ سے تم یا تمھارے قبیلے کا کوٸی شیطان روشنی والوں پر حملہ نہیں کرے گا۔
مشہدی نے اپنی شراٸط بتاٸی۔
مجھے تمام شراٸط قبول ہیں۔
نفرش نے متانت سے کہا۔
اسکے ہاتھ پیر کھول دو۔
مشہدی نے اس کے پیچھے کھڑے درویش سے کہا۔

دیکھو نمرش۔۔۔تمھارا ابلیس اعظم جانتا تھا کہ تم پر حملہ ہونے والا ہے لیکن اس نے نہ تمھیں اطلاع دی اور نہ ہی تمھاری حفاظت کے لیے لشکر روانہ کیا۔۔۔میں چاہتا ہوں کہ تم اپنے قبیلے کا مستقبل طے کرتے ہوٸے اس بات کو یاد رکھو۔

سپہ سالار مشہدی نے نفرش کو اپنے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوٸے کہا۔ دربار میں موجود تمام مخلوقات کی توجہ اس وقت نفرش اور مشہدی پر تھی۔ اس سے پہلے کہ نفرش کرسی پر بیٹھتا یا کوٸی جواب دیتا۔۔۔عفرش نے پہلو میں کھڑے درویش کے ہاتھ سے آتشی زہر آلودہ تلوار کھینچی اور بھاگ کر تخت پر بیٹھے سلطان کے سینے میں گھونپ دی۔۔۔ایک لمحے کے لیے ماحول پر سکتہ طاری ہو گیا جس میں صرف عفرش کے فاتحانہ قہقے گونج رہے تھے۔۔سب سے پہلا ردعمل اس کے بھاٸی نفرش کی طرف سے آیا جس نے سلطان کے سینے سے تلوار کھینچ کر عفرش کی گردن اڑا دی۔۔۔

اچانک سے ہر طرف افراتفری مچ گٸی تھی۔ درویشوں نے نفرش کو دوبارہ جکڑ لیا تھا۔ عفرش مر چکا تھا۔۔جبکہ سلطان اپنی آخری سانسیں لے رہے تھے۔۔۔ کلمہ طیبہ کا ورد کرنے سے پہلے وہ کچھ بڑبڑاٸے۔۔ان کو گود میں لیے بیٹھے مشہدی نے اپنا کان ان کے منہ کے ساتھ لگا دیا۔

میرے علم کا وارث علی اکبر ہے۔۔۔امیر مجلس سے درخواست کرنا اگر وہ اسے قابل پاٸیں تو اسے وقت آنے پر شوری میں شامل کر لیں۔

انھوں نے بمشکل اپنی بات مکمل کر کے کلمہ پڑھا۔ مشہدی نے نرمی سے ان کی کھلی آنکھیں بند کیں اور انھوں احتیاط سے تخت پر لٹا دیا۔

سلطان شہید ہو گٸے ہیں۔۔تمام مجرموں کو ابلتے تیل میں ڈال دو۔۔۔اور سردار نمرش کو چھوڑ دو۔۔۔مجھے امید ہے یہ اپنے وعدوں کی پاسداری کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برساتی نالے کے قریب ایک چھوٹے سے قدرتی جنگل کے کنارے پر بنا ہوا یہ اینٹوں کا مقبرہ سلطان نے اپنی آخری آرام گاہ کے طور پر بنوایا تھا۔انھیں جب فرصت ملتی وہ کٸی کٸی دن یہاں عبادت میں مشغول رہتے۔۔
سکرات قبیلے کی سرکوبی کے لیے جانے سے پہلے انھوں نے علی اکبر کو یہاں طلب کیا۔

”میں روشنی والوں کے ساتھ ایک ضروری مہم پر جا رہا ہوں بیٹا۔۔۔یہ باطنی دنیا کا سفر ہےاس لیے میرا جسم اس میں حصہ لینے سے قاصر ہے۔۔
انھوں نے علی کو بتایا۔۔

اگر میں اس مہم میں شہید ہو جاٶں تو غسل کے بعد میرے جسدِ خاکی کو مقبرے کے کونے میں پہلے سے کھودی ہوٸی قبر میں دفن کر دینا۔۔

اور جنازے کا اعلان مت کرنا۔۔۔اللہ نے چاہا تو جس نے شرکت کرنی ہوٸی وہ خود ہی شامل ہو جاٸیں گے۔
علی اپنے مرشد کی بات سن کر پریشان ہوا۔ اسنے نظر اٹھا کر انھیں دیکھا۔
اللہ تعالی آپ کا سایہ ہمارے سر پر سلامت رکھیں۔۔۔خیر سے جاٸیں خیر سے لوٹیں۔

علی نے ان کے ہاتھ کی پشت پر بوسہ دیا۔ پھر وہ چلے گٸے۔۔۔ ان کا روح سے خالی جسم ایک تختے پر پڑا تھا۔ سینے کی جنبش زندگی کا پتہ دے رہی تھی۔ علی دیوار سے ٹیک لگاٸے قرآن پڑھ رہا تھا۔ اچانک اسے سلطان کی ہچکی کی آواز سناٸی دی۔

علی نے قرآن طاق پر رکھا اور لپک کر سلطان کے جسم کے پاس پہنچا جو کانپ رہا تھا۔ ہونٹ اور پلکیں لرز رہی تھیں۔۔علی نے بلند آواز میں کلمہ طیبہ کا ورد شروع کر دیا۔۔سلطان پر یہ کفیت کچھ لمحے طاری رہی پھر ان کا جسم ساکت اور چہرہ پرسکون ہو گیا۔ علی نے نبض اور دل کی دھڑکن چیک کی۔۔۔آنکھیں بند کرنے پر اسے ڈاکٹر حسنین نظر آیا جس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے دل گرفتہ انداز میں انکار میں سر ہلایا۔ علی کا دل غم سے بھر گیا اور آنکھوں سے بے آواز آنسو جاری ہو گٸے۔ کچھ دیر بعد جب جذبات کا طوفان تھما تو علی نے اپنے مرشد کے جسد خاکی کو غسل دیا اور ان کا پہلے سے تیار کفن انھیں پہنایا۔۔اسی لمحے سفید کپڑوں میں ملبوس انتالیس لوگ عمارت میں داخل ہوتے نظر آٸے سفید داڑھیوں والے وہ تمام بزرگ مختلف خطوں کے ہونے کے باوجود اسے ایک جیسے لگ رہے تھے۔ علی انھیں تعجب سے دیکھ رہا تھا۔

لوگ بہت زیادہ ہیں اندر جنازہ ممکن نہیں۔۔شہید کے جسد خاکی کو باہر لے جاتے ہیں۔

ایک بارعب شخص نے اردگرد کا جاٸزہ لیتے ہوٸے کہا۔ جب علی، ان اجنبی لوگوں کے ساتھ سلطان کے جسد خاکی والی چارپاٸی کو مقبرے کے باہر کھلے میں لے کر آیا تو اسے اجنبی بزرگ کی بات سمجھ آٸی۔ باہر سفید پوشوں کا ایک سمندر تھا جس نے جنگل، برساتی نالے سمیت ہر جگہ کو پورا بھر دیا تھا۔ تاحد نگاہ ہر جگہ وہی نظر آ رہے تھے۔ اسی بارعب بزرگ نے ترتیب سے بناٸی گٸی صفوں کے آگے کھڑے ہو کر نمازِ جنازہ پڑھاٸی۔ نماز کے بعد قطاروں میں سفید پوشوں نے سلطان کے چہرے کی آخری زیارت کی اور تیزی سے منتشر ہونے لگے۔۔۔آخر میں پہلے والے صرف چند لوگ رہ گٸے۔۔۔جنھوں نے مقبرے کے اندر سلطان کی تدفین مکمل کی۔

میرا نام شمس دین خوارزمی ہے۔
بارعب امیر نے اپنا تعارف کروایا۔

ہر ذی نفس نے موت کا ذاٸقہ چکھنا ہے۔ موت سے بھی زیادہ خوفناک چیز یہ ہے کہ انسان کا جب قضا کا وقت آ پہنچے اور وہ تہی دامن ہو۔۔۔اپنے اعمال سے شرمندہ اور رب سے ملاقات کرنے سے خوفزدہ۔۔۔
الحمدوللہ سلطان شہید نے اہل خیر کے ساتھ خیر والی زندگی گزاری ہے۔۔مجھے امید ہے إن شاءاللہ ہمارا رحمان اور رحیم رب ان سے خیر والا معاملہ فرماٸے گا۔۔۔
إن شاءالله۔
علی نے دہرایا۔

تم خوش قسمت ہو علی جو تمھیں جوانی میں سلطان جیسا راہنما اور مرشد کامل مل گیا تھا۔ مجھے امید ہے تم ان کے بعد بھی یوں ہی نیکی کے راستے پر چلتے ہوٸے اللہ کے دین اور اسکی مخلوق کی خدمت کرتے رہو گے۔۔۔اگر ایسا ہوا تو پھر ہم کبھی نہ کبھی دوبارہ ملاقات کریں گے۔۔

امیر الوداعی انداز میں مسکراٸے۔
إن شاءالله۔۔
علی نے سینے پر ہاتھ رکھ آنکھیں بند کر کے کہا۔ جب اس نے آنکھیں کھولی تو سارے سفید پوش بزرگ جا چکے تھے اور علی ایک قبر کے سرہانے کھڑا تھا جو تازہ گلاب کے پھولوں سے ڈھکی ہوٸی تھی۔۔

ختم شد

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */