اپنے بچے کے لیے اسکول کا انتخاب کیسے کریں؟ - منزہ صدیقی

بچوں کی ابتدائی تعلیم، ہزاروں کے اخراجات بچائیں - منزہ صدیقی
آپ کا بچہ چار سال کا ہو چکا ہے۔ما شاء اللہ۔ اب مرحلہ ہے تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کا۔ اس عمر کے بچے کو بھی آپ گھر میں تعلیمی مہارتیں سکھا سکتے ہیں۔ (گھر میں پڑھانے کے لیے اگلی قسط میں نرسری کلاس کی تعلیم پر بات کریں گے) لیکن اگر آپ اسے سکول بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ کو پاکستان میں سکولوں کی اقسام، اپنی ترجیحات کا بخوبی علم ہونا چاہیے۔ سکول داخل کرانے سے پہلے، چند باتیں جو اس وقت تک بچے کو سکھا دی جانی چاہییں، انہیں آپ ذاتی مہارتیں( personal skills) بھی کہہ سکتے ہیں:

*واش روم جانے کی ضرورت ہو تو بول کر اس کا اظہار کرسکے۔

**اسے معلوم ہو کہ واش روم مخصوص فرد کے ساتھ ہی جائے گا (سکول انتظامیہ سے پوچھ کر بچے کو خود وہ آیا باجی دکھادیں)۔
*لنچ باکس کھول کر، کھانا کھاسکتا ہو۔ (مدد لی جا سکتی ہے)
**اپنے بستے، چیز وں کی پہچان ہو۔
*اسے معلوم ہو کہ کھانے کی چیز یا کلاس روم میں عام استعمال ہونے والی چیزوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹا جاسکتا ہے۔ (کورونا کی موجودہ صورتحال مختلف ہے۔)

*• اسے اچھا کام کرنے پر حوصلہ افزائی اور غلطی کرنے پر تنبیہ کی جاسکتی ہے۔ (بہت چھوئی موئی بچے کلاس کے ماحول میں مشکل کا باعث بنتے ہیں)

اب اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔پاکستان میں اس وقت بیک وقت مختلف طریقہ ہائے تعلیم رائج ہیں جن میں معروف میٹرک سسٹم (سرکاری نصاب کے تحت)۔ اولیول کا سسٹم ( کیمبرج نصاب کے تحت) ہیں۔ جبکہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی کتب ہر جگہ یکساں طور پر شوق سے پڑھائی جاتی ہیں۔

جہاں تک سکولوں کی اقسام کا تعلق ہے، یہاں معلومات دینے کی غرض سے ان کا ذکر کرنا مقصود ہے، نہ کہ کسی سکول کو اونچا اور نیچا دکھانا۔

1.انٹرنیشنل سکول
جو زیادہ تر ایمبیسیز کے لیےہوتے ہیں، عربی،انگلش سکول وغیرہ۔ یہاں ڈالرز،ریال کی کرنسی میں فیس وصول کی جاتی ہے۔ یہ چند بڑے شہروں تک محدود ہیں۔ عوام کا ان سے کچھ خاص لینا دینا نہیں۔اساتذہ،سلیبس عموما امپورٹڈ ہوتا ہے۔

2. انٹرنیشنل برانڈ کے سکول:
ان کی شاخیں چند ایک بیرون ممالک بھی ہیں، سو یہ سکول پاکستان کو عموماً لندن، پیرس سمجھنے اور سمجھانے پر تلے رہتے ہیں۔ یہاں کے بچوں کی سب سے بڑی خاصیت انگریزی درست بولنے اور زیادہ تر غلط لکھنے میں ماہر ہونا ہے۔اردو کو نہ سمجھنا، غلط اردو لکھنا اور اس پر فخر کرنا بھی خاص میدان ہے۔ پر اعتماد بلا کے ہوتے ہیں اور والدین کو اپنے فیصلوں میں زیادہ مخل نہیں ہونے دیتے۔
ان سکولوں کی فیس 15 سے 30 ہزار روپے ماہانہ کے درمیان ہے۔

3. انٹرنیشنل غیر برانڈڈ سکول:
ان اسکولوں کا نیٹ ورک بہت وسیع نہیں، لیکن زمینی طور پر پاکستان میں واقع ہونے کے باوجود، ان کا سسٹم بھی امپورٹڈ سٹف تیار کرتا ہے۔ فیس عموما 15سے 30 ہزار روپے ماہانہ۔

4.نیشنل برانڈڈ سکول
ان میں پاکستان کے سرکاری سکول، مقامی سکولزکی چین، جن کی شاخیں ملک بھر میں ہیں، شامل ہیں۔
عام پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کو انہی سکولوں میں بھیجتی ہے۔

یہ سکول بھی دو طرح کے ہیں:
ایک وہ جو اپنی اقدار پر فوکس کرتے ہوئے، سلیبس ترتیب دے رہے ہیں۔
دوسری طرح کے سکول، ماڈرن ہونے، نظر آنے کے چکر میں، ہنس کی چال چلنے پر مصر ہیں۔
ان کی ماہانہ فیس 5سے 12 ہزار روپے کے درمیان ہے۔

5.نیشنل غیر برانڈڈ سکول:
ان میں بہت سے معیاری تعلیمی ادارے شامل ہیں۔یہ عام طور پر شہروں کی سطح تک محدود ہیں۔ نسبتاً کم فیس میں معیاری تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ چونکہ یہ افراد کی ذاتی کوششوں سے قائم ہوئے ہیں، اس لیے ان کا دائرہ کار ایک شہر میں کئی برانچوں تک تو پھیل جاتا ہے لیکن وسائل کی کمی کے باعث قومی سطح تک اس کی شاخیں نہیں پھیل پاتیں۔ ان کی ماہانہ فیس 3 سے 8 ہزار روپے کے درمیان ہے۔

آپ کے بچے کےلیے کون سا سکول موزوں ہے؟
سکول منتخب کرتے وقت مندرجہ ذیل چند باتوں کو ذہن میں رکھنا مفید ہوسکتا ہے۔

1.سکول کی فیس زیادہ ہونا یا اس کا کسی پوش علاقے میں واقع ہونا ہرگز، میں دوبارہ دوہرادوں کہ ہر گز اس کے اچھا ہونے، یا آپ کے بچے کے روشن مستقبل کی ضمانت نہیں۔

2 ابتدائی کلاسوں میں (ایک سیکشن میں) بچوں کی بہت زیادہ تعداد نہ ہو۔ بیس سے پچیس بچے زیادہ سے زیادہ تعداد ہو سکتی ہے.

4۔ آپ میٹرک کرانا چاہتے ہیں یا او لیول، ابتدائی سطح پر اس سے خاص فرق نہیں پڑتا، کیونکہ ایک سی بنیادی مہارتیں ہیں جو ہر جگہ سکھائی جائیں گی۔ (پانچویں کلاس کے بعد، معاملہ مختلف ہے)

5. سکول منتخب کرتے وقت اس بات کو ضرور ذہن میں رکھیں کہ ان کے سلیبس میں دینی، قومی اقدار کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔ بعد میں ان کے Halloween قسم کے تہوار منانے پر احتجاج سے بہتر ہے کہ آغاز ہی میں آپ ان پر واضح کر دیں کہ آپ اس کلچر کی وجہ سے ان کا سکول منتخب نہیں کر رہے۔
وہ اپنے متوقع "گاہک" کی شکایت پر ضرور کان دھریں گے.

6۔ابتدائی چند جماعتوں کے بعد، کو ایجوکیشن کے متعلق آپ کا نظریہ شروع سے واضح ہونا چاہیے۔تاکہ بچے کو بار بار سکول تبدیل کرنے کے امتحان سے نہ گزرنا پڑے۔

7۔ بورڈ/ کیمبرج کا رزلٹ سکول کی تعلیمی کارکردگی جانچنے میں مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
8۔ اپنی آمدنی اور سکول کی فیس میں توازن جانچ لیجیے۔کیونکہ یہ ایک دو ماہ کی بات نہیں بلکہ مستقل خرچ ہے۔

9. اس امر پر کبھی افسردہ مت ہوں کہ آپ اپنے بچے کو مہنگے سکول میں داخل نہیں کراسکے بلکہ افسوس کرنے میں جو وقت گزارنا ہے، اسے بچے کے ساتھ ہنسنے کھیلنے میں گزار دیں۔ یہ مہنگی فیس ادا کرنے جیسا ہی ہے۔

10۔ اگر آپ کم تعلیم یافتہ ہیں تو سکول میں داخل کراتے وقت، انتظامیہ کو یہ بات بتانے میں کوئی حرج نہیں۔ زیادہ تر حالات میں وہ آپ کے بچے کو مناسب رہنمائی دیتے رہیں گے، بشرطیکہ آپ ہر بات کا ملبہ سکول پر نہ ڈالیں اور ان کے ساتھ تعاون کریں۔

11۔اگر تعلیم یافتہ ہیں تو اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ، دوسرے بچوں کی بھلائی کے لیے،جو تجاویز ہوں انہیں کھلے دل کے ساتھ دوسروں تک پہنچائیں۔ اب تقریباً تمام والدین سکول کے واٹس ایپ گروپوں میں موجود ہیں۔

12۔ایک اچھا سکول، ضروری نہیں کہ کسی بڑی چین سے جڑا ہو۔ افراد کی ذاتی کوششوں سے قائم ہونے والے سکول، جو برانڈ کا حصہ نہیں ہیں، اس میدان میں بہت عمدہ خدمات فراہم کررہے ہیں اور ان کی فیس بھی نسبتاً کم ہے۔

13۔ اگر سرکاری سکول میں داخل کرانے کا ارادہ ہے تو اسلام آباد میں رہنے والے اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ وہاں کے سرکاری سکول بہت معیاری ہیں۔
14۔دیگر شہروں کے سرکاری سکول میں بھیج کر آپ کو نسبتاً زیادہ توجہ دینا ہوگی۔کیونکہ ابتدائی کلاسوں میں انفرادی توجہ ہر بچے کی جائز ضرورت ہے۔

15۔ایک اچھا سکول، تربیت پر بھی اتنی ہی توجہ دیتا ہے جتنی کہ تعلیم پر۔لہذا سکول کے انتخاب میں اقدار کے پہلو کو کسی طور نظر انداز نہ کیجیے۔

دعا ہے آپ کے بچے کے تعلیمی سفر کا بہترین آغاز ہو۔وہ اچھا مسلمان،اچھا پاکستانی،کار آمد شہری بنے اور اپنے والدین کے لیے دنیا و آخرت میں قیمتی سرمایہ ثابت ہو۔
اگلی قسط میں گھر پر تعلیم کے اگلے مراحل پر بات ہو گی۔ان شاءاللہ.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */