حیاکے معنی،اُس کے تقاضے اور ثمرات(حصہ دوم) - مفتی منیب الرحمن

حیا کا جو مفہوم گزشتہ کالم میں مذکور ہوا،مفسرین اور شارحین کے نزدیک اس کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے پاکیزہ ہے کہ وہ کسی کی ملامت سے خوفزدہ اور متاثر ہوجائے،لہٰذا قرآن وحدیث میںجہاں جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف حیا کی نسبت کی گئی ہے، اس سے حیا کا لازمی معنی یعنی اُس فعل کاترک کرنا مراد ہے ،مثلاً قرآ ن مجید میںاللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’بے شک اللہ (سمجھانے کے لیے )کسی بھی مثال کے بیان کرنے کو ترک نہیں فرماتا ،وہ مچھر ہو یا اس سے بھی زیادہ حقیرچیز،پھر جو ایمان لائے وہ جانتے ہیں کہ یہ مثال ان کے رب کی طرف سے حق ہے ،رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تو وہ کہتے ہیں:

اس مثال سے اللہ کی مراد کیا ہے، اللہ اس کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے اور اس کے ذریعے صرف نافرمانوں کو گمراہی میں چھوڑتا ہے،(البقرہ:26)‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مثال میں کسی چیز کا اپناحُسن وقُبح مقصود بالذات نہیں ہوتا ، بلکہ مثال اور مُمَثَّلْ لَہٗ (یعنی جس چیز کے لیے مثال بیان کی جارہی ہے)میں حُسن وقُبح کے اعتبار سے جو معنوی مناسبت ہوتی ہے ، اُسے بیان کرنا مقصود ہوتا ہے۔

نبی کریمﷺنے اللہ تعالیٰ طرف حیا کی نسبت کرتے ہوئے فرمایا:’’بلا شبہ اللہ تعالیٰ بہت حیا دار کریم ہے ،جب بندہ اُس کے حضور دعا کے لیے اپنے ہاتھوں کو بلند کرتا ہے تو وہ اُنہیں خالی (یعنی ناکام ونامراد)لوٹانے سے حیا فرماتا ہے،( ترمذی : 3556)‘‘۔الغرض مذکورہ آیت وحدیث میں اللہ تعالیٰ کی طرف حیا کی نسبت ہے اور اس سے ترک کرنا مراد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہدایت کے سلسلے میںکسی بھی مثال کے بیان کرنے کو ترک نہیں فرماتا،پس جب اللہ تعالیٰ کے لیے حیا کا لفظ استعمال ہو تواس سے اُس چیز کا ترک کرنا مراد ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حیا کاملکہ اوراس کی استعداد روزِ اول سے انسانیت کے جدِّ اعلیٰ وجدّۂ عُلیَا حضرت آدم وحوا علیہما السلام کی جبلّت میں پیوست فرمائی تھی، چنانچہ جب حکمتِ خداوندی کے تحت حضرت آدم علیہ السلام شیطانی مکروفریب کے نتیجے میں ممنوعہ درخت کے قریب چلے گئے اور اس کے نتیجے میں انہیں بے لباس کردیا گیا تو اُن کا فوری اور فطری ردِّ عمل قرآنِ کریم نے یہ بیان فرمایا ہے :’’پھر شیطان نے فریب سے انہیں (اپنی طرف)مائل کر لیا، پس جب اُنہوں نے اس درخت سے چکھا تو اُن کاستر اُن پر منکشف ہوگیا اور وہ اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانپنے لگے اور ان کے رب نے ان سے پکار کر فرمایا:کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تم دونوں سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ بے شک شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، (الاعراف:22)‘‘۔ الغرض مُرورِ زمانہ سے صورتیں بدلتی رہتی ہیں ، لیکن اولادِ آدم کے خلاف شیطان کا حربہ اور ہدف آج بھی وہی ہے جو ابتدائے آفرینش سے تھااور وہ یہ ہے : ’’بے لباس کردینا ، ستر کو اٹھادینا، برہنگی ، بے حجابی اور بے حیائی ‘‘، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اے بنی آدم!مبادا شیطان تمہیں فتنے میں مبتلا کردے، جس طرح وہ تمہارے ماں باپ کے جنت سے اخراج کا سبب بنا تھا (وہ اس طرح)کہ ان دونوں کے لباس اُترنے کا سبب بنا تھا تاکہ انجامِ کار وہ انہیں ان کی شرم گاہیں دکھائے، بے شک وہ (شیطان)اور اس کا قبیلہ تمہیں (وہاں سے)دیکھتا ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ پاتے، بے شک ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں لاتے، (الاعراف: 27)‘‘۔

روزِ اول کی طرح ہمیشہ ابلیس اور ائمہ تلبیس کا حربہ یہی رہا ہے کہ وہ کھلے دشمن کے روپ میں سامنے نہیں آتے، بلکہ خیر خواہ اور مُصلح کے روپ میں آتے ہیں ، سبز باغ دکھاتے ہیں ، چکاچوند سے مرعوب کرتے ہیں اور بالآخر اپنے دامِ تزویر میں گرفتار کرلیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’پھر دونوں کے دلوں میں شیطان نے وسوسہ ڈالا تاکہ ان دونوں کی جو شرم گاہیں ان سے چھپائی گئی تھیں،(انجامِ کار)ان پر منکشف کردے اور اس نے کہا:تمہارے رب نے اس درخت سے تمھیں صرف اس لیے روکا ہے کہ مبادا تم فرشتے بن جائو یاحیاتِ ابدی پالو اور ان دونوں سے قسم کھاکر کہا:بے شک میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں، (الاعراف:21)‘‘۔

حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان کے بنیادی شعبوں میں سے ایک عظیم شعبہ ہے،:(1)’’رسول اللہﷺنے فرمایا:ایمان کے ساٹھ سے زائد شعبے ہیں اورحیاایمان کا (عظیم ترین )شعبہ ہے،(بخاری:9)‘‘،(2)’’حیا ایمان کا حصہ ہے اور اہلِ ایمان جنت میں ہونگے اور بے حیائی ظلم ہے اور ظالم جہنم میں جائیں گے ،(ترمذی:2009)‘‘،(3)’’حیا اور کم گوئی ایمان کی دو شاخیں ہیں اور فحش گوئی اور کثرت کلام نفاق کے دو شعبے ہیں،(ترمذی:2027)‘‘،(4)’’نبی کریمﷺکا گزرایک شخص پر ہوا جواپنے بھائی کو شرم وحیا کی وجہ سے ڈانٹ رہا تھا ،وہ کہہ رہا تھا تم شرم وحیا کی وجہ سے اپنا نقصان کر لیتے ہو،پس رسول اللہﷺنے فرمایا:اِسے چھوڑ دو،بیشک حیا ایمان میں سے ہے،(بخاری:6118)‘‘،(5)’’بیشک حیا اور ایمان دونوں ساتھی ہیں،جب ان میں سے ایک جاتاہے تو دوسرا بھی چلاجاتا ہے،(مشکوٰۃ :5093)‘‘،(6)’’ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور دینِ اسلام کا اخلاق حیاہے،(ابن ماجہ:4181)‘‘۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہر دین کااپنا ایک رنگ اور مزاج ہوتا ہے اور وہی اس کے ظاہر وباطن پر چھایا ہوتا ہے، دین اسلام کا وہ رنگ حیا ہے ، اگر حیا نہیں ہے پھر دین اسلام بے رنگ ہے، حضرت وہب بن منبہ کا قول ہے:’’ایمان بے پردہ ہوتا ہے اس کا لباس تقویٰ ہے ، اس کی زینت حیا ہے اور اس کا مال دین کی فہم ہے،(صفوۃ الصفوۃ:ج:1،ص:455)‘‘،یعنی ایسا ایمان جو تقویٰ و حیااور دین کی فہم سے خالی ہو، وہ بے جان اور بے وقعت ہے۔

خیر وصلاح کے جملہ محاسن کی اصل شرم وحیاہے،رسول اللہﷺنے فرمایا:شرم وحیا اپنے ساتھ خیر ہی کو لیکر آتی ہے ، (بخاری:6117)‘‘اور ایک حدیث میں فرمایا:’’حیاپوری کی پوری خیر ہے،(مسلم:37)‘‘۔ حافظ ابن قیم فرماتے ہیں:’’ تمام اخلاق وصفات میں سے سب سے افضل اور قدرو منزلت کے اعتبار سے سب سے بلند اور نفع بخش صفت حیا ہے، بلکہ یہ انسانی خواص میں سے ہے ،جس شخص میں حیانہیں وہ انسان نہیں محض گوشت پوست کا ایک ٹکڑا ہے۔ حیا ہی کے سبب مہمانوں کا خیال رکھا جاتا ہے ، وعدے وفا کیے جاتے ہیں،امانت کالحاظ رکھا جاتا ہے ، اچھائیوں اور خوبیوں کو حاصل کیا جاتا ہے ،عفت وپاکدمنی اختیار کی جاتی ہے،خلقِ خدا کے حقوق کی رعایت کی جاتی ہے،اگرحیا نہ ہوتی تو مہمان نوازی کی قدر فروغ نہ پاتی ،وعدے وفانہ ہوتے، امانت داری کاپاس نہ رکھا جاتا،محتاجوں کی حاجت برآری نہ ہوتی ،انسان کمالات کاخوگر نہ ہوتا ،برائیوں سے کنارہ کشی نہ کرتا ،شرمگاہوں کی حفاظت نہ ہوتی، فحاشی سے اجتناب نہ کرتا،خلقِ خدا کے حقوق کا تحفظ نہ ہوتا ،صلہ رحمی نہ ہوتی ،والدین کے ساتھ حسن سلوک نہ ہوتا ،غرضکہ جملہ افعالِ خیر کا منبع اور سرچشمہ حیا ہے،یہی وہ صفت ہے جو انسانوں کو خیر وصلاح پر اُبھارتی ہے اور برائیوں سے روکتی ہے، خالق اوراس کی مخلوق سے حیا نہ ہوتی تو خیر کا وجود نہ ہوتا،(مِفْتَاح دَارِالسَّعَادَہ ملخصاً بتصرف،ج:1،ص:277)‘‘۔

علامہ نوَوی لکھتے ہیں: نبی کریمﷺنے فرمایا:’’حیاپوری کی پوری خیر ہے‘‘،اس پر کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ بعض اوقات انسان شدتِ حیا کی وجہ سے کسی شخص کے سامنے حق بات نہیں کہہ سکتا ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کردیتا ہے اور بعض اوقات انسان بعض حقوق کی ادائیگی نہیں کر پاتا ،پھر حیا پوری کی پوری خیر کس طرح ہوگی۔ علامہ ابن صلاح اس کے جواب میں فرماتے ہیں : حیا یہ نہیں کہ جس کی وجہ سے انسان حق بات نہ کہہ سکے اور حق کام نہ کرسکے ،بلکہ یہ کم ہمتی اور بزدلی ہے ۔حیاایسی صفت ہے جو انسان کو بُرے کاموںسے اجتناب پر برانگیختہ کرے اور حق داروں کی حق تلفی سے روکے ،جنید بغدادی فرماتے ہیں:’’حیا یہ ہے کہ بند ہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو دیکھے اور پھر اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالے ،اس سے جو حالت پیدا ہوتی ہے وہ حیا ہے،(المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج،ج:2،ص:4-5)‘‘۔

قرآنِ مجید میں مرد وںاور عورتوں کو حیا کا حکم دیاگیا ہے :’’(اے رسولِ مکرم!)مسلمان مردوں کو حکم دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں جھکا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ،یہ طریقہ اُن کے لیے بہت پاکیزہ ہے ،بے شک اللہ اُن کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور مسلمان عورتوں کو حکم دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں جھکا کر رکھیں، اپنی پاکدامنی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی نمائش نہ کریں، (النور:30-31)‘‘۔

حیا کی ضد فَحشاء ہے ، اِسی سے فُحش اور فحاشی کے الفاظ نکلے ہیں ،جس کا مطلب ہے :بے شرمی، بے حیائی، انتہائی درجے کی بے غیرتی اور عَلانیہ برائی کرنا۔قرآن کریم میں ہے :’’بیشک جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے، (النور:19)‘‘۔

بعض اوقات انسان لوگوں کے ڈر سے بے حیائی کی باتوں کو ترک کردیتا ہے ،لیکن جب لوگوں کی نظروں سے اُوجھل ہوتا ہے تو اُسے بے حیائی کے ارتکاب میں کوئی باک نہیں ہوتا، رسول اللہﷺنے فرمایا:’’میں اپنی اُمت کے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں کی مثل نیکیاں لے کر حاضر ہوں گے، اﷲتعالیٰ اُنہیں بے حیثیت اور پراگندہ ذروں کی طرح بکھیر دے گا ، عرض کیاگیا:یا رسول اﷲ!ہمیں ان لوگوں کی پہچا ن بتادیجیے تاکہ ہم نادانستہ ان لوگوں میں سے نہ ہوجائیں ، آپ ﷺنے فرمایا:وہ تمہارے ہی بھائی ہوں گے ، تمہاری ہی طرح راتوں میں عبادت بھی کرتے ہوں گے، لیکن جب وہ لوگ تنہائی میں ہوں گے تو اﷲتعالیٰ کی حرمتوں کو پامال کریں گے،(ابن ماجہ:4245)‘‘۔

یہ حدیث ہمارے حسبِ حال ہے ،کیونکہ اُس زمانے میں خَلوت میں گناہ کے ارتکاب کے وہ اسباب موجود نہ تھے جوآج میسر ہیں،ا سمارٹ فون اورانٹرنیٹ کی سہولتیں عام ہیں، بے حیائی اور بدکاری کے مناظر ایک کلک سے نگاہوں کے سامنے آجاتے ہیں ،جو اُن سے لطف اندوز ہونا چاہے تو کوئی روک ٹوک نہیں،ہمارا معاشرہ تباہی کے جس دلدل میں دھنسا جارہا ہے ، کوئی صاحب ِاختیار واقتدار اُس پر کنٹرول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہے ، فیشن کے طور پر ٹَسوے بہائے جاتے ہیں اور مذمتیں کی جاتی ہیں ،لیکن کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔ یاد رکھیں !ایک ایسی علیم وخبیر ذات ضرور موجود ہے جس کی نظروں سے کوئی پتہ اور ذرہ اُوجھل نہیں ہے، وہ ہمارے قلبی خیالات سے بھی آگاہ ہے ۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */