حقوق کراچی۔۔۔مارچ کیوں؟؟ - افشاں نوید

اس کا ککڑ مر گیا ہے۔۔۔۔
بمشکل آٹھ برس عمر ہوگی ضلع سانگھڑ کے اس بچے کی۔

اس کی بغل میں اس کا مردہ مرغا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا میرا ککڑ گندہ پانی پی کر مرگیا۔
میں بھی گندہ پانی پیتا ہوں بلاول تم کہاں ہو؟ کیا جب ہم مرجائیں گے تب تم آؤگے؟

جی چاہا معصوم جان کے ہاتھ چوم لوں۔
اس کے شعور کو سلام پیش کروں۔

اس کے والدین کو مبارکباد دوں جن کے معصوم بچے کا سیاسی شعور اتنا پختہ ہے کہ وہ مسئلہ کو صحیح تناظر میں دیکھنے کے قابل ہے۔

وہ نونہال کیمرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دھواں دار انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہا ہے۔

وہ اپنی غربت کو موردالزام ٹھہراتا ہے نہ
والدین سے ضد کرتاہے کہ اسے نیا ککڑ دلائیں۔

وہ بائیس کروڑ عوام کی اجتماعی دانش کو چیلنج کرتا ہے کہ ہمیں بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنا حکمرانوں کے سوا کس کی ذمہ داری ہے؟

جب ضلع سانگھڑ کے گاؤں کے معصوم بچے کو یہ معلوم ہے کہ اس کے ککڑ کا خون بلاول کی گردن پر ہے تو ہم اہلیان کراچی کیوں بھول گئے کہ بلدیہ فیکٹری کے ڈھائی سو سے زائد مزدوروں کا خون کس کی گردن پر ہے؟

کراچی میں کچرے کے ڈھیروں سے اٹھنے والا تعفن کس کا مرہون منت ہے؟
اس قیامت خیز گرمی میں دس دس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا ذمہ دار کون ہے؟

ایک طرف ادھڑی ہوئی سڑکیں، دوسری طرف العطش کی صدائیں،تیسری طرف آئے روز مخدوش عمارتوں کے سانحات۔۔

حالیہ بارشوں کے بعد اہلیان ڈیفنس کی آہ و بکا ہو یا
تنگ گلیوں اور فلیٹوں کے رھائشی۔۔۔
ہم سب محرومی کو اپنا مقدر سمجھ کر قبول کر بیٹھے۔

نہیں ہم بدقسمت نہیں بد قسمت وہ ہیں جن کو موقع دیاگیا اور انھوں نے روشنیوں کے شہر کو ظلمتیں دیں۔
جنھوں نے جوانوں سے قلم چھین کر ان کے ہاتھوں میں کلاشنکوف دی۔
جنھوں نے روٹی،کپڑا،مکان کا نعرہ دے کر بھوک اور عسرت غریب عوام کا مقدر بنائی۔

اب وقت ہے ہمارا ہاتھ ظالموں کی گردن تک جانا چاہیے۔
دہائی دینے سے کچھ نہیں ہوتا۔
حق بھیک نہیں ہوتا کہ
جو دے اس کا بھی بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا۔

ککڑ سے محرومی ایک ننھے بچے کی آنکھوں میں نمی لے آئی،ہم ڈھائی کروڑ شہری کس کس نعمت سے محروم کردیے گئے؟؟
اربوں ٹیکس دینے والا شہر گندگی کا ڈھیر،بجلی،پانی سے محروم ہے۔۔۔

آئیے سانگھڑ کے بچے سے سبق سیکھیں اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں۔
وقت کے بلاولوں،زرداریوں،تیر اور بلے سے گلو خلاصی حاصل کریں۔
جو خود کو بدلنے کے لیے نہیں اٹھتے قدرت بھی ان پر رحم نہیں کھاتی۔۔
گھروں،چوک چوراھوں پر بہت آہ و بکا کرچکے۔

27 ستمبر کو شاہراہِ قائدین پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے گھروں سے نکلنا ہوگا۔
زندہ قوم کا نصیب محرومی و مجبوری کیوں ہو؟
ان کے ساتھ کھڑے ہوں جو آپ کے اپنے ہیں،
جو آپ کے دکھوں میں اس وقت بھی میدان عمل میں ہوتے ہیں جب ایوانِ اقتدار میں نہیں ہوتے۔
اس لیے کہ ان کو اقتدار کی ہوس نہیں آپ کے حقوق کا تحفظ مطلوب ہے۔
حقوق کی جنگ ہمیں مل کر لڑنا ہوگی اپنوں کے ساتھ۔

Comments

افشاں نوید

افشاں نوید

روزنامہ جسارت میں کالم لکھتی ہیں۔ نوید فکر کے نام سے کالموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، اسی عنوان سے 5 ماہناموں میں تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */