معرکہ (12) - ریحان اصغر سید کی شاہکار کہانی

پہلی قسط
دوسری قسط
تیسری قسط
چوتھی قسط
پانچویں قسط
چھٹی قسط
ساتویں قسط
آٹھویں قسط
نویں قسط
دسویں قسط
گیارہویں قسط

ویرانے میں میں کسی دیو کی طرح کھڑی یہ صدیوں پرانی خانقاہ ابھی بھی اپنی بہترین حالت میں تھی۔ قیمتی آراٸشی پتھر سے سجے ہوٸے اس کے چار مینار، بلند چھت، قدیم سرخ اینٹوں سے بناٸی گٸیں بے حد موٹی دیواریں، تین بڑے محرابی مرکزی دروازے بالکونیاں، گول ستون، بہت بڑی بڑی لکڑی کی کھڑکیاں اور ان میں لگے رنگ برنگے شیشے، قرآنی آیات سے مزین گنبد۔ بلاشبہ یہ قدیم عمارت فن تعمیر کا ایک شاہکار تھی۔

ان کی کل تعداد چالیس تھی۔۔ جن میں سے زیادہ تر ادھیڑ عمر تھے۔ان کے چہروں کی الگ الگ ساخت، مختلف رنگ روپ ان کے متفرق زمینوں کا باسی ہونے کا پتا دیتے تھے۔۔لیکن اس کے باوجود ان کے سفید لباس، ایک جیسے عمامے اور سفید داڑھیوں کی ایک جیسی تراش خراش کی بدولت ان میں کافی مماثلت بھی دکھاٸی دیتی تھی۔ وہ سب عمارت کے مرکزی ہال کے اندر، عین گنبد کے نیچے، ایک بڑے داٸرے کی شکل میں بیٹھے ہوٸے تھے۔ داٸرے کے محراب والے کنارے پر مجلس کے امیر تشریف فرما تھے۔ ان کا نام شمس البرکت خوارزمی تھا۔ شمس کی پشت پر محراب کے اوپر کوٸی بیس فٹ بلند اور پندرہ فٹ چوڑی شفاف شیشے کی کھڑکی تھی۔ جس میں سے چاند ستاروں کی روشنی یوں چھن کے اہل مجلس کے نورانی چہروں پر پڑ رہی تھی کہ ان کے چہرے بڑے افسانوی لگ رہے تھے۔ پورے ہال میں عود کی خوشبو پھیلی ہوٸی تھی۔ امیر مجلس نے بڑی پرسوز آواز میں تلاوت قرآن پاک سے محفل کا آغاز کیا۔ انھوں نے سورہ اعراف کی آیت نمبر گیارہ سے لیکر آیت نمبر اٹھاٸیس تک تلاوت کی۔ جس کا موضوع حضرت آدم کی تخلیق، خدا کا فرشتوں کو سجدے کا حکم، ابلیس کا انکار نیز انسان کے مقابلے میں برتری اور غرور کا اظہار، اللہ کے ہاں راندہ درگاہ قرار پانا اور شیطان کی قیامت تک مہلت طلب کرنا، مہلت ملنے پر روز محشر تک انسانوں کو بہکانے کا عزم اور دھوکے سے آدم و حوا کو خدا کی حکم عدولی پر مجبور کر دینا تھا۔

تلاوت کے بعد مجلس کے امیر نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنی شروع کی اور اپنی قادر الکلامی سے سماں باندھ دیا۔ پھر وہ نبی کریمﷺ کی ذات بابرکات کے خصاٸل کی طرف آٸے تو ماحول کو سیرت النبی کے نور نے ڈھانپ لیا۔

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ گویا ہوٸے۔

”اقرا“ میں جو المناک سانحہ پیش آیا ہے۔۔ اس کی وجہ سے یقیناً تمام اہل خیر اور اہل مجلس کے دل افسردہ ہیں۔ ہم اسی مقصد کے لیے یہاں جمع ہوٸے ہیں کہ اس حملے پر اپنے ردعمل کی جہت اور مقدار کا تعین کر سکیں۔ میں مجلس کے تمام معزز ممبران سے ملتمس ہوں کہ اس سلسلے میں مجلس کی راہنماٸی فرماٸیں۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنے داٸیں ہاتھ بیٹھے ایک بزرگ کو گفتگو میں حصہ لینے کا اشارہ کیا۔ اس بزرگ کے بعد مجلس کے تمام ارکان نے ایک ایک کر کے سانحہ پر اپنے غم و غصے کے اظہار کے علاوہ اس کے تدارک اور جوابی کارواٸی کے سلسلے میں تجاویز پیش کی۔ جب تمام ارکان اپنی اپنی راٸے کا اظہار کر چکے تو چند منٹ کی خاموشی کا ایک وقفہ آیا۔ جس میں سب سر جھکاٸے غور و حوض کرتے رہے۔ پھر امیر مجلس یوں گویا ہوٸے۔

میں تمام قابل احترام شرکاِ محفل کا شکرگزار ہوں کہ آپ نے اس نازک اور پچیدہ مسٸلہ میں مجلس کی راہنماٸی فرماٸی۔ اللہ تعالی آپ سے راضی ہو اور خیر کے راستے پر استقامت نصیب فرماٸے۔۔۔

تمام ارکان مجلس کی تجاویز سننے کے بعد میں اس نیتجے پر پہنچا ہوں کہ اس سانحے کے دو پہلو ہیں۔ ایک کا تعلق ہماری کوتاہی سے ہے اور دوسرے کا شیاطین کی اشتعال انگیزی سے۔۔۔

اس میں کوٸی شک نہیں کہ ”اقرا“ کی حفاظت کا مناسب بندوبست موجود نہیں تھا۔ یہ کوٸی دلیل نہیں کہ ہمیں شیاطین کی جانب سے ایسی کھلی جنگ کی امید نہیں تھی جبکہ ہمیں واضح طور پر دشمن کی پہچان اور اس کے مذموم ارادوں کے بارے میں باخبر کر دیا گیا ہے۔ ہمیں دشمن کی ہر چال اور حملے کے لیے تیار رہنا چاہیے تھا۔اپنی غفلت کی ہمیں بہت بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ درویشوں، معالجوں اور مددگاروں کی صورت میں ہمیں جو نقصان اٹھانا پڑا۔۔۔وہ ناقابل تلافی ہے بلکہ اتنے قیمتی اور تجربہ کار ساتھیوں سے محرومی کے اثرات ہمیں آٸیندہ کٸی سال تک بھگتنا پڑیں گے۔
امیر سانس لینے کے لیے کچھ لمحے رکے۔

میں حفاظتی امور کے ذمہ دار جناب علامہ آفتاب آفندی صاحب سے ان کی ذمہ داریاں واپس لیتے ہوٸے انھیں واپس درس و تدریس کے شعبے کی طرف لوٹنے کا حکم دیتا ہوں۔۔۔اور ان کی شوری کی رکنیت بھی معطل کر دی گٸی ہے۔

امیر نے ایک شخص کی طرف دیکھا۔ جن کا چہرہ ندامت اور کرب سے مرجھا گیا تھا لیکن انھوں نے بڑے ادب سے سینے پر ہاتھ کر سر تسلیم خم کیا۔

میں جناب عبداللہ بن حاکم مشہدی کو سفید پوشوں کا نیا سپہ سالار مقرر کرنے کا اعلان کرتا ہوں اور ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ فوراً شیاطین سے سفید پوشوں اور ان کے مراکز کی حفاظت کا ایک جامع اور مربوط نظام کا خاکہ شوری کے سامنے پیش کریں تا ہمیں کبھی بھی دوبارہ اس طرح کے صدمے سے نہ گزرنا پڑے۔
مشہدی نے اپنا سر تعظیم سے جھکایا۔

آپ مشاورت اور معاونت کے لیے مجلس کے کوٸی سے بھی تین ارکان اپنی مرضی سے منتخب کر سکتے ہیں۔
مشہدی ایک دفعہ پھر سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکے۔

اب ہم اس معاملے کے دوسرے پہلو پر بات کریں گے کہ ہمارا ردعمل کتنا، کب اور کیسے ہو گا۔۔۔لیکن اس سے پہلے میں عمومی اصول دہرانا چاہوں گا۔ اسکے بعد انھوں نے سورة ماٸدہ کی آیات کی تلاوت کی۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔(المائدہ ۵:۸)

اس لیے ہم صرف اسی گروہ کے خلاف کارواٸی کریں گے جس نے ہم پر حملہ کیا ہے۔ جنگ کے دوران شیاطین کے بچوں اور عورتوں کو قتل نہیں کیا جاٸے گا۔ لڑاٸی سے لاتعلق شیطانوں کی املاک کو نقصان نہیں پہنچایا جاٸے گا۔ کارواٸی برق رفتار، مٌنتَخِبہ، اور تباہ کن ہونی چاہیے۔ ہمیں انصاف اور دشمن کو عبرتناک شکست کے درمیان ایک حد اعتدال قاٸم کرنی ہو گٸی۔ ہمارا بدلہ ایسا ہونا چاہیے کہ آٸیندہ شیاطین کا کوٸی لشکر ایسی جرات نہ کر پاٸے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ظلم سے بھی بچنا ہو گا۔۔۔۔اب میں اپنے عزیز دوست سلطان کبیر سے درخواست کروں گا کہ وہ ”اقرا“ پر حملے کرنے والے سرکش سردار شیطان ”عفرش“ کی ذات کے بارے میں مجلس کی معلومات میں اضافہ فرماٸیں۔ کیوں کے یہ کافی سالوں سے عفرش اور اسکے چیلوں سے برسرپیکار چلے آ رہے ہیں۔ ان سے بہتر عفرش کو کوٸی بھی نہیں جانتا۔
امیر نے اپنے باٸیں پہلو میں بیٹھے ہوٸے سلطان کبیر کو دیکھ کر کہا۔

سلطان نے اپنی بند آنکھیں کھول کر سر اٹھایا اور مجلس کے تمام اراکین پر ایک نظر ڈالی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سرزمین کو دیکھ کر پہلا تاثر ذہن میں یہ آتا تھا کہ شاید اسے کسی غضب ناک آتش فشاں نہ جلا کر راکھ کر دیا ہے۔ سیاہ بنجر مٹی،کھردرے،ریتلے، سبزے سے محروم خوف ناک شکلوں والے پہاڑ، تہہ در تہہ غاروں اور گھاٹیوں والا یہ مقام ہزاروں سالوں سے عفرش کے قبیلے کا مسکن تھا۔ شیطان کے سر والے بڑے پہاڑ کے اندر عفرش کا محل تھا۔ اسی پہاڑ کی ایک وسیع و عریض غار میں عفرش اپنا دربار سجاتا تھا۔

آج دربار میں خوب رونق تھی۔ ہر طرف پرجوش بنی سنوری نیم برہنہ شیطان خواتین اور بچے ہاتھوں میں تھال لیے کھڑے تھے۔ ٹب نما تھالوں میں ٹڈیاں، مینڈک کاکروچ اور چھوٹے سانپ بھرے ہوٸے تھے۔ کچھ برہنہ مرد و خواتین جسموں پر مختلف رنگ سجاٸے ایک چبوترے پر رقص کر رہے تھے۔ ڈھول پیٹے جا رہے تھے۔ پیتل کے دیو قامت باجے، نوبت، شہنایاں اور ڈرم بجنے کا شور کانوں کے پردے پھاڑ رہا تھا۔ ہر کوٸی انگور اور گندم کی شراب کے نشے میں مست ہو رہا تھا۔ مرکزی تخت پر عفرش اپنی ملکہ کے ساتھ جلوہ افروز تھا۔ عفرش کے عیار چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔

اسی اثنا میں غار کے اندر آنے والے درجنوں راستوں میں سے ایک میں سے گاڑیوں کے انجنوں کے چنگاڑنے کی آوازیں آنے لگی۔ دربار میں جمع مجمع کے جوش میں کٸی گنا اضافہ ہو گیا تھا وہ نعرے لگاتے ہوٸے غار میں نمودار ہوتی ہوٸی مینڈک کی شکل والی کالی گاڑیوں کی طرف لپکے۔ وہ چار گاڑیاں تھیں۔ جن میں اقرا پر حملے میں جانے والے سیاہ پوش بھرے ہوٸے تھے۔ ایک گاڑی کے ساتھ چھکڑا بھی بندھا ہوا تھا جس میں اقرا میں کی گٸی لوٹ مار کا قیمتی سامان لادھا گیا تھا۔ جحیم اور ہاویہ کے گاڑیوں سے برآمد ہوتے ہی ان پر عورتوں اور بچوں نے تھالوں میں موجود سامان کی بارش کر دی۔ جیحم نے اپنے سر اور جسموں پر گرتے چھوٹے چھوٹے سانپوں اور مینڈکوں کو پکڑ کر کھانا شروع کر دیا۔۔۔ ساتھ ساتھ وہ ناگن ڈانس بھی کرتا جا رہا تھا۔ اسکے سٹیپ دیکھ کر سب ہنس ہنس کر لوٹ پھوٹ ہو رہے تھے۔ چبوترے پر ناچتی برہنہ شیطان لڑکیوں نے جحیم کو گھیر لیا تھا اور وہ اس پر صدقے واری جا رہی تھیں۔۔کچھ دیر بعد عفرش تخت سے اٹھ کر فاتح لشکر کی جانب آیا تو یہ طوفان بدتمیزی تھما۔ جحیم اور باقی لشکر نے عفرش کے سامنے سجدہ تعظیمی بجا لایا۔

شاباش میرے بچو۔۔۔شاباش۔۔۔۔!
آج تم نے سکرات قبیلے کا سر ابلیس اعظم کے تمام قباٸل میں سب سے بلند کر دیا ہے۔ ہم سب کو تم پر فخر ہے۔

بدقسمتی سے ہماری جد امجد ماں کی وجہ سے باقی کے ابلیسی قباٸل ماضی میں ہم سے امتیازی سلوک کرتے رہے ہیں۔ آج ان کو بھی ہماری طاقت اور صلاحیتوں کا اندازہ ہو گیا ہو گا۔۔۔ان کے تو سفید پوشوں کی سرزمین دیکھتے ہی پیشاب خطا ہو جاتے ہیں لیکن دیکھو ہم نے کیا، کیا ہے۔۔ہم نے ناصرف سفید پوشوں کی ناک مٹی میں رگڑ دی ہے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پوری بنی نوع ابلیس کی دھاک ان کفن پوشوں پر بیٹھا دی ہے۔ اب وہ ہم پر حملہ کرنے سے پہلے پچاس دفعہ سوچیں گے۔۔۔
ابھی عفرش کا فاتحانہ خطاب جاری ہی تھا کہ فضا میں ایک گدھ کی تیز چیخ سناٸی دی۔ سب چونک کے ایک سب سے بلند غار کے دہانے کی طرف متوجہ ہو گٸے جہاں سے ایک پچاس فٹ لمبا اور تیس فٹ چوڑا گدھ اڑتا ہوا دربار کے اندر آ رہا تھا۔ گدھ کی زین اور باگ سونے کی تھی۔ گدھ کے منہ پر قیمتی موتیوں سے سجا ہوا چھیکا بندھا ہوا تھا۔ گدھ کے اوپر ایک طویل قامت اور خوبرو شیطان سوار تھا۔ جس کی گھنگریلی زلفیں اسکے گھٹنوں تک لمبی تھیں۔ جن کی اس نے چٹیا بنا رکھی تھی۔ شیطان کے جسم پر چمڑے کی زرہ تھی جس کی پشت پر ابلیس کی فوج کا سرکاری نشان کندہ تھا۔گدھ آ کر عین دربار کے وسط میں اتر گیا۔

ابلیس اعظم کا خاص ایلچی ضندور آ گیا۔۔۔
ابلیس اعظم کا خاص ایلچی ضندور آ گیا۔۔۔
دیکھو دیکھو یہ وہی ہے۔۔
میں اس کو پہچانتا ہوں۔۔
یہ کیوں آیا ہے۔۔۔۔؟

پورے مجمع میں تیز سرگوشیاں پھیل گٸی تھیں۔
عفرش نے ہاتھ اٹھا کر سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور چند قدم چل کر ضندور کی طرف چلا۔

گدھ زمین پر بیٹھ گیا تھا۔ ضندور اس سے چھلانگ لگا کر اترا اور عفرش کی طرف متوجہ ہوا جو اس سے شاید سجدہ تعظیمی کی توقع کر رہا تھا۔

”میں ابلیس اعظم کا خاص پیغام لایا ہوں۔۔۔معاملہ بہت ضروری اور فوری نوعیت کا ہے“

ضندور کے لحجے میں قدرے سختی تھی۔ عفرش کے ماتھے پر بل پڑ گٸے۔ کچھ لمحے وہ ضندور کو گھورتا رہا پھر مجمع کی طرف مڑا۔۔

آج جشن کی رات ہے۔۔۔آج کسی پر کوٸی گرفت نہیں۔ طلوع آفتاب تک جو چاہو کرو۔۔۔جاٶ جشن مناٶ۔۔۔
یہ اعلان سنتے ہی مجمع نے خوشی سے عفرش اور ابلیس اعظم کے حق میں نعرے لگاٸے اور تیزی سے وہاں سے منتشر ہونے لگے۔ ضندور ٹہلنے کے انداز میں چلتا ہوا سیاہ گاڑی کے پیچھے بندھے چھکڑے کے قریب آیا جس پر سونے کا دروازہ، موتیوں کے تھال،قیمتی پتھروں کے ظروف،سونے کے گلاس لدھے ہوٸے تھے۔ وہ غیر ارادی طور پر ان پر ہاتھ پھیرتے ہوٸے جحیم اور ہاویہ کو گھور رہا تھا۔ جو ابھی تک ادھر ہی کھڑے تھے۔

” تم لوگ اگلا حکم ملنے تک یہاں سے نہیں ہلو گے۔
ضندور نے واپس عفرش کی طرف جاتے ہوٸے جیحم کے پاس رک کر کہا۔

خلاف توقع جحیم خاموش رہا۔
عفرش، ضندور کو لیکر دو آمنے سامنے پڑی شاہانہ کرسیوں پر آ بیٹھا۔
یہ میرا قبیلہ ہے۔
عفرش نے اپنے سینے پر انگلی رکھی۔
یہ میرا دربار ہے۔

تخت کی طرف اشارہ کیا۔
یہ میرے جنگجو ہیں۔
جیحم اور ہاویہ کو دیکھا۔
اور تم یہاں آ کر، میرے فاتح لشکر کے کماندار کو بتاٶ گے کہ اس نے کیا کرنا ہے۔۔۔۔؟

عفرش دانت پیستے ہوٸے غرایا۔ ضندور ذرا بھی متاثر نہیں ہوا۔ وہ ابھی بھی پلکیں جھپکاٸے بغیر براہ راست عفرش کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
کیا پیغام لاٸے ہو۔۔۔؟

عفرش نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوٸے پوچھا۔

ابلیس اعظم نے آپ کو اور آپ کے ان دو کمانداروں کو فوراً اپنے دربار میں طلب کیا ہے۔
ضندور نے سپاٹ لحجے میں کہا۔۔اس نے کانوں میں چھید کر کے سونے کے بڑے بڑے کڑے ڈال رکھے تھے جو اس کے کندھوں کو چومتے دکھاٸی دیتے تھے۔ ماتھے کے ایک کونے پر ایک ترشول نما سیاہ مہر کھدی ہوٸی تھی جس سے پتہ چلتا تھا کہ اس کا تعلق ابلیس اعظم کے خاص درباریوں سے ہے۔

کیوں۔۔۔۔؟
عفرش نے بھنویں اچکایں۔
میں صرف ایک ایلچی ہوں۔۔۔جو اپنے آقا کا پیغام پہنچانے کا پابند ہے۔

”یہ آپ کی انکساری ہے جنابِ ضندور۔۔۔ورنہ کون نہیں جانتا کہ آپ استاد اعظم کے خاص مشیروں میں سے ہیں۔۔۔لیکن مجھے یقین ہے کہ ابلیس اعظم کو میرے خلاف بھڑکانے والوں میں آپ شامل نہیں ہوں گے۔
عفرش نے زہرخند کیا۔

یہ میرے آقا کی کرم نوازی ہے کہ اس نے میرے ساتھ آپ کی گرفتاری کے لیے شاہی فوج کا دستہ نہیں بھیجا۔۔وہ آپ کو صفاٸی کا بھرپور موقع دینا چاہتے ہیں۔

بہت خوب۔۔۔بہت خوب۔۔۔یعنی جس سردار نے تاریخ میں پہلی دفعہ سفید پوشوں کی طاقت اور غرور کو خاک میں ملا دیا۔۔۔استاد اعظم اسے بیڑیوں میں جکڑ کر اپنے دربار میں منگوانا چاہتے ہیں۔۔۔یہ کیسی بے قدری ہے جناب ضندور۔۔۔یہ کیسی ذلت ہے۔۔۔تم ہی بتاٶ کیا یہ ایک فاتح سردار کے شایان شان ہے۔۔۔۔؟

عفرش چیخا۔

تم نے حد کراس کی ہے عفرش۔۔۔تم نے استاد اعظم کو دھوکہ دیا ہے۔۔۔تم نے ابلیس اعظم کی پوری سلطنت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔۔۔بہرحال مجھ سے کچھ بھی کہنا فضول ہے۔۔تمھیں اپنا مقدمہ آقا اعلی مقم کے حضور پیش کرنا ہو گا۔۔۔
ضندور نے کھڑے ہوتے ہوٸے کہا۔

بالکل کروں گا۔۔۔ضرور کروں گا۔۔۔لیکن کبھی فرصت میں۔۔

عفرش نے بھی کھڑے ہوتے ہوٸے سرکشی سے کہا۔
تمھیں یقیناً اس انکار کے نتاٸج کا اندازہ ہو گا۔

ضندور غرایا۔

فی الحال میرے پاس ان فضول چیزوں کے بارے میں سوچنے کے لیے وقت نہیں ہے۔۔مجھے ابھی سفید پوشوں کے جوابی حملے سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھانے ہیں۔۔میں بہت جلد استاد اعظم سے شاہی فوج کے ایک دستے کے حصول کی درخواست کے لیے اپنا ایلچی بھیجوں گا۔۔۔امید ہے آقا ابلیس اپنے وفاداروں کی حفاظت کے لیے فوج روانہ کر دیں گے۔

عفرش نے مکاری سے کہا۔
شاہی فوج تو ضرور آٸے لیکن تمھاری حفاظت کے لیے نہیں بلکہ تمھیں گرفتار کرنے کے لیے۔

ضندور نے اپنے گدھ کی طرف جاتے ہوٸے کہا۔۔۔جو بیٹھے بیٹھے اونگھ رہا تھا۔
استاد اعظم ایسی بے وقوفی کبھی نہیں کریں گے۔۔مجھے پورا بھروسہ ہے۔

ضندور نے عفرش کی بات سن کر پلٹ کر دیکھنے کی زحمت نہیں کی اور دیو قامت گدھ کے پروں پر پیر ٹکاتا ہوا پشت پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔

ہش ہش کی مخصوص آواز سن کر گدھ نے چونک کر آنکھیں کھولیں اور کھڑا ہو گیا۔ ضندور نے اس کی سونے کی باگ پکڑی اور ایڑ لگانے سے پہلے سیاہ گاڑیوں کے پاس کھڑے جحیم اور ہاویہ کو دیکھا۔

”تم دونوں آقا اعلی قدر کے مجرم ہو۔۔۔عفرش کی بیعت توڑ کر خود کو استاد اعظم کے سامنے سرنڈر کردو۔۔۔شاید تم پر رحم کیا جاٸے۔

ضندور نے آخری گہری نظر عفرش پر ڈالی اور منہ سے ہش کہہ کر باگ کھینچی۔۔۔گدھ، شتر مرغ کی طرح چند قدم بھاگا پھر اپنے وشال پر پھیلا کر اڑنے لگا۔۔۔اور غار سے باہر نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چاند ابتداٸی دنوں کا تھا لیکن تاروں کی روشنی بڑی بہادری سے رات کی تاریکی کا مقابلہ کر رہی تھی۔ ویرانے میں کھڑی اس شاندار خانقاہ کے مرکزی دروازے کے دونوں پہلوٶں میں ایک ایک باغیچہ بھی تھا جس میں قسم قسم کے کِھلے پھول فضا کو اپنی خوشبو لٹا رہے تھے۔ عمارت کے مرکزی ہال میں گنبد کے نیچے مجلس شوری کا اجلاس جاری تھا۔ بولنے کی باری اب سلطان کبیر کی تھی۔

عفرش کا تعلق سکرات قبیلے سے ہے۔ اس قبیلے کی ابتدا ابلیس کے بیٹے ”منات“ کی ایک ایسی شیطان عورت سے شادی سے ہوٸی تھی جس کا باپ جن اور ماں ایک انسان تھی۔ ابلیس اس شادی کے حق میں نہیں تھا۔ لیکن منات کی ضد کے آگے اسے ہار ماننی پڑی۔ منات کی جو ذریت چلی وہ دیگر شیطانوں کی طرح بہت سی خوبیوں سے محروم تھے۔ ان میں اڑنے کی صلاحیت کم تھی جو رفتہ رفتہ ناپید ہو گٸی۔ یہ انسانوں کی طرح کھانے پینے کے محتاج تھے۔ انھیں ذراٸع آمد و رفت کے لیے گاڑیاں اور جہاز بنانے پڑے۔۔۔ان کا رہن سہن کافی حد تک انسانوں کے قریب ہے۔ اسی وجہ سے ابلیس کی ذریات کے تمام قباٸل میں سکرات قبیلے کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس چیز نے سکرات قبیلے کی سرکشی اور غصے میں اضافہ کیا ہے۔ وہ ہر وقت اپنے آپ کو منوانے کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔ یہ واحد قبیلہ ہے جو براہ راست روشنی کی طاقتوں سے لڑتا اور ان پر حملے کرتا ہے۔ انکی نفری اور لڑاکا لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ فی الحال اس قبیلے کی سرداری کا منصب عفرش کے پاس ہو۔۔۔جو کہ ایک انتہاٸی خبیث فطرت اور فسادی شیطان ہے۔۔میرے وطن میں یہ انسانوں کو آلہ کار بنا کر انسانیت دشمن کارواٸیوں میں بھی ملوث ہے۔

سلطان کبیر نے تفصیلات بتاٸیں۔
کیا آپ عفرش کے ٹھکانے سے باخبر ہیں۔۔۔؟
امیر نے پوچھا۔

ہم نے آج ہی عفرش کے ایک خاص انسانی چیلے کو پکڑا ہے جسے عفرش نے میرے قتل کا حکم دیا تھا۔ مجھے یقین ہے وہ ضرور عفرش کے ٹھکانے سے باخبر ہو گا۔ اس سے مطوبہ معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔۔

سلطان نے جواب دیا۔

''یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا۔۔ کہ ابلیس کا اس بارے میں کیا موقف ہے۔۔ جنابِ سلطان سے حاصل ہوٸی معلومات سے میں اس نیتجے پر پہنچا ہوں کہ عین ممکن ہے ابلیس بھی ''اقرا'' پر ہوٸی اس کارواٸی سے پہلے سے آگاہ نہ ہو۔۔یہ عفرش کی اپنی شرارت اور خبث باطن ہو سکتا ہے۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ عفرش کے خلاف کارواٸی سے پہلے اسے ابلیس کی حمایت سے محروم کرنے کی کوشش ضرور کی جاٸے۔

میں سپہ سالار جناب مشہدی صاحب سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنی مجلس میں سلطان کبیر کو بھی شامل کر کے عفرش کے خلاف ان کی معلومات اور تجربے سے فاٸدہ اٹھاٸیں۔ آپ کی مجلس نہ صرف سفید پوشوں کی حفاظت کے لیے منصوبہ بندی اور فوری عملی اقدامات اٹھاٸے گی۔۔بلکہ عفرش کے قبیلے پر ایک مہلک اور کاری چھاپہ مار کارواٸی کے لیے بھی درویشوں کا ایک لشکر تیار کرے گی جس کی قیادت سپہ سالار مشہدی اور سلطان کبیر فرماٸیں گے۔

تب تک میں ابلیس کی جانب ایک ایلچی روانہ کرتا ہوں۔۔دیکھتے ہیں وہ کیا جواب لے کر لوٹتا ہے۔۔۔
اس کے ساتھ ہی یہ مجلس برخاست کی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */