معرکہ (8) - ریحان اصغر سید کی شاہکار کہانی

پہلی قسط
دوسری قسط
تیسری قسط
چوتھی قسط
پانچویں قسط
چھٹی قسط
ساتویں قسط

زیدی صاحب، تانیہ کے گھر میں موجود تھے۔ وہ صحن میں ثقلین کی کال سننے آئے تھے۔
”میں نے تمھیں جو مہلت دی تھی وہ کب کی ختم ہو چکی ہے۔۔۔تم نے ابھی تک مجھے میرے پیسے نہیں دیے۔۔۔؟
ثقلین نے شکوہ کیا۔

”میں نے بھی تمھیں بتایا تھا کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔۔۔
تمھاری ویڈیو بہت رش لینے والی ہے زیدی۔۔۔۔آج تمھیں دنیا بھر کے وہ لوگ بھی جان جائیں گے جو پہلے نہیں جانتے تھے۔
ثقلین نے دھمکی دی۔۔

مجھے سوچنے کے لیے مزید وقت چاہیے۔۔۔۔۔۔؟

ایک منٹ بھی مزید نہیں ملے گا سوچنے کے لیے۔۔۔۔البتہ تم رقم دینے کا وعدہ کرو تو میں تمھیں اس کے بندوبست کے لیے چندگھنٹے مزید کی مہلت دے دوں گا۔

ثقلین نے گویا مہربانی کی۔

اگر تمھیں واقعی پیسے چاہیں تو تمھیں مجھے کم سے کم چھیانوے گھنٹے مزید دینے ہوں گے۔۔۔میں اکیلا اتنے پیسے بیک وقت ٹرسٹ کے اکاؤنٹس میں سے نہیں نکال سکتا۔ مجھے چیک پر دیگر ٹرسٹیز کےبھی دستخط چاہیے۔۔ اور اس سے بھی زیادہ ضروری پیسے لینے کے لیے کوئی معقول وجہ۔۔۔۔جس پر میں انھیں قائل کرسکوں۔۔۔
زیدی صاحب نے اپنی مجبوری بتائی.

بہانے مت بناٶ بابو۔۔
ثقلین غرایا۔۔۔

تم اسے بہانے سمجھتے ہو تو تمھاری مرضی ہے۔۔۔لیکن اتنا یاد رکھنا کہ اس ویڈیو کی قیمت بقول تمھارے پانچ کروڑ ہے۔۔اگر تم اسے سوشل میڈیا پر ڈال کر ضائع کرنا چاہتے ہو تو یہ تمھاری مرضی ہے۔

آج زیدی صاحب کا اعتماد اور سکون قابل دید تھا۔ سلطان کبیر سے ہوئی ملاقات نے ان کی کایا ہی پلٹ دی تھی۔ ان کے سوچنے کا انداز بدل گیا تھا۔ وہ جان گئے تھے کہ اگر مقصد رب کی رضا پانا ہے تو پھر دنیا کی ملامت یا ستائش بے معنی اور چھوٹی چیزیں ہیں۔ اعمال کی قبولیت کا دارومدار مقبولیت پر نہیں ہے۔۔اصل عزت دار وہ ہے جو خدا کے ہاں عزت والا ہے۔۔
میں تمھیں تین دن کا مزید وقت دیتا ہوں۔۔۔اس سے ایک منٹ بھی تاخیر ہوئی تو مجھ سے شکوہ نہ کرنا۔۔۔

ثقلین نے فون کاٹ دیا۔۔زیدی صاحب نے گہری سانس لیکر کیاری میں لگے گلاب کے پھولوں کی مہک کو اپنے اندر اتارا۔۔ یہ چار مرلے کا چھوٹا سا گھر تھا جس کی کل متاع دوکمرے، ان کے سامنے بنا برآمدہ اور مختصر سا صحن تھا۔ تانیہ کی تین بہنیں مزید بھی تھیں جن میں سے دو اس سے بڑی تھیں اور ایک چھوٹی۔۔ان میں سے ابھی تک شادی کسی کی بھی نہیں ہوٸی تھی۔جہیز کی لعنت بڑی بہنوں کی جوانی کو دیمک کی طرح کھا رہی تھی۔ وہ محلے کے ہی ایک نجی سکول میں چند ہزار کے عوض سات آٹھ گھنٹے اپنا دماغ کھپاتی اور خون جلاتی تھیں۔ اس سے بمشکل اتنے پیسے ملتے تھے کہ روزمرہ کے اخراجات پورے ہو سکیں۔ جہیز کا سامان تو ایسا کوہ گراں تھا جو جان توڑ مشقت کے باوجود ان سے ایک انچ بھی نہیں سرک رہا تھا حالانکہ دونوں اچھی شکل و صورت کی نیک سیرت لڑکیاں تھیں لیکن رشتے کے لیے آنے والوں کو تعلیم، تہذیب اور خوبصورتی کے علاوہ گھر بھر کے جہیز کا سامان بھی چاہیے تھا۔

تانیہ ان چاروں میں سے سب سے زیادہ پراعتماد اور خوبصورت تھی۔ اس کی نئی نوکری نے چند مہینے میں ان کے گھر کے معاشی حالات پر کافی مثبت اثرات مرتب کیے تھے لیکن اب وہ آدمی پراسرار طور پر غائب ہو گیا تھا جس نے تانیہ کو بھاری بھر کم تنخواہ پر نوکری دی تھی۔ تانیہ نے اس نوکری کے لیے اپنی عزت بھی لوٹا دی تھی اور زیدی صاحب جیسے نیک اور فرشتہ انسان کو بھی گمراہ کر دیا تھا۔۔لیکن اس کے بدلے میں اسے صرف چند لاکھ روپے ملے تھے۔ وہ اپنی تمام تر تیز طراری کے باوجود اتنی معصوم تھی کہ یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ اس نے زیدی صاحب کے خلاف جو ثبوت حامد خان (ثقلین) کو دیے ہیں وہ اس کی اپنی زندگی برباد کرنے کے لیے کافی ہیں۔۔لیکن وہ تو حامد کو کسی خفیہ ایجنسی کا اہم ایجنٹ سمجھ رہی تھی۔ ”امید“ کے دفتر میں تانیہ کی تنخواہ معقول تھی لیکن حامد کی طرف سے پیسوں کی بندش سے اس کے سارے خواب ٹوٹ گئے تھے ورنہ وہ سمجھی تھی کہ اس نے عزت بیچ کر اپنی بہنوں کے لیے جہیز اور سہاگ خرید لیے ہیں۔۔۔مزید اضافی نقصان یہ ہوا تھا کہ وہ سچ میں زیدی صاحب کی محبت میں گرفتار ہو گئی تھی۔

آج صبح سویرے زیدی صاحب کو ایک دراز قد بزرگ کے ساتھ اپنے گھر کے دروازے پر دیکھ کر اسے حیرت ہوٸی۔
”اندر آ جائیں“

اس نے سر پر دوپٹہ درست کر کے غیر متوقع مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ گھر کے دو کمروں میں سے ایک ہی بمشکل اس قابل تھا کہ وہاں کسی معزز انسان کو بیٹھایا جاسکے۔ تانیہ شرمندہ شرمندہ سی دکھائی دے رہی تھی۔ زیدی صاحب کوئی کال سننے کے لیے اٹھ کر باہر چلے گئے تو تانیہ نے نظر اٹھا کر سلطان کبیر کو دیکھا جو اپنی گہری پراسرار نظروں سے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ تانیہ نے گھبرا کر نظریں جھکا لیں۔

انسان خیر مانگتے نہیں تھکتا لیکن جب اس پر اس کے رب کی طرف سے آزمائش آتی ہےتو وہ گھبرا جاتا ہے۔ بے صبرا ہوکر شیطان کے راستے پر چل پڑتا ہے۔۔یوں اپنی منزل کھوٹی کر بیٹھتا ہے۔۔۔

یاد رکھنا بیٹا، اصل منزل آخرت کی منزل ہے۔ گناہ اور دھوکے سے خریدی ہوئی خوشیاں بدرنگی اور ناپیدار ہوتی ہیں۔ ۔۔
تم کسی کے مقدر کو نہیں بدل سکتیں۔۔انسان کا کام تو خلوص نیت سے کوشش اور اپنے رب سے مدد طلب کرتے رہنا ہے خاص طور پر تب، جب بظاہر ہر طرف مایوسی اور ناامیدی کے بادل امنڈ امنڈ کے آ رہے ہوں۔۔۔

میری بچی، خدا کی رحمت سے مایوسی ایمان کی موت ہے۔ ایمان صرف چند الفاظ یا افعال کا نام نہیں۔۔بلکہ اپنے معاملات رب کے سپرد کر کے بے غم ہو جانے کا بھی۔۔۔

تانیہ چپ چاپ سنتی رہی۔۔اسے لگا کہ سامنے بیٹھے بزرگ اس کے ایک ایک عمل سے واقف ہیں۔۔
اس گھر میں ہم پانچ عورتیں ہیں۔ ہمارے دس ہاتھ محنت اور دعا کر کر کے شل ہو چکے تھے۔کیا خدا کو ہم پر ترس نہیں آتا؟
بزرگ اس کے انداز پر مسکرائے۔

میرا رب کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اور بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔۔یہ دنیا امتحان گاہ ہے بیٹا۔۔خدا اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔۔۔دنیا میں سب سے زیادہ مشکلات برداشت کرنے والے لوگ خدا کے پیغمبر اور نبی تھے۔ دنیا کی آسائش مل جانا اللہ کی رحمت کا حتمی ثبوت نہیں ہے بلکہ ہر حال میں صبر اور شکر۔۔۔۔

میرے رب کے خزانے بھرے ہوٸے ہیں جو صرف دنیا کے طلبگار ہیں۔۔انھیں دنیا دے دی جاتی ہے لیکن روز محشر ان کے پاس سوائے کف افسوس ملنے کے کچھ نہیں ہوگا۔

تانیہ کی والدہ کی آمد کی وجہ سے سلطان کبیر کو سلسلہ کلام روکنا پڑا۔

وہ پچپن ساٹھ کی ایک سمجھدار اور نرم دل خاتون تھیں۔ رسمی سلام دعا کے بعد سلطان کبیر مطلب کی بات پر آئے۔
”ہم حاجت مند بن کر آپ کے در پر آئے ہیں بہن، امید ہے آپ ہمیں خالی ہاتھ نہیں لوٹائیں گی۔۔۔۔!
میں سمجھی نہیں حضرت۔۔؟

زیدی صاحب سے تو آپ واقف ہیں۔۔بہت نیک اور بھلے انسان ہیں۔۔اگر آپ میری جسارت پر ناراض نہ ہوں تو میں زیدی صاحب کے لیے تانیہ کے رشتے کی بات کرنا چاہتا ہوں۔۔

تانیہ کی امی کچھ دیر حیرت و خوشی سے بول ہی نہیں پائیں۔۔۔انھوں نے کبھی خواب میں بھی تانیہ کے لیے اتنے اچھے رشتے کی امید نہیں لگائی تھی۔

مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی کیا کہوں۔۔۔دراصل میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا آپ لوگ اس مقصد کے لیے تشریف لاٸے ہیں۔۔۔آپ نے ہمارا گھر اور ہمارا حال تو دیکھ ہی لیا ہے۔۔

آپ پرسکون ہو جائیں بہن۔۔ تانیہ اور زیدی صاحب ایک ہی آفس میں کام کرتے ہیں یہ تو آپ جانتی ہیں۔۔سیدھی بات ہے بچے بھی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔۔تو میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔۔۔

سلطان صاحب مسکراٸے۔۔تانیہ کی امی کے ہاتھ پیر خوشی سے پھول گئے تھے لیکن سلطان کبیر کی اس بات نے ان کی خوشی کو حیرت میں بدل دیا جب انھوں نے، ان کو بتایا کہ وہ ابھی نکاح پڑھ کر تانیہ کو ساتھ لے کر جائیں گے۔۔۔تانیہ کی امی کے لیے یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا۔۔لیکن زیدی صاحب اور سلطان کبیر کوٸی معمولی لوگ نہیں تھے جنھیں ٹالا یا انکار کیا جاسکتا۔۔۔تانیہ اور اس کی بہنوں پر شادی مرگ کی کفیت طاری تھی۔ تانیہ کی امی کو لوگوں کی باتوں کا خوف تھا لیکن سلطان کبیر نے انھیں خوشخبری سنائی کہ وہ بہت جلد ان کی دو بڑی بیٹیوں کی شادیاں بھی اپنے جاننے والے معقول لوگوں میں کروا دیں گے۔ ان کی رخصتی بھی دو جوڑے کپڑوں میں کی جائے گی۔ ان شادیوں کی تیاری کے لیے ان کی ماں کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔

لڑکیوں نے بڑی بھاگ دوڑ کر کے زیدی صاحب کے ساتھ شاپنگ مکمل کی اور شام کو دونوں گھروں کے چند رشتے داروں کی موجودگی میں تانیہ اور زیدی صاحب کا نکاح اور رخصتی ہو گئی۔۔۔ سلطان صاحب کی ہدایت پر فوٹو سیشن اور ویڈیوز خصوصی طور پر الیکڑونک میڈیا کو جاری کی گئیں۔۔۔ویسے بھی زیدی صاحب کی شادی کی خبر پورے ملک کے میڈیا کے لیے بریکنگ نیوز تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صدمے کی شدت سے فہیم صاحب کا دل پھٹ جاتا اگر انھیں یاد نہ آتا کہ قندیل تو نیچے ان کے بیڈروم میں سوئی ہوئی ہے۔
تو پھر یہ کون ہے۔۔۔۔؟

انھوں نے حیرت سے صحن میں پڑی لاش کو غور سے دیکھا۔ نیچے جانے کے لیے وہ پلٹ کر مڑے تو انھیں نیم تاریکی میں اپنے اردگرد چار مزید لڑکیاں کھڑی نظر آئیں۔ وہ دیکھنے میں قندیل کی ہم عمر ہی لگ رہیں تھیں لیکن ان کے چہرے بہت ڈراٶنے اور بدصورت تھے۔ وہ ان سے کچھ فاصلے پر گھیرا بنائے کھڑی تھیں۔۔

کیا اس کی بیٹی مرگئی؟
ایک نے عجیب بیٹھی ہوئی آواز میں دوسری سے پوچھا۔۔ دوسری نے منڈیر پر سے صحن میں جھانکا۔۔نہیں تو صرف ”سر“ ہی ٹوٹا ہے۔۔

پھر اپنی بات پر اس نے خود ہی قہقہہ لگایا۔۔

ویسے اصولی طور پر تمھیں بھی مر جانا چاہیے انکل۔۔۔
تیسری نے کہا۔

یہ بہت ڈھیٹ لگ رہا ہے خود نہیں مرے گا۔۔۔اسے مارنا پڑے گا۔ چلو اسے اٹھا کر چھت سے نیچے پھینک دیتے ہیں۔۔چوتھی بولی۔ فہیم صاحب چپ چاپ کھڑے ان کی حرکات سکنات کو دیکھ رہے تھے۔ اتنا تو وہ جان گئے تھے کہ یہ کوئی انسان نہیں ہیں۔ اب انھیں قندیل کے ڈر اور تکلیف کا صیح ادراک ہو رہا تھا۔

چاروں لڑکیاں نما بدروحیں فہیم صاحب کو ڈرانے کی کوشش کر رہی تھیں، لیکن فہیم صاحب بڑے مضبوط دل گردے کے آدمی تھے۔ وہ قرآنی آیات کا ورد کرتے ہوئے آہستہ آہستہ سڑھیوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اچانک ہی چاروں لڑکیاں اندھیرے میں کہیں غائب ہوگئیں۔۔ فہیم صاحب نیچے کی طرف لپکے۔۔۔انھیں فکر تھی کہ وہ اپنے بیڈروم کا دروازہ کھول چھوڑ آئے ہیں۔ ان کی ساری فیملی اسی کمرے میں تھی۔۔حالانکہ ان کا جس مخلوق سے واسطہ پڑ گیا تھا۔ انھیں دروازے کھلے بند ہونے سے کوٸی فرق نہیں پڑتا تھا۔ فہیم صاحب بیڈروم میں آٸے تو قندیل سمیت سب لوگ پرسکون سو رہے تھے۔ فہیم صاحب نے دل سے رب کا شکر ادا کیا اور کمرے کا دروازہ لاک کر دیا۔ باقی کی رات فہیم صاحب نے جاگتے اور پریشان ہوتے گزاری۔ ان کے بچے چھوٹے تھے۔ انھیں خدشہ تھا کہ یہ بدروحیں بے شک براہ راست نقصان نہ پہنچا سکیں لیکن بچوں کو ڈرا دھمکا کر چھت سے گرا دیں یا سڑھیوں سے پھسلا دیں تو ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے۔ بظاہر اس مسئلے کا کوٸی حل بھی نہیں سوجھ رہا تھا۔ مکان چھوڑ کے جانا بھی آسان نہیں تھا۔ اگر وہ اتنی زحمت اٹھا بھی لیتے تو اس بات کی کیا ضمانت تھی کہ یہ بلائیں ان کے خاندان کو ادھر تنگ نہیں کریں گی۔۔ یہ تو واضح تھا کہ یہ ساری بلال کی شرارت ہے۔ اسی نے ان بدروحوں کو ان کے پیچھے لگایا ہے بلکہ فہیم صاحب کو یقین ہو گیا تھا کہ پہلے والی چڑیل بھی بلال کی ہی بھیجی ہوئی تھی۔ اس نے جان بوجھ کر قندیل کو ٹریپ کرنے کے لیے یہ سازش بنی تھی۔

اگلے کچھ دن فہیم صاحب اور ان کے خاندان کے لیے بہت ہنگامہ خیز اور پریشان کن تھے۔ گھر میں پانچ لڑکیوں نے اودھم مچایا ہوا تھا۔ قندیل اور فہیم صاحب ان کی توجہ کا خصوصی مرکز تھے۔ اتنا تو فہیم صاحب کو یقین تھا کہ وہ ان کو براہ راست کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ اس لیے وہ ہر وقت قندیل کو بھی اپنے ساتھ رکھتے تھے جس سے قندیل کو بھی بہت ہمت اور حوصلہ ملا تھا۔ فہیم صاحب نے وقتی طور پر آفس جانا بھی چھوڑ دیا تھا لیکن یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں تھا۔ فہیم صاحب یونیورسٹی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے ساتھ رابطے میں تھے۔ وہ طالب علم، بلال عزیز کے گھر سے آئی ہوئی اس کی ملازمہ کا تفصیلی انٹرویو کر چکے تھے۔ اب ان کی کوشش تھی کہ بلال عزیز کے خلاف کوئی ٹھوس تحقیقات اور کاروائی کا آغاز کیا جائے۔ تنظیم کے سربراہ ”احمد“ کے ایک انکل ایس ایس پی مظفر کمال، ایک دبنگ آفیسر تھے۔ احمد کے ساتھ فہیم صاحب بھی ایس پی صاحب کو ملے۔

ملازمہ بچی کہاں ہے؟
مظفر صاحب نے پوچھا۔

اسے تو اس کے والدین آ کر لے گئے ہیں۔ ہم اسے زیادہ دیر نہیں رکھ سکتے تھے ورنہ بلال اس کے والدین کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف اغوا کا کیس بنوا سکتا تھا۔

احمد نے وضاحت کی۔

تو پھر اب آپ کیس کسی بنیاد پر کرنا چاہتے ہیں۔۔؟

احمد نے فہیم صاحب کی طرف دیکھا۔۔لیکن انھوں نے انکار میں سر ہلایا۔

میری بچی اور ہم لوگ پہلے ہی ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں میں اپنے لیے اور قندیل کے لیے کئی نئی مشکل کھڑی نہیں کرنا چاہتا۔

فہیم صاحب کا کیس اتنا مضبوط بھی نہیں ہے کہ جو بلال جیسے امیر اور بااثر بندے پر اثرانداز ہوسکے۔۔
مظفر کمال نے دو ٹوک انداز میں کہا۔

تو کیا ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے اس درندے کو ایک کے بعد ایک بچے کو بھنبھورٹے اور قتل کرتے دیکھتے رہیں۔
احمد نے تلخی سے کہا۔ مظفر صاحب نے ایک سرہ آہ بھری۔

یہ معاملہ بہت تاخیر سے میرے نوٹس میں آیا ہے۔ آلریڈی کافی نقصان ہوچکا ہے لیکن ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اب اس نے کوئی جرم کرنے کی کوشش کہ تو ہم اس پر پکا ہاتھ ڈالیں اور ثبوتوں سمیت اسے پکڑنے کی کوشش کریں۔۔۔
دیکھو احمد تم نوجوان ہو۔ جلدی پرجوش اور مایوس ہو جاتے ہو۔ بدقسمتی سے ہماری پولیس اور عدالتی نظام انتہائی فرسودہ اور ناکارہ ہے۔ اس میں طاقتور لوگوں نے اپنی بچت کے لیے درجنوں چھید اور چور راستے ڈھونڈ رکھے ہیں۔ شاید تمھیں لگ رہا ہو میں جان چھڑا رہا ہوں اور بلال عزیز کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرنا چاہتا ہے۔۔لیکن چونکہ میں سسٹم کو جانتا ہوں اس لیے مجھے پتہ ہے کہ اس طرح کی کسی کاروائی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ریپ اور قتل کے کیسز کا کوئی مدعی ہی نہیں ہے۔ اگر تم کسی کو ہلاشیری دے کر منا بھی لو گے تو وہ کتنی دیر بلال کے سامنے کھڑے رہیں گے؟ ثبوت نہیں ہیں۔ گواہ نہیں ہیں۔ اگر ہم سب کچھ اکٹھا کر کے عدالت میں چلے بھی جائیں تو قوانین میں موجود سقم اور کرپٹ عدالتی نظام بلال کو بچانے کے لیے کافی ہے۔

احمد نے مایوسی سے فہیم صاحب کو دیکھا۔
بلال عزیز ابھی تک میرے اور میرے خاندان کے لیے ایک عذاب بنا ہوا ہے۔۔

وہ کیسے؟
مظفر صاحب نے پوچھا۔
فہیم صاحب انھیں تفصیلات بتانے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثقلین، حامد خان کے روپ میں صوبائی درالحکومت سے تین سو کلومیٹر دور ایک صوبے کے ایک انتہائی پسماندہ ضلع میں موجود تھا۔ اس کے پاس ٹیوٹا کی ایک شاندار ایس یو وی تھی۔ میزبان متاثر ہوا۔۔ میزبان کا نام اکرام اللہ خان تھا۔ وہ ایک سخت گیر سکول آف تھاٹ کا عالم اور ماضی کا ایک مشہور شدت پسند تھا۔ اس نے گرمجوشی سے حامد خان عرف ثقلین کا استقبال کیا۔ثقلین نے فرقہ ورانہ تعصب پھیلانے کے کام کے سلسلے میں جن لوگوں کو استعمال کیا تھا۔ اکرام خان بھی ان میں شامل تھا۔ وہ اپنے علاوہ دیگر تمام مکاتبِ فکر کے مسلمانوں کو کافر اور واجب القتل سمجھتا تھا۔ صوبے کی اس پسماندہ پٹی میں اکرام خان کا کافی اثر و رسوخ تھا۔ اس کے پاس اداروں کی اپنی چین تھی جس میں درجنوں ادارے اس کے زیر انتظام تھے۔
پرتکلف کھانے کے بعد قہوے کا دور چلا۔

اکرام خان، اب تو ایک ہی خواہش ہے کہ مرنے سے پہلے کچھ ایسا کام کرجاٶں کہ اپنے رب کے سامنے سرخرو ہوسکوں۔
ثقلین نے قہوے کی چسکی لیتے ہوئے اکرام کو غور سے دیکھا۔

خدا تمھیں استقامت دے۔ میں نے تمھارے جتنے جذبے اور ہمت والا کم ہی کوئی جوان دیکھا ہے۔ اگر سب پیسے والے لوگوں کا اتنا جذبہ ہو جائے تو ہم ملک میں ایک بھی کافر (اپنے علاوہ دوسرے تمام فرقے والے) کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔

کرخت چہرے والے اکرام نے اس کی ستائش کی۔

ملک کے اندر تو کافروں کا کافی شکار کرلیا ہے اکرام ہم نے۔۔۔۔۔ اور سینے میں بہت ٹھنڈ ڈال لی ہے۔ کیوں نہ اب سرحد پار کے کافروں کو جہنم واصل کیا جائے۔

اکرام نے چونک کر دائیں بائیں‌دیکھا۔
نہ کرو بابا۔۔۔۔بہت سختی ہوگئی ہے اب تو ایسی بات کرنا بھی جرم ہو گیا ہے اس ملک میں۔
اکرام نے تلخی سے کہا۔

ہم اس ظالمانہ حکومت اور امریکہ کی کٹھ پتلی فوج کے ضابطوں کو نہیں مانتے۔۔تم دیکھ نہیں رہے یہ کافر ہمارے بہن بھائیوں کے ساتھ اپنے ملک میں کیا کر رہے ہیں۔۔لعنت ہے ہماری زندگی پر اگر ہم سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ان کے لیے کچھ نہ کرسکیں۔۔ہم خدا کے سامنے کیا منہ لے کر جائیں گے اکرام خان؟

ثقلین جذباتی ہوگیا۔ اس نے اکرام خان کو پڑوسی ملک میں ہجوم کے ہاتھوں تشدد کر کے مارے جانے والے چند مسلمانوں کی ویڈیوز دکھائیں۔۔۔جنھیں دیکھ کر اکرام کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔۔

تم زبردست آدمی ہو اکرام خان، لیکن اب شاید بوڑھے ہو گئے ہو۔ میرے پاس تمھاری طرح کے تجربہ کار لڑاکے اور دین کی خاطر کٹ مرنے کا جذبہ رکھنے والے لڑکے ہوتے تو میں ان کافروں کے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا۔۔
ثقلین اسے اکسا رہا تھا۔ اکرام نے بے دلی سے انکار میں سر ہلایا۔

بہت مشکل ہوگیا ہے خان۔۔اب تو سرحد پار کرنا ہی جان جھوکوں کا کام ہے۔۔بہت وسائل چاہییں اس کام کے لیے۔۔۔اب جو لڑکے جائیں گے واپس تو نہیں آئیں‌گے۔۔۔بیس تیس لاکھ تو ہر ایک کو دینا پڑے گا کہ پیچھے سے گھر والوں کو کوئی آسرا ہو۔۔وہاں‌اپنے ذرائع پر بے پناہ مال خرچنا پڑے گا۔۔۔لڑکوں کا اسلحہ ٹریننگ، انھیں بھیجنا۔۔۔پانچ دس کروڑ کا خرچہ ہے بابا۔۔
میں تمھیں بیس کروڑ دوں گا۔۔

ثقلین نے اکرام خان کے کان میں تیز سرگوشی کی۔

بس ایک دفعہ ان کافروں کو سبق سکھادو۔۔۔انھیں بتا دو کہ ہم ابھی مرے نہیں ہے۔۔ان کے ظلم کا حساب لینے والے ابھی زندہ ہیں۔۔

اکرام کی آنکھوں میں لالچ ابھرا۔ بیس کروڑ کوئی چھوٹی رقم نہیں تھی۔۔کارواٸی ڈال کر وہ ہمیشہ کے لیے بیرون ملک فرار ہو سکتا تھا۔۔

دوسری طرف ثقلین چاہتا تھا کہ اکرام کی دشمن ملک میں کی گئی دہشت گردی کی واردات سے دونوں ایٹمی طاقتیں جنگ کے دہانے پر پہنچ جائیں‌اور پھر وہ کوئی ایسی چنگاری بھڑکائے کہ پورے خطے کے ڈیڑھ ارب انسان جنگ، تباہی اور غربت کے ایسے خوفناک گڑھے میں گر جائیں کہ پھر کبھی نکل نہ سکیں۔۔

اگر تم واقعی واقعی اتنا مال خرچ سکتے ہو تو پھر اس بارے میں سوچا جاسکتا ہے۔
اکرام کی رال ٹپکنے لگی۔

مال تو میں اس سے بھی زیادہ خرچ سکتا ہوں۔۔۔تم بس تیاری کرو۔۔۔لیکن اس سے پہلے ایک چھوٹی سی ” فٹیک“ میری بھی بھگتا دو تو نیکی ہوگی۔

تم حکم کرو یار۔۔۔یہ کیسی بات کی ہے۔
اکرام سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
کوٸی بڑا کام نہیں ہے بس ایک آوارہ گرد بابے کو ٹھکانے لگانا ہے۔۔۔

(جاری ہے)

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */