خود مثال بننا ہوگا - ریاض علی خٹک

بچپن میں جب بھی استاد زبانی کچھ پڑھا رہا ہوتا، میری کیفیت اس سپاٹ دیوار جیسی ہوتی جس پر گیند جتنے زور سے ماری جائے، اتنی ہی قوت سے واپس جاتی تھی. میری والدہ کم پڑھی لکھی تھیں. صبح سکول جانے سے پہلے میں رونا شروع کردیتا کہ مجھے سبق ہی یاد نہیں. امی اڑوس پڑوس کی پڑھی لکھی خواتین سے پہلے سبق سیکھتی سمجھتی اور پھر مجھے پڑھانے بیٹھ جاتیں. اللہ رب العزت ان کے درجات بلند فرمائے، امی کوئی تجربہ کار استاد نہ تھیں. وہ سمجھانے کے لیے کوئی عام روز مرہ کی مثال دیتی. جتنی اچھی مثال ان کو ملتی اتنا ہی اچھے سے مجھے سبق سمجھ آجاتا. امی اکثر کہتی تھیں تمہیں پڑھا پڑھا کر میں نے پڑھ لیا.

ہمارے متوسط غریب طبقے کی نوجوان نسل کے نہ صرف مسائل یکساں ہیں بلکہ ہم سب کی ان مسائل کے لیے اپروچ بھی ایک جیسی ہوتی ہے. اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ خاندان میں کسی ایک کی کسی شعبے یا کام میں کامیابی کا نتیجہ خاندان کی اکثریت کو اسی راہ پر لگا دیتا ہے. ہم لوگ دوسروں کو چھپ چھپ کر دیکھ کر سیکھتے ہیں. مجھے یاد ہے پروفیشنل لائف کی شروعات میں کچھ بیرون ملک کے مہمانوں کے ساتھ چائنیز ریسٹورنٹ میں جب بیرے نے مینو میرے سامنے رکھا تو پورے مینو میں ماشاءاللہ سے میں ایک بھی ڈش نہیں پہچانتا تھا.

ہمیں اور ہماری نسل کو خالی باتیں نہیں، مثالوں کی ضرورت ہوتی ہے. اگر مثالیں کم ہوں تو ہمیں خود مثال بننا ہوگا. ہمیں کم از کم اس منزل تک ضروری جانا ہے جہاں نئے لڑکے لڑکی کے لیے خاندان کے کسی ایک کامیاب کی نقش راہ لازمی نصاب نہ ہو. ہمیں وہ حوصلہ دینا ہے جہاں وہ خود کوئی نئی راہ کھوج سکے. اس پر وہ آمادہ ہو. اسے کوئی خوف نہ ہو. وہ چھپ چھپ کر دیکھنے کی بجائے ببانگ پوچھنے کی ہمت رکھتا ہو.

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */