صنفی نہیں، سماجی مسئلہ - رقیہ اکبر چودھری

آج ایک تحریر نظر سے گزری جس میں دوسری شادی کے حوالے سے ایک مسئلہ بیان کیا گیا تھا۔

ایک صاحب دوسری شادی کے خواہشمند ہیں. جن کی پہلی بیوی کا انتقال ہو گیا۔ تین بچوں کا ساتھ اور اکیلے سنبھالنا مشکل۔ لکھا تھا کہ شادی کے لیے جو در کھٹکھٹایا جواب کچھ یوں ملے۔

40 کے سن میں دوسرے کے بچے پالنے کا سٹیمنا کہاں سے لاؤں؟
والدہ کہتی ہیں دوسرے کے بچے پالنا مشکل ہے تمہارا تو بی پی شوٹ کر جاتا ہے اور مہرے کا بھی مسئلہ۔۔
طلاق یافتہ نے کہا مرد پر بھروسہ نہیں۔

غرض زیادہ تر کا اپنا یا اس کے گھر والوں کا صرف ایک ہی مسئلہ تھا کہ دوسروں کے بچے پالنا بہت مشکل ہے۔

محترم مضمون نگار نے پوری دیانتداری کے ساتھ معاشرے کا ایک نفسیاتی تجزیہ پیش کیا۔

ہم اس کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے مسئلے کی جڑ تلاش کرنے اور حل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اس سے پہلے تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں۔

میری بہت قریبی ایک دوست ہیں۔ گوری چٹی لمبا قد راجپوت خاندان سے۔ انگلش میں ایم فل کی ڈگری اعزازی گریڈ میں۔گورنمنٹ جاب کرتی ہیں 17 ہویں گریڈ میں۔

دو بیٹے ہیں۔ شادی کے تیسرے سال شوہر ایک حادثے میں چل بسے۔صرف تین سال کی ازدواجی زندگی کے بعد بیوگی۔ کتنا بڑا روگ ہے۔ یقینا سب بیٹیوں والوں کو بخوبی اندازہ ہوگا۔ سسرال میں شوہر ہی کے گھر میں رہتی ہیں لیکن دوسری شادی کی صورت میں گھر سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔بیسیوں دوستوں نے رشتہ ڈھونڈنے کی کوشش کی شرط صرف یہ تھی کہ میں اپنے بچے ساتھ رکھوں گی۔

مگر چودہ سال گزر گئے۔ بچے بڑے ہوگئے، ایک بھی رشتہ نہیں ملا ، جو بھی آتا یہی شرط بچے نہیں لے کے جائے گا بس۔
گھر بھی دے گا، نان نفقہ بھی، سکون اور محبت بھی مگر کسی اور کے بچے نہیں پالے گا۔

ایک اور کیس بھی ایسا ہی۔۔۔ میری کلاس فیلو۔۔۔لمبا قد، خوبصورت گوری چٹی۔۔۔بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی۔۔کزن اس حسن پہ فدا ہوگیا اور شادی ہوگئی۔ پندرہ دن گزرے تھے ابھی میں اسے مبارکباد دینے جانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ شوہر کی حادثاتی موت کی اطلاع آگئی۔ قدرت کا کرشمہ کہوں کہ ستم ظریفی اللہ نے گود ہری کردی۔ بیوگی کے دن سسرال میں گزارے۔ بیٹا پیدا ہوا خالہ (ساس) نے بھی کہا اور والدین نے بھی کہ شادی کردی جائے مگر بچے کے ساتھ کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں، کنوارا تو دور کی بات نہ رنڈوا نا دوسری شادی کا امیدوار۔آخر بچہ سسرال نے اپنے پاس ہی رکھ لیا کیوں کہ والدین اپنی کسمپرسی اور بزرگی کے باعث نہیں سنبھال سکتے تھے تب کہیں ایک رنڈوے کے دو بچوں کو پالنے کے لیے اس کے گھر سدھار گئی۔۔۔دل پہ پتھر کیسے رکھا یہ اس سے مل کر اس کی حالت دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔

یہ صرف دو کیس ہیں۔ ایسے ہزاروں کیس ہمارے ارد گرد بکھرے پڑے ہیں۔ کون مرد ہے اتنا جی دار کہ دوسرے کے بچے پالنے پہ راضی ہوجائے؟ شاید کوئی نہیں، یا شاید کچھ ہوں بھی مگر کتنے؟ مگر سوال یہ نہیں کہ ریشو کس کی زیادہ ہے کس کی کم۔۔سوال یہ ہے کہ کوئی بھی مرد یا عورت بچوں والے یا بچوں والی سے شادی کرنے سے کیوں کتراتا ہے؟

کیا یہ صنفی یا معاشی مسئلہ ہے؟ آخر کھانا روٹی تو اپنے بچوں کا بھی کر لیتی ہیں ساری عورتیں اور اپنے بچوں کا خرچہ پانی بھی سارے ہی مرد پورا کرتے ہیں۔۔پھر کیا وجہ ہے کہ کوئی یہ ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں؟

کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت سوتیلوں سے نفرت کرتی ہیں اور مرد کسی کے بچوں پہ اپنا سرمایہ نہیں خرچ کرنا چاہتا؟
مضمون نگار نے کا یہ شکوہ ہے کہ اپنے بچے سمجھ کر پالنے کو کوئی عورت تیار کیوں نہیں ہوتی جبکہ "کسی بچے کے لاشعور میں سگے اور سوتیلے کا تصور ہی نہیں، باپ تو ایک ہے اور ماں تو سانجھی ہوتی ہے"
یا وجہ معاشی خود مختاری ہے جیسا کہ لکھا تھا
"عورت چونکہ کمانے لگ گئی۔ معاشی طور پر آزاد ہو گئی اس لیے انہیں گھر بسانے کی آرزو نہیں رہی"

چلیں اس مسئلے کو ذرا بالغ نظری سے دیکھیں۔ہر کوئی پرائے بچوں کو پالنے سے کیوں کتراتا ہے؟
دل پہ ہاتھ رکھ کر بتایئے کیا ماں واقعی سانجھی ہوتی ہے؟ اسے آپ اور میں (جو اس گھر کا حصہ تو نہیں ہوتے ) سانجھا رہنے دیتے ہیں؟

اول تو دونوں فریق ہی دوسرے پر اپنے بچوں کے حوالے سے اعتبار نہیں کرتے۔۔۔۔دو چار سال بیوی/شوہر کو پرکھنے کے بعد وہ اعتبار کر بھی لیں تو یہ سماج کبھی بھی نہ اس عورت کو نہ اس مرد کو قابل اعتبار بننے دیتے ہیں جو بچوں کا سگا نہیں ہوتا۔۔
سچ کہا بچوں کے لاشعور میں سگے اور سوتیلے کا تصور نہیں ہوتا، مگر ان کے خاندان بھر کے بڑوں ،چھوٹوں کے شعور میں یہ تصور راسخ ہوچکا ہے کہ سوتیلی ماں یا سوتیلا باپ کبھی قابل اعتبار نہیں ہوتے اور یہ زہر وہ قطرہ قطرہ ان بچوں کے دل و دماغ میں انڈیلتے رہتے ہیں جس کا انجام ہم سب دیکھتے رہتے ہیں۔

تو جناب یہ صنفی نہیں، سماجی مسئلہ ہے اس لیے اسے صنفی رنگ دے کر الجھانے اور صنفی جنگ چھیڑنے سے گریز ہی بہتر۔

مانا کہ بچوں کے دل و دماغ میں سگے اور سوتیلے کا تصور نہیں ہوتا، لیکن ان کے ارد گرد والوں کے دل و دماغ میں یہ تصور بہت پختہ ہوتا ہے اور اسے وہ بالآخر بچوں کے دل و دماغ میں بھی راسخ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

کبھی بچوں کا سگا باپ/ ماں انہیں اپنے عمل سے یہ احساس دلاتے ہیں کہ یہ ماں/ باپ تمہارا سگا نہیں ہے، اس پر نہ میں اعتبار کرتا/کرتی ہوں نا تم کرو۔۔۔۔اگر بالفرض محال شوہر یا بیوی سوتیلے رشتے پر اعتبار کر بھی لیں تو چاچے مامے، چاچی مامی، نانا، دادا اور نانی دادی، پھوپھو خالہ یہاں تک کہ اہل محلہ بھی چیل کی طرح آنکھیں گاڑے اس رشتے کا ایکسرے کرتے اور داروغہ کے فرائض سرانجام دینے کو ہمہ وقت تیار ملتے ہیں۔

ہائے بچہ سوکھ کر کانٹا ہوگیا۔ سوتیلی ماں ہے ناں بچے کا خون خشک کر رکھا ہے۔
ہائے بیٹا کاش تیری اپنی ماں/باپ زندہ ہوتی/ہوتا تو پھولوں کی طرح سنبھال کر رکھتے مگر یہ تو سوتیلے رشتے ہیں اور سوتیلی تو ناگن ہوتی ہے۔

دیکھ بچی کو گود میں اٹھائے پھرتا ہے ہر وقت۔ بھلا سوتیلے باپ کو بھی کبھی اتنا پیار ہوتا ہے؟ یہ تو لگتا کسی اور ہی چکر میں ہے۔

ہائے ہائے بچے پہ ہاتھ اٹھایا۔۔تیرے ہاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے بچے کو مارتے ہوئے؟ دیکھتی میں یہ تیری اپنی کوکھ سے جنا ہوتا/تیرا اپنا خون ہوتا تو تو کیسے ہاتھ اٹھاتی/اٹھاتے اس پہ۔

اب بچے کا جتنا بھی بڑا قصور اور غلطی ہو سوتیلی ماں یا باپ کو سو لوگوں کے آگے جواب دہ ہونا پڑتا ہے چوبیس گھنٹے گویا کٹہرے میں کھڑا رہنا پڑتا ہے وہ بھی ساری دنیا کے آگے۔۔اور اس بچے کے دل میں سوتیلے رشتوں کے لیے نفرت پروان چڑھنے لگتی ہے۔

آپ بھی تو ہر ناانصافی پہ یہی رونا روتے ہیں کہ نہیں۔۔۔
فلاں سے سوتیلوں جیسا سلوک ہو رہا ہے؟
بلوچستان سے وفاق سوتیلی ماں جیسا سکوک کرتا ہے۔۔۔
کراچی سے سوتیلے بیٹے جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔۔۔وغیرہ وغیرہ

گویا آپ سب اس بات پر متفق ہیں کہ سوتیلا رشتہ کبھی سچا اور مخلص نہیں ہو سکتا؟
جب ہم سب کا یہ ماننا ہے اور ہم دن رات اس کا راگ بھی الاپتے رہتے ہیں تو کیسے توقع رکھی جا سکتی ہے کہ کوئی عورت یا مرد سوتیلا رشتہ بنانے پہ راضی ہو گا؟

جب سارا سماج ہی جج بن جائے، جب ساری دنیا ہی نیتوں پہ شک کرنے لگ جائے۔ جب سارا محلہ سوتیلے کے ہر عمل کو اپنی سوچ اور خیال کی چھلنی سے چھاننے لگے تو کیسے کوئی اس چھلنی میں خود کو ڈالنے پہ تیار ہوگا؟

آخر ہر ایک کے مقرر کردہ نیکی و بدی کے پیمانے، ہر ایک کی بنائی کسوٹی پہ کوئی کیسے پورا اتر سکتا ہے؟

جب ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کی بجائے دوسروں کے گھروں میں تانکا جھانکی کریں گے تو کیسے کوئی سکون سے رہ سکتا ہے؟ آپ ہی ایمانداری سے بتایئے 40 سالہ عورت جس کی ہمت بہت حد تک کم ہوچکی ہوتی ہے یا بلڈ پریشر کی مریضہ جس کے مہرے بھی ہلے ہوئے ہوں، کیسے تندہی سے بچوں کا خیال اور خدمت کر سکتی ہے اور اگر وہ نہ کر پائے تو کیا معاشرہ اور وہ شوہر اس کے ہر عمل کو "سوتیلے پن" کی عینک سے نہیں دیکھیں گے؟

اپنی سگی ماں پینتیس کی بھی ہو تھک ہوئی ہو تو شوہر بھی مارجن دے گا اور بچے بھی، کھانا بازار سے آ جائے گا۔ ہوسکتا ہے کچھ خفگی بھی شوہر کے چہرے پہ نظر آ جائے، مگر سوتیلے پن کا طعنہ نہیں دے گا۔۔اپنا باپ مار مار کر چمڑی ادھیڑ دے کوئی کچھ بھی نہیں کہے گا مگر سوتیلا باپ ہاتھ اٹھانے کا اشارہ بھی دے دے تو ساری دنیا سنگسار کرنے پہنچ جائے گی۔

یاد رکھیں دنیا میں پیش آنے والا ہر مسئلہ صنفی نہیں ہوتا نا ہی ہمیشہ بس وہی دو فریق ہی قصوروار ہوتے ہیں جنہیں شوہر یا بیوی کہا جاتا ہے۔ کئی ایک بلکہ زیادہ تر مسائل "دنیا والوں" کی اپنی حدود سے تجاوز کرنے اور اپنے اخلاقی کمزوریوں کے سبب جنم لیتے ہیں جس کا خمیازہ پھر کبھی ایک گھر اور کبھی پورے سماج کو کو بھگتنا پڑتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */