یہ قرآن کی غلطی نہیں، آپ کی غلط فہمی ہے- ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

المورد کے متاثرین کا ایک عام گر صحافیانہ فنکاری ہے۔ چنانچہ اکثر آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہ اصل دلیل پر با ت کرنے کے بجائے جذباتی قسم کا عنوان دے کر پروپیگنڈا تکنیک اختیار کرتے ہیں۔

مثلاً غامدی صاحب کے خانہ ساز قانونِ وراثت کو "قرآن کا قانون" اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو "انسانی مداخلت" قرار دینے والے ایک جذباتی شذرہ لکھنے والے ڈاکٹر صاحب نے صحافیانہ فنکاری کی روایت برقرار رکھتے ہوئے آج اس پر مزید ردا چڑھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ "عول" کا اصول مانیں تو قرآن کے حساب میں غلطی ماننی پڑے گی۔ یہ وہی تکنیک ہے جو پرویز، اسلم جیراج پوری اور دیگر منکرینِ حدیث نے کئی دہائیاں قبل اختیار کی تھی۔کچھ نہیں تو پرویز کا مضمون "یتیم پوتے کی وراثت" ہی پڑھ لیجیے۔ مجال ہے کہ عول کے مسئلے پر ہمارے ان جذباتی ڈاکٹر صاحب یا ان کے مقتدا کے پاس پرویز کے اس مضمون سے آگے کی کوئی "دلیل "ہو۔ چونکہ ایسی بے بنیاد باتوں پر علمائے کرام پہلے ہی مفصل تنقید کرچکے ہیں، اس لیے ان پر مزید بحث کی ضرورت ہی نہیں ہے، لیکن جذباتی نوجوانوں کو اصل حقیقت دکھانے کےلیے چند مختصر نکات پیشِ خدمت ہیں:

1۔ پہلے تو اس اصولی حقیقت کو سمجھیے کہ یہ ہرگز ضروری نہیں کہ ورثا کے حصے یوں مقرر کیے جائیں کہ لازماً ہی پورا ترکہ ان میں تقسیم ہوجائے اور باقی کچھ نہ بچے، نہ ہی یہ ضروری ہے کہ تمام ورثا ایسے ہوں کہ ان میں حصص کی تقسیم کے بعد ہی ترکہ ختم ہوجائے۔ عین ممکن ہے کہ کبھی ترکہ باقی ہو اور مزید وارث نہ ہوں، تو ایسی صورت میں موجود ورثا کے حصص میں متناسب اضافہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ عین ممکن ہوتا ہے کہ کبھی ورثا زیادہ ہوں تو ان کے حصص میں متناسب کمی کی جائے۔

پہلی صورت کو "ردّ" کہتے ہیں اور دوسری صورت کو "عول"۔ مثلاً میت نے پیچھے صرف ماں چھوڑی تو ماں کا مقررہ حصہ یا تو چھٹا حصہ ہے (جب میت کی اولاد ہو) یا تیسرا حصہ ہے (جب میت بے اولاد ہو)۔ اب اس ماں کو تیسرا حصہ دے چکنے کے بعد باقی کا کیا کریں؟ یہ حصہ بھی ماں کو لوٹا دیا جاتا ہے اور اسے رد کہا جاتا ہے۔ یہاں ماں کا مقررہ حصہ 33 فیصد تھا لیکن وہ 100 فیصد کردیا گیا۔ اسی طرح اگر کسی عورت کے وارث کے طور پر شوہر اور دو بہنیں ہوں تو شوہر کو نصف اور بہنوں کو دو تہائی حصہ دینا ہوتا ہے لیکن ان کا مجموعہ اکائی سے بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے سب کے حصص میں متناسب کمی کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر شوہر کو 6 میں سے 3 حصے دینے کے بجائے 7 میں سے 3 حصے دیے جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ جب پہلی صورت میں 33 فی صد سے 100 فی صد کردیا اور یہ "قرآن کی غلطی" نہیں تھی تو دوسری صورت میں شوہر کے 50 فی صد کو 43 فی صد کردیا تو یہ "قرآن کی غلطی" کیسے ہوگئی؟ یعنی میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو؟

2۔ اس کے بعد دوسری اصولی حقیقت یہ نوٹ کیجیے کہ قانون جب بھی اصول دیتا ہے وہ عمومی حالات کےلیے ہوتا ہے اور ہمیشہ یہ امکان رہتا ہے کہ کچھ borderline cases ہوں جو ان عام اصولوں کے بجائے استثنائی ضوابط پر قائم ہوتے ہیں۔ مثلاً عام حالات کےلیے یہی اصول ہے کہ جس کا جو مقررہ حصہ ہے، وہ اسے دے دیا جائے لیکن بعض حالات میں ان حصص میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اور کمی بھی ہوسکتی ہے اور ایسے استثناءات سے اصول غلط ثابت نہیں ہوتا بلکہ انگریزی محاورے کے مطابق استثنا سے تو اصول کی صداقت ہی ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ جب یہ مسئلہ صحابۂ کرام کے سامنے اٹھا تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عول کا طریقہ اپنایا اور دیگر صحابہ نے تائید کی۔ بعض صغار صحابہ، جیسے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نے اگر اس سے مختلف راے قائم بھی کی تو ان میں کسی نے یہ بھونڈا نعرہ بلند نہیں کیا کہ عول کا طریقہ مان لیں تو یہ تو "قرآن کی غلطی"ہوجائے گی!

اس کی ایک اور مثال بھی ہے کہ اگر کسی عورت کی موت کی صورت میں ورثا صرف اس کے والدین اور شوہر ہوں (میت کی اولاد بھی نہ ہو اور بھائی بہن بھی نہ ہوں)، تو اگر عام قاعدے پر جائیں تو پہلے شوہر کو نصف اور ماں کو ایک تہائی دیا جائے گا (کہ یہ دونوں ذوی الفروض ہیں ، یعنی ان دونوں کے مقررہ حصے ہیں) اور پھر باقی میت کے والد کو ملے (کہ وہ عاصب ہے اور عاصب کو باقی ملتا ہے) لیکن ایسا کیا جائے تو میت کے شوہر کو 12 میں سے 6 حصے ، اور میت کی ماں کو 12 میں سے 4 مل جائیں گے ، جبکہ میت کے والد کےلیے 12 میں سے 2 بچ جائیں گے، حالانکہ قرآن کا عام اصول یہ ہے کہ ایک ہی سطح کے مرد و عورت میں مرد کو عورت سے دوگنا ملتا ہے۔ یہاں تو ماں کو باپ سے دوگنا ملا! سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی یہی راے تھی لیکن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جو راے اختیار کی، اور جسے صحابہ نے بالعموم قبول کیا، وہ یہ تھی کہ پہلے شوہر کو اس کا حصہ (12 میں سے 6) دیا جائے؛ پھر باقی میں تہائی ماں کو اور باقی (یعنی باقی کا دو تہائی) باپ کو ملے۔ یوں ماں کو باقی 6 میں سے 2 اور باپ کو 4 مل جائیں گے۔ یہ قرآن کریم کے لفظ کی بھی رعایت ہے (و ورثہ ابواہ) اور اصول کی بھی(للذکر مثل حظ الاثیین اور فلامہ الثلث)۔ تاہم غور کی بات یہ ہے کہ فریقین میں کسی نے اسے "قرآن کی غلطی" جیسی صحافیانہ سرخی نہیں دی۔ اسی نوعیت کا مسئلہ اس وقت بھی پیدا ہوتا ہے جب مرد کی موت کی صورت میں بیوی اور والدین اس کے وارث ہوں۔ ان دو مسائل کو "عمریّتان" کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا اصول سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مقرر کیا تھا۔

3۔ یہ جو ابھی اصول بتایا گیا کہ اصول عام حالات کےلیے ہوتے ہیں اور استثنائی صورتوں سے اصول غلط ثابت نہیں ہوتا، اس کی ایک دلچسپ مثال میراث کی آیات میں ہی موجود ہے۔ عام اصول،جیسا کہ ابھی ذکر کیا گیا، یہ ہے کہ ایک سطح پر موجود مرد و عورت میں مرد کو عورت سے دوگنا حصہ ملے (للذکر مثل حظ الانثیین)۔ یہ اصول قرآن کریم نے میاں بیوی، ماں باپ، بیٹے بیٹی اور بھائی بہن کےلیے بیان کیا ہے لیکن ماں شریک بھائی اور بہن ہوں تو ان کو تہائی حصے میں شریک قرار دیا گیا ہے (فھم شرکآء فی الثلث) اور اس وجہ سے فقہاے کرام نے تصریح کی ہے کہ تہائی حصے میں وہ برابر کے حق دار ہوں گے۔

4۔ عول کا اصول خلافِ قرآن بھی نہیں ہے۔ دیکھیے نا کہ قرآن نے اکیلی بیٹی کا حصہ آدھا مقرر کیا اور للذکر مثل حظ الانثیین کا اصول دے کر یہ بھی بتادیا کہ اکیلے بیٹے کو سارا ترکہ ملے گا ۔ تاہم اگر ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہو تو کیا کیا جاتا ہے؟ بیٹی کا حصہ 50 فی صد سے کم ہوکر 33 فی صد ہوجاتا ہے اور بیٹے کا حصہ 100 فی صد سے کم ہو کر 66 فی صد ہوجاتا ہے۔ یہی تو عول ہے!

5۔ عول کا اصول خلافِ قرآن کیا، خلافِ عقل بھی ہر گز نہیں ہے۔ ذرا ان صحافیانہ فنکاری کے گر آزمانے والے جذباتی دانشوروں سے پوچھ لیجیے کہ اگر زید کے ذمے عمرو کے 20 لاکھ، بکر کے 30 لاکھ اور علی کے 50 لاکھ کا قرضہ ہو، لیکن زید کا کل اثاثہ 80 لاکھ ہو،تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے گا؟ کیا عمرو کو 20لاکھ اور بکر کو 30 لاکھ دے کر علی سے کہا جائے کہ یار ، بس 30 لاکھ ہی باقی بچے ہیں، یہی لے لو؟ یا عمرو، بکر اور علی تینوں کے حصص میں متناسب کمی یوں کی جائے کہ عمرو کو 20 لاکھ کے بجائے 16 لاکھ، بکر کو 30 لاکھ کے 24 لاکھ اور علی کو 50 لاکھ کے بجائے 40 لاکھ دیے جائیں؟

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */