زندگی بدلنی ہے تو 12 منٹ کا فارمولا سیکھیں! - قاسم علی شاہ

خالق کائنات نے انسان کو احسن تقویم یعنی خوبصورتی کا نمونہ بنایا ہے اور اس کے اندر جہاں اور بہت ساری خوبیاں رکھی ہیں وہیں ایک خوبی ’’احساس‘‘ بھی ہے ۔یہی وہ صفت ہے جو انسان کو باقی مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے اور اسے اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کرتی ہے، لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسی احساس کے غلط استعمال سے انسان کبھی کبھار جانوروں کی صف میں بھی شامل ہوجاتا ہے۔

انسان کی شخصیت میں ’’احساس‘‘ کا بہت بڑا کردار ہے ۔ہر انسان کے ساتھ احساسات و جذبات (Feelings & emotions)ہوتے ہیں۔ہر جذبے اور احساس کے اپنے اپنے خاندان ہوتے ہیں۔چاہے وہ اچھے اور مثبت جذبات ہوں یا منفی ۔احساس کے یہ خاندان ان کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔آپ کبھی بھی کسی ایک غلط احساس کو نوٹ کریں، جلد ہی اس کے ساتھ دوسرا احساس بھی پیدا ہوجائے گا، کیونکہ ان کا آپس میں بہت گہرا رشتہ ہے۔

▪احساس کا دورانیہ

انسان کے اندر پیدا ہونے والے کسی بھی احساس کا دورانیہ 12منٹ تک ہوتا ہے ۔آپ کو کبھی کسی پرغصہ آئے یا پیا ر، وہ صرف 12منٹ کے لیے ہوگا۔ کسی بھی احساس میں اگر آپ 12منٹ تک اس پر قابو پالیں تو وہ خود بہ خود ہی ختم ہوجاتا ہے ۔آپ غصے کی حالت میں ہیں تو یہ آپ کے 12منٹ کا امتحان ہے ۔12منٹ تک آپ کسی بھی طرح ا س غصے کو ضبط کرلیں، کھڑے ہوجائیں، پانی پی لیں یا اس صورت حال کو چھوڑدیں تو وہ ختم ہوجائے گا،لیکن ہم غلطی یہ کرتے ہیں کہ ان بارہ منٹوں میں ہم اس احساس کو جانے نہیں دیتے، اس کو اپنی طبیعت کا حصہ بنالیتے ہیں جس سے وہ احساس لمبا ہوتا جاتا ہے اور اس کا خطرناک نتیجہ نکل آتاہے۔ایک انسان کو غصہ آیا ہو تو کوئی بات نہیں لیکن دوانسانوں کو بیک وقت غصہ آیا ہو تویہ غصہ ضرب کھاکر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔انسان میں پیدا ہونے والااحساس کہتا ہے میری جان چھوڑدو،میں نے12منٹ بعدچلے جانا ہے لیکن انسان اس سے چمٹ جاتا ہے او ر اس کو جانے ہی نہیں دیتا۔

احساس 12منٹ کے بعد باقی نہیں رہتا۔ اس کے بعد انسان کا جو بھی ری ایکشن ہوتا ہے، وہ اس کی اپنی پریکٹس کا عمل دخل ہوتا ہے ۔بارہ منٹ کے بعد بھی احساس کو نہ چھوڑنے والا انسان اسی کیفیت کو اپنے مزاج کا حصہ بنالیتا ہے۔ جس سے عادت بنتی ہے اور عادت آگے شخصیت کے روپ میں ظاہر ہوتی ہے۔

▪مزاجوں کی تعداد

انسان کے کل 16مزاج ہیں۔انسان ہر روز اِن سولہ قسم کے مزاجوں کا سامنا کرتا ہے ۔ان مزاجوں سے باہر کوئی بھی نہیں جاسکتا۔جیسے ایک شخص کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ وہ کوئی بھی انوکھی چیز دیکھتا ہے یاانوکھی بات سنتا ہے تو حیرت سے کہتا ہے:’’ہیں۔۔۔!!‘‘اسی طرح ایک مزاج اور ہے جس میں انسان ایک دم سے خوش ہوجاتا ہے اور مسکرانے لگ جاتا ہے ۔پاس بیٹھنے والے پوچھتے ہیں کہ کیوں مسکرارہے ہیں ؟اوراس کا جواب ہوتا ہے کہ کوئی خاص وجہ نہیں ،بس ویسے ہی۔
ہر وہ احساس جس کو بار بار آپ نے خوراک دی ہو وہ آپ کی طبیعت کا حصہ بن جاتا ہے ۔آپ کو ہر انسان کے کچھ موڈز ملیں گے ۔ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اچھا بھلا شریف انسان ہو لیکن اس میں شک کرنے کی عاد ت ہو،کیونکہ اس نے شک والے احساس کو مزاج اورعادت بناکر اپنی شخصیت ہی ایسی بناڈالی۔اب جیسے ہی اس کی شخصیت سامنے آئے گی تو آپ کہیں گے کہ وہ انتہائی شریف انسان ہے لیکن اس کو شک کرنے کی عادت ہے۔

ایک انسان وہ ہے جو انتہائی جنٹل مین ہے ۔آپ کے خیال میں وہ بالکل ٹھیک ہے ۔کسی کا حق نہیں رکھتا، ظلم نہیں کرتا، لیکن اس کے اندر بیزاری اور چڑچڑا پن ہے۔وہ اکتاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اندر12منٹ کے لیے کہیں یہ احساس آیا تھا اور اس نے اس کر پکڑ کر اپنی شخصیت بنالی۔

ایک اور انسان ہے جس کو اللہ نے بہت نوازا ہے ۔وہ پہلے زیرو تھا ، اب ہیرو بن گیا۔چھوٹی گاڑی سے بڑی گاڑی ہوگئی ۔پیسے تھوڑے تھے اب بینک بیلنس بڑھ گیا ۔فیکٹری چھوٹی تھی اب بڑی ہوگئی ۔اولاد ایک تھی اب چھے بچے ہوگئے ہیں، لیکن زندگی کے کسی موڑ پر چند لمحوں کے لیے ناشکرے پن کا ایک احساس آیا،جس کو اس نے جانے نہیں دیا۔کچھ عرصے بعد پھر یہی احساس آیا ،اس نے پھرجانے نہیں دیا۔ اپناتے اپناتے وہ اس کے مزاج میں ہی آگیا۔اب وہ یہ نہیں دیکھتا کہ میری زندگی میں کیا کچھ موجود ہے ۔وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ میرے پاس فلاں فلاں چیز یں نہیں ہیں۔یاد رکھیں!جس انسان کی بھی یہ عاد ت بن جائے کہ میرے پاس یہ یہ چیزیں نہیں ہیں تو پھر اس کے پاس اگر کچھ ہوتا بھی ہے تو وہ اس کو انجوائے نہیں کرسکتا۔آپ کو بہترین گاڑی میں بیٹھے لوگ بھی روتے ہوئے ملیں گے۔شاندار گھر کے ہوتے ہوئے بھی آپ کو ایسے لوگ ملیں گے جو کہتے ہیں: ’’یہ بھی کوئی زندگی ہے؟‘‘

لہٰذا جیسے ہی وہ شخص ناشکرے پن میں مبتلا ہوا ، اس کے پاس موجود نعمتیں گھٹنے لگیں او ر پھر ایک وقت ایسابھی آیا کہ وہ پائی پائی کا محتاج ہوگیا۔صرف بارہ منٹ کے ایک غلط احساس نے اس کی زندگی سے تمام نعمتیں چھین لیں۔

آپ نے زندگی میں بہت کچھ کمالیا، شاندار ترقی کرلی لیکن ایک دفعہ ناشکرے پن کا احساس آیا اور آپ نے اس کو مزاج کا حصہ بنالیا تو یقین کیجیے! باوجود ایک شاندار زندگی کے، آپ کی زندگی مشکل ہوجائے گی۔ شکر کا تعلق وسائل کے ساتھ نہیں ہے، بلکہ احساس کے ساتھ ہے کہ جو میرے پاس ہے، اس میں میرا کوئی کمال نہیں بلکہ میرے اللہ کا کمال ہے۔ شکرگزاری دراصل اللہ کی یاد ہے۔اللہ کی یاد یہی ہے کہ نعمتیں دی ہیں تو نعمتیں دینے والے کو بھولا نہ جائے۔ کرم ملے ہیں تو کرم کرنے والے کو بھولا نہ جائے۔ اتنے حوالے بنے ہیں تو حوالے بنانے والوں کو بھولا نہ جائے۔ نصیب ملا ہے تو نصیب کی تخلیق کرنے والے کو بھولا نہ جائے۔ لمحہ بہ لمحہ اپنی خوش نصیبی کو یاد رکھنا اور خوش نصیبی دینے والے کو یاد رکھنا ہی دراصل ایمان ہے۔ یہی یقین ہے اوریہی باری تعالیٰ کا کرم ہے۔

▪ماں کی ممتا، باپ کی بپتا

اللہ نے ایسا نظام پیدا کیا ہے کہ باپ کے دل میں شفقت اور ماں کے دل میں رحم ڈال دیا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں 63فیصد سانپ کے بچوں کو سنپنی کھاجاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس کے دل میں ممتا نہیں ہے۔ ہم سب اگر اپنی زندگی پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ ہم ماں کی گود میں پلتے بڑھے ہیں۔ہماری والدہ خود گیلی جگہ پر سوتی اور ہمیں خشک جگہ پر سلاتی۔ کیسے وہ منہ سے چباکر کھلاتی رہی، کیسے وہ ہماری تکلیف پر بے قرار ہوجاتی۔ ہمارے بیمار ہونے پر کیسے وہ ہمیں ڈاکٹروں کے پاس لے کر بھاگتی تھی۔آج بھی جن کی مائیں موجود ہیں، وہ ان کے لیے بغیر کسی غرض کے دعا ئیں کرتی ہیں۔ ممتا کی کوئی تنخواہ انہیں نہیں ملتی۔ باپ کی شفقت کا اس کوکو ئی حق الخد مت نہیں ملتا۔ہم پر یہ سب محض اللہ کابہت بڑا انعام ہے۔

انسان ہر وقت اللہ کے کرم کے حصار میں ہوتا ہے۔صرف ایک عضو پھیپھڑے بھی اگر کام کرنا چھوڑدیں تو انسان وینٹی لیٹر پر بے بس پڑا ہوگا۔ ہم سب سانس لے رہے ہیں، یہ اللہ کا کتنا شکر اورکرم نوازی ہے اور کمال یہ ہے کہ ہمیں حق سے زیادہ عطا کیا جارہا ہے۔میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ہم میں سے کوئی بھی انسان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ اس کے گناہ لوگوں کے سامنے آشکار ہوجائیں۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اللہ مجھ پر اپنے پردے ڈال دے اور مجھے معاف کردے اور وہ ستارالعیوب ذات گناہ گاروں پر پردے بھی ڈال رہا ہے اور ساتھ میں نعمتیں بھی دے رہا ہے.

▪شکر گزاری ، دلی کیفیت

شکر دل کی کیفیت کا نام ہے ۔اگر دل میں اپنی اوقات سے بڑھ کر نعمتیں حاصل کرنے کا احساس نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ شکر گزار نہیں ۔یہ شکر گزاری اگر آپ نے خود پر طاری نہیں کی تو آپ شکر کا مزہ نہیں لے سکتے۔یہ بات لکھ کر رکھ لیں کہ جتنے آپ شکر گزار ہوں گے، اتنے آپ خوش ہوں گے۔اتنا ہی آپ زندگی کو بھرپور طریقے سے انجوائے کریں گے، کیونکہ آپ کو حق سے زیادہ مل رہا ہے۔ کبھی آپ زندگی کی کسی ایک کامیابی کو سوچ لیں کہ اس میں آپ کی اپنی عقل کہاں تک تھی اور اللہ کا کرم کہاں تک تھا۔ ذرا مڑ کر اپنی زندگی میں دیکھ لیجیے گا کئی لوگ ایسے ہوں گے جو آپ کی زندگی میں محسن بن کر آئے ہوں گے۔ جنہوں نے آپ پر ایسا احسان کیا جو آپ کا حق نہیں تھا۔ معلوم نہیں کیسے ان کے دِل میں بات آئی کہ اس کے لیے کوئی آسانی پیدا کردوں اور انہوں نے کر بھی دی۔

ہم میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں شکر ادا کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔یہ درست نہیں، کیونکہ انسان ناشکری کرتے ہوئے نہیں شرماتا تو شکرگزار ہونے پر شرمانا کیسا؟ واصف علی واصف ؒ کا جملہ ہے
’’جو اپنے آنکھوں دیکھے محسن کو نہیں مانتا ،وہ اپنے رب کو کیسے مانے گا؟‘‘

آپ کے دوست، آپ کا باس اور وہ تمام لوگ جنہوں نے کوئی کام شروع کرانے میں آسانی پیدا کی ہو، کسی نے کوئی علم سکھایا ہو، کسی نے کوئی رستہ بتایا ہو، یہ سب آپ کے محسن ہیں، جن کا شکریہ ادا کرنا آپ پر واجب ہے۔

▪معاشرتی اسلام کی ضرورت

اس معاشرے میں شکرگزاری کا مزاج بڑھانے کی اشد ضرورت ہے،کیونکہ یہاں بے قدراپن بہت زیادہ ہے۔لوگ قدردانی نہیں کرتے۔نہ دوستوں کی، نہ اساتذہ کی، نہ والدین کی اور نہ ساتھ رہنے والوں کی ۔ہمارے معاشرے میں اگر شکر گزاری بڑھ جائے تو یقین جانیں اس جیسا مثالی معاشرہ آپ کو کہیں اور نہیں ملے گا۔آپ باہر کسی ملک جائیں تو وہاں پر Thank youکا لفظ بہت عام ہے۔ دوسرا لفظI am sorryہے جس کے ساتھ وہ لوگ معذرت کرتے ہیں۔

ہمارے ملک میں معاشرتی اسلام پڑھانے کی بہت ضرورت ہے۔اسلام صرف تبلیغ کانام نہیں ہے، بلکہ کرکے دکھانے کا نام اسلام ہے۔ایسا ایمان اور دین جو آپ کو شکر گزار نہ بنادے تو پھر یہ کیسا دین ہے؟حالانکہ آپ ﷺ نے واضح انداز میں فرمایا:
’’جو انسانوں کا شکرگزار نہیں وہ اللہ کا بھی شکرگزار نہیں۔‘‘(سنن ابی داؤد/کتاب الادب/حدیث نمبر:4811)

▪ایکٹویٹی

اس تحریر کو پڑھنے کے ساتھ میری آپ سے درخواست ہوگی کہ آج ہی آپ نے اپنی زندگی کے دو تین ان محسنوں کو یاد کرنا ہے جنہوں نے آپ پر کبھی بھی احسان کیا ہواور ابھی آپ کاان سے رابطہ نہیں ۔آپ فون کال ، میسج یا وائس میسج کے ذریعے ان کا شکریہ ضرور ادا کریں ۔اس کے ساتھ یہ بات ضرور ذہن میں لائیں کہ اگر ابھی آپ کو کسی کا فون آجائے جو آپ کی کسی نیکی پر آپ کا شکریہ ادا کررہا ہو تو آ پ کو کیسا لگے گا؟یقینا یہ آپ کوبہت خوش گوارلگے گا ۔ بس یہی سوچ کر آپ بھی اپنا فون اٹھائیں اور اپنے محسنوں کے شکر گزار بن کر مخلوق کے ساتھ ساتھ اپنے کریم خالق کوبھی راضی کرلیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */