مال و دولت اور دنیا - لطیف النسا ء

مجھے بڑا لطف آتا ہے جب کوئی حقیقت سمجھ آتی ہے دنیا تو ہے ہی ان لوگوں کی جن کے پاس مال و دولت ہو ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جب دنیا اپنا دنگ دکھاتی ہے اور انسان کو اس کی حقیقت بتاتی ہے تو انسان حیران رہ جاتا ہے کہ واقعی کتنا بے بس مجبور اور بے کس انسان ہے جسے اللہ نے نائب بنا کر ساری دولتیں اس کے قدموں میں ڈال کر آزمانہ چاہا ! مگر وہ نہ سمجھا نہ سنبھلا بلکہ مزید بگڑتا ہی گیا !

اس دن میرے بڑے بھائی کہنے لگے میں کراچی آنا چاہتا ہوں سعودی عرب سے ۔ انسان کا پیٹ کبھی نہیں بھرے گا ،واقعی انسان کا پیٹ قبر کی مٹی سے ہی بھرے گا ورنہ تو دنیا کی لالچ اسے چاروں طرف سے اتنا گھیرے رہتی ہے کہ اسے کچھ ہوش ہی نہیں رہتا ۔ میں نے سوچا واقعی اگر انسان کو یہ حقیقت سمجھ آجا ئے تو اس کا عمل بدل جا ئے واقعی مال ودولت کی اصل حقیقت کیا ہے؟ ابھی ہم یہ سب باتیں کر رہے تھے کہ واقعی ان کے پیسے وہاں پھنسے ہوئے ہیں زندگی بھر کی کمائی ! مگر ہاتھ نہیں آرہی ، نوکری بھی زبردستی چل رہی ہے ! وہ بھی بہت ٹف کیا کیا جائے ۔ اقامے کا مسئلہ ، ویزے کا مسئلہ ! یہاں کراچی آئو تو کراچی کے گھر کے بیوی بچوں کے اپنے پرابلمز جو کبھی ختم نہ ہونے والے پہلے بچے چھوٹے تھے تو مسائل تھے ۔

اب بڑے ہو کر پائوں پر کھڑے ہو گئے تو ساتھ میں مسائل بھی مزید بڑے ہو کر سر چڑھ گئے ۔ اب کریں تو کیا کریں ؟ میں نے کہا صبر ، شکر اور اللہ اللہ بس اسکا حل یہی ہے اللہ توکل خود ہی راہ دے گا ۔ ایک بڑھتا ہوا پیغام میری ایک اچھی سی دوست کے پاس سے ملا ، پڑھکر تقویت ملی او ر حقیقت مال و دولت سمجھ آئی جس کیلئے ہر بندہ گندہ ہوتا ہے ۔ اس میں لکھا تھا کہ لبنا ن کے ایک مالدار آدمی نے ایک خوبصورت ساحلی علاقے میں اپنی قبر بنائی ۔ اس کے پاس اس کا ایک ذاتی جہاز بھی تھا ۔ ایک دھما کہ ہوا اور وہ جہاز سمیت سمندر میں ڈوب گیا ۔ لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کے با وجود اس کے جہاز کا تو پتا چل گیا مگر لاش نہیں ملی تا کہ اسے قبر میں دفن کیا جائے جو اس نے خود بنائی ۔ دوسرا واقعہ برطانیہ کے ایک مالدار کا تھا وہ اتنا مالدار تھا کہ حکومت اس سے قرض لیتی تھی ۔ اس نے ایک عظیم الشان محل بنایا اور ایک بڑا کمرہ اپنی دولت رکھنے کیلئے مختص کیا ۔

جو ہر وقت سیم و زر سے بھی بھرا رہتا تھا ۔ ایک دفعہ وہ کمرے میں داخل ہوا اور غلطی سے دروازہ بند ہو گیا ۔ دروازہ صرف باہر سے کھل سکتا تھا اندر سے نہیں ۔ اس نے زور زور سے چیخنا شروع کیا لیکن محل بڑا ہونے کی وجہ سے کسی نے اس کی آواز نہ سنی ۔ اسکی عادت یہ تھی کہ وہ کبھی کبھی بغیر کسی کو بتائے کئی کئی ہفتے گھر سے باہر رہتا تھا ۔ جب وہ کافی دنوں تک کس کو نظر نہ آیا تو گھر والوں نے سوچا کہ حسب عادت کہیں کیا ہوگا ۔ وہ برابر چیختا رہا ۔ یہاں تک کے اسے سخت بھوک لگی اس نے اپنی انگلی سے انگلی زخمی کرکے کمرے کی دیوار پر لکھا ۔ دنیا کا سب سے مالدار آدمی بھوک اور پیاس سے مر رہاہے ۔ اس کی لاش کئی ہفتوں بعد بوسیدہ حالت میں ملی۔ یہ پیغام سب لوگوں کیلئے ان کیلئے بھی جو سمجھتے ہیں کہ مال و دولت ہی ہر مشکل کا حل ہے اور دنیا کی ہر دولت اس سے پور ی کی جا سکتی ہے ۔

ان لوگوں کیلئے بھی جنکے پاس دولت نہیں ہے ۔ مگر وہ شکر گزار ہیں اور مطمئن ہیں ، صحت مند اور ایماندار ہیں ، صبر شکر سے رہنا جانتے ہیں ۔ بے شک مال و دولت سے ہر مشکل کا حل نہیں اور نہ ہی دنیا کی ہر ضرورت اس سے پوری کی جا سکتی ہے ۔ ہاں مگر دنیا سے جانا ایک بڑا حادثہ ہے ۔ لیکن ہم نہیں جانتے کہ کب ، کسے ، کہاں انسان سفر پر جاتا ہے اور پھر واپس آتا ہے یعنی لوٹتا ہے ۔ مگر جب دم نکل جا ئے گا تو پھر کوئی بھی نہ لوٹے گا ۔ مبارکباد کے قابل ہیں وہ لوگ جس کسی پر ظلم نہیں کرتے، نہ کسی سے نفرت کرتے ہیں۔ نہ کسی کا دل زخمی کرتے ہیں اور نہ اپنے آپ کو کسی سے برتر سمجھتے ہیں ۔ اس لئے کہ سب کو جانا واپس نہیں آنا ہے ۔ ایک آدمی ٹیکسی میں بیٹھا تو دیکھا کہ ڈرائیور قرآن سن رہا ہے اس نے پو چھا کہ کیا کوئی مرا ہے؟ اس نے کہا ہاں ہمارے دل مر چکے ہیں ۔ قیدی اس لئے قرآن مانگ کر پڑھتا ہے کہ قید تنہائی میں اس کا ساتھی ہے ۔

مریض اس لئے قرآن مانگ کر پڑھتا ہے تا کہ اس مرض دور ہو جائے ، بخشش ہو جا ئے اور مردہ قبر میں تمنا کرے گا کاش میں قرآن پڑھتا تو آج میرا غمخوار ہوتا !ہم آج نہ قیدی ہیں ، نہ مریض ہیں نہ مرے ہوئے ہیں کہ قر آن کی تمنا کریں بلکہ قر آن تو آج ہمارے ہاتھوں میں ہے ، آنکھوں کے سامنے ہے ، تو کیا ہم اس کا انتظار کریں کہ ہم ان مصیبتوں میں سے کسی ایک میں گرفتار ہوجائیں پھر قر آن کو طلب کریں ؟ اتنی لا پرواہی اپنی ہی کیٹلاگ کی؟ اتنی غفلت ، بلکہ بغاوت ؟ اللہ کی پناہ !! اللہ پاک کتنے عظیم ہیں ہمیں دعا ئوں کا حصار دیئے ہو ئے کہہ رہے ہیں کہ مانگو میں دونگا ! اے اللہ قرآن کو ہمارے دلوں کی بہار ، سینوں کا نور ، عیوب کا پردہ پوش ، نقوش کا مددگار ، قبر کا ساتھی اور روز محشر میں شفارشی بنادے ۔ آمین ۔ واقعی ہمیں کتنا قدر دان ہونا چاہئے ! ہم نے تو اس رب کی ویسی قدر ہی نہ پہچانی جس کا وہ حقدا ر ہے ۔ لمحہ فکرو عمل !

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */