ایک بے مثال کامیابی- محمد اظہارالحق

بیڈ پر نیم دراز میرے ساٹھ سالہ پوتے نے اپنے دائیں ہاتھ پڑے ہوئے ٹیبل پر لگی گھنٹی کا بٹن دبایا۔ بغیر کسی تاخیر اور بغیر کسی آواز کے‘ سامنے والی دیوار ‘ ٹی وی سکرین میں تبدیل ہو گئی۔
ایک خاتون ''اِنگ اردو‘‘ میں خبریں سنا رہی تھی۔ حیران نہ ہوں جب میرا پوتا ساٹھ سال کا ہوا تو اس وقت تک اردو بھی غائب ہو چکی تھی اور انگلش کی ہیئت بھی بدل چکی تھی۔ اب یہ ایک نئی زبان تھی۔ اردو اور انگلش کا آمیزہ۔ اسے پہلے تو انگلش اردو کہا جاتا تھا مگر کثرت استعمال سے یہ لفظ ''اِنگ اردو‘‘ ہو گیا۔ یہ ایک ضمنی بات درمیان میں آ گئی۔ بتا میں یہ رہا تھا کہ میرا ساٹھ سالہ پوتا لیٹسٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹی وی پر خبریں سن رہا تھا۔ اچانک اس کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی۔ ہڑبڑا کر نیم دراز پوزیشن اس نے بدلی اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ پھر اس نے بیوی کو آواز دی۔ بیوی چھت پر گاڑی پارک کر رہی تھی۔ اڑتی ہوئی گاڑی اْس نے چھت کے اوپر فضا میں ٹھہرائی تھی اور اب ایک متحرک کرسی پر بیٹھ کر‘ گراؤنڈ فلور کی طرف آ رہی تھی۔

''کیوں آوازیں دے رہے ہو؟ ایک منٹ ادھر ادھر نہیں ہونے دیتے‘ بالکل اپنے دادا پر گئے ہو‘ میں نے سنا ہے کہ وہ بھی اپنی بیگم کو پاس ہی بٹھائے رکھتے تھے اور ذرا ادھر ادھر ہوتی تھیں تو آوازیں دینے لگتے تھے‘‘۔
''اِس وقت ایسی بات نہیں‘‘ میرے پوتے نے سنجیدگی سے کہا ''تمہیں یہ خبر سنانا تھی‘‘
خبر سن کر اس کی بیوی نے مخصوص انداز میں منہ سے سیٹی کی آواز نکالی۔ پھر اس نے اپنی کلائی پر بندھی‘ گھڑی نما شے کو ٹچ کیا۔ گھڑی نما شے فوراً مائیک میں تبدیل ہو گئی۔ اس نے یہ خبر اپنے ابو امی کو‘ بھائی بہنوں کو اور اعزہ و احباب کو سنائی۔ فرط حیرت سے سب منہ کُھلے کے کُھلے رہ گئے۔

ملک میں‘ ایک کونے سے دوسرے کونے تک جیسے کہرام مچ گیا۔ کچھ کو تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ پھر دوسرے ملکوں سے حکومت کو مبارک باد کے پیغامات آنے لگے۔ شام کو متعلقہ وزیر‘ چوہدری چنگ شائی اوکاڑوی نے قوم سے خطاب کیا۔ تحیّر انگیز خبر کی تفصیلات بتائیں‘ اور اس مسئلے کے‘ جس نے پچاس برس سے پورے ملک کو اذیت اور تجسس کی سُولی پر لٹکا رکھا تھا‘ حل پر عوام کو مبارک دی۔
مبارک بنتی بھی تھی۔ یہ 2070ء تھا۔ پچاس سالوں کی شبانہ روز جدوجہد کے بعد سیالکوٹ موٹر وے گجر پورہ کیس کا بڑا ملزم عابد آخر کار پکڑا گیا تھا۔ پورے ملک میں جشن کا سماں تھا۔ پولیس کا کوئی سپاہی‘ کانسٹیبل یا انسپکٹر جہاں بھی نظر آتا لوگ اسے کندھوں پر بٹھا لیتے۔ پولیس زندہ باد کے نعرے لگاتے۔ تھانوں میں پھولوں اور مٹھائی کے ڈبوں کے ڈھیر لگ گئے۔ حکومت نے خصوصی ترقیوں اور ایوارڈوں کے اعلانات کیے۔ بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں نے تربیت کے لیے اپنی پولیس کو پاکستان بھیجنے کے پروگرام بنانے شروع کر دیے۔ مختصر یہ کہ ہماری پولیس کی پوری دنیا میں دھاک بیٹھ گئی۔

عابد کی کمر جھک گئی تھی۔ سر‘ ڈاڑھی یہاں تک کہ ابرو اور پلکیں بھی برف کے مانند سفید ہو چکی تھیں۔ اب وہ تقریباً اسّی کے پیٹے میں تھا۔ اسکے بیٹے اور پوتے بدنامی سے تنگ آ کر بیرون ملک جا بسے تھے۔ اس کے ہاتھوں میں رعشہ آ گیا تھا۔ جس خاتون کے ساتھ اس نے زیادتی کی تھی اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا کہ اب کہاں ہے؟ فرانس چلی گئی یا پاکستان ہی میں ہے؟ ہے بھی یا نہیں ! شناخت پریڈ کیلئے اسے ڈھونڈا جا رہا تھا۔ صرف اتنا معلوم ہوا کہ اس کا پوتا فرانس میں کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہے۔
میڈیا کے نمائندوں نے سب سے پہلا سوال عابد سے یہ پوچھا کہ اتنا طویل عرصہ وہ پکڑنے والوں کی گرفت سے کس طرح بچا رہا؟ اس سوال پر وہ کافی دیر ہنستا رہا۔ ہنسنے سے پتہ چلا کہ دانت بھی اس کے گر چکے تھے۔ کہنے لگا: چھپنا اور بچنا کیا تھا‘ میں تو اپنی روٹین کی زندگی گزارتا رہا۔ خود پکڑنے والے ہی مجھ سے آنکھ مچولی کھیلتے رہے۔ یہ جو اس قسم کی خبریں آپ لوگ دیتے اور پڑھتے رہے کہ فلاں جگہ دس فٹ کے فاصلے سے مجھے نہ پکڑا جا سکا یا فلاں مقام پر میں بیوی کے ساتھ کھیتوں میں چھپ گیا‘ تو آپ خود سوچیے کہ کیا یہ ممکن ہے؟ کیا پکڑنے والے واقعی دس فٹ کے فاصلے سے بھی دوڑ نہیں جیت سکتے؟ اور خدا کے بندو! کیا کھیت کوئی جنگل یا پہاڑ تھے کہ میں کسی غار یا کسی کھوہ میں روپوش ہو گیا اور پکڑنے والے تلاش نہ کر سکے۔ اصل میں ہوتا یہ رہا کہ پکڑنے والے اتنی جانفشانی اور مستعدی سے مجھے ڈھونڈ رہے تھے کہ‘ قدرتی طور پر‘ وہ تھک جاتے تھے اور جب مجھ سے دس بارہ فٹ کے فاصلے پر پہنچتے تھے تو مارے تھکاوٹ کے‘ گر کر بے ہوش ہو جاتے تھے۔ میں انتظار کرتا تھا کہ آ کر مجھے پکڑیں مگر کوئی نہیں آتا تھا۔ اب یہ تو ممکن نہیں تھا کہ میں ان کی سہولت کے لیے اسی جگہ بیٹھا رہتا۔ آخر میرے بھی کام تھے۔

محنت مزدوری‘ ہل چلانا‘ فیملی کے ساتھ سوشل لائف کی مصروفیات۔ مجھے وہاں سے جانا پڑتا تھا۔ پکڑنے والے پھر میرا تعاقب شروع کرتے مگر میرے نزدیک پہنچ کر پھر بے ہوش ہو جاتے۔ بھائی! میں نے کہاں چھپنا تھا‘ اور میرے سر پر کون سی سلیمانی ٹوپی تھی کہ میں نظروں سے اوجھل ہو جاتا! پھر پنجاب کے پکڑنے والے!!! یہ تو وہ فورس ہے جس پر سلطنت انگلشیہ بھی فخر کرتی تھی اور آج بھی یہ دوسرے صوبوں اور دوسرے ملکوں کی فورس کی آئیڈیل ہے! یہ مجھے ڈھونڈنا چاہتی تو میں ان کے چند گھنٹوں کی مار تھا۔ اصل میں مجھے لگتا ہے ان کی اپنی مصروفیات ہی کچھ اس نہج پر تھیں کہ مجھے پکڑا نہ جائے اور آنکھ مچولی جاری رہے! جانے کیا مصلحت تھی! ہو سکتا ہے یہ مجھ پر مشق کر رہے ہوں اور اپنے نئے رنگروٹوں کی تربیت کے لیے مجھے استعمال کر رہے ہوں!
بڑھاپے نے عابد کو بالکل از کار رفتہ کر رکھا تھا۔ اتنی بات کرنے ہی سے اس کی سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگی تھی۔ اس نے لرزتے ہونٹوں سے پانی مانگا اور پھر دھڑام سے زمین پر گر پڑا۔ اسے ہسپتال لے جایا جا رہا تھا مگر راستے ہی میں اس کی زندگی کا چراغ بجھ گیا۔ میڈیا پر اعلان کیا گیا کہ مجرم کو سزائے موت دے دی گئی۔

اس دن کے بعد ملک کے ہر جرائم پیشہ‘ ہر غنڈے‘ ہر عورت دشمن‘ ہر قاتل‘ ہر اغوا کار نے اچھی طرح جان لیا کہ سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہو سکتا ہے مگر مجرم اس سرزمین پر نہیں بچ سکتا۔ عابد کی بر وقت حراست‘ اور موت‘ ہر شخص کے لیے نشان عبرت تھی۔ خواتین کو اس کے بعد اس قدر خود اعتمادی حاصل ہوئی کہ‘ رات ہو یا دن‘ بلا کھٹکے سفر کرنے لگیں۔ تن تنہا غیر مسلح عورت زیورات سے بھرا تھال لیے کراچی سے گلگت تک پیدل سفر کرتی مگر کیا مجال کہ اسے کوئی بری نظر سے دیکھتا۔ عابد کی حراست ملک کی معاشرتی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت اختیار کر گئی۔ یہ ایک واٹر شَیڈ تھا جس سے امن و امان کے سوتے پھوٹے اور اطراف و اکناف کو سیراب کر گئے۔
آج عابد کا کیس امریکہ اور یورپ کی قانون پڑھانے والی یونیورسٹیوں میں خاص طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ اسے پکڑنے والے وہاں جا کر لیکچر دیتے ہیں۔ جرم و سزا کے حوالے سے اس زمانے کو ''پاکستانی زمانہ‘‘ کہا جاتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */