اللہ کا شکر ہے عمران خان ہم سر اٹھا کر جی سکتے ہیں - محمود فیاض

خانصاب، آپ نے کہا تھا پاکستان کو ایسا بنائیں گے کہ جیسے ریاست مدینہ تھی۔۔۔ جہاں انصاف ہوگا، بھوک نہیں ہوگی کہ ریاست کا والی اپنے کاندھے پر اناج کی بوری اٹھائے گا اور ضرورت مند کے بلکتے بچوں کو کھانا پہنچائے گا۔

خانصاب، آپ نے کہا تھا کہ فرات کے کنارے کتا پیاسا ہوگا تو ذمہ داری میری ہوگی۔۔۔ یعنی حاکم وقت کی۔

اللہ کا شکر ہے خانصاب، میں نے آپ کی باتوں پر پورا یقین کیا اور اپنے دن رات لگادیے لوگوں کو قائل کرنے پر کہ ایسا حکمران صدیوں میں پیدا ہوتا ہے جو غریبوں کا سوچے، اور غریبوں کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتا ہو۔

اللہ کا شکر ہے خانصاب، کہ میں نے ریاست مدینہ والی بات پر یقین کرلیا تھا، اور پاکستانیوں کو یقین دلانے میں کامیاب ہوگیا تھا کہ اس شخص کو ووٹ دو، یہ آ کر ہمارے فرات کے کنارے کتوں کی ذمہ داری بھی لے گا۔

اللہ کا شکر ہے خانصاب، اللہ نے آپ کو حکومت دی، اور میرے الفاظ کو قبولیت۔ آپ نے جب سے حکومت سنبھالی ہے، انصاف کا وہ دور شروع ہوا ہے کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔

ساہیوال کی بڑی سڑک پر ایک خاندان کو اس وقت ریاست مدینہ ثانی کے اہلکاروں نے انصاف دیدیا جب ان کو محسوس ہوا کہ ماں باپ کے بعد جوان ہوتی بچی کس کس در پر جائے گی تو انہوں نے ماں باپ کی نعشوں پر ہی اس بچی کو بھی بھون دیا۔ باقی دو بچوں کو زندگی بھر کے لیے اس احساس کے ساتھ زندہ رہنے دیا کہ وہ ریاستی انصاف کے ماتھے کا جھومر بن کر رہیں۔

آپ نے تب بھی حق و سچ کا ساتھ دیا۔ ریاستی اداروں کی نااہلی پر جس طرح دو سال تک ریاست نے مقدمہ چلا کر ان کو باعزت بری کیا، وہ رہتی دنیا میں آپ کے دور حکومت کی ایک چمکتی مثال بن کر رہے گی۔

پرانی باتیں چھوڑ دیں خانصاب، ابھی پرسوں ایک عورت ریاست مدینہ ثانی میں سونا اچھالتے گذری اور ٹول پلازہ سے بخیر و عافیت نکل گئی۔ اس کی قسمت میں دو درندوں کے ہاتھوں لٹنا اور جنسی زیادتی کا شکار ہونا لکھا تھا، وہ ہوئی۔۔۔ مگر قربان جاؤں آپ کے اپنے ہاتھوں سے لگائے بوٹے پولیس آفیسر کے جس نے میڈیا پر پہلی "پیشی" میں ہی مظلوم کو انصاف دیدیا۔

اس سے بڑا اور فوری انصاف کیا ہوگا جس میں مظلوم کو بتا دیا جائے کہ اس کو جنسی درندوں نے مسلسل کیوں بھنبھوڑا، اور اب وہ باقی زندگی کے لیے اس ٹراما کو جھیلنے کے لیے کس کو الزام دے؟ انصاف دیدیا گیا خانصاب، آپ کے چہیتے آفیسر نے یہ بتاکر انصاف دیدیا کہ عورت غلط جگہ پر رکی تھی، لوٹنے والے ٹھیک جگہ لوٹ رہے تھے۔۔۔ مگر چونکہ یہ ریاست مدینہ ثانی ہے، تو ابھی باقی کی کسر حکومتی ادارہ پولیس ان ملزمان کو فرار اور گمشدہ رکھ کر پوری کر رہا ہے۔ جذبات سے ہل نہیں پا رہا خانصاب ورنہ اس قدر تالی پیٹوں کہ پارلیمان میں بیٹھے آپ کے ڈیڑھ سو ساتھیوں کے گال لال ہو جائیں۔ براوو خانصاب براوو۔۔۔

اور اب آخری بات خانصاب، ابھی تک کے دور حکومت میں بہت انصاف ہوئے مگر یہ شاہکار بھی آپ کے نصیب میں تھا، کہ آپ قسمت کے دھنی ہیں۔

بہاولپور میں ایک بیٹی کو کچھ درندوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنا لیا (ویسے خانصاب ریاست مدینہ ثانی میں آٹے کے مہنگا اور عورت کے سستا ہونے پر بھی غور کیجیے گا)۔۔۔ اس بیٹی کا باپ تین روز اپنی بیٹی کو لے کر مختلف پولیس اسٹیشنوں کے دھکے کھاتا رہا۔۔۔ مگر انصاف کے لیے ریاست مدینہ ثانی کا پروٹوکول نہ سمجھ سکا۔۔۔

خانصاب، لٹی ہوئی بیٹی کا انپڑھ باپ، فرات کے کنارے کا کتا تھوڑی تھا جو آپ کی زنجیر انصاف میں جنبش ہوتی۔ وہ ریاست پاکستان کا ایک معمولی کیڑا نما انسان تھا خانصاب۔۔۔

مگر بیٹی کو پتا تھا کہ انصاف کیسے ملتا ہے۔ جانے کیسے اس نے جان لیا تھا کہ حاکم وقت اور زمانے کی نیت کیا ہے۔ خانصاب! اس نے زہر پی کر اپنی جان دے دی۔۔۔ اور تڑپتے ہوئے اپنے باپ کو تسلی دی کہ کل سے آپ سر اٹھاکر جی سکوگے۔

خانصاب! میں سمجھتا ہوں اس قدر آسان، فوری اور "باعزت" انصاف حاصل کرکے اس بیٹی نے نہ صرف اپنے باپ کا سر بلند کیا ہے بلکہ مجھے اور آپ کو بھی فخر سے سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ دیدیا ہے۔

خانصاب! آپ جو ریاست مدینہ کی بات کرتے تھے، اس بیٹی کو انصاف ملنے پر سر اٹھاکر جی سکتے ہیں۔۔۔ اور خانصاب! میں جو آپ کے نام پر ریاست مدینہ کی امید میں ووٹ مانگا کرتا تھا۔۔۔ اس بیٹی کو ملنے والے فوری انصاف پر میرا سر آسمان سے جا لگا ہے۔

خانصاب! مبارک ہو، ہم سر اٹھا کر جی سکتے ہیں۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */