خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتا- ہارون الرشید

شاعر نے یہ کہا تھا: ؎ تیرے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتا کھیل شروع ہو گیا، اپوزیشن کی فتح کا امکان مگر دور دور تک نہیں ۔ احتجاج کے لیے حالات سازگار نہیں۔ جمعیت علماء اسلام کے سوا کسی پارٹی کی تنظیم ایسی نہیں کہ کارکنوں کوگرما سکے۔ جمعیت کے بارے میں بھی یقین سے کہا نہیں جا سکتا کہ مدارس کے طلبہ، مہینوں تک برسرِکار رہ سکتے ہیں۔ اٹل اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی کو اپنی محدودات کا اندازہ ہونا چاہئے۔ میاں محمد نواز شریف خوب بولے ’’مردہ بولے تو کفن ہی پھاڑے‘‘ ۔بے شک وزیر اعظم کے طرزِ عمل میں احتساب سے زیادہ انتقام کی جھلک بھی ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ ایک متوازی حکومت ہے، جس کا کردار محدود ہونا چاہیے۔ تاریخ کی شہادت یہ ہے کہ سول ادارے ہی بالیدگی کی ضمانت ہوتے ہیں۔ سول ادارے مگرہیں کہاں؟ عدلیہ، پٹوار، پولیس اور ٹیکس وصول کرنے والی ایف بی آر۔ اس سے پہلے بھی مگر یہ کہ خود سیاسی جماعتوں کی، جمہوری تشکیل کیوں نہیں۔ جن جمہوری معاشروں کی مثال دی جاتی ہے، پارٹیوں کے عہدیدار ہی وہاں باقاعدہ منتخب نہیں ہوتے، امیدواروں کا انتخاب بھی وہی کرتے ہیں۔ ملوکیت اور جاگیرداری کے مارے معاشروں میں یہ کام سہل نہیں۔ تو کسی بنیادی اصول سے کیا اس لیے انحراف کیا جا سکتا ہے کہ اس میں دشواریاں درپیش ہیں۔ کم از کم آغاز کار تو ہوتا۔ جس طرح وزیر اعظم عمران خان سے عرض کیا جاتا ہے کہ سول اداروں کی اصلاح کے لیے ابتدا تو کی جاتی۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا کردار اس سے زیادہ کیوں ہے، جتنا کہ ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ سیاسی پارٹیاں اخلاقی ساکھ سے محروم ہیں۔

پالیسیوں کی تشکیل میں مستقل طور پر من مانی کی مرتکب ۔ انتہا یہ ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات میں۔ پارٹی کے کارکن تو رہے ایک طرف، ساتھیوں سے،حتیٰ کہ پارلیمنٹ اور کابینہ تک کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ جناب زرداری اور میاں محمد نواز شریف کے ادوار میں تو کابینہ کے اجلاسوں کا تکلّف بھی کم ہی کیا جاتا۔ میاں صاحب کا عالم یہ ہے کہ آخری بار وزیر اعظم بنے تو تین ماہ تک قوم سے خطاب ہی نہ فرمایا۔ دس، ساڑھے دس بجے دفتر تشریف لاتے۔ آدھ گھنٹہ باورچی سے بات کرتے اور اکثر چار بجے دفتر سے اٹھ جاتے۔ اپنے ساتھیوں کی عمران خان سنتے ہیں مگر ہمیشہ نہیں۔ ان کے پسندیدہ اور نا پسندیدہ لوگ ہیں۔ کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ جن سے مشورہ کرنا چاہئے،انہیں ایک طویل لیکچر سہناپڑتا ہے۔ تین برس ہوتے ہیں ایک امریکی وفد کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا، امریکی اخبارات میں، جس کی بازگشت سنائی دی۔ سیاسی پارٹیوں سمیت، سول اداروں کے زوال کا ذمہ دار کون ہے؟ کچھ کے نزدیک ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور بعض کے خیال میں خود سیاسی جماعتیں۔ سچ تو یہ ہے کہ دونوں ہی ذمہ دار ہیں۔ استثنیٰ کے سوا عسکری قیادت نے سول اداروں کو مضبوط بنانے کی کبھی کوشش نہ کی۔ سیاسی پارٹیوں کا یہ کہ ضرورت پڑے تو سجدہ ریز ہو جاتی ہیں۔ سرپرستی میسر نہ آئے تو چڑ جاتی اور طعنہ زنی پر اترتی ہیں۔ نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالبؔ ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پہ مہرباں کیوں ہو پاکستان دوسرے ملکوں ایسا نہیں، کوریا کی طرح ،اس کا سب سے بڑا مسئلہ ہمیشہ قائم رہنے والے خطرات ہیں۔ فوج کا کردار بڑھ گیا اور خطرناک حالات میں اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے کبھی اس پہلو کا ادراک نہیں کیا۔پنجابی محاورے کے مطابق، کبھی ایک تنکا توڑ کر دہرا نہ کیا۔

چیف آف آرمی سٹاف کے انتخاب میں، ہر بار وزیر اعظم نے ذاتی ترجیحات کو ملحوظ رکھا۔ ترقیاتی منصوبوں میں سیاسی مفادات کو۔ سیاسی لیڈروں میں ایسے ہیں، سمندر پار جو مراسم رکھتے ہیں، بعض اوقات تو دشمن ممالک سے بھی۔ 18اگست 2018ء پی ٹی آئی کی حکومت تشکیل پانے کے فوراً بعد، ایک سرکاری شخصیت نے خاکسار سے بات کی۔ کیافوج کا کردار کم اور سول کا زیادہ ہو سکتا ہے؟ عرض کیا:جی ہاں، کارکردگی سے، اخلاقی ساکھ سے۔ تمام خرابیوں کیلئے کیا عسکری قیادت ہی ذمہ دار ہے۔ سیاستدان کیا کبھی کسی غلطی کے مرتکب نہ ہوئے۔ قومی سلامتی کے معاملات کو انہوں نے کبھی پرکاہ برابر وقعت نہ دی۔ ایک بھی آرمی چیف حتیٰ کہ عبدالوحید کاکڑ اور جنرل کیانی سے بھی وہ ناخوش رہے،مزاجاً جو سیاسی نہ تھے۔ کم از کم مداخلت کے قائل تھے۔ 2008سے 2013ء کے الیکشن میں عمران خان انہیں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی فتح کا ذمہ دار ٹھہراتے رہے۔ کس سہولت سے نواز شریف ماضی کو بھول جاتے ہیں۔یوسف رضا گیلانی کے خلاف عدالت میں وہ گئے تھے۔ بلوچستان حکومت کی برطرفی میں اہم ترین کردار زرداری صاحب کا تھا۔ ابھی چند ماہ پہلے اپنی پارٹی کو توسیع کی حمایت کا حکم صادر کیا۔ حکومت میں رہ کر کھربوں روپے کمانے والے اصول پسند، آدمی کا یہ دعویٰ کیسے مان لیا جائے کہ اب یکایک وہ انقلابی ہو چکا؟ 1993ء میں غلام اسحق خان کے خلاف بغاوت کی، خامیوں کے باوجود جو حبّ وطن اور دیانت کا استعارہ تھے۔ اس کے بعد بھی کئی بار، خاص طور پر سپریم کورٹ کی طرف سے برطرفی سے پہلے پریس کو انہوں نے پابہ زنجیر رکھنے کی کوشش کی یا سرکاری خزانہ لٹا کر بچہ جمورا بنانے کی۔

اس باب میں کارنامے آنجناب کے ایسے ہیں کہ ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔جب چاہا عدالتوں پہ چڑھ دوڑے، جب سازگار ہوا عدالتی نظام کے محافظ بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ناراض ہوئے تو آلِ بھٹو کو جرائم پیشہ قرار دے دیا۔ ضرورت پڑی تو شیر و شکر ہو گئے۔ پھر وہی سوال ،اس آدمی پہ اعتبار کیسے کیا جائے؟ صرف گزشتہ دوبرس کا گوشوارہ بنایا جائے تو کتنی بار اسٹیبلشمنٹ کی مان کر چپ سادھ لی۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ غیبی مدد پا کر یا محض جذبات سے مغلوب ہو کر، چی گویرابنے ہیں؟ آئے دن حکومتوں کی تبدیلی سے ملک کو کیا ملا؟ سرکار کی رٹ برائے نام رہ گئی اور تحلیل ہوتی جا رہی ہے۔ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ سے کوئی شاد نہیں مگر مولانا فضل الرحمن؟ مگر زرداری صاحب اور جناب نواز شریف؟ اگر اپنی غلطیاں بھی وہ تسلیم کرتے۔ اگر ایک جامع اور قابل عمل لائحہ عمل تجویز کرتے تو غیر جانبدار لوگ بھی شاید اعتبار پہ مائل ہوتے۔ اصول یہ ہے کہ ہر پائیدار تعمیر مرحلہ وار ہوتی ہے۔ صرف جوش و جذبے سے نہیں۔ اجتماعی حیات حکمت اور اعتدال سے سنورتی ہے، قانون کی حکمرانی سے۔ اپوزیشن لیڈروں سے کیا یہ امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ اخلاقی اصولوں کی لازماً وہ پاسداری کریں گے۔ شاعر نے یہ کہا تھا: ؎ تیرے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتا

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */