معرکہ (11) - ریحان اصغر سید کی شاہکار کہانی

پہلی قسط
دوسری قسط
تیسری قسط
چوتھی قسط
پانچویں قسط
چھٹی قسط
ساتویں قسط
آٹھویں قسط
نویں قسط
دسویں قسط

یہ ایک ”انسانی ہاتھوں“ سے اگایا گیا چھوٹا سا سرکاری جنگل تھا جس کے درمیان میں سے گزرتے کچے راستے میں سلطان کو وہ دیہاتی ملا تھا۔
جوان نام کیا ہے تمھارا اور گھر کہاں ہے۔۔۔۔؟
انھوں نے راستے سے ہٹ کر جنگل کے اندر جاتی پگڈنڈی پر اس کے پیچھے چلتے ہوٸے کہا۔

جی، صادق نام ہے جی میرا۔۔۔اور گھر زیادہ دور نہیں ہے۔۔۔جنگل کے اندر ہی ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں میری رہاٸش ہے۔

صادق کا انداز ٹالنے والا تھا۔ اسی اثنا میں ایک ڈیزل انجن کے چنگھاڑنے کی آواز اور دور کچے راستے پر اڑتی دھول اکھٹے دکھائی دی۔ وہ ایک مٹسوبشی جیپ تھی جو بڑی تیز رفتاری سے دوڑتی آ رہی تھی۔ سلطان نے جیپ کو پہچان لیا تھا۔ وہ ان کے مرید خاص چوہدری شجاع حسین کی گاڑی تھی۔ سلطان اسی سے ملنے اس کے گاٶں جا رہے تھے۔ شجاع نے انھیں جنگل کے اندر جاتے دیکھ لیا تھا۔ وہ جیپ کو موڑ کر ادھر ہی لے آیا تھا۔ وہ پنتالیس پچاس سال کا مضبوط جسم کا مالک ایک خوشحال زمیندار تھا۔ شجاع کے چاروں چھوٹے بھاٸی امریکہ میں سیٹل تھے۔ وہ اپنے بڑے بھاٸی شجاع کو سیاست اور سماجی خدمت کے لیے دل کھول کر ڈالر بھیجتے رہتے تھے۔ شجاع کا زیادہ وقت سیاست،شکار،ڈیرے داری، مہمان نوازی اور اس طرح کے درجنوں دیگر مشغلوں میں گزرتا تھا۔

سلطان کبیر کو دیکھ کر شجاع کی باچھیں خوشی سے کانوں تک پھیلی ہوٸی تھیں۔ اس کا گندمی رنگ گلاب کے پھول کی طرح کھل گیا تھا۔

مجھے جیسے ہی آپ کے ساتھ والے پنڈ میں موجودگی کی اطلاع ملی میں گاڑی لیکر دوڑ پڑا۔۔

شجاع نے بڑی عقیدت اور محبت سے جھک کر سلطان کا ہاتھ چوما۔ سلطان نے شفقت سے شجاع کو گلے لگا لیا۔

” اللہ کے فضل سے بڑی دنیا نے ہم سے فیض پایا ہے شجاع۔۔۔ایک تم ایسے چکنے گھڑے ہو جو آج بھی ویسے ہی ہو جیسے بیس سال پہلے ہمیں ملے تھے۔

سلطان نے شجاع کے ڈراٸیور اور گن من سے بھی ہاتھ ملایا۔۔شجاع کھلکھلا کر ہنسا۔

کیا ابھی بھی سارا دن لڑاکا دیسی مرغوں اور کبوتروں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہو یا کوٸی اللہ اللہ بھی شروع کی ہے۔۔۔؟
سلطان نے مسکراتے ہوٸے شجاع سے پوچھا۔

پیر و مرشد، آپ کی دعا سے بیس ایکڑ مزید زمین خریدی ہے آپ کے نوکر نے۔۔۔دو ریس والے گھوڑے بھی لے لیے ہیں۔۔۔آپ کی نظرِ کرم سے، بڑے نسلی جانور ملے ہیں۔۔ ڈیرے پر چلیں میں آپ کو دیکھاتا ہوں۔

چلتے ہیں بھاٸی تمھارے ڈیرے پر بھی چلتے ہیں۔ پہلے اللہ کے اس بندے کا مریض تو دیکھ لیں۔

سلطان نے صادق کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ شجاع نے صادق کو غور سے دیکھا اور مقامی لہجے میں اس سے پوچھنے لگا کہ وہ کون ہے اور کس کا بیٹا ہے۔۔۔؟ جنگل میں رہاٸش کا سن کر صادق چونکا۔ ۔۔اچھا۔۔۔کہاں۔۔۔میں نے نہیں دیکھی۔۔۔کتنی دور ہے؟

شجاع کے تابڑ توڑ سوالات سے صادق پریشان دکھاٸی دینے لگا تھا۔
یار کیوں پریشان کر رہے ہو غریب آدمی کو۔۔۔۔اتنی پوچھ پڑتال تو آج کل رشتہ کرتے ہوٸے بھی نہیں کی جاتی۔۔
سلطان نے شجاع کو پیار سے ڈانٹا۔

چلو یار۔۔۔
انھوں نے صادق سے کہا۔۔ لیکن اس سے پہلے وہ قدم اٹھاتے۔۔۔انھوں نے ایک سفید چوغے اور گول سرخ ٹوپی والے نامہ بر درویش کو دیکھا۔ وہ اچانک ہی ان کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔
”کیا بات ہے درویش۔۔۔؟ کیا پیغام لاٸے ہو۔۔۔۔؟

نماز عشإ کے بعد مجلس شوری کا اجلاس طلب کیا گیا۔ مجلس کے تمام ارکین کو اجلاس میں شرکت کی تلقین کی گٸی ہے۔
درویش نے سینے پر ہاتھ رکھ کر ادب سے کہا۔
کیوں خیریت ہے نا درویش؟
سلطان چونکے تھے۔

جناب۔۔۔شیاطین نے ''اقرا'' پر حملہ کر کے اسے تباہ و برباد کر دیا ہے۔۔۔اور عمارت میں موجود تقریباً تمام سفید پوشوں کو واپس عالم برزح میں دھکیل دیا ہے۔ درویش کی بات سن کر سلطان کے چہرے پر شدید رنج کے تاثرات ابھرے۔۔وہ کچھ لمحے بول ہی نہیں پاٸے۔

”آپ کے چاروں معالج بھی اسی سانحے میں کام آ گٸے ہیں۔
سلطان نے گہری سانس لیکر خود کو پرسکون کیا اور تین دفعہ ”اناللہ وانا الیہ راجعون“ دہرایا۔

کس نے کیا ہے یہ سب۔۔۔؟
حکم عفرش کا تھا تعمیل جیحم اور ہاویہ نے کی ہے۔۔یہ عفرش کے خاص چیلے ہیں۔۔

درویش نے اکادکا زخمی اور بچ جانے والے سفید پوشوں سے حاصل ہوٸی معلومات سلطان کو بتاٸیں۔
ٹھیک ہے تم جاٶ۔۔۔میں عشإ کے بعد انشإاللہ اجلاس میں پہنچ جاٶں گا۔۔۔
سلطان نے کہا۔۔۔
بلکہ ٹھہرو۔۔۔۔!
سلطان کو کچھ یاد آیا۔
اس صادق نام کے آدمی کا دعوی ہے اس کی بچی بیمار ہے اور جنگل کے اندر اس کا گھر ہے۔۔۔جاٶ صورتحال کا جاٸزہ لیکر مجھے بتاٶ۔۔

درویش نے ادب سے سر جھکایا اور غاٸب ہو گیا۔ سلطان نے آنکھیں کھول دیں۔۔ان کی آنکھوں میں گہرے سرخ ڈورے تیرتے نظر آ رہے تھے۔ شجاع جانتا تھا کہ اس کے مرشد اچانک باطنی دنیا کے سفر پر بھی نکل جاتے ہیں اس لیے اس نے خود مداخلت کی تھی نہ صادق کو کرنے دی تھی۔ کچھ ہی دیر میں درویش لوٹ آیا۔۔اس کے پاس سنسنی خیز خبر تھی۔

”جی جناب ایک جھونپڑی جنگل کے وسط میں ہے تو سہی۔۔۔لیکن وہاں کوٸی بیمار بچی نہیں بلکہ تین لوگ کسی کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ دو کے پاس گنز بھی ہیں۔۔۔۔جبکہ تیسرا ثقلین منیر نام کا وہی شخص ہے جس کو آپ کے درویش کافی ہفتوں سے ڈھونڈ رہے ہیں۔

سلطان چونکے۔۔انھوں نے آنکھیں کھولیں اور شجاع کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔ دوسرے لوگوں سے کچھ فاصلے پر جا کے سلطان نے شجاع کو کچھ ہدایات دیں۔۔ شجاع کسی معاملے میں سلطان سے ہلکی پھلکی بحث کر رہا تھا پھر اس نے آمادگی میں سر ہلایا اور اپنے گن مین اور ڈراٸیور کو لیکر فوراً وہاں سے روانہ ہوگیا۔۔ سلطان صادق کے ساتھ کچھ دیر بعد روانہ ہوٸے۔

پندرہ منٹ کے پیدل سفر کے بعد سلطان، صادق کے ساتھ جھونپڑی کے سامنے پہنچے۔ کچی مٹی کی بنی یہ جھونپڑی جنگل کے درختوں کی حفاظت پر مامور گارڈ نے اپنے آرام کے لیے بنا رکھی تھی جو فی الحال خالی پڑی ہوٸی تھی۔ ثقلین چاہتا تھا کہ سلطان کبیر کو خاموشی سے قتل کر کے ان کی لاش چپکے سے جنگل میں کہیں گاڑ دی جاٸے تا کہ یہ معاملہ کسی کے نوٹس میں نہ آٸے۔۔۔سلطان کبیر ایسی سفر دوست شخصیت تھے کہ عین ممکن تھا کہ سال، دو سال تو ان کے غاٸب ہونے کا کسی کو پتہ بھی نہ چلتا۔

ثقلین کے ساتھ اکرام خان کے بھیجے ہوٸے دو تربیت یافتہ لڑاکے تھے۔ جسے اس نے جھونپڑی کے اندر بیٹھا رکھا تھا۔ صادق بھی ان کا ساتھی تھا۔

جیسے ہی سلطان کبیر جھونپڑی کے اندر داخل ہوٸے انھیں دو ہٹے کٹے جوان نظر آٸے جو بڑے پرسکون ماحول میں مٹی کی دیوار سے ٹیک لگاٸے ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے۔ صادق کے اشارے پر سلطان کبیر بھی چپ چاپ زمین پر بچھی دری پر بیٹھ گٸے۔ اسی لمحے ثقلین منیر اپنی شیطانی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاٸے جھونپڑی کے دروازے پر نمودار ہوا۔

طاقتور اتنے ہو کہ ماوراٸی طاقتوں سے بھی ٹکر لے لیتے ہو اور بے وقوف اتنے کہ، سامنے بچھے موت کے جال کو بھی نہیں دیکھ پاتے۔
اس نے سلطان کے سامنے بیٹھتے ہوٸے طنز کیا۔۔سلطان کے چہرے پر ان کی روایتی نرمی کی جگہ جلال کے ساٸے تھے۔ انھوں نے گہری نظر سے ثقلین کے چہرے کا جاٸزہ لیا۔

جو لوگ اللہ اور روز قیامت پر ایمان نہیں رکھتے میرے رب نے انھوں شیطان کا ساتھی بنا دیا ہے۔ وہ اس کے ساتھ ہی جہنم میں داخل کیے جاٸیں گے۔۔ اور بلاشبہ وہ نہایت ہولناک اور بری جگہ ہے۔۔۔میں دن میں ستر دفعہ اپنے رب کے حضور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں۔ مجھ تک علم اور حکمت کا کوٸی ایک بھی موتی پہنچا ہے تو وہ میرے خالق کے فضل کے وجہ سے ہے۔ میری ذات میں جو نقاٸص اور میرے فیصلوں میں جو خامیاں ہیں۔ وہ میری جہالت اور شامت اعمال کے سبب ہیں۔

ثقلین ہنسا۔۔۔یہ منبر نہیں ہے حضور۔۔۔اور نہ ہی وعظ کا وقت۔۔۔یہ تو وصیت کی ساعت ہے۔۔چلو کلمہ پڑھ لو۔۔۔
ہر ذی نفس کو موت کا ذاٸقہ چکھنا ہے۔۔۔میں ہر دم ہر گھڑی اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار رہتا ہوں۔
کیا تم بھی اس سے ملاقات کے لیے تیار ہو۔۔۔؟
ختم کر دو اس خبیث بڈھے کو۔۔۔۔۔!
ثقلین نے بدمزہ ہو کر حکم دیا۔

اس سے پہلے کہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگاٸے جوان اپنی گنز نکال کر ثقلین کے حکم پر عمل پیرا ہوتے جھونپڑی میں شجاع، شجاع کا گن مین اور ڈراٸیور داخل ہوٸے۔۔ وہ تینوں مسلح اور شکار پر نکلے ہوٸے چیتوں کی طرح چوکنے تھے۔
خبردار جو تم میں سے کوٸی پہلو بدلنے کے لیے بھی ہلا تو۔۔۔ورنہ کتے کی موت مارا جاٸے گا۔۔۔
شجاع اور اس کا گن مین، ثقلین اور اس کے حواریوں کو گن پواٸنٹ پر لے چکے تھے۔۔۔شجاع کے اشارے پر اس کے ڈراٸیور نے دونوں مسلح جوانوں سے ان کے پسٹل چھین لیے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ اماوس کی رات تھی جو آدھی بیت چکی تھی۔ بلال عزیز گہرے اندھیرے میں بالکونی پر اپنی آرام کرسی پر بیٹھا جھول رہا تھا۔ ہلکی برفیلی ہوا نے ٹھنڈ کی شدت میں اضافہ کر دیا تھا لیکن بلال موسم کی شدت سے بے نیاز نظر آتا تھا۔اس کی بھیجی ہوٸی بدروحوں نے حسب توقع فہیم صاحب کی فیملی کا جینا دو بھر کیا ہوا تھا۔ فہیم صاحب اور ان کے بیوی بچوں کے اعصاب کشیدہ تھے اور قوت برداشت جواب دے چکی تھی۔بلال کے نزدیک فہیم صاحب اور ان کی بیوی پر حتمی وار کرنے کے لیے یہی موزوں وقت تھا۔ بلال انھیں جادو کے بل پر جان سے مار دینا چاہتا تھا۔

جسے ہی گھڑی پر رات کے دو بجے۔۔۔ بلال بالکونی سے اٹھ کر اپنے کمرہِ خاص میں آ گیا۔ اس نے اپنے کپڑے اتار کر سیاہ ریشمی چوغہ پہنا۔ لکڑی کی الماری میں اس نے اپنے ہاتھ سے سفید کپڑے کے دو پتلے بنا کر رکھے ہوٸے تھے۔ان میں سے ایک پتلا مرد کا تھا اور ایک عورت کا۔ مرد کے پتلے کے ماتھے پر فہیم صاحب کا نام درج تھا اور عورت کے سینے پر صاٸمہ کا نام لکھا ہوا تھا۔ بلال نے پتلوں کو الماری سے نکال کر لکڑی کی میز پر رکھنے کے بعد الماری میں سے کچھ مزید سامان نکال کر ان کے ساتھ سجایا اور خود بھی کرسی کھینچ کر میز کے قریب بیٹھ گیا۔ بلال نے ایک کالی ڈوری سے فہیم صاحب کے پتلے کے گلے کو اس طرح کھینچ کر گانٹھ لگاٸی کے پتلے کی گردن بلکل سکڑ گٸی۔ اس کے بعد اس نے ایک سوٸی پتلے کے دل کے مقام پر آرپار کر دی۔

اب وہ صاٸمہ کے پتلے کی طرف متوجہ تھا۔ اس نے ایک لوہے کی کیل کو صاٸمہ کے پتلے کی ریڑھ کی ہڈی کے مقام پر اس طرح ٹھونکا کہ وہ سینے کی جانب سے دل کو چیرتا ہوا نکل جاٸے۔ اس کے بعد اس نے ماچس کی تیلی جلا کر پتلے کے کالے دھاگوں سے بناٸے گٸے بالوں کو جلا دیا۔

اس کام سے فارغ ہو کر بلال نے میز کی دراز میں سے منقش لکڑی کا ایک چھوٹا سا صندوق نکالا جس میں سٶر کی خشک کھال کے چھوٹے چھوٹے چوکور ٹکڑے پڑے ہوٸے تھے۔ بلال نے ان میں سے دو ٹکڑے نکال کر میز پر رکھے اور ڈبے کو واپس دراز میں رکھ دیا۔ بلال نے ایک اور ڈبے سے ایک لکڑی کا قلم برآمد کیا جس کے عقبی گول انسانی سر نما سرے پر نقاشی سے ابلیس کی تصویر بناٸی گٸی تھی۔ بلال دیوار پر لٹکے پنجرے کی جانب متوجہ ہوا جس میں ہر وقت کم از کم ایک الو موجود رہتا تھا۔ بلال نے الو کو پنجرے کے اندر ہی قابو کر کے بے رحمی سے خنجر کے وار سے اس کی گردن کاٹ دی اور سر سے ابلتے خون کو ایک شیشی میں جمع کرنے لگا۔ الو کا خون لیکر بلال نے لکڑی کے قلم کو اسمیں ڈبویا اور سٶر کی چربی پر تعویز لکھنا لگا۔ سنسکرت میں لکھا پہلا تعویز فہیم صاحب اور دوسرا ان کی بیوی صاٸمہ کے لیے تھا۔ بلال نے فہیم صاحب کے تعویز کو ان کے سینے پر خنجر سے کپڑا پھاڑ کے اس میں ڈالا اور وہاں سے سوٸی دھاگے سے اس گڈے کو دوبارہ سی دیا۔ یہی کارواٸی اس نے صاٸمہ کے پتلے کے ساتھ پشت پر کمر پر کیل والی جگہ کے ساتھ کی۔ سارا کام مکمل کر کے بلال دونوں پتلے لیکر اٹھا اور پورچ میں کھڑی اپنی کار میں آ بیٹھا۔ اس نے پتلوں کو پچھلی نشست پر لٹایا اور گھر کا مین گیٹ کھول کر کار کو روڈ پر لے آیا۔۔اس کی منزل ہاوسنگ سکیم کا قبرستان تھا۔ جہاں اس نے گورکن سے مل کر دو تین ویران قبریں اسی مقصد کے لیے مختص کر رکھیں تھیں۔ قبرستان کے دروازے پر گورکن اس کا منتظر تھا۔ وہ بلال کو اپنی راہنماٸی میں مطلوبہ قبروں تک لے گیا۔ گورکن نے دونوں قبروں سے مٹی ہٹا کر ان کی ادھی سلیب پہلے ہی اٹھا دی تھیں۔

یہ میاں بیوی ہیں۔۔۔؟
جی جناب۔۔۔یہ بیوی کی قبر اور یہ شوہر کی۔۔۔!
گورکن نے انگلی کے اشارے سے بتایا۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔اس مرد کے پتلے کو مرد کی قبر میں رکھ دو اور عورت کے پتلے کو عورت کی قبر میں رکھ کر قبریں بند کر دو۔۔
بلال نے گورکن کو ہدایت کی۔۔جب تک گورکن نے دونوں پتلے قبروں میں رکھ کر کنکریٹ کی سلیبیں واپس رکھیں اور قبروں پر مٹی ڈالی۔۔تب تک بلال قبروں کے سرہانے کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے کچھ عجیب و غریب کلمات کا جاپ کرتا رہا۔

قبرستان کے گیٹ پر پہنچ کر بلال نے پانچ پانچ ہزار کے کچھ نوٹ گورکن کو پکڑاٸے۔۔اور اپنی کار میں آ بیٹھا۔
اب کار واپس بلال کے گھر کی طرف جا رہی تھی۔ چند منٹ کا فاصلہ تھا۔بلال نے عادتاً کچھ دیر بعد بیک ویو مرر میں دیکھا۔ اسے جو نظر آیا اس نے اسے چند لمحے کے لیے غافل کر دیا تھا وہ یہ بھی بھول گیا تھا کہ وہ گاڑی چلا رہا ہے۔ کار کی پچھلی نشست پر دو نیلی مخروطی ٹوپیوں والے سفید پوش بیٹھے اسے گھور رہے تھے۔

بلال اس کھیل کا پرانا کھلاڑی تھا۔ یہ اس کی خوش قسمتی ہی تھی کہ اس کا سامنا آج تک درویشوں سے نہیں ہوا تھا لیکن وہ ان کو اچھی طرح پہچانتا تھا۔ دونوں درویش چپ چاپ بیٹھے تھے۔ انھوں نے بلال سے کوٸی بات نہیں کی تھی۔ اس کے باوجود بلال کا وجود پسینے سے بھیگ گیا تھا۔ درویش کسی عامل کی بھیجی ہوٸی شیطانی یا جناتی مخلوق نہیں تھے۔ جن سے بلال اپنی تابعدار جناتی مخلوقات کے ذریعے نمٹ لیتا۔

بلال نے اپنے گھر ہی لوٹنا تھا۔ اس کے پاس اور ایسا کوٸی ٹھکانا نہیں تھا جو اسے درویشوں سے بچاتا۔اگر وہ اپنے کمرہ خاص تک پہنچ جاتا تو فہیم صاحب کے گھر بھیجی ہوٸی بدروحوں کو واپس بلا کر وہ اپنی حفاظت کی کوشش کر سکتا تھا۔اس نے گھر کے سامنے کار روکی تو درویش پچھلی سیٹ سے غاٸب ہو چکے تھے۔ بلال کار کو باہر ہی چھوڑ کر تالا کھول کر گھر کے اندر چلا گیا۔ پورا گھر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ بلال کو تاریکی بہت مرغوب تھی لیکن آج بات کچھ اور تھی۔۔۔وہ داخلی دروازے سے گھر میں داخل ہوا تو اسے ڈراٸنگ روم سے کچھ لوگوں کے باتیں کرنے کی آوازیں سناٸی دیں۔ وہ دبے قدموں چلتا ہوا ڈراٸنگ روم کے دروازے پر پہنچ کر کان لگا کر سننے لگا۔ کچھ لوگ کسی معاملے پر بحث کر رہے تھے۔ پہلے نے کہا کہ ہم بلال کو جلتے ہوٸے تیل میں ڈال دیں گے اور وہ جل کر مر جاٸے گا۔ دوسرے نے یہ کہہ کر اختلاف کیا کہ یہ آسان موت ہے۔ بلال ایک بدترین موت کا مستحق ہے جس میں اس کی روح تڑپ تڑپ کر نکلے۔ تیسرے نے دوسرے سے اتفاق کرتے ہوٸے تجویز پیش کی کہ بلال کے جسم پر جھونکیں اور بھوکے چوہے چھوڑ دیے جاٸیں تو اس کی موت عبرت ناک ہو سکتی ہے۔ چوتھی آواز کو تیسرے والے کی تجویز پسند نہیں آٸی۔ اس کا اصرار تھا کہ بلال کے ہاتھ پیر توڑ کر اس سے بھیک منگواٸی جاٸے۔۔۔تا کہ وہ روز جیے اور روز مرے۔۔پانچواں کبھی ایک سے اتفاق کرتا کبھی دوسرے سے۔

بلال نے دروازے کی درز میں سے دیکھا تو اسے صوفوں پر پانچ درویش بیٹھے نظر آٸے۔ بلال کو شدت سے اپنی بے بسی کا احساس ہوا۔ وہ چپکے سے پلٹا لیکن گھبراہٹ کی وجہ سے اس کا پاٶں مڑ گیا اور وہ الٹ کر نیچے گرا۔ درد کی وجہ سے اس کے منہ سے ایک تیز سسکی نکلی۔۔۔اس کے بھاری بھرکم وجود کے وزن کی وجہ سے گرتے ہوٸے اس کے ٹخنے کی ہڈی ٹوٹ گٸی تھی۔ درد ناقابل برداشت تھا لیکن بلال سفید پوشوں کے ڈر سے منہ سے آواز نہیں نکال رہا تھا۔ وہ اپنے بھاری بھدے وجود کو کہنیوں کے بل گھیسٹتا ہوا لاٸبریری کی جانب بڑھا۔ جس میں سے گزر کر وہ اپنے جادو والے کمرے میں پہنچ سکتا تھا۔ بلال زندگی کے کسی بھی دور میں خوش شکل نہیں رہا تھا لیکن عمر کے اس حصے میں اس کے شیطانی اعمال کا عکس اس کے چہرے پر بھی نظر آنے لگا تھا۔ابھی اس کی شکل کسی موٹے بھدے چوہے سے مشابہ لگ رہی تھی جس نے اپنی موت کو دیکھ لیا ہو لیکن وہ کسی معجزے کے لیے بھی پر امید ہو۔ وہ ٹی وی لاونج سے رینگ کر اپنے بیڈروم میں پہنچا تو اس نے بمشکل کھڑے ہو کر دروازے کو اندر سے چٹکنی لگاٸی۔ کمرے میں جلتے گہرے سرخ رنگ کے ناٸٹ بلب میں اسے کچھ ساٸے سے نظر آٸے۔۔۔

کوک۔۔کون ہے۔۔۔؟
جواب میں خاموشی تھی۔ بلال آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نیم تاریکی میں سایوں کو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ دبلی پتلی تین لڑکیاں تھیں جن کے چہرے اور سر خون آلودہ تھے۔

کون ہو تم۔۔۔۔؟دفع ہو جاٶ۔۔۔ورنہ جلا کر مار دوں گا۔۔۔
بلال چیخا۔۔

ہم تو کب کی مر چکی ہیں، جلنے کا وقت تو اب تمھارا ہے۔۔تم اس دنیا میں بھی جلو گے اور آخرت میں بھی۔۔۔

ایک ساٸے نے غرا کر کہا۔ بلال کو آواز جانی پہچانی لگی۔ اس نے بمشکل ایک اور لاٸٹ جلاٸی یہ بھی مدہم سرخ رنگ کا بلب تھا۔۔لیکن اب کمرے میں موجود تین نوعمر لڑکیوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ وہی بدروحیں تھیں جو بلال کے ہاتھوں تشدد سے قتل ہونے والی نوعمر ملازموں کے روپ میں آٸی تھیں۔۔

میں ان حرکتوں سے ڈرنے والا نہیں ہوں۔۔۔بلال غرایا۔ لیکن اس کا لحجہ کھوکھلا تھا اور جسم درد اور خوف سے کانپ رہا تھا۔۔

بدروحیں، جنات اور شیاطین کے لیے انسانوں کو براہ راست نقصان پہنچانا مشکل ہوتا ہے۔ وہ انسانوں کو ڈرا کر اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیتے ہیں۔ اسے وہ چیزیں دکھاتے ہیں جن کی کوٸی حقیقت نہیں ہوتی۔ وہ آوازیں پیدا کرنے کے لیے فضا میں موجود لہروں کا استعمال کرتے ہیں۔ انسانوں کو باطنی نقصان پہنچاتے ہیں جس سے اس کی ظاہری صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ یہی سب کچھ اس وقت تین مقتول لڑکیوں کے روپ میں موجود بدروحیں بلال کے ساتھ کر رہیں تھیں۔ پہلے درویشوں نے بلال کو ڈرا کر گرایا جس سے اسکی ٹخنے کی ہڈی ٹوٹ گٸی۔ درد اور خوف کے امتزاج نے بلال کی صورتحال کو سمجھنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کیا تھا۔ درویشوں کے بعد مقتول لڑکیوں کی اپنے گھر میں آمد کے بعد اسکی ہمت بلکل جواب دے گٸی تھی۔ وہ یہی سوچ رہا تھا کہ اب اس پر درویش فرد جرم عاٸد کر کے سزا سناٸیں گے۔۔کیوں کے مقتول بھی گواہی کے لیے یہی ہیں۔ جبکہ ایک بدروح نے باطنی طور پر اسکی آنکھوں پر ایک پٹی چڑھا دی تھی جس سے اسے مختلف چیزوں کی ہیت پہچاننے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ اسکے بعد بلال کے سر میں باطنی طور پر کچھ کیل ٹھونک دیے گٸے تھے جس سے اس کا دماغ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے بہت حد تک محروم ہو گیا تھا۔ اس لیے وہ اب ایک چوہے کی طرح اپنے ہی گھر میں خوف سے یہاں وہاں چھپتا پھر رہا تھا۔۔اسکا ٹخنہ سوج گیا تھا۔ آنکھوں پر باطنی پٹی کی وجہ سے اسے ایک خطرناک کیمکل کی بوتل آٸیوڈیکس دیکھا کر تھامنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ جس نے لمحوں میں اسکی جلد سمیت ہڈی کو گلا دیا تھا۔ چند گھنٹوں میں ہی درویشوں اور بدروحوں نے بلال کو ڈرا ڈرا کر نیم پاگل کر دیا تھا وہ خارش زدہ کتے کی طرح گھسٹ گھسٹ کر کبھی ایک کمرے میں پہنچتا کبھی دوسرے میں۔۔۔

اسی کشکمش میں اسنے تہہ خانے میں خود کو لے جانے کی کوشش میں اپنے آپ کو سیڑھیوں سے گرا کر اپنی ریڑھ کی ہڈی بھی توڑ لی تھی۔ اب باقی کام تہہ خانے میں موجود چیونٹوں، کاکروچ اور چوہوں کا تھا۔ جو نیم مردہ بلال کو بھنبوڑنا شروع ہو گٸے تھے۔ بلال کی موت بہت عبرتناک تھی۔ اسنے تڑپ تڑپ کر تین دن میں جان دی۔ کٸی مہینے بعد جب اسکی لاش دریافت ہوٸی تو وہاں صرف بو چھوڑتا ہوا ہڈیوں کا ایک ڈھانچا تھا۔

جاری ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */