معرکہ (13) - ریحان اصغر سید کی شاہکار کہانی

پہلی قسط
دوسری قسط
تیسری قسط
چوتھی قسط
پانچویں قسط
چھٹی قسط
ساتویں قسط
آٹھویں قسط
نویں قسط
دسویں قسط
گیارہویں قسط
بارہویں قسط

نیلے ساگر کا یہ حصہ ہر وقت سمندری طوفانوں کی زد میں رہتا تھا۔ بارشیں تسلسل سے برستی رہتی تھیں۔ پہاڑوں کی طرح بلند لہریں اور کنویں کی طرح گہرے گرداب اس جگہ کو بحری جہازوں کے لیے ناقابل عبور بنا دیتے تھے۔

چار نوکیلی آسمان کو چھوتی سمندری چٹانیں اس جگہ کی حد بندی کے کام آتی تھیں۔۔یہی وہ جگہ تھی جہاں میلوں تک پھیلے ہوٸے بحری جہاز نما شاندار محل میں ابلیس اعظم کا دربار تھا۔ یہ محل دور سے ستاروں کی کہکشاٶں کی طرح نظر آتا تھا۔ اس کے مینار، گنبد اور کھڑکیاں دروازے سونے چاندی سے بناٸے گٸے تھے۔ بڑے بڑے دیو قامت ستونوں پر ہیروں کی تہہ جمی ہوٸی تھی۔ محل کا فرش آٸینے کا تھا۔ دیواروں پر اتنی مہارت سے پینٹنگز بناٸی گٸیں تھیں کہ دیکھنے میں وہ بلکل اصلی مناظر نظر آتے تھے۔

دربار کے گنبد کی چھت کٸی سو فٹ بلند تھی جس میں ہر منزل کی گول بالکونیوں میں سے دربار کا منظر دیکھا جا سکتا تھا۔ ایک کونے میں ابلیس کا شاندار تخت لگا ہوا تھا۔

رات آدھی گزر چکی تھی۔ سمندر کی تلاطم خیز لہریں دیوانگی سے محل کی دیواروں سے سر پٹخ رہی تھیں۔ محل پر غنودگی طاری تھی لیکن ابلیس اعظم ابھی بھی شاہی لباس میں اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ لپکتے ہوٸے زرد شعلے کی رنگت اور سرخ یاقوت کی آنکھوں والا خوش شکل شیطان تھا۔ اس کے بال سنہرے اور قدرے گنگریلے تھے۔ اس کی داڑھی کا رنگ آتشی تھا۔ وہ سونے کی تاروں سے بنے ہوٸے ایک چوغے میں ملبوس تھا۔ اس کی ہاتھوں کی پتلی لمبی انگلیوں دنیا کے سب سے قیمتی پتھروں کی انگوٹھیاں سے بھری ہوٸی تھیں۔

تخت کے دونوں سروں پر دو انتہاٸی حسین و جمیل جل پریاں نیم دراز، ابلیس کو مور کے پنکھ سے ہوا دے رہی تھیں۔ پریوں کا دھڑ سنہری مچھلیوں کا سا تھا جبکہ پیٹ سے سر تک برہنہ جسم انسانوں کا تھا۔ وہ سنہری رنگت اور نیلی آنکھوں والی لڑکیاں ہر وقت یوں ہی تخت پر نیم دراز اپنا کام سر انجام دیتی رہتی تھیں۔ ابلیس کے پاٶں کے دونوں جانب اماوس کی رات سے بھی زیادہ سیاہ رنگ کے دو چیتے بڑے چوکنا انداز میں بیٹھے ہوٸے تھے۔ غیر معمولی قد و قامت کے مالک ان چیتوں کی آنکھیں زرد اور آگ کی طرح روشن دکھائی دیتی تھیں۔

دربار کے شیشے کی دیوار کے پار نیم تاریکی میں سے ایک بہت بڑا پرندہ غوطہ لگا کر محل کی طرف آیا اور پھر دربار کے باہر کھلے صحن میں اتر گیا۔ پرندے کے صحن میں بیٹھ جانے کے بعد ابلیس کا خاص ایلچی ضندور چھلانگ لگا کر نیچے اترا اور پرندے کی سونے کی رسی کو ایک ستون کے ساتھ باندھ کر وہ دربار کے اندر داخل ہو گیا۔ اس کے نفیس چمڑے کے بنے ہوٸے جوتے دربار کے فرش پر ایک مخصوص آواز پیدا کر رہے تھے۔ ضندور نے مقررہ فاصلے پر پہنچ کر ابلیس کو سجدہ تعظیمی ادا کیا اور پھر اپنے آقا کا اشارہ پا کر تخت کے داٸیں جانب پڑی ایک اونچی پشت والی کرسی پر بیٹھ گیا۔

ابلیس نے نزاکت سے تالی بجاٸی تو ایک ستون کے پیچھے سے ایک انتہاٸی حسین و جمیل نو عمر لڑکی برآمد ہوٸی۔۔جس نے انتہاٸی باریک سفید ریشمی لباس پہن رکھا تھا۔ اس نے ایک موتی جڑے مخروطی گلاس میں ضندور کو مشروب پیش کیا اور خاموشی سے لوٹ گٸی۔
''تم اکیلے کیوں ہو ضندور؟
ابلیس کی آواز گونج دار اور بارعب تھی۔

''عفرش نے بغاوت کر دی ہے آقا۔۔۔۔اس نے خود آنے اور کمانداروں کو بھیجنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
بہت خوب۔۔بہت خوب
ابلیس مسکرایا۔

انکار کرنا ہماری سرشت میں شامل ہے ضندور۔۔۔لیکن ہر انکار کی ایک قیمت ہوتی ہے جو چکانی پڑتی ہے۔۔۔یقیناً سردار عفرش بھی وہ قیمت ادا کرے گا۔
”کیا آپ عفرش پر فوج کشی فرماٸیں گے آقا۔۔۔؟
کبھی نہیں۔۔۔!
ابلیس نے دو ٹوک جواب دیا۔

ایک طرف سفید پوشوں کی یلغار کا خطرہ دوسری طرف اندرونی بغاوت ہمیں کمزور نہ کر دے۔۔۔؟
مجھے کوٸی کمزور نہیں کر سکتا۔۔۔میں سب سے طاقتور ہوں۔

میری ذاتی راٸے میں عفرش کے خلاف فوری کارواٸی بہت ضروری ہے ورنہ دیگر سرکش اور باغی قباٸل کو شہہ ملے گی۔۔۔۔اور اس سلسلے کو روکا نہ گیا تو اس عظیم سلطنت کا شیرازہ بکھر جاٸے گا۔
ضندور نے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔

طاقت، ذہانت والوں کا حق ہے۔۔۔اور ضعف بے وقوفوں کا مقدر۔۔۔عفرش اور اقرا پر پرحملہ کرنے والے اس کے جنجگو اتنے قیمتی نہیں ہیں کہ ان کی خاطر سکرات جیسے سرکش اور دلیر قبیلے کو تاراج دیا جاٸے۔۔۔
نہ میں خود ایسا کروں گا نہ ہی روشنی والوں کو ایسا کرنے کی اجازت دوں گا۔۔۔ یہ قبیلہ روشنی والوں کے خلاف ہمارے دفاع کی پہلی لکیر ہے۔

عفرش نے اقرا پر حملہ کر کے سفید پوشوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ اب اس کی ذات اثاثے سے زیادہ ہمارے لیے ایک بوجھ بن چکی ہے۔ سکرات قبیلے کو بچانے کے لیے عفرش کی قربانی ضروری ہے۔۔۔تا کہ یہ قبیلہ ہر کچھ سالوں بعد ہمارے لیے ایسی خدمات انجام دیتا رہے۔

عفرش کو دربار میں طلب کرنے کا مقصد یہی تھا کہ اسے روشنی والوں کے حوالے کر کے تصفیہ کر لیا جاٸے۔۔۔اپنی مکاری سے اس نے میری نیت بھانپ لی ہے اسی لیے وہ تمھارے ساتھ نہیں آیا۔۔۔لیکن اس کی چالاکی اس کا مقدر بدلنے کے لیے ناکافی ہے۔۔ہوگا ابھی بھی وہی جو میں چاہوں گا۔۔۔لیکن ذرا مختلف انداز میں۔۔۔

ابلیس نے تالی بجاٸی۔۔وہی پہلے والی نوخیز لڑکی لہراتی ہوٸی نمودار ہوٸی۔۔
جبال کو میرے پاس بھیجو۔۔۔فوراً۔۔۔۔۔!

ابلیس نے لڑکی کو واپس جانے کا اشارہ کرتے ہوٸے کہا۔۔وہ الٹے قدموں وہی سے لوٹ گٸی۔
عفرش اور اس کے کمانداروں کو سفید پوشوں کے حوالے کرنے سے ہماری شکست کا تاثر پھیل جاٸے گا۔۔۔۔ایسا نہ ہو عفرش جیسے دیگر باغی سردار اسے ابلیس اعظم کی کمزوری اور بزدلی پر معمول کریں۔۔۔؟

ضندور نے ایک اور نقطہ اٹھایا۔۔۔بلاشبہ وہ ابلیس کا منہ پھٹ مشیر تھا۔
حتمی معرکے کا وقت آ پہنچا ہے میرے بیٹے۔۔۔سفید پوشوں کو مکمل طور پر ختم کر دینا میرا جنون بھی ہے اور مقصد حیات بھی۔۔۔ چاہے اس کے لیے مجھے مزید کٸی صدیاں انتظار کرنا پڑے۔

اب میں یہ کام سفید پوشوں کا ہمدرد اور امن کا داعی بن کر انجام دوں گا۔۔۔بس تم خاموشی سے میری چالیں دیکھتے رہو۔۔۔آخری فتح ہماری ہی ہو گی۔۔۔ایک دفعہ ہم سفید پوشوں کا خاتمہ کر دیں۔۔۔پھر ہزاروں ابلیسی قباٸل میں سے صرف چند باغی سرداروں پر قابو پانا چنداں مشکل نہ ہو گا۔۔۔

ابلیس کے چہرے پر اسکا روایتی اعتماد تھا۔

دربار کے دروازے پر ایک بوڑھا بدصورت سینگوں والا شیطان لاٹھی ٹیکتا ہوا نمودار ہوا۔۔۔اس کی لاٹھی کی آواز رات کے سناٹے میں سماعتوں پر بہت گراں گزر رہی تھی لیکن ابلیس نے مسکرا کر اسکا استقبال کیا۔
میرے پرانے دوست جبال۔۔۔تمھیں زندہ دیکھ کر خوشی ہوٸی ۔۔۔لیکن تم بہت بوڑھے ہو گٸے ہو۔۔۔؟
جبال نے بمشکل سجدہ ادا کیا۔

میں زندگی کی آخری سانس تک اپنے آقا کی خدمت پر مامور رہنا چاہتا ہوں۔۔
جبال نے کانپتی آواز میں کہا۔
بہت خوب بہت خوب۔۔۔
ابلیسِ اعظم ہنسا۔۔۔

میں نے کچھ عرصہ پہلے سکرات قبیلے کے سردار عفرش کے متعلق تمھیں ایک حکم دیا تھا۔۔۔۔کیا تمھیں یاد ہے؟؟؟
غلام اگلے احکامات کا منتظر ہے آقا۔۔۔آپ کے حکم دیتے ہی عفرش کا تختہ الٹ دیا جاٸے گا۔۔ سکرات میں جانثار آپ کے اشارے کے منتظر ہیں۔۔۔
لاجواب میرے دوست لاجواب۔۔۔لیکن یاد رہے کہ مجھے عفرش اور اقرا پر حملہ کرنے والے جنگجو ان کے کمانداروں سمیت زندہ چاہیے۔۔۔۔۔۔اگر سارے نہیں تو ان کی اکثریت کو بیڑیوں میں جکڑ کر میرے سامنے پیش کرو۔۔۔

ایسا ہی ہو گا میرے آقا۔۔۔آپ بے فکر رہیں۔۔
جبال نے ادب سے کہا۔

اس کام کو سر انجام دینے کے لیے میں تمھیں زیادہ سے زیادہ دو دن اور دو راتوں کی مہلت دیتا ہوں۔۔۔اب جاٶ۔۔۔مہم۔شروع کرو۔۔

جبال نے ابلیس کو سجدہ کیا اور لاٹھی ٹیکتا ہوا دربار سے نکل گیا۔۔۔اسی لمحے محل کی خوابیدہ فضا بگل بجنے کی بھاری آواز سے درہم برہم ہو گٸی۔۔۔ابلیس نے چونک کر ضندور کو دیکھا۔

یہ کسی مہمان کی آمد کی اطلاع دینے والا بگل ہے۔۔۔۔کون ہو سکتا ہے روشنی والوں کے ایلچی کے سوا۔۔۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلطان کبیر قصبے کے پولیس اسٹیشن میں موجود تھے۔ جہاں گرفتاری کے بعد ثقلین منیر کو حوالات میں رکھا گیا تھا۔ سلطان نے ثقلین کے قابو آتے ہی ایس ایس پی مظفر کمال صاحب کو فون پر اطلاع دے دی تھی کہ ثقلین کو پکڑ لیا گیا ہے۔ مظفر صاحب یہ اطلاع پا کر بہت پرجوش ہو گٸے تھے۔ انھوں نے اسی وقت ثقلین کو صوباٸی دارلحکومت منتقل کرنے کے لیے خصوصی ٹیم روانہ کر دی تھی۔۔۔اور قصبے کے ایس ایچ او کو فون کر کے ثقلین کے متعلق خصوصی ہدایات بھی پہنچا دی تھیں۔ سلطان نے ایس ایچ او کو متنبہ کر دیا تھا کہ مجرم ایک زبردست عامل اور شیطانی طاقتوں کا نماٸندہ ہے اس لیے احتیاط کے طور پر ثقلین کی آنکھوں، ماتھے اور منہ پر موٹی کالی پٹی باندھ کر رکھی جاٸے۔۔۔ ایس ایچ او کو بات کی سمجھ تو نہیں آٸی تھی لیکن چونکہ ایس ایس پی صاحب کی ہدایات تھیں کہ سلطان کبیر کے حکم کو میرا حکم سمجھا جاٸے اس لیے ان پر عمل درامد لازمی تھا۔

سلطان کو ثقلین کی گرفتاری کی زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ وہ زیدی صاحب کے متعلق اپنے مذموم مقاصد کی تکیمل سے پہلے گرفتار ہو گیا تھا۔ سلطان کی ہدایت پر ثقلین کو علیحدہ کمرے میں بلایا گیا۔ اس کے ہاتھ ہتھکڑی میں بندھے ہوٸے تھے۔۔اور منہ اور آنکھوں پر سیاہ پٹی تھی۔سلطان کے ساتھ عبداللہ اور باقی درویش بھی تھے۔ پولیس والوں کے کمرے سے جاتے ہی سلطان نے ثقلین کی آنکھوں اور منہ سے پٹی ہٹا دی۔ سلطان پر نظر پڑتے ہی ثقلین نے بیزاری سے منہ بنایا۔۔۔لیکن عبداللہ اور باقی درویشوں کو دیکھ کر وہ چونکا۔

میرا رب اتنا کریم ہے کہ جب تک سانس نرخرے تک نہ آ جاٸے وہ انسان کو توبہ کی مہلت دیتا ہے۔۔۔تم نے ریاست کے خلاف جو جراٸم کیے ہیں وہ تمھارا اور ریاست کا معاملہ ہے۔۔۔میں تمھیں خدا سے اپنا معاملہ درست کرنے کے لیے توبہ کی دعوت دیتا ہوں۔۔۔ابلیس لعین کی راہ چھوڑ کر حق کی راہ کی طرف لوٹ آٶ بیٹا۔۔۔سچی توبہ کر لو۔۔۔میرا رب بہت مہربان اور بخشنے والا ہے۔

سلطان نے نرمی سے کہا۔ ثقلین نے انکار میں سر ہلایا۔ میں نے ابلیس کو خوش کرنے کے اپنے تین بچے ذبح کر دیے تھے۔۔۔میں بہت قربانیاں دے کر اس مقام تک پہنچا ہوں۔۔۔میں تمھاری جھوٹی باتوں میں آ کر اپنی منزل کھوٹی نہیں کر سکتا۔۔یہ گرفتاری اور یہ قید وقتی پریشانی ہے۔۔عفرش بہت طاقتور ہے وہ مجھے بچا لے گا۔
سلطان کبیر نے افسردگی سے سر ہلایا۔۔۔

عفرش تمھیں اب پلٹ کر بھی نہیں دیکھے گا۔۔ویسے بھی اس کی اپنی زندگی کے دن گنے جا چکے ہیں۔ اس نے اپنی چیلوں سے اقرا پر حملہ کروا کر اپنے تابوت میں آخری کیل ٹھونک لیا ہے۔۔إن شاءالله بہت جلد وہ ہمارے پنجے میں ہو گا۔
سلطان کی بات سن کر ثقلین ہنسا۔۔

کیا بالکل سٹھیا گٸے ہو بابا جی۔۔۔عفرش تمھاری سوچ سے بھی آگے کی چیز ہے۔۔۔تم اس کی طاقت کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔

ساری طاقت اور اختیار میرے اللہ کا ہے اور جسے وہ چاہتا ہے عزت اور فتح عطا کرتا ہے۔۔۔کاش ثقلین تم اس بات کو سمجھتے۔۔۔
خیر۔۔۔میں تم سے عفرش کے ٹھکانے کے پتہ لینے آیا ہوں۔۔۔اور میں اسے لیے بغیر واپس نہیں جاٶں گا۔۔اس لیے اپنا اور میرا وقت ضاٸع کیے بغیر مجھے عفرش کے ٹھکانے کے بارے میں بتا دو۔
سلطان کا انداز حتمی تھا۔

میں اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا۔اگر جانتا بھی تو شاید نہ بتاتا۔
ثقلین نے منہ بنا کر کہا۔
دیکھو تو عبداللہ یہ ابھی بھی اپنے گرو شیطان سے وفاداری نبھا رہا ہے۔
سلطان نے عبداللہ کو مخاطب کیا۔

میں اس کی باطنی آنکھ پھوڑ دیتا ہوں جناب، جس کی وجہ سے اسے دوبارہ کبھی بھی اپنے آقا کا چہرہ دیکھنا نصیب نہیں ہوگا۔

عبداللہ نے سادگی سے تجویز پیش کی۔۔۔ثقلین لرز کر رہ گیا۔ ماتھے کے درمیان موجود اس کی باطنی آنکھ بہت چِلوں اور قربانیوں کے بعد کھلی تھی وہ برباد ہو جاتی تو اسے عبداللہ اور درویشوں سمیت ہر طرح کی لطیف مخلوق نظر آنا بند ہو جاتی۔۔۔اور اس کا آج تک کا سفر راٸیگاں جاتا۔
یہ ظلم ہے۔۔۔خبردار جو مجھے ہاتھ لگایا تو۔۔۔

ثقلین دہشت سے چلایا۔عبداللہ نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔اس کی ساری اکڑ ہوا ہو گٸی تھی۔ عبداللہ نے ایک درویش کو سلاخ گرم کرنے کا حکم دیا۔ ثقلین بے اختیار کرسی سے کھڑا ہو گیا۔ اس کے ہاتھ ہتھکڑیوں میں بندھے تھے لیکن پیر آزاد تھے۔ اس نے کمرے سے بھاگنے کی کوشش کی جسے سلطان نے سکون سے ٹانگ آگے کر کے ناکام بنا دیا۔ ثقلین منہ کے بل گرا۔ ہاتھ پشت پر بندھے ہونے کی وجہ سے اس کا منہ براہ راست فرش سے ٹکرایا۔ جس کی وجہ سے اس کے سامنے کے دانت اور ناک کی ہڈی ٹوٹ گٸی۔۔اس کی چیخیں سن کر پولیس والے دوڑتے چلے آٸے۔۔سلطان کے حکم پر انھوں نے ثقلین کو کرسی سے باندھ دیا اور اس کا اپنے ہی خون میں لتھڑا ہوا منہ گیلے کپڑے سے صاف کر کے واپس چلے گٸے۔۔۔سلاخ گرم ہوچکی تھی۔ ثقلین کرسی کے ساتھ بندھا بھی تڑپ اور مچل رہا تھا۔ دانت اور ناک کی ہڈی ٹوٹنے سے اس کا چہرہ سوج کر کپا ہو گیا تھا اور آواز بھی عجیب سی ہو گٸی تھی۔ درویشوں نے ثقلین کا سر تھاما۔۔اس سے پہلے کہ عبداللہ اس کی باطنی آنکھ میں سلاخ گھونپتا۔۔۔ثقلین نے روتے ہوٸے عفرش کا پتا بتانے کی حامی بھر لی۔۔اس کے پتہ بتاتے ہی عبداللہ نے سلاخ اس کی باطنی آنکھ میں گھونپ دی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جحیم ایک تنگ و تاریک غار میں چلتا ہوا جا رہا تھا جس کے درمیان میں سے گندی نالی گزر رہی تھی۔ اس غار کی دیواروں اور چھت کے درمیان گول سوراخ سے تھے۔ جو دراصل شیاطین کے رہاٸشی مکان تھے۔ ایسے ہی ایک مکان میں ہاویہ رہاٸش پذیر تھی۔ باہر سے ایک گڑھے کی طرح چھوٹا سا سوراخ دکھاٸی دینے والا مکان اندر سے کافی بڑا تھا۔ اسے سٹوڈیو اپارٹمنٹ سے تشبیہ دی جاسکتی تھی۔ جحیم لوہے کی سڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچا۔

ہیلو ہاویہ۔۔۔کیا تم اندر ہو۔۔؟
ہاں۔۔۔آ جاٶ۔۔

ہاویہ کی آواز سناٸی دی۔۔وہ اندر بیٹھی اپنا راکٹ لانچر صاف کر رہی تھی۔

تم اتنے تمیز دار کب سے ہو گٸے ہو۔۔۔؟

اس نے ایک آنکھ بند کر کے لانچر کی نال میں سے جحیم کو دیکھا۔ انسانی آنکھ سے دیکھا جاتا تو وہ بدصورت تھی لیکن جحیم کے قبیلے کے حسن کے معیار کے مطابق اسے ملکہ حسن کہا جاسکتا تھا۔ پھر اس کا جسم خوبصورت تھا جسے وہ کم سے کم ڈھانپنے کا تکلف کرتی تھی۔

بس ابھی ابھی تمیز دار ہوا ہوں۔۔۔میری ماں کہتی ہے کہ لڑکیوں کے گھر میں دستک دیے بغیر نہیں جانا چاہیے۔
جحیم نے سادگی سے کہا۔ آج وہ خلاف معمول کافی سنجیدہ دکھاٸی دے رہا تھا۔
کیا بات ہے۔۔۔؟ کیا ضندور کی دھمکی سے ڈر گٸے ہو۔۔؟
ہاویہ نے زیرلب مسکرا کر پوچھا۔۔۔
کیا تم نہیں ڈری۔۔۔۔؟
میں موت سے نہیں ڈرتی۔
ہاویہ نے کندھے اچکاٸے۔۔

مجھے تو بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔میں کم سے کم سو بچوں کا باپ بننے کے بعد مرنا چاہتا ہوں۔۔۔لیکن لگتا ہے ابلیس اعظم اور درویش ہمیں اتنی مہلت نہیں دیں گے۔۔۔
ڈرو نہیں۔۔۔ابلیس اعظم کو وقتی غصہ ہے کہ آقا عفرش نے انھیں بتاٸے بغیر روشنی والوں کے خلاف اتنا بڑا محاذ کھول دیا ہے۔۔۔مجھے یقین ہے دل میں وہ بھی بہت خوش ہوں گے۔

جحیم نے انکار میں سر ہلا کر ہاویہ کی بات سے اختلاف کیا۔
استاد اعظم ہماری منحوس شکلوں سے اداس ہو گٸے تھے جو انھوں نے ہمیں طلب کیا تھا؟
اس نے ہاویہ سے پوچھا۔

ظاہر ہے جواب طلبی کے لیے۔۔

جواب طلبی کے لیے بلاتے تو صرف آقا عفرش کو بلاتے ہم تو ان کے حکم کے غلام ہیں۔۔۔ہم سے کیسی جواب طلبی۔۔۔۔؟
یہ استاد اعظم اور آقا عفرش کے آپس کے معاملے ہیں وہ جانیں اور ان کا کام۔۔۔
ہاویہ نے اپنے دل کو تسلی دی۔

اگر میرے پاس بھی تمھاری طرح چھوٹا سر ہوتا تو میں بھی اس وقت بندوق رگڑ رہا ہوتا لیکن کیا کروں مجھے سوچنے کی عادت ہے۔
جحیم نے آہ بھری۔۔
کہنا کیا چاہتے ہو کھل کر بات کرو۔۔۔؟
ہاویہ اکتاٸی۔۔

ابلیس اعظم نے ہمیں قربانی کا بکرا بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے ہاویہ۔۔۔بچ سکتی ہو تو بچ جاٶ۔۔
ہاویہ کی آنکھوں میں تعجب اور خوف اکھٹے نمودار ہوٸے۔۔۔وہ جحیم کی ذہانت سے متاثر تھی۔

لیکن آقا عفرش نے تو ہمیں ضندور کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اس نے اعتراض اٹھایا۔
تو کیا استاد اعظم یہ انکار سن کر ہنس کر کہیں گے۔۔۔اف یہ عفرش کتنا شرارتی ہے۔۔۔چلو دفع کرو۔۔۔مغنیہ اور رقاصہ لڑکیوں کو بلاٶ۔ ہمارا آج منورنجن کا موڈ بن رہا ہے۔
جحیم نے ابلیس اعظم کی آواز اور لحجے کی نقل اتاری۔

اب کیا ہو گا جحیم۔۔۔؟
ہاویہ پریشان ہوٸی۔۔۔
ہمیں بھاگنا پڑے گا ہاویہ۔۔۔اگر یہاں رہے تو سفید پوشوں یا ابلیس اعظم کے ہاتھوں مارے جاٸیں گے۔۔
جحیم نے پوری سنجیدگی سے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسا صدیوں میں ایک دفعہ ہوتا تھا کہ روشنی والوں اور سیاہ پوشوں میں ایلچی کا تبادلہ ہو۔ لیکن اس کے باوجود ابلیس اعظم اور روشنی والوں کے درمیان ایلچیوں کے تبادلے کے لیے ایک پروٹوکول اور باقاٸدہ نظام موجود تھا۔ دونوں کی سرحد کے درمیان ہزاروں سالوں سے ایک ایک ایلچی ہر وقت موجود رہتا پھر جس طاقت کو اپنا ایلچی بھیجنا ہوتا وہ پیغام لیکر دوسری طاقت کے ایلچی کے ساتھ اس حالت میں روانہ ہوتا کہ اس کی آنکھیں، کان، ناک کو چمڑے کے ایک مخصوص تھیلے کے ذریعے بند کر دیا جاتا تھا۔ اسطرح مہمان ایلچی میزبانوں کی ٹھکانے سے لاعلم رہتا۔ یوں دونوں فریقین ہیڈ کواٹر ٹریس ہو جانے کے خوف سے آزاد ہو کر بوقت ضرورت پیغام رسانی کی سہولت سے فاٸدہ اٹھا لیتے تھے۔

ابلیس اعظم کے شاہی محل کا استقبالی باجا اپنی پاٹ دار آواز میں بج رہا تھا اور فضا میں دو دیو ہیکل پرندے دربار کے صحن میں اترتے نظر آ رہے تھے۔ ایک گدھ پر ابلیس کا ایلچی بیٹھا تھا جب کے اسکے ہاتھ میں دوسرے گدھ کی سونے کی زنجیر تھی جس پر روشنی والوں کا ایلچی زبیر بن انیس بیٹھا ہوا تھا۔ زبیر کا چہرہ سیاہ چمڑے کے تھیلے میں چھپا ہوا تھا اور اسکے ہاتھ نرمی سے باندھے گٸے تھے۔ ابلیس کے ایلچی نے اسے نیچے اتار کر اسکے ہاتھ کھولے اور چہرے سے کور اتار کر اسے ابلیس کے دربار میں لے آیا۔ لمبا چوڑا خوبرو زبیر باریک بینی سے ایک ایک چیز کا جاٸزہ لیتا بڑے وقار سے ابلیس کے دربار میں چل رہا تھا۔ ابلیس کے ایلچی نے ابلیس کو سجدہ ادا کیا جبکہ زبیر نے سر کی براٸے نام جنبش سے کام چلایا۔

میرا نام زبیر بن انیس ہے۔ میں یہاں اہل خیر کے نماٸندے کی حثیت سے موجود ہوں۔۔ میں مجلس کے امیر شمس دین خوارزمی کا خاص پیغام لیکر حاضر ہوا ہوں۔ امیر نے مجھے تلقین کی ہے میں جواب لیے بغیر نہ لوٹوں۔۔

زبیر نے متانت سے اپنا تعارف کروانے کے بعد اپنی زرہ میں سے ایک قیمتی مکتوب کا گول کور برآمد کر کے ابلیس کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

ابلیس کے اشارے پر ضندور اس سے خط لے کر دوبارہ اپنی شاہانہ کرسی پر جا بیٹھا۔
خوش آمدید معزز ایلچی زبیر۔۔۔تم خیر والوں کی طرف سے خیر والوں کی جانب ہی آٸے ہو۔۔۔ادھر تشریف رکھو۔۔
ابلیس نے مسکراتے ہوٸے بڑے میٹھے لحجے میں زبیر کو اپنے باٸیں جانب ضندور کی کرسی کے بلکل سامنے اس جیسی ایک شاہانہ کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
خط پڑھو بیٹے۔۔۔
اس کا مخاطب ضندور تھا

(جاری ہے)

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */