انمول موتی - نبیلہ شہزاد

پاکستان میں ایک ایسی جماعت بھی ہے جس نے خدمت انسانی کے لئے صرف ایک رخ متعین نہیں کیا بلکہ انسانی زندگی کے تمام شعبہ جات میں اسکی خدمات قابل قدر ہیں۔یہ جماعت اپنے اراکین کی تربیت اس انداز سے کرتی ہے کہ تمام لوگ بے لوث ،بڑھ چڑھ کر خدمتِ خلق میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ صلہ کی طلب صرف رب واحد سے۔مقصد رب کی رضا اور اس روئے زمین پر دین کا نفاذ ہے۔

اس جماعت کے جتنے بھی اراکین پارلیمنٹ کے ممبر بنے۔ کریپشن کے چھینٹے کسی ایک پر بھی نہ پڑے۔یہ اسی جماعت کی صفت ہے کہ اسکا رکن ملک کے ایک صوبے کا وزیر خزانہ ہو اور سادگی کا یہ حال ہے کہ اس کے گھر کی گھنٹی پانی سے بھری پلاسٹک کی بوتل ہو۔جب بھی کوئ خلاف شریعت بل پارلیمنٹ میں منظوری کے لئے آتا ہے تو وہاں موجود اراکین اس کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں بلکہ اسلام کی ترویج کے لئے جس اسلوب کی ضرورت ہوتی ہے اسکے حق میں پارلیمنٹ میں بل بھی جمع کر وا دیتے ہیں ملک میں جب بھی کوئی ہنگامی صورت حال ہوتی ہیں تو اس جماعت کے لوگ رضا کار بن جاتے ہیں۔خواتین کیا۔۔۔۔۔۔اور مرد کیا۔۔۔۔۔۔گھر گھر لوگوں کو راشن فراہم کر رہے ہوتے ہیں جائے حادثات پر خدمت کے لیے پہنچنے والوں میں اولین ہوتے ہیں آگ ہو یا پانی بے خوف و خطر کود جاتے ہیں۔ متاثرین کے لیے ضروریات کا سامان لیئے ٹرک جوق در جوق رواں ہوتے ہیں۔

ہنگامی صورتحال میں جب عوام مشکل میں ہوتی ہے تو اس جماعت کے ممبر اپنا آرام سکون خواب و خیال کر کے دن رات خدممت میں کمر بستہ ہوتے ہیں۔اس جماعت کو ملک کے ہر شہری کی دین و دنیا کی بھی فکر ہے۔مزدور طبقہ،بچے اور محنت کش عورتیں جنہیں حالات نے کسب معاش کے جھمیلوں میں ڈال دیا ہے۔ان کے لئے تعلیم و تعلم کا بندوبست بھی کرتی ہے۔لوگوں کی دنیا ہی نہیں ، فکر آخرت بھی رکھی جاتی ہے۔دینی تعلیمات،اخلاقیات اور قرآنیات سکھانے کے لئے در در کا دروازہ کٹھکایا جاتا ہے۔یتیم بچے ہوں،بیوائیں ہوں یا شھداء کے گھرانے سب ان کی فہرست فکر میں شامل ہیں۔غریب بیٹیاں جن کے گھر بسانے سے ان کے والدین بھی لاچار ہیں ان کے لئے جہیز فنڈ اور اجتماعی شادیوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔رمضان کے بابرکت لمحات ہوں یا عید کی خوشیاں اسے پسماندہ لوگوں کے ان اوقات کو پرمسرت بنانے کی فکر ہوتی ہے۔

جب ایسی عظیم جماعت کا تذکرہ ہو رہا ہو تو خیالات کے گھوڑے فوراً اس جماعت کے بانی کی طرف دوڑتے جاتے ہیں۔جس نے مسلمانانِ برصغیر کے لئے نہ صرف ایسی جماعت کو قائم کیا بلکہ اس کی طرزِ فکر بھی متعین کی۔اب آتے ہیں اس عالیشان اور پر وقار جماعت کے بانی کی طرف جو گزشتہ صدی کے عظیم ترین انسان تھے۔وہ 25 ستمبر 1903ء کو حیدرآباد (دکن) کے شہر اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ذہانت اور علمی قابلیت کا حال یہ تھا کہ محض گیارہ سال کی عمر میں 1940ء کو مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور پندرہ سال کی عمر میں اخبار ''مدینہ'' میں شمولیت اختیار کی پھر بعد میں اور بھی اخبارات سے منسلک ہوئے اور ان کی ادارت بھی سنبھالی تحریک اسلامی کا سب سے زیادہ چھپنے والا رسالہ ترجمان القرآن کی ادارت میں کئی منفرد کتابیں تصنیف کیں۔

یہ عظیم ہستی مولانا سید مودودی صاحب ہیں۔مولانا صاحب نے 1937ء کو علامہ اقبال سے لاہور میں ملاقات کی اور علامہ اقبال کی دعوت پر ہی حیدرآباد سے پنجاب منتقل ہوئے۔1940ء کو جب مسلم لیگ نے اسلامی نظام حکومت کا خاکہ تیار کرنے کے لئے علماء کی کمیٹی بنائی تو مولانا صاحب بھی اس کمیٹی کے ممبر نامزد ہوئے۔پھر آپ نے 1941ء کو مسلمانوں کی حالت زار دیکھتے ہوئے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی اور اس جماعت کے پہلے امیر بھی منتخب ہوئے۔پاکستان بننے کے بعد 1950ءسے 1960 ء تک اس مردِ مجاہد اور انکے ساتھیوں پر اپنے ہی لوگوں نے مشکلات کے پہاڑ توڑے۔ آپ ہر محاذ پر باطل کے خلاف ڈٹ گئے۔ وہ محاذ سوشلزم ہو یا کمیونزم، مغربی تہذیب ہو یا سرمایہ دارانہ نظام ہو، آپ نے ان سب کے خلاف جہاد کیا اور فتح یاب ہوئے۔

جب آپ نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے کے لیے،"عقیدہ ختم نبوت"اور مسلہ قادیانیت جیسی کتابیں لکھی جس پر انگریز نواز اہلِ اقتدار نے عدالتوں کے ذریعے آپ کو سزائے موت سنائی، لیکن جماعت اسلامی کے احتجاج اور پورے عالم اسلام سے مولانا صاحب کی رہائی کے لیے زور دیا گیا، جس کی وجہ سے حکومت وقت کو مولانا صاحب کی رہائی کا پروانہ جاری کرنا پڑا۔آپ نے تصنیف وتالیف کا کام بھی خوب کیا۔ آپ کی لکھی گئی تفسیر ، تفہیم القرآن، دور حاضر کی مقبول ترین تصنیف ہے جو ایک آسان فہم اور جامع تفسیر ہے۔ آپ جیل میں رہتے ہوئے بھی فارغ نہ رہتے ۔ درس و تدریس بھی جاری رہتا اور تفہیم القرآن کا ایک بڑا حصہ جیل میں ہی لکھا۔
آپ آرام بہت کم کرتے ، چوبیس گھنٹوں میں سے صرف چار گھنٹے اپنے آرام کے لئے مختص کئے تھے۔ آپ نے محنت و مشقت کا اپنے ناتواں جسم پر اتنا بوجھ ڈالا کہ 1979ء میں شدید علیل ہوگئے۔ اسی علالت کے باعث ہی مولانا سید مودودی رحمتہ اللہ علیہ، 22 ستمبر 1979ء شام پونے چھ بجے ایک با وقار وبامقصد زندگی گزار کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ مولانا صاحب کا جنازہ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پڑھایا گیا جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی اور تدفین، ذیلدار پارک جہاں مولانا صاحب کا گھر بھی ہے، میں ہوئی۔

مولانا سید مودودی رحمتہ اللہ علیہ ایک ایسے انمول موتی تھے جنہوں نے اپنی حیات کا ایک ایک پل اللّہ تعالیٰ کا خلیفہ ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے گذارا۔
حق کی اس ادائیگی میں نہ صرف وقت فراعین نے تنگیوں وسختیوں سے نوازا بلکہ کئی دینی بھائیوں نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ جبکہ مولانا صاحب کی فکر اس روئے زمین پر صرف قرآن و حدیث کا نفاذ، عدل و انصاف کا بول بالا اور رجوع الی اللہ ہے۔ اللّہ تعالیٰ ، ہر پل باطل کے خلاف سینہ سپر ہونے اور امر باالمعروف و نہی عن المنکر کی رو میں زندگی گزارنے والے اس مردِ مجاہد کے آخرت میں ڈھیروں درجات بلند فرمائے آمین۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */