میراامام سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ - سمیرا غزل

سیدی رح لکھنے پڑھنے کے شوقین تھے اور قلم کا بہترین استعمال کرنا جانتے تھے چنانچہ انھوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک صحافی کی حیثیت سے کیا اور متعدد اخبارات میں مدیر کی حیثیت سے کام کیا جن میں اخبار "مدینہ" بجنور(اترپردیش)، "تاج" جبل پور اور روزنامہ "الجمعیہ" جمعیت علمائے ہند دہلی، خاص اہمیت کے حامل ہیں۔

مگر جب 1925 میں جمعیت علمائے ہند نے کانگریس کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو آپ رح نے الجمعیہ کی ادارت چھوڑ دی۔سوامی شردھانند نے ہندووں کو مسلمان بنانے کی تحریک شروع کی جس کا نام شدھی تھا،اس تحریک کی بنیاد دراصل اسلام دشمنی پر تھی ۔صرف یہی نہیں بلکہ اس نے اپنی کتاب میں آقائے دوجہاں صہ کی شان میں گستاخی کی جو ان بے ایمانوں کا نفسیاتی حربہ ہے جس پر علم دین شہید نے ایمانی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوامی شردھانند کو قتل کر دیا۔ہندووں نے اس پر شور مچادیا اور اسلام کو تشدد کا مذہب قرار دینے لگے تو اس وقت مولانا محمد علی جوہر نے جامع مسجد دہلی میں درد مندی کے ساتھ تقریر میں درخواست کی کہ کوئی شخص اسلام کے مسئلہ جہاد کی پوری وضاحت کرے تاکہ اسلام کے خلاف جو غلط فہمیاں آج پھیلائی جا رہی ہیں وہ ختم ہوجائیں۔ لہذا سیدی مرشدی نے 24 سال کی عمر میں الجہاد فی الاسلام کے نام سے ایک کتاب لکھی۔

اس کتاب کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا:”اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانونِ صلح و جنگ پر یہ ایک بہترین تصنیف ہے اور میں ہر ذی علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے۔1938ء میں اس وقت جب کانگریس کی تحریک زور پکڑ گئ اور بہت سے علمائے کرام بھی یک قومی نظریے کی زد میں آگئے تو مرشدی نے اس نظریے کے خلاف بہت سے مضامین لکھے۔ جو بعد ازاں کتابوں کی صورت میں شائع ہوئے جن میں سے ایک "مسئلہ قومیت" ہے۔اور دوسری ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش" ہے۔جو لوگ کہتے ہیں کہ مودودی رح علیہ قیام پاکستان کے مخالف تھے ان کی یہ تحاریر ان کے منہ پر ایک طمانچہ ہیں۔اگر انھیں کاٹ چھانٹ کر پیش کرنے کے بجائے مکمل سیاق و سباق کے ساتھ پیش کیا جائے تو صورتحال واضح ہوجاتی ہے۔ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے دست ِ راست ، آل انڈیا مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکریٹری، مجلس ِ عمل اور مرکزی پارلیمانی بورڈ کے سیکریٹری ظفر احمد انصاری لکھتے ہیں۔

”اس موضوع پر مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے ’’مسئلہ قومیت“ کے عنوان سے ایک سلسلہ مضامین لکھا جو اپنے دلائل کی محکمی، زور ِ استدلال اور زور ِ بیان کے باعث مسلمانوں میں بہت مقبول ہوا اور جس کا چرچا بہت تھوڑے عرصے میں اور بڑی تیزی کے ساتھ مسلمانوں میں ہو گیا۔ اس اہم بحث کی ضرب متحدہ قومیت کے نظریہ پر پڑی اور مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کا احساس بڑی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا۔ قومیت کے مسلے پر یہ بحث محض ایک نظری بحث نہ تھی بلکہ اس کی ضرب کانگریس اور جمعیت علمائے ہند کے پورے موقف پر پڑتی تھی۔ ہندووں کی سب سے خطرناک چال یہی تھی کہ مسلمانوں کے دلوں سے ان کی جدا گانہ قومیت کا احساس کسی طرح ختم کرکے ان کے ملی وجود کی جڑیں کھوکھلی کردی جائیں۔ خود مسلم لیگ نے اس بات کی کوشش کی کہ اس بحث کا مذہبی پہلو زیادہ سے زیادہ نمایاں کیا جائے تاکہ عوام کانگریس کے کھیل کو سمجھ سکیں اور اپنے دین و ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال سید مودودی کی تحاریر سے بے حد متاثر تھے۔ علامہ اقبال رح ’’ترجمان القرآن“ کے ان مضامین کو پڑھوا کر سنتے تھے۔ ان سے ہی متاثر ہوکر علامہ اقبال نے مولانا مودودی کو حیدرآباد دکن چھوڑ کر پنجاب آنے کی دعوت دی اور اسی دعوت پر مولانا 1938ء میں پنجاب آئے۔ میاں محمد شفیع صاحب اپنے ہفت روزہ اقدام میں لکھتے ہیں:

صوبہ سرحد اور سلہٹ کے ریفرنڈم کے موقع پر مولانا مودودی نے پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالنے کا مشورہ دیا اور لوگوں کو اس موقع پر آمادہ کرنے کے لیے کہا کہ
”اگرمیں صوبہ سرحد کا رہنے والا ہوتا تو استصواب رائے میں میرا ووٹ پاکستان کے حق میں پڑتا۔ اس لیے کہ جب ہندوستان کی تقسیم ہندو اور مسلم قومیت کی بنیاد پر ہورہی ہے تو لامحالہ ہر اس علاقے کو جہاں مسلمان قوم کی اکثریت ہو اس تقسیم میں مسلم قومیت ہی کے علاقے کے ساتھ شامل ہونا چاہیے۔قیام پاکستان کی جدوجہد کے دوران مسلم قومیت پر سید مودودی کے مضامین مسلم لیگ کے حلقوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے رہے۔ بعد ازاں مسلم لیگ یو پی نے اسلامی نظام مملکت کا خاکہ تیار کرنے کے لیے علما کی ایک کمیٹی بنائی تو مولانا مودودی نے اس کی رکنیت قبول کرتے ہوئے اس کام میں پوری دلچسپی لی ۔

سید مودودی رح نے ترجمان القرآن کے ذریعے ایک اسلامی جماعت کے قیام کی تجویز پیش کی اور اس سلسلے میں ترجمان القرآن میں مضامین بھی شائع کیے۔ جو لوگ اس تجویز سے اتفاق رکھتے تھے وہ 26 اگست 1941ء کو لاہورمیں جمع ہوئے اور "جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی گئ۔ اس میں پورےہندوستان میں سے صرف 75 آدمی شامل ہوئے تھے۔ اس اجتماع میں سید مودودی رح کو جماعت کا سربراہ منتخب کیا گیا۔پاکستان تشریف آوری کے بعد جب آپ نے پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاز کا مطالبہ کیا تو آپ کو گرفتار کر لیا گیا یہ واقعہ قائد اعظم کے انتقال کے ایک ماہ بعد پیش آیا۔اس قید و بند کے دوران بھی مرشدی رح نے اپنا کام نہ روکا اور "مسئلہ ملکیت زمین" مرتب کی، "تفہیم القرآن" کامقدمہ لکھا، حدیث کی کتاب "ابو داؤد" کا انڈیکس تیارکیا۔

کتاب "سود" اور "اسلام اور جدید معاشی نظریات" مکمل کیں۔1953 میں سید مودودی رح نے "قادیانی مسئلہ" کے نام سے ایک چھوٹی سی کتاب تحریر کی جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا اور فوجی عدالت نے سزائے موت کا حکم سنادیا۔سزا سنانے والے میجر نے بڑی رعونت سے کہا تھا کہ اگرچہ فوجی عدالت کی سزاوں کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہوسکتی۔ لیکن مولانا مودودی رح کو سات دن کی مہلت دی جاسکتی ہے کہ کمانڈر انچیف سے رحم کی اپیل کرنے کے لیے۔

مولانا مودودی رح نے اس میجر سے تاریخی الفاظ کہے کہ!

’’مجھے کسی سے کوئی رحم کی اپیل نہیں کرنی ،میں یہ سمجھتا ہوں کہ زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں،آسمان پر ہوتے ہیں ،اگر آسمان پر میری موت کا فیصلہ ہوچکا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے زندہ نہیں رکھ سکتی ،اور اگر آسمان پر میری موت کا فیصلہ ابھی نہیں ہواتو یہ الٹے بھی لٹک جائیں میرا بال بھی بیکا نہیں کرسکتے ۔‘‘

سزائے موت سنانے کے بعد پاکستان اور پاکستان سے باہر بھی عالم اسلام میں شدید رد عمل ہوا۔ جن میں مصر کی اسلامی جماعت اخوان المسلمون کے رہنما علامہ حسن الہضیبی، کابل سے علامہ نور المشائخ المجددی، فلسطین کے مفتی اعظم الحاج محمد الحسینی کے علاوہ الجزائر اور انڈونیشیا کے علما نے حکومت پاکستان سے رابطہ کرکے سید مودودی کی سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ کیا جبکہ شام کے دار الحکومت دمشق میں ان کی سزائے موت کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔
بالآخر حکومت نے سزائے موت کو 14 سال سزائے قید میں تبدیل کر دیا۔ تاہم وہ مزید دوسال اور گیارہ ماہ تک قید میں رہے اور بالآخر عدالتِ عالیہ کے حکم کے تحت رہا ہوئے۔اور ان کا رب کریم پر یقین رنگ لایا۔

ایوبی دور میں فتنہ انکار حدیث نے سر اٹھایا اور حکومتی سر پرستی میں ایسا طبقہ سامنے آیا جس کا کہنا تھا کہ اسلام میں حدیث کی کوئی حیثیت نہیں حتیٰ کہ مغربی پاکستان کی عدالت کے ایک جج نے حدیث کو سند ماننے سے انکار کر دیا۔ اس موقع پر سید مودودی رح نے اسلام میں حدیث کی بنیادی حیثیت کو دلائل سے ثابت کرتے ہوئے دونوں کو اسلامی قانون کا سرچشمہ قرار دیا۔اکتوبر 1963ء میں جماعت اسلامی کا سالانہ جلسہ لاہور میں تھا۔ جو ایوب خان کی حکومت سے منٹو پارک میں کرنے کی اجازت نہ ملنے پر بھاٹی گیٹ کی تنگ جگہ پر رکھا گیا تھا۔

25 اکتوبر کو اس جلسے میں مرشدی نے تقریر شروع ہی کی تھی کہ جلسہ گاہ میں ان پر نا معلوم افراد کی طرف سے قاتلانہ حملہ ہوا جس سے جماعت اسلامی کا ایک کارکن جاں بحق ہو گیا مگر سیدی بچ گئے۔اس موقع پر کسی ہمدرد نے آپ کو بیٹھ جانے کا کہا تو آپ نے تاریخ ساز جواب دیا کہ" اگر میں بیٹھ گیا تو کھڑا کون رہے گا"
بے شک اس دن آپ کے کھڑے رہنے کی وجہ سے ہی جماعت اسلامی تمام صعوبتوں کے بعد بھی اپنے قدموں پر کھڑی ہے اور انشاء اللہ کھڑی رہے گی۔ایوب خاں نے 6 جنوری 1964ء کو جماعت اسلامی کو متنازعہ یعنی قانون کے خلاف قرار دے دیا۔اور سید مودودی کے علاوہ جماعت کے 65 رہنماوں کو گرفتار کر کے قید خانوں میں ڈال دیا گیا۔ اس قید کی مدت 9 ماہ تھی۔جس کے بعد انہیں عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر رہا کر دیا گیا۔

یہ میرے سیدی مرشدی رح کی جدو جہد تھی جو یہاں بہت مختصر پیش کی گئ ہے حالانکہ ان کا سفر بہت طویل تھا ۔جیل کی کٹھنائیوں سے لے کر اپنوں کی ستم رسانیوں تک آپ ثابت قدم رہے اور ہمت نہ ہاری آج آپ کو غیر بھی تسلیم کر رہے ہیں اور آپ کا قافلہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔سید ابو الاعلیٰ مودودی رح 1903 میں اورنگ آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ خواجہ قطب الدین مودود چشتی رح سے خاندانی نسبت کی وجہ سے مودودی کہلائے۔آپ 1979 میں وفات پاگئے۔مذکورہ کتابوں کے علاوہ مزید بیش بہا تصانیف اور علمی خدمات اور موثر ترین فکر کی بدولت آپ کو بیسویں صدی کا مجدد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔آپ رح کو پہلے شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا ۔آپ وہ دوسرے شخص تھے جن کی غائبانہ نماز جنازہ کعبے میں ادا کی گئی۔دمام شہر میں" شارع سید ابوالاعلی مودودی رح "موجود ہے۔ مرشد آپ کی قربانیوں کا ثمر آپ کو جنت میں ضرور ملے گا بے شمار ایک جم غفیر ایک دن خدا کی بارگاہ میں آپ کی گواہی دے گا انشاء اللہ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */