اور آئینہ ٹوٹ گیا ( قسط ۱) سماویہ وحید

شام کی اداس ہوائیں ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی. عائشہ لاؤن میں بیٹھی.....ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے.....ھچائے کی چسکی لے رہی تھی. یکایک کسی نے عائشہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا.....عائشہ نے مڑ کر دیکھا تو جمیل کا مسکراتا چہرہ اس کی آنکھوں میں جذب ہوگیا. عائشہ خوشی کے آنسو بہاتے ہوئے جمیل کے گلے لگ گئی اور کہنے لگی جمیل میں نے آپ کا بہت انتظار کیا. مجھے یقین تھا آپ واپس ضرور آئیں گئے.

عائشہ جمیل کو دیکھ کر خوشی سے پاگل ہو رہی تھی. جمیل آئیے بیٹھیں میں آپ کے لیے بھی چائے کا کپ لے کر آتی ہوں. (عائشہ نمی میں ڈوبی آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے بولی)دور سے آتی نورِ سحر ماں کی عجیب و غریب حرکات دیکھ کر حیران ہوگئی. عائشہ جو اپنے آپ سے باتیں کرنے میں مشغول تھی نورِ سحر کی موجودگی کا احساس تک نہ کر سکی.امّی جان کیا ہوگیا ہے آپ کو؟؟ آپ کس سے باتیں کر رہی ہیں. آئیے اِدھر بیٹھ جائیے. (نورِ سحر پریشان ہوتے ہوئے بولی)کیا ہوا نور؟ تمھیں نظر نہیں آرہا تمھارے بابا آئیں ہیں. تم بھی ان سے ملو اور ہاں جا کر اپنے بابا کے لیے بھی چائے کا کپ لے کر آؤ. ( عائشہ نے نور کو تاکید کرتے ہوئے کہا)

لیکن امّی جان بابا تو اس دنیا سے کوچ کر گئے ہیں. آپ کو کیا ہوگیا ہے. آئیں اندر چلتے ہیں. آپ کو آرام کی ضرورت ہے. (نورِ سحر نے ماں کے نفسیاتی پن کو سمجھ لیا تھا) ہٹو یہاں سے پاگل تمھیں نظر نہیں آرہا. تمھارے بابا یہاں موجود ہیں اور تم الٹی سیدھی باتیں کر رہی ہو. وہ دیکھو میرے شیر جیسے جگر بھی آگئے ہیں. (عائشہ خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی)

امّی جان خدا کے لیے کیا ہوگیا ہے آپ کو. چلیں اندر چلتے ہیں. ردا اور صائم آچکیں ہیں. میں اپکو دوائی دے دوں.( نورِسحر روتے ہوئے ماں کو لپٹ گئی. ماں کی حالت اس سے دیکھی نہیں جارہی تھی)ماں کو کمرے میں بیٹھا کر, دوائی دے کر نورِ سحر کچن میں مصروف ہوگئی. عائشہ اپنا دماغی توازن آہستہ آہستہ کھوتی جا رہی تھی. تھوڑی تھوڑی دیر بعد ماں کی عجیب و غریب آواز سب بچوں کو چونکا دیتی تھی.

نورِ سحر نے حال ہی میں اسلامیات میں ماسڑ کیا تھا. باپ اور دو بھائیوں کا سایہ ایک ساتھ سر سے اٹھ جانا گویا دنیا کا اجڑ جانا تھا. والد کی وفات کے بعد گورنمنٹ پینشن کا آدھا حصہ دیتی تھی. لیکن اس مہنگائی کے دور میں اخراجات بہت ذیادہ تھے اور پیشن ناقابلِ قبول. نور سحر کے والد صاحب آرمی میں کپتان کا فریضہ انجام دیتے ہوئے شہادت کا رتبہ حاصل کرگئے. جب کہ نور کے بھائی مجاہد کی حیثیت سے بھارت کے خلاف لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے. ماہ میں تین لاشیں ایک ساتھ جب جگر کو چیر دیتی ہے تو ماں کا کلیجہ پھٹ جاتا ہے. یہی حال عائشہ کا بھی ہوا جو اپنے پیاروں کی ایک ساتھ خون میں لپٹی لاشیں دیکھ کر اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی تھی. نورِ سحرکے والد محمد اکرم نے اپنی جاب کے دوارن ہی اپنے ایک شاگرد سے اس کا رشتہ طے کردیا تھا. یوں گھر میں رشتے ناطے کی کوئی پریشانی نہیں تھی. لیکن اپنے باپ اور بھائیوں کی وفات کے بعد گھر کی ساری زمہ داریاں نورِ سحر کے سپرد ہوچکی تھی. ردا اور صائم کا خیال رکھنا اور ساتھ ہی ساتھ ایک معذور ماں کی دیکھ بھال کرنا اس کا نصب العین بن چکا تھا.

یاشہ بیٹی جلدی جلدی صفائی کرو. میرا بیٹا آنے ہی والا ہے. اور ہاں اُس کا کمرہ بھی ایک مرتبہ دیکھ لینا کوئی گند نہ ہو. میرا بیٹا بہت صفائی پسند ہے. میں نہیں چاہتی کہ وہ آتے کہ ساتھ ہی بیزار ہو. (حلیمہ اپنی کام والی لڑکی کو ایک لمبی نصیحت کرتے ہوئے کچن میں مصروف ہوگئی).جی خالہ جی میں نے سب صاف کردیا ہے. آپ بے فکر رہیں. (یاشہ, حلیمہ سے کہتی ہوئی چھت پر چلی گئ)

حلیمہ باورچی خانے میں مصروف طرح طرح کے خیالی پلاؤ بھی بنائے جارہی تھی......طرح طرح کے لذیذ لوازمات واقعی کسی خاص مہمان کے لیے بناۓ جارہے تھے اور وہ خاص مہمان کیسے نہ ہوتا......جو تین ماہ بعد گھر تشریف لارہا تھا. وہ جگر آج ماں کے لیے ایک ہیرے سے بھی بڑھ کر تھا. حلیمہ اپنے اکلوتے بیٹے حسن کا پُر جوشی سے استقبال کرنا چاہتی تھی. لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی چاند جیسی بیٹی کو بھی بہت یاد کر رہی تھی.

مناہل اپنے گھر کی ہوجانے کے بعد شوہر کی اطاعت کے لیے ایک جنتی بیوی ہونے کا کردار ادا کر رہی تھی. چونکہ مناہل کا شوہر کسی کامکے سلسلے سے سوات گیا ہوا تھا تو آج وہ اپنے اکلوتے بھائی سے ملنے نہیں آسکتی تھی. اس لیے حلیمہ اکیلے ہی سب کام سر انجام دے رہی تھی. حلیمہ کے شوہر اپنے بیٹے کو لینے ہوائی اڈے پر گئے ہوئے تھے. اس لیے حلیمہ پھرتی سے کام کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ کئی سوچیں اس کے ارد گرد منڈلا رہی تھی. یکایک دروازے پر ڈور بیل نے حلیمہ کو خیالی پلاؤ سے نکال کر اپنی طرف متوجہ کردیا.

حلیمہ دوڑی دوڑی,دوپٹہ سنبھالتے ہوئے, دروازے کی طرف لپکی. اتنی خوشی تھی کہ دروازے پر بغیر پوچھے کون ہے......ایک دم دروازہ کھول کر کھڑی ہوگئی. حیرانگی کے عالم میں حلیمہ سامنے کھڑے شخص کا منہ تکنے لگی...... (جاری ہے)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */