گڈ بائے اسمارٹ بوائے - ابویحییٰ

(ابو یحیی صاحب کے نوجوان بھانجے کی حادثاتی موت پر ان کا لکھا آرٹیکل قارئین کے ساتھ شئیر کیا جارہا ہے۔)

میرے بچے عبدالسمیع! تمھاری جوان موت پر میرا وجود کرچی کرچی ہو رہا ہے۔ میری آنکھیں سمندر بن چکی ہیں۔ مگر میرا دل گواہی دیتا ہے کہ تم اپنے رب کے حضور اس کے فیضان رحمت کا رزق پارہے ہو۔ اس لیے یہ دل جو درد میں ڈھل چکا ہے، تمھاری جدائی کے دکھ کے باوجود اپنے رب سے راضی ہے اور اس کے حضور یہی عرض کر رہا ہے کہ تو پاک ہے! تیرا کوئی فیصلہ ناحق نہیں ہوسکتا۔ سُبْحَانَکَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا۔ تیری ذات ہر عیب سے پاک ہے۔ ہم کو تو صرف اتنا معلوم ہے جتنا تونے ہمیں علم دیا ہے۔

یہ علم بتاتا ہے کہ خدا کے کاموں کے لیے جب کوئی استعمال ہوجائے تو اس کی خطائیں معاف اور اجر لامحدود ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ مر کر بھی مردہ نہیں ہوتے اور رزقِ ربانی کا فیضان روز ِقیامت سے پہلے پانا شروع کر دیتے ہیں۔
وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ یُقْتَلُ فِیْ سَبیْلِ اللّہِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْیَاء وَلَکِن لاَّتَشْعُرُون، وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْیَاء عِندَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُون۔
راہِ خدا میں مرنے والوں کو مردہ کہو نہ سمجھو، وہ تو زندہ ہیں لیکن تمھیں اُس زندگی کا شعور نہیں۔ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق پارہے ہیں۔

راہِ خدا میں مرنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اللہ کے پیغام کی گواہی دینے کے لیے اٹھتے ہیں اور اس راہ میں اپنی جان تک دے ڈالتے ہیں۔ دوسرے وہ ہوتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ استعمال کرتا ہے اور پھر ان کے ذریعے سے بندوں تک اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔ ایک جلیل القدر پیغمبر نے اسی بات کو اس طرح سمجھایا ہے کہ اندھے اس لیے پیدا کیے گئے ہیں تاکہ آنکھوں والے دیکھ سکیں۔

رب علیم و حکیم کبھی کسی کو آنکھوں کی محرومی کے امتحان میں ڈال کر اسے استعمال کرتا ہے اور کبھی کسی جوان رعنا کی موت کو لوگوں کو جھنجھوڑنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ایسے نوجوان کی حادثاتی موت گرچہ اس کے پیاروں کی کمر توڑ دیتی ہے، مگر یہ دوسروں کے لیے ایک اعلان عام ہوتا ہے۔ اس بات کا کہ موت ایک زندہ حقیقت ہے جسے بھول کر جینا سب سے بڑی حماقت ہے۔ دنیا کو ہمیشہ کا گھر سمجھنے والو! یہ دنیا دارِفانی ہے جہاں کسی لمحے بھی تمھارے لیے کوچ کا نقارہ بلند ہوسکتا ہے۔ غفلت کی نیند سے جاگو اور اس زندگی کی تیاری کرو جو موت کے بعد شروع ہوگی اور پھر کبھی ختم نہیں ہوگی۔

میرے بچے! تمھاری موت نے ہمارے معاشرے کی اس دیوانگی کو بھی عیاں کر دیا ہے جس میں مبتلا ہوکر انسانی جان کا تقدس ہر روز پامال کیا جاتا ہے۔ سالانہ 35 ہزار لوگوں کی جان لینے والا ہماری ٹریفک کا نظام ہماری جہالت، بے حسی، غفلت، لاپرواہی، بدنظمی، قانون شکنی اور بے صبرے پن کا زندہ نمونہ ہے۔

میر ے بچے! تمھاری موت نے ہماری کمر توڑ دی ہے، مگر ہم اپنے رب کے اس فیصلے سے راضی ہیں اور اس کے شکر گزار ہیں کہ اس نے تمھیں اپنے کام کی خدمت کے لیے منتخب کیا اور تمھیں اس راہ میں موت دی۔ تم سے یہ خدمت اللہ تعالیٰ ایک دوسرے پہلو سے اس سے قبل بھی لے چکے ہیں جب تم نے میرے مضمون ”پھر فرض کیجیے“ کی ڈرامائی تشکیل کی تھی تاکہ اس پر ایک شارٹ مووی بنائی جاسکے۔ تم اس ٹیم کا اہم حصہ تھے جس نے یہ شارٹ مووی بنائی اور پھر جسے مختلف ذرائع ابلاغ پر لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔ یہ ایک ایسے شخص کی داستان تھی جو چھوٹی چھوٹی محرومیوں پر خدا اور بندوں سے ناراض رہتا تھا۔ اور پھر اسے پتہ چلتا ہے کہ کتنی بڑی بڑی نعمتیں اس کے پاس موجود تھیں جن کی اس نے قدر نہ جانی یہاں تک کہ وہ نعمتیں ایک ایک کرکے اس سے چھن گئیں۔

اسی ڈرامے کا ایک منظر وہ تھا جب ماں باپ کو اپنے جوان بچے کی حادثاتی موت کی خبر ملتی ہے اور پھر اس کے والدین بکھر کر رہ جاتے ہیں۔ میرے بچے! تمھاری حادثاتی موت نے اس فکشن کو ایک زندہ پیغام بنا دیا اور تم نے مر کر زندہ لوگوں کو یہ بتایا ہے کہ زندگی کتنی بڑی نعمت ہے اور اس کا کیسا شکر ادا کرنا چاہیے۔

میرے بچے! تمھاری موت نے ہمارے معاشرے کی اس دیوانگی کو بھی عیاں کر دیا ہے جس میں مبتلا ہوکر انسانی جان کا تقدس ہر روز پامال کیا جاتا ہے۔ سالانہ 35 ہزار لوگوں کی جان لینے والا ہماری ٹریفک کا نظام ہماری جہالت، بے حسی، غفلت، لاپرواہی، بدنظمی، قانون شکنی اور بے صبرے پن کا زندہ نمونہ ہے۔ جس شخص کو یہاں کوئی کام نہیں آتا وہ پیسے کمانے کے لیے ڈرائیور بن جاتا ہے۔ بسوں، ویگنوں اور ٹرکوں کے یہ ڈرائیور وہ ممکنہ قاتل ہیں جو شہر کی سڑکوں پر ہر قاعدے قانون کو روندھتے دندناتے پھرتے ہیں۔ تم بھی ایسے ہی ایک بے حس اور سفاک قاتل کی نذر ہوگئے جو تم پر ٹرک چڑھا کر فرار ہوگیا۔

ایسے قاتل شہر کی سڑکوں پر ہر روز کتنی ہی ماؤں کی گود اجاڑتے، کتنی ہی عورتوں کو بیوہ کر دیتے اور کتنے ہی معصوموں کی جانیں لے لیتے ہیں۔ مگر مجال ہے کہ معاشرے میں کسی کی پیشانی پر اس قتل عام پر کوئی بل بھی آئے۔ پھر یہ پیشہ ور ڈرائیور ہی کیا، عام ڈرائیوروں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ ٹریفک کے ہر اصول کی خلاف ورزی کرکے گاڑی چلانا ہماری روایت ہے۔ ہم یہ روایت نہیں چھوڑیں گے، ماؤں کی گود اجاڑتے رہیں گے۔

میرے بچے! تمھاری موت نے معاشرے کے سامنے ایک زندہ سوال رکھ دیا ہے۔ وہ یہ کہ ہمیں اپنی اس قوم کی تربیت کرنی ہے یا نہیں جو مجموعی طور پر جذباتی، بے شعور اور غیر تربیت یافتہ ہے۔ ہم نے یہ نہیں کیا تو ایک کے بعد ایک کرکے ہر خاندان کا کوئی نہ کوئی پیارا کبھی نہ کبھی اس بے حسی کی نذر ہوتا رہے گا۔ کیا ہم سب فارمی مرغیوں کی مانند بن چکے ہیں جو بے حس و حرکت اس بات کا انتظار کرتی رہتی ہیں کہ کب کوئی قصائی انھیں موت کی دہلیز تک لے جائے؟

ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ اپنی قوم کو نان اشوز اور جذباتی باتوں کے پیچھے لگانے کے بجائے ان کے اصل مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ انسانی جان کی حرمت کو محسوس کریں گے جس کا تقدس ہر چیز سے بلند ہے۔ بنیادی انسانی اور اخلاقی اقدار جو عین ہمارے دین کی تعلیم ہیں، ایک ایک فرد کو ان کی تعلیم دیں گے۔ لوگوں کی تربیت کو اپنی سب سے بڑی ترجیح بنائیں گے تاکہ جانوروں کے کسی گلے کی شکل اختیار کرتا ہمارا معاشرہ دوبارہ ایک انسانی معاشرہ بن سکے جس میں انسانی جان کا تقدس ہر چیز سے بڑا ہوتا ہے۔

میرے جوان رعنا! تم رشتے میں میرے بھانجے لیکن درحقیقت میری اپنی اولاد کی طرح تھے۔ تمھارے نو ماہ میری بہن نے ہمارے گھر میں گزارے جب انھیں ڈاکٹر کے ہاں لے جانا میرا کام تھا۔مجھے جنوری کی وہ خنک رات آج بھی یاد ہے جب تم اس دنیا میں آئے۔ میں اپنے بہنوئی کے ہمراہ اپنی بہن کے ان اذیت ناک لمحوں کے ختم ہونے کا منتظر تھا جن کی تکلیف ماں کو ماں کی عظمت عطا کرتی ہے۔

میرے بچے! جب تم دنیا میں آئے تھے تو تمھیں دیکھ کر ہمیں لگا تھا کہ کوئی بہت خوبصورت لڑکی تھی جس کو آخری وقت میں لڑکا بنا دیا گیا تھا۔ مجھے تمھارا یونیفارم میں اسکول جانا بھی یاد ہے اور لڑکپن کا موٹاپا بھی۔ اور یہ تو حال ہی کی بات ہے کہ تم نے خود کو ڈائٹنگ کرکے بالکل دبلا اور اسمارٹ کرلیا تھا۔ میرے موبائل میں کوئی مسئلہ ہوتا تو میں سب سے پہلے تم سے حل پوچھتا تھا۔ اس وقت بھی جو وڈیو میں بناتا ہوں اس کے لیے تمھاری بتائی ہوئی ڈیوائس استعمال کرتا ہوں۔

تمھاری ہر یاد میرے دل کے ساتھ ہے، مگر ان یادوں میں سب سے لطیف یاد یہ ہے کہ پچپن میں تم انڈے کھانے کے بہت شوقین تھے۔ ناشتے پر تم میرے ساتھ بیٹھتے اور اپنا انڈہ تیزی سے کھانے کے بعد میرے سامنے سے پلیٹ اٹھا کر میرے حصے کا انڈہ بھی کھا جاتے تھے۔ میں اخبار پڑھ رہا ہوتا اور مجھے خبر بھی نہیں ہوتی تھی کہ میرے ساتھ کیا ہاتھ ہوچکا ہے۔

اب یہ سب ماضی ہے۔ مگر تم ماضی نہیں ہوئے ہو۔ تم تو مستقبل ہو۔ تم تو پورے خاندان اور پوری نسل میں سب سے پہلے رب رحیم کے حضور پہنچ کر اس کی مہمانی کا شرف حاصل کر رہے ہو۔ ان شاء اللہ جلد ہم سب وہاں دوبارہ جمع ہوں گے۔ تم ہر روز ناشتہ میرے ساتھ کرنا۔ مگر ہشیار رہنا، اس دفعہ میں تمھیں اپنے حصے کے انڈے نہیں کھانے دوں گا بلکہ تمھارے حصے کے انڈے میں کھاؤں گا۔ کیونکہ تم شہید ہو اور تمھارا رزق ہم سے بہتر ہوگا۔ امید ہے تم اپنے ماما کی اس شرارت کا برا نہیں مانو گے۔

اب آنسو نہیں تھمتے۔ اس لیے اجازت دو۔ اللہ کریم تمھیں ہمیشہ اپنی رحمت، بخشش اور رضا کے سائے میں رکھے۔ اگلی ملاقات تک…… گڈ بائے اسمارٹ بوائے۔

Comments

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ معرول ناول ”جب زندگی شروع ہوگی“ کے مصنف ہیں۔ علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز جبکہ سوشل سائنسز میں ایم فل کیا۔ ٹیلی وژن پروگرام، اخباری مضامین، پبلک اجتماعات کے ذریعے دعوت و اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ ماہنامہ "انذار" کے مدیر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */