مجرم ماں باپ - کنور مزمل رشید

تاریخ میں آج سے پہلے یہ بات کہیں بھی نہ دیکھی گئی کہ قوم کی مجموعی حالت بگاڑ میں ماں باپ کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔جی والدین کا ہی۔ان کی عزت تکریم اور مقام سے انکار نہیں مگر غلطی انسان کا خاصہ ہے۔اگر غلطی کو ڈھٹائی کے ساتھ روا رکھا جاۓ گا تو قوم انتشار کا شکار ہو جاۓ گی۔یہ ہیں وہ چند باتیں جن کی بنا پر میں کہہ رہا ہوں کہ آج کی بگڑی نسل میں والدین کا کیا قصور ہے۔

سب سے پہلے تو یہ کہ ابھی بچہ رحم مادر میں ہی ہوتا ہے کہ ہم پہلے ہی اندازہ لگا لیتے ہیں کہ آنے والا ڈاکٹر بنے گا یا انجنئیر۔بچوں کی پرورش کرنا فرض ہے ان پر مسلط ہونا نہیں۔کیونکہ ہمارے معاشرے کا زیادہ تر بگاڑ شہری زندگی میں دیکھنے میں آتا ہے تو پہلے شہروں کی بات کرتے ہیں۔شہری علاقوں میں یہ بات عام ہے کہ بچے کو بہت ہی زیادہ محتاط رکھا جاتا ہے،جس سے اس کے سیکھنے کے عمل مین بہت زیادہ رکاوٹ آتی ہے۔دیکھنے میں آیا ہے کہ زیادہ تر شہری آبادی کے بچے انٹروورت ہوتے ہیں۔جن میں سراسر قصور ان کے ماں باپ کا ہوتا ہے۔بچے کو دینے کے لیے والدین کے پاس وقت نہیں ہوتا اور بچے کو مشغول رکھنے میں موبائل کا سہارا لیا جاتا ہے جو کہ بہت بڑی بگاڑ بنتا ہے۔

ماں سارا دن گھریلوں کاموں میں مصروف اور باپ دفتر یا نوکری پر۔باہر بچوں کو نکلنے نہیں دیا جاتا کہ حالات خراب ہیں اور اس طرح سے بچہ شروع سے ہی تنہائی پسند بن جاتا ہے۔جس کا اکثر انجام بہت برا ہوتا ہے۔اس کے بعد پھر یہ کہ اب 4 سال کی عمر میں بچے کو سکول میں داخل کروانا ایک عام بات ہو گئی ہے۔میں نے بچوں پر اس سے پہلے اتنا بڑا ظلم نہیں دیکھا۔جس عمر میں بچے دیہاتوں میں مٹی میں لت پت اور خوشیوں میں مصروف ہوتے ہیں اس وقت یہ شہری بچہ کتابوں کا بوجھ ڈھو رہا ہوتا ہے۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں تعلیمی نظام بے حد ہی ناقص ہے وہاں پر ایک بچہ کس طرح سے استحصال کا شکار ہوتا ہے،بہت پر درد مناظر ہوتے ہیں۔معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا شہری بچوں میں جان بوجھ کر ایک مقابلے کی روح پھونکی جاتی ہے۔جس سے بچہ سیکھتا تو کیا ہے بس نمبروں کی دوڑ میں لگ جاتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہ بڑے ہو کر یہ ہی بچے اپنی نا کامیوں کی وجہ اپنے ماں باپ کو کہہ رہے ہوتے ہیں۔جو کہ بہت درد ناک منظر ہوتا ہے۔پھر یہ بھی کہ جو بچوں کو ہر چیز سے ڈراتے بھی یہ ہمارے ماں باپ ہی ہیں۔یہ ریڑھی والا ہے ۔یہ کوڑے والا ہے اور یہ پھیری والا ہے۔ اس سے خطرہ ہے اور یہ گندہ ہے۔جس سے شہری علاقوں کے بچوں میں ایک احساس بر تری پروان چڑھتا ہے۔جو کہ بعد مین بہت رسوائی کا سبب بنتا ہے۔پھر جیسے ہی بچے اپنی عمر بلوغت میں پہنچتے ہیں تو وہ اس بات سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں کہ اس عمر کے تقاضے کیا ہیں؟ اب وہ جسمانی اور ہارمونیکلی جوانی کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں جبکہ ان کی رہنمائی والا کوئی نہیں ہوتا جس سے وہ معاشرتی برائیوں کا شکار ہوتے ہیں۔پھر ایک تو دور بھی بے حد جدید ہے کہ ہر جگہ پر فحاشی اور عریانی کا بندوبست مانو کر دیا گیا ہے۔جو کہ بچے کہ زہن پر کسی خنجر کی مانند حملہ آور ہوتا ہے۔موبائل کی سہولت تو اتنا عام کر دیا گیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچے موبائل سے جو سفر گیموں سے شروع کرتے ہیں کسی نہ کسی طرح پورن تک پہنچ جاتے ہیں۔اس میں سراسر قصور والدین کی لا پرواہی کا ہے۔کیونکہ وہ تو اپنے ذہنی سکون کے لیے بچے کو موبائل تھما دیتے ہیں مگر بعد میں یہ عادت پکی ہو جاتی ہے جس سے تباہی دستک دینے آ جاتی ہے۔

سب سے بڑا المیہ بچوں کی زندگی میں یہ ہوتا ہے کہ جب وہ صنف تضاد سے کوئی جذباتی تعلق قائم کر بیٹھتے ہیں اور زندگی مین بہت سارے غلط اقدام اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔نہ تو کوئی رہنمائی والا ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی روک ٹوک والا تو بچوں کو کون بتاۓ کہ کیا درست ہے اور کیا غلط؟اصلی امتحاں اس وقت شروع ہوتا ہے جب محبت کے معاملے میں بچے اور والدین کے مابین ایک دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔پھر بہت ہی درد ناک مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔بچہ بڑے اور جذباتی فیصلے لینے پر مجبور ہو جاتا ہے جس سے معاشرتی اقدار کا بہت مذاق اڑتا ہے۔سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ہم بچے کو کوئی روبوٹ یا مشین سمجھ لیتے ہیں۔صبح اٹھے تو مسجد یا مدرسہ،پھر سکول،پھر ٹیوشن اور پھر گھر آ کر دہرائی۔بچے کو فارغ وقت کب ملا؟اس نے سیکھا کیا؟اس نے کس بات میں نیا سبق سیکھا؟ان سب باتوں کے جواب تو سکول والوں سے بنتے ہیں مگر ملے نہیں آج تک۔

گھریلو تشدد اور مار پیٹ سے بچے مانو ذہنی طور پر معذور ہو جاتے ہیں۔اگر نہیں ہوتے تو ماں باپ کی آپسی لڑائی ضرور کر دیتی ہے۔اگر آج ہم مغرب سے کسی بات پر آگے ہیں تو وہ یہ ہے کہ ہم اپنے خاندانی نطام کو بچا کر رکھا ہوا ہے مگر اب یہ زیادہ دیر تک چلتا نظر نہیں آ رہا۔وقت کے تھپیڑے بہت سخت ہین مگر انہیں سہہ صرف نئی نسل رہی ہے۔خود کشیاں،جنسی مسائل ،ذہنی مسائل اور نہ جانے کیا کیا۔ان سب سے گزر رہے ہوتے ہیں اکیلے اس دور کے بچے۔زندگی کے اس موڑ پر بچے کو سب سے زیادہ ضرورت والدین کی اسی وقت ہوتی ہے۔مگر اس وقت اکثر کو یہ نصیب نہیں ہو پاتی۔

اہم بات یہہ ہے کہ مظلوم تو بیچاری نئی نسل ہے اور ان کو ہی غلط اور برا بھلا کہا جاتا ہے۔آج کے اس دور پر فتن میں سب سے زیادہ بگاڑ اسی دراڑ کی وجہ سے ہے۔بچہ والدین کا نہیں بننا چاہتا اور والدین کے پاس وقت نہیں۔میری یہ تحریر بہت سی باتوں سے ابھی تشنہ جن کو میں اگلی قسط میں بیان کروں گا۔مگر خدارا اس مسئلے کو مسئلہ سمجھا جاۓ۔خدارا اس تباہی کو روکا جاۓ اور اس پر توجہ دی جاۓ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */