آزادی کا متوالا - افسانچہ نگار ببرک کارمل جمالی کے قلم سے

میں کبھی ہتھیار نہیں ڈالوں گا۔۔۔۔ میرے باپ دادا مجھے قیامت کے دن نہیں چھوڑیں گے۔۔۔۔ انہوں نے اپنی جانیں گنواکر یہ وطن مجھے دیا ہے۔۔۔ جس کی حفاظت کرنا ہم سب پر فرض ہے۔۔۔۔ اس فرض پہ میں مر مٹوں گا مگر ہتھیار نہیں ڈالوں گا۔۔۔۔ نوے ہزار قیدیوں میں ایک شخص بول رہا تھا۔۔۔۔ سب لوگوں کی بولتی بند تھی۔۔۔۔۔ سب کے ہتھیار نیچے رکھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ ہر شخص کا سر جھکا ہوا تھا۔۔۔۔ سب لوگ چاکر کی جانب دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ کسی کو ان سے کچھ کہنے کی ہمت نہ تھی۔۔۔۔ چالیس سالہ چاکر بغل میں اپنا بندوق لیے بولتا جا رہا تھا، کوئی سننے والا نہیں تھا۔

چاکر جنگ آزادی کے بعد پاک فوج کے بلوچ رجمنٹ میں بھرتی ہوا تھا۔۔۔۔چاکر کا باپ انگریز سرکار سے لڑتے لڑتے آزادی کے اگلے سال یہ دنیا چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔انہوں نے بلوچستان میں انگریزی سرکار کو تگنی کا ناچ نچایا تھا۔۔۔اور بلوچستان کی سر زمین پر ان کا جینا حرام کر دیا تھا۔اس روز چاکر نے وعدہ کیا تھا ۔۔۔۔میں بھی پاک فوج میں بھرتی ہوکر ملک کے دشمنوں کو نیست ونابود کروں گا۔وہ سولہ دسمبر کا دن تھا یہ وہی سولہ دسمبر تھا جب سقوط غرناطہ وقوع پذیر ہوا تھا وہاں پر ہتھیار ابو عبداللہ نے ڈال دیا تھا اور پاکستان میں بھی عبداللّٰہ نامی شخص ہتھیار ڈال رہا تھا۔۔۔ دونوں ہی مسلم تاریخ کے سیاہ ترین باب ہیں۔

چاکر چیخ رہا تھا۔۔۔۔سننے والے کان بند تھے۔۔۔۔اسی لمحے گولی چلتی ہے۔۔۔۔ چاکر زمین بوس ہو جاتا ہے۔۔۔۔عبداللہ اپنا گن رکھتے ہوئے کہتا ہے جنرل اروڑا اب معاہدے پر دستخط کریں۔۔۔۔۔۔عبد اللہ اپنا گن جنرل اروڈا کو دے دیتا ہے۔۔۔۔ آزادی کا متوالا اپنے بابا کے پاس جنت میں پہنچ جاتا ہے اور کہتا ہے بابا دیکھ میں نے اپنا وعدہ پورا کر لیا ہے۔ باپ بیٹے گلے ملتے ہیں اور گھوڑے پر سوار ہو کر جنت کی سیر کو نکل جاتے ہیں۔۔۔۔۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */