کہانی انار اور مچھلی کی - معین نظامی

ایرانی لوک کہانی. ترجمہ: معین نظامی

ایک ندی تھی اور اس کے کنارے انار کا ایک درخت۔ درخت پر کچھ انار لگے ہوئے تھے اور ندی میں کچھ مچھلیاں بھی دْمیں ہلاتی رہتی تھیں۔ زمین کے نیچے سے درخت کی جڑیں ندی میں پاؤں پھیلانے لگی تھیں۔ مچھلیوں نے کئی بار اناروں سے کہا تھا کہ ہمارے گھر میں ٹانگیں نہ پھیلائیے لیکن انھوں نے سنی ان سنی کردی تھی۔ مرتا کیا نہ کرتا، مچھلیوں نے طے کرلیا کہ درخت کی جڑیں چبا ڈالی جائیں۔

مچھلیوں نے جڑیں چبانا شروع کردیا۔ اناروں نے آسمان سر پر اٹھالیا کہ یہ کیا حرکت ہے؟ اب کی بار مچھلیوں نے سنی ان سنی کردی۔ اناروں نے سخت دھمکیاں دیں۔ مچھلیوں نے کہا: جو کرنا ہے، کر لیجیے۔ اناروں نے آپس میں صلاح مشورہ کیا اور ان میں سے ایک انار نے خود کو ایک مچھلی پر گرالیا۔ مچھلی کا سر پھٹ گیا۔ خون بہنے لگا۔ ساری ندی سرخ ہوگئی۔
مچھلیوں نے انار کو پکڑ کے باندھ لیا۔ اناروں نے احتجاج کیا کہ تمھیں ہمارے ساتھی کو گرفتار کرلینے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ آخر ہم ایک ملک میں رہتے ہیں، جس کا کوئی قانون ہے، قاضی ہے۔ ایک مچھلی نے کہا : تمھیں کس نے حق دیا تھا کہ ہمارے گھر میں ٹانگیں پھیلاؤ؟ ایک انار کہنے لگا: پانی صرف تمھارا تھوڑی ہے؟ ہمارا بھی تو ہے۔ یہ ندی تمھاری پیدائش سے پہلے کی موجود ہے اور ہم بھی اسی وقت سے موجود ہیں۔ مچھلیاں کہتی رہیں کہ تم اناروں نے زیادتی کی ہے، تم نے ہماری ساتھی بے چاری کا سر پھوڑ دیا ہے۔

بات کسی طرف نہ لگی اور ان میں تْو تکار بڑھ گئی۔ آخر کار قاضی کے پاس پیش ہونا طے پایا۔ سر پھٹی مچھلی اور ہاتھ بندھا انار قاضی کے ہاں جا پہنچے۔ قاضی کے پاس کئی اور مدعی اور ملزم بھی جمع تھے۔ انھیں دیکھتے ہی قاضی کی رال ٹپکنے لگی اور اس نے کہا : آئیے آئیے، کہیے کیا مسئلہ ہے؟ دونوں نے اسے ماجرا کہہ سنایا۔ قاضی نے کہا: آپ ذرا انتظار کر لیجیے، مَیں پہلے دوسروں کے معاملے نبٹالوں۔

انار اور ننھی مچھلی ایک کونے میں کھڑے ہوکر لگے انتظار کرنے۔ قاضی کام ختم کر کے ان کے پاس آیا۔ اس نے دونوں کے منہ ماتھے پر ہاتھ پھیرا، بہت دلاسا دیا اور پھر اپنی بیوی کو آواز دے کر کہا: بیگم، توے پر خوب گھی ڈال کر چولھے پر چڑھا دو، دوپہر کو ہم مچھلی کھائیں گے اور ہاں سنو، یہ انار بھی لے جاؤ، اس کا رس مچھلی پر چھڑکیں گے تو اور ہی مزہ آئے گا۔

انار اور مچھلی کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے۔ انھوں نے ایک دوسرے سے کھسر پھسر کی کہ دیکھو تو ہم کس مصیبت میں پھنس گئے ہیں۔ انھوں نے قاضی کی بیگم کی بہتیری منت سماجت کی کہ ہمیں ایک دوسرے سے کوئی شکایت نہیں، ہمیں جانے دیجیے۔ مگر بیگم نے کہا: فیصلہ تو قاضی ہی کا چلتا ہے، مجھے تو اس پر عمل درآمد کرنا ہے اور بس۔ یہ کہہ کر اس نے مچھلی کی کھال اتاری اور اسے توے پہ چڑھادیا۔ مچھلی بے چاری تڑپتی پھڑکتی رہی۔ پھر اس نے انار کو پکڑ کر اس کا رس نکالا اور تَلی ہوئی مچھلی پر چھڑک دیا۔ قاضی اور اس کے بیوی بچوں نے خوب ڈٹ کر کھانا کھایا۔

خبر اناروں اور مچھلیوں تک بھی پہنچ گئی۔ وہ دکھ درد میں ڈوب گئے اور انھوں نے دونوں کا سوگ منایا۔ سوگ کے دنوں ہی میں وہ اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ قاضی اگر باہر کا ہوا تو ان کے لیے کبھی کچھ نہیں کرے گا۔ انھوں نے آپس میں معاہدہ کر لیا کہ ایک دوسرے کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کیا کریں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */