انصار عباسی کے خلاف مہم کیوں چلائی جا رہی ہے؟ - عامر خاکوانی کا سوشل میڈیا بلاگ

ٹوئٹر پر معروف صحافی انصار عباسی کے حوالے سے ایک ٹرینڈ چل رہا ہے، بعض ویب سائٹس پر بھی اس حوالے سے تحریریں پڑھیں، ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ دیکھی۔ حیرت سے تفصیل معلوم کرنے کی کوشش کی کہ انصار عباسی صاحب سے کیا ایسی بھول ہوگئی ہے کہ ماروی سرمد اور اس قبیل کے دیگر لوگ ان کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔

معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ سے پی ٹی وی کا ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا، جس میں ایک نوجوان لڑکی ایکسرسائز کر رہی ہیں جبکہ ایک مرد ٹرینر انہیں ٹریننگ کرا رہا ہے۔ انصارعباسی نے اپنے ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران خان، اطلاعات کے معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ اور شہباز گل کو متوجہ کیا اور صرف اتنا فقرہ لکھا ”یہ پی ٹی وی ہے۔“

اس کے بعد انصار عباسی کے خلاف تنقید، زہریلے تیر برسانے اور تمسخر اڑانے کا ایک طوفان سا امنڈ آیا۔ طرح طرح کے طعنے دئیے گئے۔ایک نے کہا کہ انصار عباسی کا ذہن خراب ہے کہ اس ویڈیو میں انہیں فحاشی نظر آئی۔ کسی نے کہا کہ خواتین کو فٹ رہنے کی ضرورت ہے ، لڑکیاں ایکسرسائز کیوں نہ سکھائیں وغیرہ وغیرہ۔

کہا گیا انصار عباسی پاکستانیوں کی اکثریت کے مائنڈ سیٹ کی نمایندگی کرر ہے ہیں جنہیں ہر چیز میں جنسیت نظر آتی ہے۔وفاقی وزیرفواد چودھری نے انصار عباسی کو نفسیاتی علاج کرانے کا مشورہ دیا۔ایک صحافی خاتون نے لکھا کہ روز مرہ کے کام کرتی خواتین میں جنسیت ڈھونڈنا بھی ایک طرح کا ریپ کلچر ہے۔ایک اور صحافی خاتون نے لکھا کہ اوریا مقبول جان اور انصار عباسی کو عورتوں کے چلنے پھرنے، ورزش کرنے اور سپورٹس میں حصہ لینے سے مسئلہ ہے۔

اسی طرح کے اور بہت سے ٹوئٹ اور ری ٹوئٹ کیے گئے۔ انصار عباسی نے ان حملوں پر بڑی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، اپنے موقف پر سٹینڈ لیا، شائستگی مگر مضبوطی سے فواد چودھری سمیت دیگر لوگوں پر واضح کیا کہ ہمارے معاشرے میں موجود کسی غیر اسلامی چیز کی مخالفت کرنے پر اگر پوری دنیا بھی میری مخالف ہوجائے تو مجھے ذرا برابر فرق نہیں پڑتا، میں اللہ کا شکر گزارہوں جس نے مجھے یہ کرنے کے قابل بنایااور مجھے اس پر فخر ہے۔

سوال یہ ہے کہ انصار عباسی نے ایسا غلط کیا کیا؟
کیا ان کا اعتراض غلط تھا؟ انہوں نے نیشنل چینل پی ٹی وی پر تنقید کر کے غلطی کردی؟

چست لباس میں کسی لڑکی کی ورزش کرتے ایسی ویڈیونشرکرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ لباس چست اور جسم پر منڈھا ہوا ہو؟

درحقیقت بات ورزش اور خواتین کی مخالفت کی ہے ہی نہیں۔اس ٹوئٹ میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ خواتین کا کون مخالف ہوسکتا ہے؟ ہر مرد کی پرورش ایک عورت یعنی ماں کرتی ہے، اس کے گھر میں چھوٹی بڑی بہنیں ہوتی ہیں جو اس کا خیال رکھتیں، دعاگو رہتی ہیں، شادی کے بعد بیوی کی شکل میں عورت ہی لائف پارٹنر بنتی ہے، بچوں میں اگر اللہ کی رحمت ہو تو بیٹی جیسی دولت ملتی ہے۔ بیٹیوں کے پیار سے زیادہ دنیا میں اور کیا چیز ہوسکتی ہے؟ کوئی سنگ دل ہی ہوگا جو خواتین کے ان پیارے، عظیم کرداروں کی نفی کرے گا۔

اسی طرح خواتین کی ورزش، واک کرنے، مناسب طریقے سے کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے کون روکتا ہے؟ خواتین کالجوں، خواتین یونیورسٹیوں میں سالانہ کھیلوں کی سرگرمیاں ہوتی ہیں، ہم سب کی بچیاں اس میں حصہ لیتی ہیں، خواتین کے مخصوص پروٹیکٹڈ ماحول میں ان سرگرمیوں پر کوئی مذہبی شخص بھی اعتراض نہیں کرتا۔

اس کلپ میں موجود بچی پر بات نہیں کرنا چاہتا ہوں، وہ بھی ہماری بہن بیٹیوں جیسی ہے، اتنی ہی محترم۔ اصولی موقف مگر یہ ہے کہ چست لباس میں کسی لڑکی کی ورزش کرتے ایسی ویڈیونشرکرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ لباس چست اور جسم پر منڈھا ہوا ہو؟ ہم بھی کھیلوں میں حصہ لیتے رہے، کرکٹ، فٹ بال وغیرہ، کسی بھی جم میں چلے جائیںل ڑکے وہاں مشینوں پر بھاگ رہے ہوں گے، دیگر ایکسرسائزز کرتے ملیں گے، کسی نے سکن ٹائٹ ٹراﺅزر نہیں پہن رکھا ہوگا۔ ٹی وی چینلر پر سکن ٹائٹ ٹراﺅزر میں لڑکیاں دکھانا کیوں ضروری ہیں؟ کیا اس کا مقصد صرف گلیمر دکھانا نہیں، جنسی ترغیب پیدا کرنا ، ناظرین کو سکرین سے چپکانا نہیں؟

میرے تین اعتراض ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ لڑکی کی ایکسرسائز کے لیے مرد ٹرینر کی کوئی تک نہیں۔ بیشتر نجی چینلز پر خواتین ٹرینرز پروگرام کرتی ہیں،پی ٹی وی کے لیے مرد ٹرینر کیوں ؟ اس کلپ سے اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ لڑکی بھی قدرے شرما رہی ہے ۔

انصار عباسی کے خلاف چلنے والے سوشل میڈیا مہم البتہ بدترین لبرل ازم کو ظاہر کرتی ہے۔

دوسرا یہ کہ اصلاً مرد ٹرینر کو خود آ کر ایکسرسائز کر کے دکھانا چاہیے، وہ وہاں کسی لڑکی سے ایکسرسائز کرانے کے بجائے خود پرفارم کر کے بتائے۔ اس میں کیا قباحت ہے؟ جو ڈمبلز وہ لڑکی اٹھا رہی تھی، وہ کوئی مرد ٹرینر نہیں اٹھا کر دکھا سکتا تھا؟

تیسرا یہ کہ اگر کہیں پر کسی خاتون کو دکھانا ضروری ہے، تب بھی اسے ڈیسنٹ ڈریس میں آنا چاہیے اور مخصوص زاویوں سے کلوز اپ کے بجائے احیتاط اور سلیقے سے یہ دکھایا جائے۔

میرے لیے یہ بڑا صاف معاملہ ہے، میری بیٹی الحمدللہ کالج میں پڑھتی ہے۔ میں یہ قطعی پسند نہیں کروں گا کہ میری بیٹی ایسے ڈریس پر ٹی وی پر آ کر ایکسرسائز کا ویڈیو کلپ بنوائے۔ میرے لیے یہ سیدھا سادا غیرت اور اصول کا معاملہ ہے۔ میں اپنی بیٹی، اپنی بہنوں، بھانجیوں کے لیے یہ کبھی پسند نہیں کروں گا۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی عزت دار شخص ایسا پسند کرے گا۔

اسلام کاواضح حکم ہے کہ خواتین اپنا جسم اچھے سے ڈھانپیں،شرعی ستر ہر ایک پر واضح ہے۔ پردہ سکن کا نہیں بلکہ فگر کا ہے۔ چست لباس جسم پر منڈھ کر جسم ڈھانپنے کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔

انصار عباسی صاحب سے کئی امور پر اختلاف ہوسکتا ہے، میں ان کی سیاسی آرا سے اتفاق نہیں کرتا۔ پی ٹی وی کے ویڈیو کلپ پر اعتراض میں وہ سو فی صد درست ہیں۔ انہوں نے شریعت کے عین مطابق بات کی ہے، ہماری اسلامی اقدار کی ترجمانی ، ہماری مشرقی اخلاقیات کے تقاضے نبھائے ہیں۔انصار عباسی سے کوئی غلطی نہیں ہوئی۔ انہوں نے درست کہا ہے۔ ان کے خلاف چلنے والے سوشل میڈیا مہم البتہ بدترین لبرل ازم کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ وقت انصار عباسی کو سپورٹ کرنے، ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کسی بھی وقت ہوسکتی ہے، نظریاتی حوالے سے ہمیں انصار عباسی کے ساتھ سٹینڈ لینا چاہیے۔ میں عامر خاکوانی اپنی ذاتی حیثیت میں انصار عباسی کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتا ہوں۔ سٹینڈ ودھ انصار عباسی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */